Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

کلیات باقیات اقبال

کلیات 

باقیاتِ شعر اقبال
(متروک اردو کلام )


مرتبہ 
ڈاکٹر صابر کلورُوی


اقبال اکادمی پاکستان

 

 


انتساب

اپنے والد
شاہ میر خان
(متوفٰی :۷ دسمبر ۱۹۹۰ئ)
کے نام
جنہیں اس کام کی تکمیل کی بڑی حسرت تھی

 

انتباہ

زیر نظر مجموعے میں شامل اشعار کا تقریباً ۹۰فیصد حصہ ایسا ہے جسے اقبال نے شعوری طور پر ترک کر دیا تھا۔ لہٰذا اس کلام کو درسی کتابوں میں شامل کرنا یا ریڈیو اور ٹی وی پر گانا مناسب نہیں ہو گا۔ البتہ اقبال کے فکری و فنی ارتقا کو سمجھنے کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔ لیکن حوالہ دیتے وقت ’’باقیات‘‘ کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔ تاکہ اسے اقبال کے متداول کلام سے ممیز کیا جا سکے ۔

(صابر کلورُوی )

 

 

فہرست

دیباچہ از ڈاکٹر صابرکلوروی ۱
شعری باقیات کی تدوین نو(جواز، مسائل اور طریقہ کار :) ۳
دورِ اوّل کا کلام(۱۸۹۳ء تا ۱۹۰۸ئ) ۲۷۔۳۲۱
’’بانگِ درا‘‘ کے متروکات
٭ مکمل متروکہ نظمیں : ۲۹
٭ نظموں کے جزوی متروکات ۱۷۰
٭ مکمل متروکہ غزلیں ۲۳۷
٭ غزلوں کے جزوی متروکات ۲۹۵
٭ مکمل قطعات ؍ رباعیات ۳۱۳
دور ِ دوم کا کلام (۱۹۰۹ء تا ۱۹۲۴ئ) ۳۲۳۔۴۳۴
’’بانگِ درا‘‘ کی اشاعت تک
٭ مکمل متروکہ نظمیں ۳۲۵
٭ نظموں کے جزوی متروکات ۳۶۹
٭ مکمل متروکہ غزلیں ۳۹۹
٭ غزلوں کے جزوی متروکات ۴۱۱
٭ ظریفانہ قطعات ۴۱۴
٭ ظریفانہ قطعات کے جزوی متروکات ۴۲۷
٭ قطعات؍ رباعیات ۴۲۸
دورِ سوم کا کلام (۱۹۲۵ ء تا ۱۹۳۸ئ) ۴۳۵۔۵۰۲
’’بال جبریل‘‘ ’’ضرب کلیم‘‘
’’ارمغان حجاز‘‘ کے متروکات
٭ مکمل متروکہ نظمیں ؍قطعات ۴۳۷
٭ نظموں کے جزوی متروکات ۴۶۰
٭ غزلوں کے جزوی متروکات ۴۹۴
٭ متروکہ قطعات ؍ رباعیات ۴۹۷
متفرقات ۵۰۳۔۵۳۶
(۱) تاریخیں اور مادہ ہائے تاریخ ۵۰۵
(۲) بدیہہ گوئی ؍ فردیات ۵۲۶
ضمیمہ جات ۵۳۷۔۵۵۴
(الف) نو دریافت کلامِ اقبال ۵۳۹
(ب) تحقیق طلب : کلامِ اقبال ۵۴۶
(ج) اقبال کا الحاقی کلام ۵۵۰

 

 


دیباچہ

کلیاتِ باقیات شعر اقبال (اردو) پیش خدمت ہے ۔ یہ کلیات میرے پی ایچ ڈی کے مقالے ’’باقیاتِ شعرِ اقبال : تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘‘ کا حاصلِ ضمنی (By Product) ہے۔ جب میں نے اقبال کے شعری باقیات پر تحقیق شروع کی تو میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ باقیات کی تلاش اور فراہمی کا تھا ۔ باقیات کے موضوع پر چند کتب موجود تھیں لیکن اِن میں بیشتر کلام مشترک تھا اور متن کی بے شمار اغلاط موجود تھیں۔ اپنی تحقیق کے دوران میں، میں نے اولین مآخذ کی تلاش جاری رکھی اور بڑی حد تک ان کی اغلاط کو درست کیا۔ میں نے صرف دستیاب کلام پر بھروسا نہیں کیا بلکہ غیر مدون اور غیر مطبوعہ کلام بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ الحمدللہ میرے اس تحقیقی کام کی بدولت ساڑھے سات سو کے قریب اشعار کا باقیات میں اضافہ ہوا جن میں دو تہائی کلام غیر مطبوعہ ہے جو اقبال کی بیاضوں سے ملا ہے۔
اقبال کے مسودوں اور بیاضوں کا میں نے دقّتِ نظر سے مطالعہ کیا ۔ ان بیاضوں کی بدولت اختلاف متن کے بہت سے مسائل بھی حل ہوئے ۔ دورانِ تحقیق اس امر کا بھی انکشاف ہوا کہ اقبال (ایکس شاعر) کے فرضی نام سے بھی اخبار میں لکھتے تھے۔ اس طرح کی بارہ نظمیں دریافت ہوئیں جو باقیات میں شامل کر لی گئیں ۔
راقم الحروف کو اس امر کا احساس ہے کہ اس کلیات میں نظموں کا پس منظر اور اختلافِ متن شامل نہیں ہے اور نہ متروکات کی وجہ بتائی گئی ہے ۔ یہ سب کچھ میرے پی ایچ ڈی کے مقالے میں شامل ہے۔ جو اس کلیات کی اشاعت کے بعد جلد ہی منظر عام پر آ جائے گا ۔ تحقیقی مقالے کی اشاعت سے پہلے میں اس کلیات کی اشاعت بوجوہ ضروری سمجھتا تھا اس لیے اصل مقالے کی اشاعت معرضِ التوا میں پڑی رہی ۔ میرے مقالے کو اس کلیات کا تتمہ یا جزو لاینفک سمجھنا چاہیے۔


زیر نظر کلیات باقیاتِ شعر کی تدوین میں زمانی ترتیب کا ہر ممکن خیال رکھا گیا ہے ۔ ادوار بنانے کے ساتھ ساتھ کلام کو اصناف وار مرتب کرنا بھی ضروری تھا ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ اسے زمانی ترتیب سے درج کیا جائے ۔ پھر بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ اقبال نے اسے اسی ترتیب سے لکھا بھی ہو ۔


اقبال کے الحاقی کلام کو اس مجموعے میں جگہ نہیں دی گئی تاہم اس کی نشان دہی ضمیمے میں کر دی گئی ہے۔ تحقیقی مقالے کی تکمیل کے بعد جو کلام سامنے آیا اُسے میں نے ضمیمے میں شامل کر دیا ہے ۔ زمانی اعتبار سے اسے اپنے مقام پر ہونا چاہیے تھا لیکن کچھ مجبوریاں حائل رہیں ۔ تدوین کے آخری مراحل میں ایک اور نظم کے بارے میں معلوم ہوا کہ اقبال سے غلط طور پر منسوب ہے چنانچہ اسے کلیات سے نکال دیا گیا ۔ دیباچہ لکھتے وقت دو اور اشعار کا اضافہ ہوا جسے ضمیمے میں شامل کر دیا گیا ہے ۔ آخری پروف نکلنے کے بعد خالد نظیر صوفی کی کتاب ’’اقبال دورن خانہ‘‘(حیات اقبال کا خانگی پہلو) منظر ِ عام پر آئی جس کی بدولت دس نئے اشعار کا اضافہ ہوا جسے واقعی’’ غیر مطبوعہ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ ایسے کلام کی نشان دہی بھی کر دی گئی ہے جس کا اقبال سے انتساب ابھی تحقیق طلب ہے۔


کلیاتِ باقیاتِ شعر اقبال کی تدوین کا اصل مقصد اقبال کے ذہنی ارتقا کی مختلف کڑیوں کو مربوط کرنا ہے اور اقبال کے تصورات فن کا پوری طرح احاطہ کرنا ہے ۔ چنانچہ اس کلام کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔ کلیات کی تدوین کا جواز میں نے مقدمہ میں فراہم کر دیا ہے۔ اسی طرح اس کلام سے جو نتائج بر آمد ہوئے ہیں، ان کی نشان دہی بھی میں نے مقدمے میں کر دی ہے۔


دورانِ تحقیق جن لوگوں کا تعاون مجھے حاصل رہا ہے اس کی ایک طویل فہرست ہے جسے دیباچے میں شامل نہیں کیا جا رہا ۔ یہ قرض اصل مقالے کی اشاعت کے وقت ادا ہو گا۔ فی الحال اقبال اکادمی کے موجودہ ناظم محمد سہیل عمر صاحب کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنہوں نے مجھ سے یہ کام مکمل کرانے کے لیے متعدد انتظامی گُر آزمائے اور وہ اس میں کامیاب رہے۔ اللہ اُن کے درجات بلند کرے ۔

 

ڈاکٹر صابر کلوروی
صدر شعبہ اردو ، پشاور یونیورسٹی

 


شعری باقیات کی تدوین نو:
(جواز ، مسائل اور طریقہ کار)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس کلام کو علامہ نے اپنی زندگی میں پسند نہیں کیا اسے ہم کیوں تحقیق اور تنقید کا موضوع بنائیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تنقیدی رجحانات اب ۱۹۲۴ء کی نسبت بہت حد تک بدل چکے ہیں ۔ فن کار کے ضمن میں ’کیا‘ کی اہمیت کے ساتھ ’ کیوں ‘ کی اہمیت بھی تسلیم کی جا چکی ہے ۔ نفسیات نے تخلیق کے پیچھے تخلیق کار کے ذہنی عمل کی اتھا گہرائیوں میں جھانکنا سیکھ لیا ہے۔ شعر اور شعور کے رشتے واضح ہو چکے ہیں ۔ ایسی شاعری کے پیچھے جسے اقبال پیغمبری کا جزو قرار دیتے ہیں ایک زبر دست شخصیت کی قوتِ متخیّلہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ شاعر کے ذہنی ارتقاء کی سرگذشت کا بیان بھی نقاد کا منصب ٹھہرا ہے۔ خود علامہ کو بھی اپنے دل و دماغ کی سرگذشت سے خاصی دلچسپی رہی ہے ۔ کیا باقیاتِ شعر اقبال کے اس عظیم الشان ذخیرے سے صرفِ نظر کر کے ان گمشدہ کڑیوں کو تلاش کرنا ممکن ہے؟


اقبال کے زیر بحث باقیات اقبال کے نظریاتی اور فکری ردّ و قبول کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتے ہیں ۔ ان سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ علامہ کا ذہن مختلف اوقات میں کِن کِن واقعات اور تحریکوں سے متاثر رہا اور اس نے اقبال کی شاعری کی مجموعی فضا کو کہاں تک متاثر کیا ۔ فکری لہروں کی صدائے بازگشت اقبال کے متداول کلام میں بھی سنائی دیتی ہے لیکن اس میں وہ گھن گرج نہیں جو اس کلام میں موجود ہے جسے علامہ نے ترک کر دیا تھا ۔


نقادوں نے اس امر پر بہت زیادہ زور دیا ہے کہ کسی فنکار کے فن کا صحیح جائزہ اسی وقت لیا جا سکتا ہے جب ہم اس فنکار کے ذاتی حالات اور شخصیت سے آگاہ ہوں۔ فن پارے کو فنکار سے جُدا کر کے دیکھنے کی کوشش غلط راستوں پر ڈال سکتی ہے ۔ کسی اور فنکار کے بارے میں یہ بات درست ہو نہ ہو اقبال کے سلسلے میں بالکل درست ہے ۔ اقبال کی بعض دلچسپیاں مشاعروں کے سلسلے میں سفر اور ان کی سوانح حیات کے کئی پہلو اور زاویے متروک کلام میں موجود ہیں۔ اپنے معاصرین سے علامہ کے تعلق پر اس کلام سے بہت روشنی پڑتی ہے ۔ مثلاً اس سے حالی ، شبلی اور ڈپٹی نذیر احمد سے اقبال کے روابط کی نوعیت کیا تھی اس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد علامہ کی نظم ’’نالہ یتیم‘‘ سُن کر یوں تبصرہ کرتے ہیں :
’’میں نے دبیر اور انیس کی بہت نظمیں سنی ہیں مگر ایسی دل شگاف نظم کبھی نہیں سنی‘‘ ۱


اقبال کے قطعات تاریخی اور بعض دیگر نظموں کے واسطے سے ہمیں اقبال کے بعض ایسے احباب کے بارے میں علم ہوتا ہے جن کا ذکر ان کی سوانحی کتابوں میںکم ہی دیکھنے میںآتا ہے ۔ مثلاً محبوب خان حامد ، سلطان اسمعیل جان، شیخ عبدالحق ، سید نادر حسین تحصیلدار بھیرہ، لیڈی شہاب الدین ، فقیرا خان جدون اور نادر کاکوروی وغیرہ ۔


باقیات کا مطالعہ درج ذیل حوالوں سے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
اقبال کی سوانح
اقبال کے باقیات شعر سے ان کی سوانح کی بعض تفصیلات معلوم ہوتی ہیں ۔ مثلاً
(۱) داغ نے اقبال کو حیدر آباد (دکن) آنے کی باقاعدہ دعوت دی تھی اس کا اشارہ اقبال کے ایک شعر میں ملتا ہے ؎


یہی ہے جو شوقِ ملاقاتِ حضرت
تو دیکھیں گے اک بار ملک دکن بھی۲


اقبال، انجمن مسلمانان کشمیری کے جلسوں میں سرگرمی سے شریک ہو کر نظمیں پڑھتے ہیں اور بطور سیکریٹری اپنی انتظامی صلاحیتوں کا عمدہ مظاہرہ کرتے ہیں۔ وزیر نظام سرکشن پرشاد اقبال کی شاعری کو پسند کرتے ہیں ۔ اس کا اظہار بھی ان باقیات سے ہوتا ہے مثلاً یہ شعر


نہ قدر ہو مرے اشعار کی گراں کیوں کر
پسند ان کو وزیرِ نظام کرتے ہیں۳


اقبال نے ایک زمانے میں غزل گوئی ترک کر دی تھی اس کا ثبوت بھی ان کے باقیات سے مل جاتا ہے ؎

 

ترک کر دی تھی غزل خوانی مگر اقبال نے
یہ غزل لکھی ہمایوں کو سنانے کے لیے


اقبال کی پہلی شادی گجرات میں ہوئی تھی ۔اقبال کا یہ شعر ان کی ناکام ازدواجی زندگی پر عمدہ روشنی ڈالتا ہے ؎


ہو گیا اقبال قیدی محفلِ گجرات کا
کام کیا اخلاق کرتے ہیں مگر صیّاد کا۴


اقبال کا حسب ذیل یہ شعر اس امر کی تردید کرتا ہے کہ ارشد گورکانی اقبال کے استاد تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ موصوف سے اقبال کے محض دوستانہ مراسم تھے اور وہ کبھی کبھی ارشد کو اپنا کلام سنا کر داد حاصل کرتے تھے ؎


ارشد و رافت سے ہوں اقبال خواہانِ داد
آبداری میں ہیں یہ اشعار گوہر کا جواب


متداول کلام کی بہتر تفہیم
باقیاتِ شعر اقبال کا مطالعہ اقبال کے متداول کلام کی تفہیم میں بھی خاصا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مثلاً اقبال کے متداول کلیات کے صفحہ ۴۹۰ پر ایک نظم ’جہاد‘ موجود ہے ۔ اس کا ابتدائی عنوان ’’بہااللہ‘‘ تھا ۔ آخری شعر میں اقبال نے ’’بہااللہ‘‘ کے حوالے سے بھی ایک شعر شامل کیا تھا جو یہ تھا :


میں تو بہا کی نکتہ رسی کا ہوں معترف
جس نے کہا فرنگ سے ترکِ جہاد کر


اگر اس شعر کو متداول کلام کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو نظم کے پس منظر اور تشریح میں بہت آسانی رہتی ہے۔ اقبال کے شارحین نے اس پس منظر کی غیر موجودگی میں نظم ’’جہاد‘‘ کی جو تشریح کی ہے وہ ناقص اور نا مکمل ہے اور اقبال کے اصل خیال کی کما حقہ ترجمانی نہیں کرتی۔


علامہ کے متروکات کا مطالعہ نظموں کے عنوان کے تناظر میں کیا جائے تو بھی بعض دلچسپ نتائج سامنے آتے ہیں ۔ مثلاً عنوانات میں تبدیلی سے بھی شاعر کا مافی الضمیرسمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ مثلاً علامہ کی نظم ’’بلاد اسلامیہ‘‘ کا ابتدائی عنوان ’’مدینہ النبیؐ ‘‘ تھا نظم کے ابتدائی اشعار’’بلاد اسلامیہ‘‘ کے عنوان سے کم اور ’’مدینہ النبیؐ ‘‘ کے عنوان سے زیادہ میل کھاتے ہیں۔


اقبال کے متداول کلام میں کئی وجوہ سے بعض اغلاط د ر آئی ہیں۔ کلامِ اقبال کو اس طرح کی اغلاط سے پاک کرنے کے لیے متروکات کا مطالعہ ایک حد تک ہماری معاونت کرے گا۔ ان اشعار سے کلامِ اقبال کی صحیح زمانی ترتیب کے تعین میں بھی خاصی مدد ملے گی جس سے فکری ادوار کا صحیح تعین کیا جا سکے گا۔ اقبال کا متداول کلام ان کی ابتدائی غزل گوئی کے ضمن میں کم معلومات فراہم کرتا ہے ۔ جبکہ باقیات اس کمی کو بہت حد تک پوری کرتے ہیں ۔


متداول کلام کی ابتدائی شکل میں قطع و برید سے اقبال نے اپنے کلام کو خوب سے خوب تر بنانے کی کوشش کی لیکن بندوں میں مصرعوں کی تعداد میں یکسانیت برقرار نہ رہ سکی ایک ہی نظم کے ایک بند میں سات اشعارہیں اور دوسرے میں تین ۔ شاید اسی بنا پر کلیم الدین احمد کو علامہ پر اعتراضات کا جواز میسر آ گیا اور انہوں نے علامہ کی بعض نظموں میں فکری ربط اور توازن کی کمی کو خاص طور پر اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ علامہ کے شعری آثار ان الجھنوں کو دور کرتے ہیں اور ہمیں اقبال کے اصل خیالات اور افکار کو سمجھنے کے لیے وسیع تناظر فراہم کرتے ہیں۔


دیگر شعرا کے اثرات


اقبال کے متروک کلام سے اقبال پر دیگر شعرا کے اثرات کا بھی صحیح تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے ۔ مثلاً علامہ کی ابتدائی غزلوں میں داغ ، امیر اور دیگر ہم عصر شعرا کے اثرات موجود ہیں ۔ غالب اور داغ کے اثرات کا اندازہ ان اشعار سے لگایا جا سکتا ہے۔


غالب کا اثر
لکھتا ہوں شعر دیدئہ خوں بار سے مگر
کاغذ کو رشکِ بابِ گلستاں کیے ہوئے
بوتے ہیں نخل آہ کو باغِ جہان میں
ممنونِ آب دیدئہ گریاں کیے ہوئے
(اشک خون)
داغ کا اثر
یہ جوانی کے ولولے اے دل
دو گھڑی کے اُبال ہوتے ہیں

ذکر کچھ آپ کا بھی ہے ان میں
قبر میں جو سوال ہوتے ہیں
’اکبری‘ رنگ کے متعدد قطعات ’’بانگِ درا‘‘ میں شامل نہیں ہو سکے ۔ اکبر کے اثرات کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے باقیات کا مطالعہ ناگزیر ہے۔
تفضیل علیؓ کے اشعار
حضرت علیؓ سے علامہ کی بے پناہ عقیدت کا اظہار جتنا متروک کلام سے ہوتا ہے اتنا مدون کلام سے نہیں ہوتا ،شاید اسی بنا پر ایک زمانے میں علامہ کو تشیع سے منسوب کیا گیا ۔ ممکن ہے یہی پہلو ان اشعار کو ترک کرنے کا سبب بنا ہو۔ کہتے ہیں :۔
ہمیشہ وردِ زباں ہے علیؓ کا نام اقبال
کہ پیاس رُوح کی بجھتی ہے اس نگینے سے
پوچھتے کیا ہو مذہبِ اقبال
یہ گنہ گار بوترابی ہے
اقبال کی فرضی نام سے لکھی گئی نظمیں
باقیات شعر اقبال میں شامل بعض نظموں سے یہ انکشاف بھی ہوتا ہے کہ علامہ نے فرضی نام (ایکس شاعر) سے بھی کچھ نظمیں لکھی تھیں۔ یہ نظمیں جن کا عمومی انداز طنزیہ اور مزاحیہ ہے اقبال کی اُس کشمکش کو ظاہر کرتی ہیں کہ ایک طرف تو وہ قائد اعظم کے حکم سے یونینسٹ پارٹی کو مسلم لیگ میں ضم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، دوسری طرف اس پارٹی کے بعض لیڈروں کی منافقت کا پردہ بھی چاک کرنا چاہتے ہیں۔ اقبال کی ان بارہ غیر مدوّن نظموںمیں اتحادیوں اور قادیانیوں پر جو چوٹیں کی گئی ہیں متداول کلام میں ان کا کوئی نمونہ موجود نہیں ۔
اقبال کی تاریخ گوئی
علامہ کے متداول کلام میں علامہ کی تاریخ گوئی کا کوئی نمونہ شامل نہیں کیا گیا ۔ علامہ کے ہاں یہ فن داغ اور معاصر شعرا کے مطالعے سے آیا ہے۔ وہ آخر وقت تک تاریخ گوئی نکالنے میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ اقبال نے دوسرے شعرا کی تخلیقات کے نئے اور خوبصورت تراجم بھی کیے ہیں۔ جن سے بعض انگریزی شعرا سے اقبال کی اثر پذیری کا اندازہ ہوتا ہے۔ ترجمہ کے فن میں ان کی مہارت کا ثبوت ان کی یہی نظمیں ہیں ۔ علامہ کبھی اصل خیال پر اضافہ کرتے ہیں اور یوں ان کے ہاں ترجمہ تخلیق کا درجہ اختیار کرتا نظر آتا ہے۔
اقبال کی فرمائشی نظمیں
احباب کی فرمائشیں بھی بعض اوقات اقبال کو شعر گوئی پر مجبور کر دیتی تھیں ۔ اس طرح کا کلام اقبال کی تاریخ گوئی میں بھی موجود ہے ۔ باقیات شعر اقبال کی بعض دیگر نظمیں بھی اسی قبیل کی ہیں مثلاًنظم ’’شکریہ‘‘ اُن کے حیدر آباد کے روابط کی مظہر ہے ۔ ’’شکریہ انگشتری‘‘ منشی سراج الدین سے علامہ کے مخلصانہ تعلقات کی مظہر ہے ۵ ۔ ان متروکات سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کو بعض اوقات احباب کی فرمائشوں کی تعمیل بھی کرنی پڑتی تھی۔ مثلاً ملکہ وکٹوریہ کا انتقال ہوا توسر ذوالفقار علی خان کی فرمائش پر وہ ’’اشک خون‘‘ لکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ’پنجاب کا خواب‘ ، مائیکل اڈوائر گورنر پنجاب کی فرمائش پر لکھی جاتی ہے۔ لاٹ صاحب اور ڈائریکٹر کا خیر مقدم بھی اسی قبیل کی نظم ہے ۔ ان فرمائشی نظموں میں وہ نظمیں بھی شامل ہیں جو انجمن حمایت اسلام کے سٹیج سے سنائی گئی تھیں ۔ ان نظموں کا مقصد انجمن کے لیے چندہ فراہم کرنا تھا ۔ علامہ کی برجستہ گوئی ’’اہل درد‘‘ کے ۲۹ اشعار کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے اور مولوی عبداللہ بسمل کی فرمائش کو پذیرائی حاصل ہوتی ہے ۶۔
اولیاء اللہ سے عقیدت
اقبال کے مکاتیب کی طرح ان کے شعری باقیات میں بھی اولیاء اللہ سے عقیدت کے کئی نمونے ہمیں مل جاتے ہیں۔ اولیاء اللہ سے محبت کا اظہار یوں ہوتا ہے کہ اپنی ایک ذاتی پریشانی کو رفع کرنے کے لیے خواجہ نظام الدین اولیاء کے نام ایک نظم لکھتے ہیں اور اسے مزار پر بلند آواز سے پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ اس نظم کا نام ’’برگِ گل‘‘ ہے۔

راگ اور موسیقی سے دلچسپی
اقبال کی میٹرک کی کتابوں میں موسیقی کے بعض سُروںکے بارے میں حوالے ملتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کو راگ اور موسیقی سے خاصی دلچسپی تھی۔ ان کی دلچسپی کا اظہار باقیات کے اس شعر سے بھی ہوتا ہے ؎
لوگ کہتے ہیں مجھے راگ کو چھوڑو اقبال
راگ ہے دین مرا ، راگ ہے ایمان میرا
فکری ارتقا کے نمونے
فکری لحاظ سے اقبال نے کن خیالات کو ترک کر دیا؟ اس کا بہترین اظہار اقبال کے باقیات شعری سے ہوتا ہے ۔ وطنیت ،قومیت نیز تصّوف ، وحدت الوجود ، قادیانیت اور دو قومی نظریے کے حوالے سے اقبال کے ان اشعار میں ایسا مواد موجود ہے جس سے تحقیق کے نئے گوشے وا ہوتے ہیں۔ مثلاً ان وجوہات کا علم ہوتا ہے جو ایک زمانے میں اقبال اور قائد اعظم میں اختلاف کا موجب تھے ۔
اقبال کا فنی ارتقا
ان اشعار سے نہ صرف اقبال کے ذہنی ارتقا کی کڑیاں مرتب ہو سکتی ہیں بلکہ فنی ارتقا کی پوری کیفیت بھی ہمارے سامنے آتی ہے۔ مثلاً ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کو فن کی بلندیوں پر پہنچانے والی اصل چیز ان کی وہ محنت ہے جو وہ اپنے کلام پر مسلسل کرتے رہتے تھے ۔ اقبال کی آفاقیت کا راز اس امر میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے کلام سے ایسے اشعار نکال دیتے ہیں جن میں شخصی اور مقامی پن زیادہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ نے بیشتر فرمایشی اشعار اپنے کلام میں شامل ہی نہیں کیے اشعار کی تراش خراش اور پھر اس کے انتخاب میں جگر کاوی کے نتیجے میں اقبال کا جو کلام ہمارے سامنے آیا ہے اُس نے جغرافیائی سرحدوں کو پامال کر دیا اور پوری دنیا کے دل کی دھڑکن بن گیا۔
باقیاتِ شعرِ اقبال نہ صرف علامہ کے نظریات کا پس منظر فراہم کرتے ہیں بلکہ عوام کے نظریۂ فن پر بھی کماحقہ روشنی ڈالتے ہیں۔ شاعر اپنے کلام کا بہترین ناقدنہ سہی لیکن اپنے کلام کے فن اور فکری پہلوئوں پر اس کی اچھی خاصی نظر ہوتی ہے ۔ کس شعر کو ترک کرنے یا اس میں اصلاح کرنے کے عملی پہلو کے پیچھے شاعر کا زبر دست تنقیدی شعور کار فرما ہوتا ہے ۔ وہ اپنے کلام کو نظریاتی اور فنی دونوں پہلوئوں سے دیکھتا ہے، پرکھتا ہے۔ شاعر کا شعری ذوق اس مرحلے پر اس کی رہنمائی کرتا ہے۔چنانچہ رد و قبول کی بھٹی سے اپنے کلام کو گذار کر وہ ہمارے سامنے اپنی تخلیق پیش کرتا ہے۔ جتنا بڑا شاعر ہو گا اتنا ہی اس میں تنقیدی شعور بھی زیادہ ہو گا۔ ترمیم و تنسیخ کے عمل کا آغاز عام طور پر اسی وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب کوئی خیال ، جذبہ یا واقعہ شاعر کے ذہن میں ارتعاش پیدا کر دیتا ہے ۔ چنانچہ جو تخلیق اس ارتعاش کے نتیجے میں عالمِ وجود میں آتی ہے وہ ذہن کے پراسرار گوشوں سے گذر کر صفحۂ قرطاس پر منتقل ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر تمام تخلیقی عمل کو پوری طرح سمجھ لینا ہمارے بس کی بات نہیں ۔ لہٰذا اس پر کوئی حکم نہیں لگا سکتے ۔ لیکن جب کوئی تخلیق زینتِ قرطاس بنتی ہے اور پھر اس کی نوک پلک درست کی جاتی ہے تو یہ تبدیلیاں اس لمحے میں شاعر کی تمام نفسیاتی کیفیتوں کا مظہر ہوتی ہیں ۔ چنانچہ اِن اصطلاحات اور تبدیلیوں کا شاعر کے عہد اور ماحول کے پس منظر میں تجزیہ کیا جائے تو بعض اوقات اس فنکار کے متعلق حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں ۔ اقبال کے شعری آثار تین طرح کے ہیں:۔
(الف) وہ نظمیں ؍ غزلیں ؍ قطعات و رباعیات جنہیں علامہ نے مختلف وجوہ کی بنا پر ترک کر دیا تھا ۔
(ب) جو نظمیں علامہ نے کلام میں اشاعت کے لیے منتخب کی تھیں ان کے بعض اشعار ترک کر دیے گئے۔
(ج) بعض اشعار میں علامہ نے اصلاحات کی تھیں ۔ ان کی بیاضوں کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک مصرعے کو دو ، دو اور بعض اوقات تین یا چار دفعہ تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ امریہ ہے کہ بعض مصرعوں میں کی جانے والی تمام اصلاحات علامہ کو پسند نہیں آتیں اور وہ ابتدائی مصرعے کو بحال کر دیتے ہیں۔ اس طرح کے متعدد اشعار اور مصرعے اب علامہ کے متداول کلام میں موجود ہیں۔ کلامِ اقبال کے اس حصے کی نشاندہی ہونی چاہیے تاکہ ایسے اشعار کی تفہیم و تشریح میں اس پہلو کو سامنے رکھا جا سکے کہ اقبال فنی یا فکری لحاظ سے ان اشعار سے مطمئن نہیں تھے ۔ عدم اطمینان کا یہ فنی یا نفسیاتی تجزیہ اقبال کے بارے میں ہماری معلومات میں ضرور اضافہ کرے گا۔
اقبال کی اپنے کلام پر اصلاح عام طور پر ان کے شعر کو معیاری بنا دیتی ہے ۷ ۔ اس سے علامہ کے تنقیدی شعور کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اصلاح کا یہ عمل بانگِ دراسے ارمغان حجاز تک اسی شد و مد کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ ۸ علامہ کے متروکات و اصلاحات سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کو شعر کے فنی پہلوئوں سے خاصی دلچسپی تھی ۔ وہ اپنے پیغام کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔ فنِ شاعری سے ناواقفیت کا اظہار جس کا ذکر ان کے کئی خطوں میں ہوا ہے، محض انکسار ہے۔ علامہ کے متروکات اور اصلاحات کا مطالعہ ان کے متداول کلام کو سمجھنے میں ہماری بہت معاونت کر سکتا ہے۔
علامہ کی اصلاحات
اقبال کے ہاں کلام کو خوب سے خوب تر بنانے کا عمل لمحہ تخلیق سے مجموعے کی اشاعت تک جاری رہتا تھا ۔ مولانا مسعود عالم ندوی کے نام خط میں اگرچہ علامہ اپنے آپ کو فنِ اصلاح سے نابلد قرار دیتے ہیں۔ ۹ لیکن یہ محض ان کا انکسار ہے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ وہ اس فن کے تمام اسرار و رموز سے واقفیت رکھتے تھے ۔ ۱۹۱۷ء میں علامہ نے اورنگ زیب عالمگیرکی قبر کی زیارت کی اور ایک نظم لکھی اس نظم کا ایک مصرع یوں تھا ؎
ترکشِ مارا خدنگ آخریں
علامہ نے اس بے نظیر مصرعے کے بارے میں دین محمد مرحوم (سابق گورنر سندھ) سے کہا کہ انہوں نے اس مصرعے پر چالیس بار نظر ثانی کی تھی تب موجودہ صورت میں یہ مصرع سامنے آیا علامہ کی بیاضیں اور مسودات اس امر کے گواہ ہیں کہ ایک ایک مصرعے کو تین تین اور بعض اوقات چار چار دفعہ تبدیل کیا۔ اصلاحات کا یہ عمل اُس وقت بھی جاری رہتا تھا جب آپ مسودہ کاتب کے حوالے کر دیتے تھے۔ آج جو اشعار زبان زدِ خاص و عام ہیں، اس جگر کاوی کے نتیجے ہی میں انہوں نے موجودہ صورت اختیار کی ہے چند مثالیں ؎
سلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
کا دوسرا مصرع ابتدا میں یوں تھا ؎
باقی ہیں کچھ آثار ملوکی کے مٹا دو
اسی طرح ؎
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
کا یہ شعر ابتدا میں یوں تھا لیکن وزن درست نہ ہونے کی وجہ سے اسے تبدیل کر دیا ؎
محبت مجھے آفریدیوں سے ہے
کہ ہے آسمان گیر ان کی کمند
مختلف ادوار میںعلامہ کی اصلاحات کا معیار تقریباً یکساں رہا ہے ۔ خوب سے خوب تر کی سعی اوّل سے آخر تک یکساں طور پر جاری رہی ہے ۔ تاہم ابتدائی اصلاحات میں فنی نزاکتوں اور لفظی آرایش کا خیال کچھ زیادہ ہی رہا ہے ۔ الفاظ کے صحیح انتخاب اور علم بیان کے وسیع تر علم کی بدولت اشعار میں تمثال آفرینی کی کیفیت پیدا کرنے کا شعوری رجحان نمایاں رہا ہے ۔ جبکہ آخری دور کی اصلاحات میں کفایتِ لفظی سے کام لینے اور رمزیت و طنزیہ لطافت پیدا کرنے کا انداز اظہار کے دوسرے وسیلوں پر حاوی ہو جاتا ہے ۔ اسلوبِ بیان کی یہ تمام تر نزاکتیں فن کے متعلق اقبال کے اس انکسار کو ظاہر کرتی ہیں کہ انہیں شاعری سے کوئی دلچسپی نہیں اور یہ کہ ان کے اعلیٰ مقاصد فنِ شاعری پر غالب رہتے ہیں ۔ا ن اصلاحات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ علامہ کو فنِ شاعری پر مکمل دسترس حاصل تھی اور وہ فصاحت و بلاغت کے تمام رموز سے آشنا تھے، اور انہیں برتنے کا سلیقہ بھی جانتے تھے۔ مزید برآں انہیں لفظ و معنی کے رشتے کا بھی علم تھااور تاثیرِ شعری میں ہر دو کی ترکیب امتزاجی کا بھی وافر شعور تھا ۔ اصلاحات کے ضمن میں علامہ کی جگرکاوی ہی نے انہیں ممتاز شعراء کی صف میں شامل کیا اور یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر وہ اصلاح شعر پر اتنی محنت نہ کرتے تو ان کی مقصدی شاعری تاثیر کے اس وصف سے محروم رہتی جو آج اس کا طرۂ امتیاز ہے۔
علامہ کی تاثیر شعری کا راز جاننے کے لیے باقیات شعر اقبال کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس امر کی ضرورت بھی اب شدّت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ اقبال کی اصلاحات جمع کر کے ان کے نظریہ فن اور ردّ و قبول کا صحیح معیار متعین کیا جائے۔
باقیات شعری کا انتخاب
باقیات شعرِ اقبال (اردو) کسی طور اقبال کے کلام کے متداول مجموعے ’’کلیات اقبال‘‘ (اردو) کا بدل نہیں ہے۔ چونکہ اس مجموعے کا بیشتر کلام اقبال کی شعوری کوشش کے نتیجے میں ترک کیا گیا ۔ لہٰذا اس کلام کو ہم اقبال کے فکر و فن کے مثال کے طور پر پیش نہیں کر سکتے۔ اس کلام کو نصاب میں بھی اس لیے شامل کرنا مناسب نہیں کہ اقبال نے اسے ردّ کر دیا تھا ۔ تاہم اقبال کے فکری اور فنّی ارتقا کی مختلف کڑیوں کو ملانے کے لیے اس کلام سے استفادہ ناگزیر ہے۔ اس کے باوجود راقم الحروف کا خیال ہے کہ اگر ماہرین اقبالیات کا ایک بورڈ اس مقصد کے لیے تشکیل دیا جائے تو باقیات کے اس ذخیرے سے ایساکلام منتخب کیا جا سکتا ہے جو فکری اور فنی دونوں پہلوئوں سے اقبال کے متداول کلام کے ہم پلہ ہو ۔ ذیل میں ہم محض نمونے کے طور پر ایسے اشعار کا انتخاب پیش کر رہے ہیں جو کسی لحاظ سے اقبال کے معروف کلام سے کم نہیں ہے۔
ہر گھڑی اے دل نہ یوں اشکوں کا دریا چاہیے
داستاں جیسی ہو ویسا سننے والا چاہیے
٭٭٭
آج ہم حالِ دلِ درد آشنا کہنے کو ہیں
اس بھری محفل میں اپنا ماجرا کہنے کو ہیں
٭٭٭
ہم جو خاموش تھے اب تک تو ادب مانع تھا
ورنہ آتا تھا ہمیں حرفِ تمنّا کہنا
٭٭٭
ہوں کبھی اس شاخ پر میں اور کبھی اُس شاخ پر
ناک میں آخر کو دم آیا مرے صیّاد کا
٭٭٭
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے
٭٭٭
حسرت نہیں کسی کی تمنّا نہیں ہوں میں
مجھ کو نکالیے گا ذرا دیکھ بھال کے
٭٭٭
ہائے کس ناز سے آیا ہے خیالِ جاناں
چمنِ دل میں مرے بادِ بہاری آئی
٭٭٭
ذکر کچھ آپ کا بھی ہے ان میں
قبر میں جو سوال ہوتے ہیں
٭٭٭
تڑپ کے شانِ کریمی نے لے لیا بوسہ
کہا جو سر کو جھکا کر گناہ گار ہوں میں
٭٭٭
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
٭٭٭
میں نخل ہوں وفا کا محبت ہے پھل مرا
اس قول پر ہے شاہدِ عادل عمل مرا
٭٭٭
ہے خبر تاروں میں لیکن آمدِ خورشید کی
ظلمتِ شب میں نظر آئی کرن امید کی
٭٭٭
فضا اک اور ہی عالم کی ہوگی سامنے میرے
مگر ڈر ہے کہ یہ بھی پردئہ محمل نہ بن جائے
٭٭٭
نظر آئی نہ مجھ کو بو علی سینا کے دفتر میں
وہ حکمت جو کبوتر کو کرے شاہیں سے بے پروا
٭٭٭
علم کے زخم خوردہ کو علم سے، بے نیاز کر
عقل کو مے گسار کر ، عشق کو نے نواز کر
صورتِ ریگ بادیہ مرے غموں کا کیا حساب
درد کی داستان نہ پوچھ دستِ کرم دراز کر
٭٭٭
شہید جستجو ہے فکرِ انساں بزم ہستی میں
یہ کس الجھی ہوئی گتھی کے سلجھانے کی باتیں ہیں
٭٭٭
ہے سوئے منزل رواں ہونے کو اپنا کارواں
ہم صریرِ خامہ کو بانگِ درا کہنے کو ہیں
باقیات شعر اقبال کے مآخذ
اقبال کی پہلی غزل ستمبر ۱۸۹۳ء کے شمارہ میں شائع ہوئی ۔ جبکہ اقبال کی شاعری کی اصل شہرت کا آغاز انجمن حمایت اسلام کے جلسوں سے ہوا ۔ نالۂ یتیم انجمن کے جلسے میں ۱۹۰۰ء میں سنائی گئی پھر اپریل ۱۹۰۱ء میں نظم ’’ہمالہ‘‘ لکھی گئی جو’’ مخزن‘‘ کے پہلے شمارے اپریل ۱۹۰۱ء میں شائع ہوئی۔ ستمبر ۱۹۰۷ء سے پہلے اقبال کا بہت سا کلام کشمیری میگزین ، کشمیری گزٹ ، وطن اخبار ، پیسہ اخبار ، مخزن ، زمانہ وغیرہ میں شائع ہوتا رہا لیکن بہت سا کلام اقبال محفوظ نہ کر سکے ، ستمبر ۱۹۰۷ء کے بعد اقبال نے اپنے کلام کو بیاضوں میں محفوظ کرنا شروع کیا یورپ سے واپسی کے بعد اقبال اسرارِ خودی اور پھر رموز بے خودی کی تصنیف میں مصروف ہو گئے اور اپنے اردو مجموعہ کلام کی اشاعت کا خیال نہ آیا۔ ۱۹۱۹ء کے بعد ان کے احباب نے بھی اقبال کی توجہ اردو مجموعہ کلام کی جانب مبذول کرانا شروع کر دی ۔ ۱۹۱۹ء میں سید سلیمان ندوی نے مجموعے کی اشاعت کے بارے میں اقبال کو خط لکھا ۔ ۱۹۲۱ء میں علامہ کے بھتیجے شیخ اعجاز نے اپنے دوست مشتاق صاحب کی سفارش کرتے ہوئے اقبال کے کلام کی اشاعت کی اجازت مانگی لیکن علامہ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور یہ عذر پیش کیا کہ وہ خود ایک مجموعہ مرتب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۱۰
۱۹۲۳ء میں اقبال نے اردو کلام کی تدوین کا آغاز کر دیا ۔ اسی دوران میں اقبال کے دوست احمد دین نے اقبال سے مشورہ کیے بغیر اورا نہیں حیرت میں ڈالنے کی غرض سے کتاب ’’اقبال‘‘ شائع کر دی جس میں اقبال کی غزلیں اور نظمیں شائع کر دیں۔ اقبال اس پر ناراض ہوئے اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ ان کی شاعری انتخاب اور اصلاح نیز نظرثانی کے بغیر دو بارہ شائع نہیں ہونی چاہیے ۔ چنانچہ احمد دین نے یہ مجموعہ نذر آتش کر دیا۔ تاہم اس کے ایک دو نسخے کسی طرح محفوظ رہ گئے ۔ ۱۹۲۳ء میں ہی حیدر آباد (دکن) سے مولوی عبدالرزاق نے اخبارات و رسائل سے کلام حاصل کر کے کلیات اقبال چھاپ دیا: ۔ یہ امر بھی اقبال کو ناگوار گذرا چنانچہ اس مجموعہ کی فروخت کو حیدر آباد کی ریاست تک محدود کر دیا گیا۔ چودہری محمد حسین کی ڈائری(۱۱) سے معلوم ہوتا ہے کہ کلام اقبال کا انتخاب اور اصلاح کا عمل عبداللہ چغتائی اور چودھری محمد حسین کی معاونت سے پایۂ تکمیل کو پہنچا اور یوں بانگ درا منظر عام پر آئی۔ کلام کی فراہمی کے لیے بعض احباب کی بیاضوں سے مدد لی گئی ۔ یقینا شائع شدہ کلام کا کچھ حصہ اقبال کی دسترس سے باہر رہا ہوگا ۔ لہٰذا انتخاب کے عمل سے نہ گذر سکا۔
بانگ درا جب شائع ہوئی تو اس دور کا ۵۵فیصد کلام متروک قرار دے دیا گیا۔ اس متروک کلام میں ۵ سے ۱۰فیصد کلام ایسا بھی شامل ہوگا جو اقبال کے سامنے موجودہ نہ تھا ۔ اگر یہ تمام کلام شائع ہو جاتا تو بانگ درا کی ضخامت ۶۰۰ صفحات تک پہنچ سکتی تھی لہٰذا کڑے انتخاب کے بعد، اس مجموعے کو پونے تین سو صفحات تک محدود کر دیا گیا ۔ جو کلام بچ گیا اس کی بنیاد پر کئی مجموعے شائع ہوئے۔ اقبال کا کچھ غیر مطبوعہ کلام اعجاز احمد کی بیاض میں شامل تھا جسے ’’روز گار فقیر‘‘ جلد دوم میں شامل کیا گیا ۔ یوں باقیات کے نصف درجن مجموعے سامنے آئے۔
راقم الحروف نے ان تمام مجموعوں کے علاوہ اقبال کی بیاضوں سے بھی استفادہ کیا ہے۔ اخبارات و رسائل کی مزید ورق گردانی ، نیز مکاتیب اقبال کے ذخیرے کو کھنگالنے کے بعد کچھ غیر مدون کلام اور غیر مطبوعہ کلام دستیاب ہوا۔ بعض احباب نے بطور خاص باقیات کلام اقبال کی دریافتوں کا سلسلہ جاری رکھا اور متعدد رسائل میںاقبال کے شعری باقیات شائع کرائے : ’’کلیات باقیاتِ شعر اقبال‘‘ کا ماخذ یہی کلام ہے جس کی تفصیل درجِ ذیل ہے۔
مستقل مجموعے
۱ ۔ رخت سفر مرتبہ انور حارث طبع اوّل ۱۹۵۲ء
۲۔ رخت سفر مرتبہ انور حارث طبع دوم ۱۹۷۷ء
۳ ۔ باقیات اقبال مرتبہ عبدالواحد معینی طبع اوّل ۱۹۵۳ء
۴ ۔ باقیات اقبال مرتبہ عبدالواحد معینی،عبداللہ قریشی طبع سوم ۱۹۷۷ء
۵ ۔ سرود رفتہ ؛ غلام رسول مہر ۱۹۵۹ء
۶ ۔ تبرکاتِ اقبال محمد بشیر الحق دسنوی عظیم آبادی ۱۹۵۹ء
۷ ۔ نوادرِ اقبال عبدالغفار شکیل ۱۹۶۲ء
۸ ۔ روز گار فقیر از فقیر وحید الدین ۱۹۷۰ء
۹ ۔ ابتدائی کلام اقبال از گیان چند ۱۹۸۸ء
جزوی مجموعے
۱۔ اردو کی چھٹی کتاب ۱۹۰۴ء
۲ ۔ اردو کی پانچویں کتاب ۱۹۰۵ء
۳ ۔ A Voice from the East
نواب سر ذوالفقار علی خان ۱۹۲۲ء
۴ ۔ اقبال از احمد دین پہلا ایڈیشن۱۹۲۳ء
۵ ۔ کلیات اقبال (حیدر آباد) مرتبہ مولوی عبدالرزاق ۱۹۲۴ء
۶ ۔ سپاس جناب امیر اور دیگر نظمیں مرتبہ تصدق حسین تاج ۱۹۳۸ء
۷ ۔ جہانِ اقبال مرتبہ عبدالرحمن طاری ۱۹۴۷ء
۸ ۔ اصلاحاتِ اقبال مرتبہ بشیر الحق دسنوی ۱۹۵۰ء
۹ ۔ تنقیدیں اور خاکے ۔ جلیل احمد قدوائی ۱۹۵۲ء
۱۰ ۔ ذکرِ اقبال مرتبہ عبدالمجید سالک ۱۹۵۵ء
۱۱۔ اوراق گم گشتہ مرتبہ ڈاکٹر رحیم بخش شاہین ۱۹۷۵ء
۱۲ ۔ تلاش و تاثر ۔ عبدالحق دسنوی ۱۹۷۶ء
۱۳ ۔ اقبال اور انجمن حمایت اسلام ۔ حنیف شاہد ۱۹۷۶ء
۱۴ ۔ روایاتِ اقبال ۔ عبداللہ چغتائی ۱۹۷۷ء
۱۵ ۔ اقبال کی صحبت میں ۔ عبداللہ چغتائی ۱۹۷۷ء
۱۶ ۔ اقبال انیسویں صدی میں ۱۹۷۷ء
۱۷ ۔ کلام اقبال (نادر ونایاب رسائل کے آئینے میں) اکبر حیدری ۲۰۰۱ء
ان مآخذ کے علاوہ راقم الحروف نے درج ذیل مآخذ سے بھی بھر پور استفادہ کیا۔
علامہ کی بیاضیں
۱۔ بیاضِ بانگ درا (جلد اول، دوم ، سوم ، چہارم)
۲ ۔ بیاضِ بال جبریل (پنجم)
۳ ۔ بیاضِ بال جبریل (ششم)
۴ ۔ بیاضِ ضرب کلیم (ہفتم)
۵ ۔ بیاضِ ارمغان حجاز (ہشتم)
علامہ کے مسودے
۱ ۔ مسودہ بال جبریل
۲ ۔ مسودہ ضرب کلیم
دیگر قلمی نسخے
۱ ۔ بیاضِ شیخ اعجاز احمد
۲ ۔ بیاض صادق حسین لاہور
۳ ۔ بیاضِ حاجی علی گوہر خان مانسہرہ
۴ ۔ بیاضِ عماد الملک و محمد انور خان بحوالہ گیان چند
قلمی ڈائریاں
۱ ۔ عبداللہ المتخلص ابتر و افضل : حضرو اٹک
۲ ۔ منشی محمد دین فوق مملوکہ عبداللہ قریشی
۳ ۔ میاں عبدالرشید سمن آباد لاہور
۴۔ کریم بی بی سیالکوٹ
تحقیقی مقالہ
۱ ۔ چودھری محمد حسین اور علامہ اقبال (روابط) از ثاقف نفیس اورئینٹل کالج، لاہور
رودادیں
۱ ۔ انجمن حمایت اسلام لاہور کی متعدد رودادیں
رسائل و اخبارات
مخزن ، صوفی ، پیسہ اخبار ، اخبار کشمیری ، انقلاب ، زمیندار ، پنجہ فولاد، وطن اخبار ، کشمیری گزٹ ، تمدن ، جامعہ ، حمایت اسلام ، شاہکار ، زبان دہلی ، صبا حیدر آباد (دکن) ۔ عالمگیر ، علی گڑھ میگزین ، فردوس (لاہور) فصیح الملک ، ماہ نو ، معارف ، مہر نیم روز ، نظام المشائخ ، نگار( لکھنؤ) ، نیرنگ خیال ، ہمایوں ، ہم قلم ، طلوع اسلام ، شگوفہ حیدر آباد ، اقبال ریویو ، اقبال ، اقبالیات ، صحیفہ وغیرہ
مضامین
اس کے علاوہ درج ذیل مضامین سے بھی استفادہ کیا گیا جن میں نظموں اور غزلوں کے کئی اشعار شائع ہوئے:
۱۔ علامہ اقبا ل کا غیر مطبوعہ کلام نظیر لدھیانوی شاہکار ،لاہور مارچ ۱۹۴۶ء
۲۔ علامہ اقبا ل کا غیر مطبوعہ کلام نظیر لدھیانوی ہمایوں ،لاہور اپریل ۱۹۵۰ء
۳۔ اصلاحات اقبال کیپٹن منظور حسین امروز اپریل۱۹۵۸ء
۴۔ اقبال کی تین نظمیں عبدالقوی دسنوی مہر نیمر روز جون ۔ اگست ۱۹۵۸ء
۵ ۔ نوادرات اقبال اکبر علی خان صحیفہ شمارہ ۹ جون ۔اگست ۱۹۵۸ء
۶ ۔ گنج باد آورد اکبر علی خان صحیفہ شمارہ ۱۱ دسمبر ۔ جنوری ۱۹۵۸ء
۷ ۔ اقبال کے چند نوادر اکبر علی خان ماہ نو ،اقبال نمبر۷۷ اپریل ۱۹۵۹ء
۸ ۔ نوادرِ اقبال اکبر علی خان صحیفہ شمارہ ۱۳ ۱۹۶۰ء
۹ ۔ ایک جوئے کہستان کی موجِ رواں عابد رضا بیدار
صبا حیدر آباد دکن مارچ ۱۹۶۱ء
۱۰ ۔ ایک جوئے کہستان کی
موجِ رواں عابد رضا بیدار ماہ نو اقبال نمبر ۷۷ اپریل ۱۹۶۲ء
۱۱ ۔ چند نوادر بسلسلہ اقبالیات اکبر علی خان اقبال ریویو جولائی ۱۹۶۲ء
۱۲ ۔ ایک جوئے کہستان کی
موجِ رواں عابد رضا بیدار ہم قلم کراچی دسمبر ۱۹۶۲ء
۱۳ ۔ تحقیقی مسائل (اقبالیات کے
چند غیر مرتب نوادر) جلیلی قدوائی ہم قلم کراچی جنوری ۱۹۶۲ء
۱۴۔ چند نوادر بسلسلہ اقبالیات اکبر علی خان اقبال ریویو جولائی ۱۹۶۲ء
۱۵ ۔ خدنگِ خجستہ رئیس مینائی ماہِ نو اقبال نمبر ۷۷ اپریل ۶۴
۱۶۔ اقبال کی ایک فراموش
شدہ نظم شمع ہستی لطیف اللہ بدوی اقبال ریویو ستمبر ۱۹۶۵ء
۱۷۔ اقبالیات عبدالقوی دسنوی جامعہ جولائی دسمبر۱۹۶۶ء
۱۸۔ اقبال کی ایک نادر تحریر کامل القادری افکار خاص نمبر اپریل مئی۱۹۶۹ء
۱۹۔ اقبال پر نیا مواد بشیر احمد ڈار اقبال ریویو جنوری۱۹۷۰ء
۲۰ ۔ نادرات اقبال افضل حق قرشی صحیفہ اقبال نمبر ۱۹۷۳ء
۲۱ ۔ اقبال کا غیر مطبوعہ کلام ادارہ مہک اقبال نمبر ۷۵۔۱۹۷۴ء
۲۲۔ نوادرِ اقبال اختر راہی اقبال اکتوبر ۱۹۷۶ء
۲۳۔ اقبال کا غیر مطبوعہ کلام اصغر حسین نظیر برگ گل اقبال نمبر ۱۹۷۷ء
۲۴۔ باقیاتِ اقبال قاضی افضل حق قرشی رسالہ اردو ،طبع جدید ۱۹۷۷ء
۲۵ ۔ غیر مدون کلام ادارہ مہک گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ ۱۹۷۷ء
۲۶ ۔ ایک قطعہ تاریخ ڈاکٹر عبدالغنی صحیفہ اپریل۱۹۷۷ء
۲۷ ۔ باقیاتِ اقبال حنیف شاہد صحیفہ جولائی ۱۹۷۸ء
۲۸۔ بال جبریل کا متروک کلام ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی مجلہ تحقیق شمارہ ۴ ۱۹۸۰ء
۲۹۔ علامہ اقبال کا کچھ غیر
مطبوعہ کلام ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اورئنٹل کالج میگزین مارچ۱۹۸۲ء
۳۰۔ علامہ اقبال کا غیر
مطبوعہ کلام سید سرفراز احمد مشرق اقبال نمبر اپریل۱۹۸۳ء
۳۱۔ علامہ اقبال اور درسی
کتابیں ڈاکٹر حسن اختر ماہ نو اپریل ۱۹۸۳ء
۳۲ ۔ علامہ اقبال کے غیر مطبوعہ
قطعات نظیرلدھیانوی امروز اقبال ایڈیشن نومبر۱۹۸۳ء
۳۳۔ اقبال کا ایک غیر مطبوعہ
سہرا پروفیسر ریاض حسین اقبالیات جولائی۔ستمبر۱۹۹۲ء
۳۴۔ نوادرِ شعر اقبال افضل حق قرشی اقبالیات جولائی ۱۹۹۶ء
۳۵۔ علامہ اقبال کا ایک نایاب
قطعہ ڈاکٹر محمود الرحمن ماہ نو اقبال نمبر نومبر ۲۰۰۲ء
باقیات کی تدوین نو کے مسائل
باقیات شعر اقبال کی تدوین نو کے ضمن میں ہمیں جو مسائل درپیش رہے، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
٭ اقبال کا کلام ان کی زندگی میں جن رسائل اور اخبارات میں شائع ہوتا رہا، ان میں سے بعض دستیاب نہیں۔
٭ باقیاتِ شعر اقبال کے جو مجموعے وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے ہیں، ان میں اپنے مآخذ کا اعتراف نہیں کیا گیا ہے چنانچہ بعض اوقات یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس نے کہاں سے یہ کلام اخذ کیا؟
٭ نقل در نقل کی وجہ سے اختلاف متن کی متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں، جن متون کے بنیادی مآخذ دستیاب نہیں، ان کے بارے میںحتمی فیصلہ کرنا بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔
٭ اقبال کی قلمی بیاضیں اس ضمن میں ہماری بہت سی الجھنوں کو رفع کر سکتی ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کی بیاضوں میں ۱۹۰۷ء سے پہلے کا کلام موجود نہیں ۔ کہیں کہیں اقبال کا سوادِ خط بھی الجھن کا سبب بنتا ہے۔
٭ اقبال نے جن احباب کی بیاضوں کی بنیاد پر بانگِ درا کا کلام منتخب کیا تھا وہ اب دستیاب نہیں۔
٭ اقبال کے باقیاتِ شعری کا زمانۂ تصنیف معلوم کرنا مزید مشکلات کا سبب بنتا ہے۔
٭ باقیات کے ذخیرے میں کچھ الحاقی کلام بھی شامل ہو گیا ہے جسے بوجوہ غلط طور پر اقبال سے منسوب کر دیا گیا ہے۔
٭ باقیاتِ شعر اقبال کے نصف درجن کے قریب مجموعوں میں مشترک کلام بھی پایا جاتا ہے اور ایسا کوئی مجموعہ موجود نہیں ہے جو اس عیب سے پاک ہو اور جامع بھی ہو۔
٭ بعض مجموعوں مثلاً: ’’باقیاتِ اقبال‘‘ اور ’’روز گارِ فقیر‘‘ میں ایسے اشعار بھی شامل کر لیے گئے ہیں جو باقیات کی ذیل میں نہیں آتے بلکہ متداول کلام میں موجود ہیں۔
٭ مکاتیب اقبال نیز سوانح اقبال کی بعض کتب میں اکّا دُکا اشعار موجود ہیں جنہیں باقیات کے جامعین نے مدّون نہیں کیا ۔
ان مسائل کو درج ذیل طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔
٭ اقبال کے متداول اور غیر متداول کلام کے تمام مآخذ کا ایک اشاریہ مرتب کیا گیا اور ان تمام مآخذ کا بدقتِ نظر مطالعہ اور موازنہ کیا گیا ۔ ان متون کو اقبال کی بیاضوں سے بھی ملا کر دیکھا گیا۔
٭ متن کے بیشتر اختلاف حقیقی نہیں تھے بلکہ نقل در نقل کے نتیجے میں پیدا ہو گئے تھے۔ ایسے اختلافات کو درخور اعتنا نہیں جانا گیا ۔ صرف انھی اختلافات کا ذکر کیا گیا جس کی کوئی اور تاویل ممکن نہیں تھی ۔
٭ کلام اقبال کی جملہ اوّلین اشاعتوں کو حاصل کیا گیا اور کچھ قلمی بیاضوں سے بھی مدد لی گئی۔
٭ نظموں کے زمانۂ تصنیف کا تعین کرنے کے لیے اقبال کے خطوط اور ان کے احباب کی یاداشتوں سے بھی استفادہ کیا گیا۔
٭ خوش قسمتی سے اقبال کی بیاضوں میں بعض نظموں کا زمانۂ تحریر درج ہے جہاں درست تاریخ یا مہینہ نہیں مل سکا، وہاں نظم کی اوّلین اشاعت کی تاریخ یا مہینے کو زمانۂ تصنیف قرار دیا گیا ۔ اس ضمن میں بعض داخلی اور خارجی شہادتوں کی بدولت بھی زمانے کا تعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یوں یہ کلیات بڑی حد تک زمانی ترتیب کے مطابق مرتب کیا گیا ہے ۔
٭ اقبال کے الحاقی کلام کا سراغ لگایا گیا ہے اور ان اشعار کو کلیات سے خارج کر دیا گیا۔
٭ جس کلام کی صحت کا پورا یقین نہ تھا اُسے مشکوک سمجھتے ہوئے تحقیق طلب کلام کے عنوان کے تحت شامل کیا گیا ۔ تاکہ دیگر محققین اس کے بارے میں مزید تحقیق کر کے صحیح فیصلہ کر سکیں ۔
٭ زیرِ نظر مجموعے میں تمام مشترکات کو الگ کر دیا گیا ہے۔ اور اس امر کی پوری پوری کوشش کی گئی ہے کہ اقبال کے متداول کلام کا کوئی شعر باقیات کے اس مجموعے میں شامل نہ ہو۔
ٔ٭ اقبال کی سوانح عمریوں اور معاصرین کی یاداشتوں کو پوری طرح کھنگال لیا گیا ہے اور ہر اُس شعر کو اس مجموعے میں شامل کر لیا گیا ہے جو باقیات کی ذیل میں آتا ہے ۔
٭ اقبال کے اوّلین مآخذ کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے ۔ اگر کسی غزل یا نظم کا اوّلین متن دستیاب نہیں ہو سکا تو اس متن کو ترجیح دی گئی ہے جو دوسرے مآخذ کی نسبت زیادہ مقدم ہو۔
٭ اقبال کی بیاضوں کو مطبوعہ مواد پر ترجیح دی گئی ہے۔ شیخ اعجاز احمد کی مرتب کردہ بیاض سے اہم مآخذ کی حیثیت سے بھر پور استفادہ کیا گیا ہے۔
زیر نظر مجموعے کی خصوصیات
اقبال کے جملہ باقیاتِ شعر کو زمانی ترتیب سے مدوّن کر دیا گیا ہے اس سے اقبال کے ذہنی ارتقا کی پوری کیفیت ہمارے سامنے آ جاتی ہے اس ضمن میں تین ادوار بنائے گئے ہیں۔
بانگ درا کے متروکات :
دور اوّل ابتدا تا ۱۹۰۸ء
دور دوم ۱۹۰۹ء تا ۱۹۲۴ء (بانگ درا کی اشاعت تک)
بال جبریل کے متروکات ۔ضرب کلیم + ارمغان حجاز
دور سوم : ۱۹۲۵ء سے ۱۹۳۸ء تک
ہر دور میں کلام کی ترتیب اس طرح رکھی گئی ہے۔
۱ ۔ نظمیں :
خ مکمل نظمیں (متروکہ)
خ متداول کلام کی نظموں کے جزوی متروکات
۲ ۔ غزلیں:
خ مکمل غزلیں (متروکہ)
خ غزلوں کے جزوی متروکات (متداول کلام)
۳ ۔ ظریفانہ کلام :
۴ ۔ قطعات و رباعیات :
خ قطعات
خ رباعیات
۵ ۔ متفرقات :
(۱) تاریخیںاور مادہ ہائے تاریخ
(۲) بدیہہ گوئی؍فردیات
متفرقات کی ترتیب بھی بڑی حد تک زمانی ہے۔ ہر شعبے میںنظموں کی ترتیب کو بھی ممکن حد تک زمانی رکھا گیا ہے۔
٭ اختلاف متن، نظم کا پس منظر اور اس کے مآخذ کے بارے میں تفصیلات چونکہ میرے تحقیقی مقالے میں شامل ہیں لہٰذا انھیں کلیات میں شامل نہیں کیا گیا ۔ ویسے بھی عام قارئین کو اس سے دلچسپی نہیں ہوتی چنانچہ اس ضمن میں میرے مقالے کی اشاعت کا انتظار کرنا چاہیے جو امید ہے ، جلدمنصہ شہود پر آ جائے گا۔
٭ اس کلیات میں ہر نظم کے مآخذ کی سند بھی فراہم کی گئی ہے۔
٭ جو متن اس کلیات میں شامل کیا گیا ہے جو ممکن حد تک اصل کے مطابق ہے ۔ دو یا دو سے زیادہ متون کی موجودگی میں کسی ایک متن کو اختیار کرنے کے ضمن میں تدوینِ متن کے اصولوں کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ اس امر کی وضاحت اور صحیح متن کی اسناد تحقیقی مقالے میں فراہم کر دی گئی ہیں۔ جسے کلیات کا تتمہ ہی سمجھا جا سکتا ہے۔
٭ زیر نظر مجموعے میں شامل اشعار کا، متداول کلام سے مقابلہ و موازنہ کرنے سے درج ذیل کیفیت سامنے آتی ہے۔
متداول کلام میں اشعار کی کل تعداد : ۴۶۹۷ (مشمولہ : کلیات اقبال اردو)
مدوّن متروکہ کلام اشعار کی کل تعداد : ۲۷۷۶ (باقیات کے مجموعوں میں شامل کلام)
غیر مدوّن ؍ غیر مطبوعہ کلام ۷۵۰
اقبال کے کل اردو اشعار ۸۲۲۳
اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اقبال نے اپنا ۴۲ فیصد کلام متروک قرار دے دیا تھا یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ باقیات میں غیر مدوّن اورغیر مطبوعہ کلام کی ذیل میں ۷۵۰ اشعار کا اضافہ، راقم الحروف کی کوششوں کا حاصل ہے اور اس ضمن میں راقم الحروف کا سب سے اہم مآخذ اقبال کی وہ قلمی بیاضیں ہیں جن کی نقول اب میرے ذخیرہ کتب میں شامل ہیں۔ مزید باقیات کی دستیابی کا امکان اب بہت کم رہ گیا ہے اور نہ اقبال کے خاندانی ریکارڈ سے کسی اضافے کی گنجایش ممکن ہے ۔ اس ضمن میں حال ہی میں منظر عام پر آنے والی جاوید اقبال کی خود نوشت ’’اپنا گریباں چاک‘‘ کا ایک اقتباس کافی ہو گا:
ایک بار میں نے دیکھا کہ والد (علامہ اقبال) نے اپنے کمرے میںمنشی طاہر الدین کے سامنے کاغذوں سے بھرا ایک ٹرنک رکھوایا اور اس میں سے خود چھانٹ کر بعض تصاویر اور کاغذات انہیں انگیٹھی میں جلتی ہوئی آگ میں پھینکنے کو دیے ۔ وہ تصاویر اور کاغذات ان کے سامنے جلا دیے گئے ۔ جو کاغذات یا مسودات بچ گئے اور اب اقبال میوزیم کی زینت ہیں میرے والد کے ذاتی کاغذات میں سے وہی ہیں جو انہوں نے بذاتِ خود محفوظ رکھنے کے قابل سمجھے۔۱۲
راقم الحروف نے اپنا تحقیقی مقالہ ۱۹۸۸ء میں مکمل کر لیا تھا جس پر ۱۹۹۰ء میں ڈگری دی گئی ۔ اس کے بعد اقبال کے جو باقیاتِ شعر منظر عام پر آئے، انھیں بھی اس کلیات میں شامل کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں راقم الحروف افضل حق قرشی اور ڈاکٹر اکبر حیدری (بھارت) کی مساعی کو تحسین کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ اس کے باوجود یہ دعویٰ کرنا مشکل ہے کہ باقیات شعر کے زیر نظر اس ذخیرے میں مزید اضافہ ممکن نہیں وقت کے ساتھ ساتھ ممکن ہے کچھ نئے مآخذ ہمارے سامنے آتے جائیں اور اس طرح باقیات شعر اقبال کا یہ ذخیرہ ، مزید باثروت ہوتا چلا جائے ؎
ہر لحظہ نیا طور ، نئی برق تجلّی
اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے
٭٭٭٭

حواشی
۱ ۔ روداد، انجمن حمایت اسلام ۱۹۰۰ء ، ص ۳۶
۲ ۔ باقیات اقبال ص ۵۷۸ (طبع سوم ۱۹۷۸ئ)
۳ ۔ ایضاً ص ۴۵۱
۴ ۔ بیاض بانگ درا مخزونہ اقبال میوزیم لاہور
۵ ۔ اقبال نامہ جلد اول ص ۱۶
۶ ۔ یہ تمام تفصیلات سرود رفتہ مرتبہ غلام رسول مہر سے اخذ کی گئی ہیں ۔
۷ ۔ دیکھیے اصلاحات اقبال از بشیر الحق دسنوی
۸ ۔ بیاضِ ارمغانِ حجاز ، مخزونہ اقبال میوزیم لاہور
۹ ۔ اقبال نامہ اوّل ،ص ۴۲۳
۱۰۔ مظلوم اقبال از شیخ اعجاز احمد ، ص ۲۰۱
۱۱ ۔ مشمولہ: مقالہ ایم اے اردو ، از ثاقف نفیس پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج لاہور۔
۱۲۔ اپنا گریبان چاک از جاوید اقبال : شائع کردہ سنگِ میل پبلی کیشنز ، لاہور ، ۲۰۰۳ء

 

 

 

 


دورِ اوّل کا کلام
(۱۸۹۳ء تا ۱۹۰۸ئ)
’’بانگِ درا‘‘ کے متروکات

خ مکمل متروکہ نظمیں
خ نظموں کے جزوی متروکات
خ مکمل متروکہ غزلیں
خ غزلوں کے جزوی متروکات
خ مکمل قطعات ؍ رباعیات

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


مکمل متروکہ نظمیں

 

مشہور پنجابی مثل ہے
جیہا منہ تئی چپیڑ
واہ سعدی دیکھ لی گندہ دہانی آپ کی
خوب ہو گی مہتروں میں قدر دانی آپ کی
بیت ساری آپ کی بیت الخلا سے کم نہیں
ہے پسندِ خاکروباں شعر خوانی آپ کی
تیلیاں جاروب کی لیتے وہ خامے کے عوض
کھینچتے تصویر گر بہزاد و مانی آپ کی
راہ اپنی چھوڑ کر نکلے دہن کی راہ سے
ہے مگر بادِ مخالف نغمہ خوانی آپ کی
ان دنوں کو فصلِ گل کہیے ویا دن پھول۱ کے
ہر طرف ہوتی ہے سعدی گل فشانی آپ کی
آپ کے اشعار موتی ہیں مگر یاؔؔ کے بغیر۲
گوشِ عالم تک یہ پہنچے ہیں زبانی آپ کی
گوہربے را۳ جھڑے ہیں آپ کے منہ سے سبھی
جان سے تنگ آ گئی ہے مہترانی آپ کی
ہر طرف سے آ رہی ہے یوں جو دُر دُر کی صدا
بھا گئی اہلِ سخن کو دُرفشانی آپ کی
آپ سے بڑھ کر عروضے۴ کوئی دنیا میں نہیں
واہ صاحب شعر خوانی ،شعردانی آپ کی
خاک کو ہم چاٹ کر یہ بات کہدیتے ہیں آج
تلخ کامی ہوگی یہ شیریں دہانی آپ کی
جب ادھر سے بھی پڑیں گے آپ کو سابن کے مُول
آپ پر کھل جائے گی رنگیں بیانی آپ کی
کھائو گے فرمائشی ، سر پلپلا ہو جائیگا
پھر نکل جائے گی سر سے شعر خوانی آپ کی
دین اور ایماں کی دم میں واہ نمدہ دے دیا
سارے عالم کی زباں پر ہے کہانی آپ کی
آفتابِ صدق کی گرمی سے گھبرائو نہیں
حضرتِ شیطاں کریں گے سائبانی آپ کی
اشتہارِ آخری اک آنت ہے شیطان کی
سر بسر جس سے عیاں ہے خوش بیانی آپ کی
وہ مثل ہے ، ہے طویلے کی بلا بندر کے سر
ہو گیا ہم کو یقیں شامت ہے آنی آپ کی
خر کمھاروں کا موا ، دھوبن ستی ہوتی ہے مفت
ہے مگر قومِ نصاریٰ یارجانی آپ کی
رانڈ کے چرخے کی صورت کیوں چلے جاتے ہیں آپ
اہلِ عالم نے سبھی بکواس جانی آپ کی
نیلے پیلے یوں نہ ہو پھر کیا کرو گے اُس گھڑی
جب خبر لیوے گا قہرِ آسمانی آپ کی
بات رہ جاتی ہے دنیا میں ، نہیں رہتا ہے وقت
آپ کو نادم کرے گی بد زبانی آپ کی
قوم عیسائی کے بھائی بن گئے پگڑی بدل
واہ کیا اسلام پر ہے مہربانی آپ کی۵
۱ - ایام حیض
۲ - مراد ہے موت
۳ - مراد ہے گوہ
۴ - بمعنی بے وقوف
ماخذ - آئینہ حق نما - مولوی تراب علی (۱۹۱۲ئ)
نوٹ :- مندرجہ بالا حواشی نظم میں موجود ہیں - قرینِ قیاس ہے کہ یہ حواشی علامہ اقبال نے خود لکھے -
خ
فلاحِ قوم

اقبال نے یہ نظم فروری ۱۸۹۶ء میں انجمن کشمیری مسلمانانِ لاہور کے ایک اجلاس میں پڑھی تھی -
کیا تھا گردشِ ایام نے مجھے محزوں
بدن میں جان تھی جیسے قفس میں صیدِ زبوں
چڑھائی فوجِ الم کی ہوئی تھی کچھ ایسی
علم خوشی کا مرے دل میں ہو گیا تھا نگوں
کیا تھا کوچ جو دل سے خوشی کی فوجوں نے
لگائے خیمہ تھے واں رنج کے جنود و قشوں
غم و الم نے جگر میں لگائی تھی اک آگ
بنا ہوا تھا مرا سینہ رشکِ صد کانوں
زبسکہ غم نے پریشاں کیا ہوا تھا مجھے
یہ فکر مجھ کو لگی تھی کہ ہو نہ جائے جنوں
جو سامنے تھی مرے قوم کی بری حالت
امڈ گیا مری آنکھوں سے خون کا سیحوں
انہی غموں میں مگر مجھ کو اک صدا آئی
کہ بیت قوم کی اصلاح کے ہوئے موزوں
پئے مریض یہ اک نسخۂ مسیحا تھا
کہ جس کو سن کے ہوا خرّمی سے دل مشحوں
غبار دل میں جو تھا کچھ فلک کی جانب سے
دبے اسی میں غم و رنج ، صورتِ قاروں
ہزار شکر کہ اک انجمن ہوئی قائم
یقیں ہے راہ پہ آئے گا طالعِ واژوں
ملے گا منزلِ مقصود کا پتا ہم کو
خدا کا شکر کہ جس نے دیے یہ راہ نموں
ہِلال وار اگر منہ میں دو زبانیں ہوں
ادا نہ پھر بھی ہو شکرِ خدائے ’’کن فیکوں‘‘
مثال شانہ اگر میری سو زبانیں ہوں
نہ طے ہو زلفِ رہِ شکر ایزد بے چوں
چلی نسیم یہ کیسی کہ پڑ گئی ٹھنڈک
چمن ہوئی مرے سینے میں نارِ سوزِ دروں
یہ کیا خوشی ہے کہ دل خود بخود یہ کہتا ہے
بعید رنج سے اور خرّمی سے ہوں مقروں
خوشی نے آ کے خدا جانے کیا کہا اس سے
اچھل رہا ہے مثالِ تموّجِ جیحوں
کرم سے اس کے وہ صورت فلاح کی نکلی
کہ حصنِ قوم ہر اک شر سے ہو گیا مصئوں
خدا نے ہوش دیا ، متفق ہوئے سارے
سمجھ گئے ہیں تری چال گنبدِ گردوں!
چراغِ عقل کو روشن کیا ہے ظلمت میں
ہمارے ہاتھ میں آ جائے گا دُرِ مکنوں
مزا تو جب ہے کہ ہم خود دکھائیں کچھ کر کے
جو مرد ہے ، نہیں ہوتا ہے غیر کا ممنوں
بڑھے یہ بزم ترقی کی دوڑ میں یا رب
کبھی نہ ہو قدمِ تیز آشنائے سکوں
اسی سے ساری امیدیں بندھی ہیں اپنی کہ ہے
وجود اس کا پئے قصرِ قوم ، مثلِ ستوں
دعا یہ تجھ سے ہے یا رب کہ تاقیامت ہو
ہماری قوم کا ہر فرد قوم پر مفتوں
جو دوڑ کے لیے میدانِ علم میں جائیں
سبھوں سے بڑھ کے رہے ان کے فہم کا گلگوں
کچھ ان کا شوق ، ترقی کا حد سے بڑھ جائے
ہماری قوم پہ یا رب وہ پھونک دے افسوں
دکھائیں فہم و ذکا و ہنر یہ اوروں کو
زمانے بھر کے یہ حاصل کریں علوم و فنوں
جو تیری قوم کا دشمن ہو اس زمانے میں
اسے بھی باندھ لے اقبالؔ! صورت مضموں۱
۱- کشمیری میگزین مارچ ۱۹۰۹ء
خ

نالۂ یتیم
آہ ! کیا کہیے کہ اب پہلو میں اپنا دل نہیں
بجھ گئی جب شمعِ روشن درخورِ محفل نہیں
اے مصافِ نظمِ ہستی میں ترے قابل نہیں
نا امیدی جس کو طے کر لے یہ وہ منزل نہیں
ہائے کس منہ سے شریکِ بزمِ مے خانہ ہوں میں
ٹکڑے ٹکڑے جس کے ہو جائیں وہ پیمانہ ہوں میں
خارِ حسرت غیرتِ نوکِ سناں ہونے لگا
یوسفِ غم زینتِ بازارِ جاں ہونے لگا
دل مرا شرمندئہ ضبطِ فغاں ہونے لگا
نالۂ دل روشناسِ آسماں ہونے لگا
کیوں نہ وہ نغمہ سرائے رشکِ صد فریاد ہو
جو سرودِ عندلیبِ گلشنِ برباد ہو
پنجۂ وحشت بڑھا چاکِ گریباں کے لیے
اشکِ غم ڈھلنے لگے پابوسِ داماں کے لیے
مضطرب ہے یوں دلِ نالاں بیاباں کے لیے
جس طرح بلبل تڑپتا ہے گلستاں کے لیے
لیں گے ہم ہنگامۂ ہستی میں اب کیا بیٹھ کر
روئیے جا کر کسی صحرا میں تنہا بیٹھ کر
قابلِ عشرت دلِ خو کردئہ حسرت نہیں
در خورِ بزمِ طرب شمعِ سرِ تربت نہیں
زیرِ گردوں شاہدِ آرام کی صورت نہیں
غیرِ حسرت غازئہ رخسارئہ راحت نہیں
صبحِ عشرت بھی ہماری غیرتِ صد شام ہے
ہستی انساں غبارِ خاطرِ آرام ہے
ہے قیامِ بحرِ ہستی جزر و مد امید کا
گاہے گاہے آنکلتی ہے مسرت کی ہوا
زندگی کو نورِ الفت سے ملی جس دم ضیا
لے کے طوفانِ ستم ابرِ تغیّر آ گیا
ہے کسی کو کامِ دل حاصل کوئی ناکام ہے
اس نظارے کا مگر خاکِ لحد انجام ہے
اے فلک تجھ سے تمنائے سعادت پروری
ہر ستارہ ہے ترا داغِ دلِ نیک اختری
تو نے رکھا ہے کسے حرماں نصیبی سے بری
’’اے مسلماناں فغاں از دورِ چرخِ چنبری‘‘
’’دوستی از کس نمے بینیم یاراں را چہ شد
دوستی کو آخر آمد دوستداراں را چہ شد‘‘
نطق کر سکتا نہیں کیفیّتِ غم کو عیاں
اس کی تیزی کو مٹا دیتے ہیں اندازِ بیاں
آ نہیں سکتی زباں تک رنج و غم کی داستاں
خندہ زن میرے لبِ گویا پہ ہے دردِ نہاں
عجزِ گویائی ہے گویا حکمِ قیدِ خامشی
مجرمِ اظہارِ غم کو یہ سزا ملنے لگی
زخمِ دل کے واسطے ملتا نہیں مرہم مجھے
اپنی قسمت کا ہے رونا صورتِ آدم مجھے
ظلِّ دامانِ پدر کا ہے ز بس ماتم مجھے
ہاں ڈبو دے اے محیطِ دیدئہ پُرنم مجھے
مضطرب اے دل نہ ہونا ذوقِ طفلّی کے لیے
تو بنا ہے تلخیٔ اشکِ یتیمی کے لیے
سایۂ رحمت ہے تو اے ظلِّ دامانِ پدر
غنچۂ طفلی پہ ہے مثلِ صبا تیرا گزر
رہنما ہے وادیِ عالم میں تو مثلِ خضر
تو تو ہے اک مظہرِ شانِ کریمی سر بسر
ہے شہنشاہی جو طفلی تو ہما تاثیر ہے
تو نہ ہو تو زندگی اک قیدِ بے زنجیر ہے
عین طفلی میں ہلال آسا کمر خم کھا گئی
صبح پیری کی مگر بن کر یتیمی آ گئی
بادِ ناکامی اسے کیا جانے کیا سمجھا گئی
شعلۂ سوزِ الم کو اور بھی بھڑکا گئی
دم کے بدلے میرے سینے میں دمِ شمشیر ہے
زندگی اپنی ، کتابِ موت کی تفسیر ہے
جوششِ صرصر سے ہے اے بحر جولانی تری
اور قمر کے دم سے ہے ساری یہ طغیانی تری
کوہ و دریا سے ہے قائم شانِ سلطانی تری
اور شعاع مہر سے ہے خندہ پیشانی تری
نظمِ عالم میں نہیں موجود سازِ بے کسی
ہو گئی پھر کیوں یتیمی صیدِ بازِ بے کسی
کھینچ سکتا ہے مصوّر خندئہ گل کا سماں
اور کچھ مشکل نہیں اے برق تیری شوخیاں
صبح کا اختر نہیں کلکِ تصور پر گراں
اور ہی کچھ ہیں مگر میرے تبسّم کے نشاں
یہ تبسّم اشکِ حسرت کا نمک پروردہ ہے
دردِ پنہاں کو چھپانے کے لیے اک پردہ ہے
یادِ ایامِ سلف تو نے مجھے تڑپا دیا
آہ اے چشمِ تصوّر تو نے کیا دکھلا دیا
اے فراقِ رفتگاں تو نے یہ کیا سمجھا دیا
دردِ پنہاں کی خلش کو اور بھی چمکا دیا
رہ گیا ہوں دونوں ہاتھوں سے کلیجا تھام کر
کچھ مداوا اس مرض کا اے دلِ ناکام کر
آمدِ بوئے نسیمِ گلشنِ رشکِ ارم
ہو نہ مرہونِ سماعت جس کی آوازِ قدم
لذتِ رقصِ شعاعِ آفتابِ صبح دم
یا صدائے نغمۂ مرغِ سحر کا زیر و بم
رنگ کچھ شہرِ خموشاں میں جما سکتی نہیں
خفتگانِ کنجِ مرقد کو جگا سکتی نہیں
ہر گھڑی اے دل نہ یوں اشکوں کا دریا چاہیے
داستاں جیسی ہو ویسا سننے والا چاہیے
ہر کسی کے پاس یہ دکھڑا نہ رونا چاہیے
آستاں اس کو یتیمِ ہاشمیؐ کا چاہیے
چشمِ باطن کی نظر بھی کیا سبک رفتار ہے
سامنے اک دم میں درگاہِ شہِ ابرؐار ہے
اے مددگارِ غریباں اے پناہ بے کساں
اے نصیر عاجزاں ! اے مایۂ بے مایگاں
کارواں صبر و تحمل کا ہوا دل سے رواں
کہنے آیا ہوں میں اپنے درد و غم کی داستاں
ہے تری ذاتِ مبارک حلِّ مشکل کے لیے
نام ہے تیرا شفا دُکھّے ہوئے دل کے لیے
بیکسوں میں تابِ جورِ آسماں ہوتی نہیں
ان دلوں میں طاقتِ ضبطِ فغاں ہوتی نہیں
کون وہ آفت ہے جو رہنِ بیاں ہوتی نہیں
اک یتیمی ہے کہ ممنونِ زباں ہوتی نہیں
میری صورت ہی کہانی ہے دلِ ناشاد کی
ہے خموشی بھی مری سائل تری امداد کی
بزمِ عالم میں طرازِ مسندِ عظمت ہے تو
بہرِ انساں جبرئیلِ آیۂ رحمت ہے تو
اے دیارِ علم و حکمت قبلۂ امت ہے تو
اے ضیائے چشمِ ایماں زیبِ ہر مدحت ہے تو
درد جو انساں کا تھا وہ تیرے پہلو سے اٹھا
قلزمِ جوش محبت تیرے آنسو سے اٹھا
آبِ کوثر تشنہ کامان محبت کا ہے تو
جس کے ہر قطرے میں سوموتی ہوں وہ دریا ہے تو
طور پر چشم کلیم اللہ کا تارا ہے تو
معنیٔ ’’یٰسیں‘‘ ہے تو مفہومِ ’’اَو اَدنیٰ‘‘ ہے تو
اس نے پہچانا نہ تیری ذاتِ پرُ انوار کو
جو نہ سمجھا احمدِ بے میم کے اَسرار کو
دلربائی میں مثالِ خندئہ مادر ہے تو
مثلِ آوازِ پدر شیریں تر از کوثر ہے تو
جس سے تاجِ عرش کو زینت ہو وہ گوہر ہے تو
از پئے تقدیرِ عالم صورتِ اختر ہے تو
زیبِ حسنِ محفلِ اشرافِ عالم تو ہوا
تھی مؤخّر گرچہ آمد پر مقدم تو ہوا
تیرا رتبہ جوہرِ آئینۂ لولاک ہے
فیض سے تیرے رگِ تاکِ یقیں نمناک ہے
تیرے سائے سے منوّر دیدئہ افلاک ہے
کیمیا کہتے ہیں جس کو تیرے در کی خاک ہے
تیرے نظّارے کا موسیٰ میں کہاں مقدور ہے
تو ظہورِ ’’لن ترانی‘‘ گوئے اوجِ طور ہے
دوپہر کی آگ میں وقتِ درو دہقان پر
ہے پسینے سے نمایاں مہرِ تاباں کا اثر
جھلکیاں امّید کی آتی ہیں چہرے پر نظر
کاٹ لیتا ہے مگر جس وقت محنت کا ثمر
یا محمدؐ کہہ کے اٹھتا ہے وہ اپنے کام سے
ہائے کیا تسکیں اسے ملتی ہے تیرے نام سے
وہ پناہِ دینِ حق وہ دامنِ غارِ حرا
جو ترے فیضِ قدم سے غیرتِ سینا ہوا
وہ حصارِ عافیت وہ سلسلہ فاران کا
جس کے ہر ذرّے سے اٹھی دینِ کامل کی صدا
فخرِ پابوسی سے تیری آسماں سا ہو گئی
یہ زمیں ہم پایۂ عرشِ معلّیٰ ہو گئی
نظمِ قدرت میں نشاں پیدا نہیں بیداد کا
شکوہ کرنا کام ہوتا ہے دلِ ناشاد کا
آ گرا ہوں تیرے در پر ، وقت ہے امداد کا
سرفرازی چاہیے بدلہ مری اُفتاد کا
آ نہ سکتا تھا زباں تک بے کسی کا ماجرا
حوصلہ لیکن مجھے تیری یتیمی نے دیا
تھم ذرا بے تابیٔ دل کیا صدا آتی ہے یہ
لطفِ آبِ چشمۂ حیواں کو شرماتی ہے یہ
دل کو سوزِ عشق کی آتش سے گرماتی ہے یہ
روح کو یادِ الٰہی کی طرح بھاتی ہے یہ
ہاں ادب اے دل ! بڑھا اعزاز مشتِ خاک کا
میں مخاطب ہوں جنابِ سیّدِ لولاکؐ کا
اے گرفتارِ یتیمی اے اسیر قید غم!
تجھ سے ہے آرامِ جان سیّدِ خیر الاممؐ
نا امیدی نے کیے ہیں تجھ پہ کچھ ایسے ستم
چیرتا ہے دل کو تیرا نالۂ درد و الم
تیری بے سامانیوں سے کیوں نہ میرا دل جلے
شرم سی آتی ہے تجھ کو بے نوا کہتے ہوئے
خرمنِ جاں کے لیے بجلی ترا افسانہ ہے
دل نہیں پہلو میں ، تیرے غم کا عشرت خانہ ہے
جس پہ بربادی ہو صدقے وہ ترا ویرانہ ہے
سہم جائے جس سے فرحت وہ ترا کاشانہ ہے
کانپتا ہے آسماں تیرے دلِ ناشاد سے
ہل گیا عرش معظّم بھی تری فریاد سے
خون رُلواتا ہے تیرا دیدئہ گریاں مجھے
کیوں نظر آتا ہے تو رہنِ غمِ پنہاں مجھے
کیوں نظر آتا ہے تیرا حال بے ساماں مجھے
کیوں نظر آتا ہے تو مثلِ تنِ بے جاں مجھے
میری اُمّت کیا شریکِ دردِ پیغمبرؐ نہیں
کیا جہاں میں عاشقانِ شافعِ محشر نہیں
جس طرح مجھ سے نبوت میں کوئی بڑھ کر نہیں
میری امت سے حمیت میں کوئی بڑھ کر نہیں
امتحان صدق و ہمت میں کوئی بڑھ کر نہیں
ہم مسلمانوں سے غیرت میں کوئی بڑھ کر نہیں
یہ دل و جاں سے خدا کے نام پر قربان ہیں
ہوں فرشتے بھی فدا جن پر یہ وہ انسان ہیں
انجمن لاہور میں اک حامیٔ اسلام ہے
آسماں پر جس کا پیمانِ محبّت نام ہے
جس کی ہر تدبیر تسکینِ دلِ ناکام ہے
جس کا نظّارہ مرادِ چشمِ خاص و عام ہے
جمع ہیں عاشق مرے سب ہند اور پنجاب کے
تو وہاں جا کر مری امّت کو یہ پیغام دے
جا کے یوں کہنا کہ ، ’’اے گلہائے باغ مصطفی ؐ
تم سے برگشتہ نہ ہو جائے زمانے کی ہوا
عرصۂ ہستی میں از بہرِ حصولِ مدّعا
رشکِ صد اکسیر ہوتی ہے یتیموں کی دعا
یہ وہ جادو ہے کہ جس سے دیوِ حرماں دور ہو
یہ وہ نسخہ ہے کہ جس سے دردِ عصیاں دور ہو
یہ دعا میدان محشر میں بڑی کام آئے گی
شاہدِ شانِ کریمی سے گلے مِلوائے گی
آتشِ عشقِ الٰہی سے تمہیں گرمائے گی
جو نہ موسیٰ نے بھی دیکھا تھا ، تمہیں دکھلائے گی
جس طرح مجھ کو شہیدِ کربلا سے پیار ہے
حق تعالیٰ کو یتیموں کی دعا سے پیار ہے
جوش میں اپنی رگِ ہمّت کو لانا چاہیے
احمدی غیرت زمانے کو دکھانا چاہیے
بندشِ غم سے یتیموں کو چھڑانا چاہیے
مل کے اک دریا سخاوت کا بہانا چاہیے
کام بے دولت تہِ چرخ کُہن چلتا نہیں
نخلِ مقصد غیرِ آب زر کَہیں پھلتا نہیں
صیدِ شاہینِ یتیمی کا پھڑکنا اور ہے
نوک جس کی دل میں چبھتی ہو وہ کانٹا اور ہے
علّتِ حرماں نصیبی کا مداوا اور ہے
دردِ آزارِ مصیبت کا مسیحا اور ہے
پھونک دیتا ہے جگر کو دل کو تڑپاتا ہے یہ
نسخۂ مہرومحبت سے مگر جاتا ہے یہ
تھی یتیمی کچھ ازل سے آشنا اسلام کی
پہلے رکھی ہے یتیموں نے بِنا اسلام کی
کہہ رہی ہے اہلِ دل سے ابتدا اسلام کی
ہے یتیموں پر عنایت انتہا اسلام کی
تم اگر سمجھو تو یہ سو بات کی اک بات ہے
آبرو میری یتیمی کی تمہارے ہات ہے۱
۱ - رودادِ انجمن بابت ۱۹۰۰ء ص ۳۰
خ
خدا حافظ
منشی محبوب عالم کے یورپ روانہ ہونے پر

لیجے حاضر ہے مطلعِ رنگیں
جس پہ صدقے ہو شاہدِ تحسیں
سوئے یورپ ہوئے وہ راہ سپر

مفت میں ہو گیا ستم ہم پر
آنکھ اپنی ہے اشکِ خونیں سے

غیرتِ کاسۂ مئے احمر
فتحِ ملکِ ہنر کو جاتے ہیں

ہم رکابی کو آ رہی ہے ظفر
تاڑ جاتے ہیں تاڑنے والے

کھینچ کر لے چلا ہے ذوقِ نظر
فخرِ انساں کا ہے تلاشِ کمال

جستجو چاہیے مثالِ قمر
خوب تاڑا ہے سیر کا موقع

نکتہ بیں چاہیے نگاہِ بشر
سیرِ دریا میں ہیں ہزار مزے

جس کو دکھلائے خالقِ اکبر
وہ سرِ شام بحر کی موجیں

مہر کا وہ خرام پانی پر
وہ سمندر بساط کی صورت

اور وہ موجوں کا کھیلنا چوسر
اور وہ چاندنی کہ بحر جسے

اوڑھ لیتا ہے صورتِ چادر
دی خبر آپ نے یہ کیا ناگاہ

چپکے چپکے چبھو دیا نشتر
دوستوں کا فراق قاتل ہے

درد اٹھّا ہے صورتِ محشر
آنکھ میں ہیں ،نہیں رواں لیکن

اشک اپنے ہیں مثلِ آبِ گہر
جایے اور پھر کے آیے گا

صورتِ بوئے نافۂ اذفر
اس طرح راہ آنکھ دیکھے گی

جوں مؤذّن کو انتظارِ سحر
بزمِ یاراں رہے گی یوں خاموش

جیسے چپ چاپ شام کو ہوں شجر
سرِ مژگاں پہ آ گئے آنسو

نکل آیا جو دل میں تھا مضمر
مدحِ احباب فرضِ انساں ہے

لائوں اس کے لیے میں خامۂ زر
یاں خموشی گناہ ہے ایسی

جس طرح کفر ہجوِ پیغمبر
یہ سفر آپ کو مبارک ہو
یہ حضر آپ کو مبارک ہو
آپ ہیں محوِ سیرِ دریائی

چشمِ احباب غم سے بھرآئی
رقص موجوں کا جاَکے دیکھیں گے

بھیج دی ہے جہاز کو سائی
لطف اخبار کا جب آتا ہے

بزمِ یورپ سے ہو شناسائی
دم رخصت وہ گرم جوشی ہے

آتشِ عشق جس سے شرمائی
کسی کونے میں تاکتی ہے اسے

گرمیٔ آفتابِ جولائی
لب سے نکلا کہ فی امان اللہ

فخر کرتی ہے تابِ گویائی
نشۂ دوستی چڑھا ایسا

شعر میں بھی ہے رنگِ صہبائی
آب آئینے پر گراتے ہیں

’’بسلامت روی و باز آئی‘‘
عزمِ پنجاب ہو مگر جلدی

کہ نہیں طاقتِ شکیبائی
ہو نہ محبوبؔ سے جدا کوئی

اے رگِ جانِ عالم آرائی۱
الغیاث ! اے معلّمِ ثالث۲

دردِ فرقت سے جان گھبرائی
ایسی پڑیا کوئی عنایت ہو

دل سے اٹّھے کہ وہ شفا پائی
آ گیا بحر چپ رہو اقبالؔ

خامہ کرتا ہے عذرِ بے پائی
توبہ کر لی ہے شعر گوئی سے

اس کی قیمت پڑی نہ اک پائی
شعر سے بھاگتا ہوں میں کوسوں

ہے یہ توحید اور میں عیسائی
’’آں چہ دانا کند ، کند ناداں

لیک بعد از ہزار رسوائی‘‘
دوستوں کی رہے دعا حافظ
ہو سفر میں ترا خدا حافظ
۱ - مولوی محبوب عالم
۲ - مشہور فلسفی اور طبیب بوعلی سینا
۳ - سرودِ رفتہ - ص ۸۳
خ
اشکِ خوں
اے آہ آج برقِ سرِ کوہسار ہو
یا تیر بن کے میرے کلیجے سے پار ہو
ہو ٹکڑے ٹکڑے ٹوٹ کے اے رشتہ ٔ نفس
اے مرغِ روح ، بازِ اجل کا شکار ہو
اے دامنِ دریدۂ پیراہنِ حیات
ہاں آج زیبِ دیدۂ خونابہ بار ہو
پھرتے ہیں ڈھونڈتے اجَلِ ناگہاں کو ہم
ہاں اے حیاتِ خضر نگاہوں میں خوار ہو
اے افسری کے تاج ، گریباں کو چاک کر
اے کرسیِ طلائے شہی سوگوار ہو
اے دل اگر جفا طلبی کا مذاق ہے
مرہونِ تلخیِ ستمِ روزگار ہو
پسنے کا جب مزا ہے کہ اے آسیائے غم
پِس پِس کے جان اپنی مثالِ غبار ہو
مّیت اٹھی ہے شاہ کی تعظیم کے لیے
اقبال اُڑ کے خاکِ سرِ رہ گزار ہو
مدت کے بعد تجھ کو ملے ہیں غمِ فراق
ہم تجھ پہ صدقے جائیں ، تو ہم پر نثار ہو
چلتے رہِ حیات ، مگر گھات میں خوشی
کونے لگی ہوئی نہ سرِ رہِ گزار ہو
آئی ادھر نشاط ، ادھر غم بھی آ گیا
کل عید تھی تو آج محرّم بھی آ گیا

بندِ دوم
ہاں اے ہلالِ عید خدا کی قسم تجھے
خواہانِ عیش کیا نظر آتے ہیں ہم تجھے!
اے جامِ بزمِ عید مقّدر یہ تھا ترا
لبریز کرنے آئے میٔ اشکِ غم تجھے
ایسی گھڑی میں تیری افق پر ہوئی نمود
سمجھا نہ کوئی حلقۂ ماتم سے کم تجھے
ایمن تھے غم سے ہم مگر اے خنجرِ ستم
کرنے تھے ذبح طائرِ بامِ حرم تجھے
کھلتی ہے کچھ ہمارے مقّدر پہ یہ کجی
سجتا نہیں نظر میں ہماری یہ خم تجھے
تیغِ ستم سے بڑھ کے رہیں تیری تیزیاں
ہم اپنے لب سے مانگ کے دیتے ہیں دم تجھے
بیماریِ نشاط اگر ہے تو صبحِ غم
پڑھ کر کرے گی سورۂ والحشر دم تجھے
ہاں اے شعاعِ ماہِ شبِ اوّلِ طرب
دل جانتا ہے تیرِ کمانِ ستم تجھے
صورت وہی ہے نام میں رکھا ہوا ہے کیا
دیتے ہیں نام ماہِ محرّم کا ہم تجھے
اے شامِ عید اپنے مہِ نو سے پوچھ لے
سمجھا ہوا ہوں صبحِ دیارِ عدم تجھے
کہتے ہیں آج عید ہوئی ہے ، ہوا کرے
اس عید سے تو موت ہی آئے خدا کرے
بندِ سوم
قربان تیرے اے ستمِ روزگار آج
آنکھوں میں ہر نگہ بھی ہوئی اشک بار آج
اس روزِ رنج و غم سے تو آسان تھی یہی
محشر کی صبح ہو نہ گئی آشکار آج
دل کا تو ذکر کیا ہے کہ دل کا قرار بھی
سیماب کی طرح سے ہوا بے قرار آج
سوزِ الم نے جاں کو جلایا ہے اس طرح
کانونِ دل سے اٹھتے ہیں غم کے شرار آج
ناکامیوں نے اس کو سنا دی وہ کیا خبر
امّید دل میں پھرتی ہے پروانہ وار آج
ہاں اے دلِ حزیں الموں کا یہ دور ہے
ہو طوفِ شمعِ غم تجھے دیوانہ وار آج
مثلِ سموم تھی یہ خبر کس کی موت کی
گلزارِ دل میں اگنے لگے غم کے خار آج
پژمردہ ہو گیا گُلِ بستانِ افسری
خوں رو رہی ہے باغِ جہاں میں بہار آج
اقلیمِ دل کی آہ شہنشاہ چل بسی
ماتم کدہ بنا ہے دلِ داغدار آج
تو جس کی تخت گاہ تھی اے تخت گاہِ دل
رخصت ہوئی جہان سے وہ تاجدار آج
فرماں نہ ہو دلوں پہ تو شانِ شہی نہیں
سونے کا تاج کوئی نشانِ شہی نہیں
بند چہارم
شاہی یہ ہے کہ اور کا غم چشمِ تر میں ہو
شاہنشہی پہ شانِ غریبی نظر میں ہو
شاہی یہ ہے کہ آنکھ میں آنسو ہوں اور کے
چِلّائے کوئی ، درد کسی کے جگر میں ہو
غم دل میں اور کا ہو خوشی دل میں اور کی
کوئی گرے ، شکست کسی کی کمر میں ہو
بے تابیاں جو اور کی ہوں اپنے دل میں ہوں
جو درد اور کا ہو وہ اپنے جگر میں ہو
پامالِ فکرِ غیر رہے تخت گاہ پر
آئے کسی پہ تیغ ، کسی کی سپر میں ہو
معمور ہو شرابِ محبت سے جامِ دل
جو دل میں ہو نہاں وہ نمایاں نظر میں ہو
جو بات ہو ، صدا ہو لبِ جبرئیل کی
تقدیر کی مراد دلِ دادگر میں ہو
ہو چشم معدلت کے ستارے کی روشنی
مانگے اماں عدو تو مروّت نظر میں ہو
شہرت کے آسمان پہ روشن ہو اس طرح
ہو مہر میں وہ نور ، نہ وہ ضَو قمر میں ہو
فرمان ہوں دلوں کی ولایت میں اس طرح
جس طرح نور رشتۂ تارِ نظر میں ہو
اے ہند تیری چاہنے والی گذر گئی
غم میں ترے کراہنے والی گذر گئی
بندِ پنجم
اے بحر ، حکمراں جو زمینوں کی تھی ، گئی
آغوشِ موج جس کے سفینوں کی تھی ، گئی
نہریں رواں ہوں خون کی چشمِ حباب سے
وہ آبرو جو تیرے خزینوں کی تھی ، گئی
دردِ اجل کی تاک بھی کیسی غضب کی تھی
انگشتری جو دل کے نگینوں کی تھی ، گئی
اے ہند تیرے سر سے اٹھا سایۂ خدا
اک غم گسار تیرے حزینوں کی تھی ، گئی
اے ہند جو فضیلتِ نسواں کی تھی دلیل
تیرے گھروں کی پردہ نشینوں کی تھی ، گئی
ہو سوگوار آج خواتینِ ہند تم
جو داستاں تمہارے شبینوں کی تھی ، گئی
خونابہ بار آج ہو اے چشمِ سلطنت
واقف جو تیرے سارے قرینوں کی تھی ، گئی
اے سالِ قرنِ۱ نو یہ ستم تو نے کیا کیا
عزت ذرا جو تیرے مہینوں کی تھی ، گئی
تو آج سر بہ خاک ہو سیّارئہ زمیں
رونق جو تیرے سارے مکینوں کی تھی ، گئی
صرفِ بکا ہے جانِ سلاطینِ روزگار
دہلیز جس کی عید جبینوں کی تھی ، گئی
ہو موت میں حیات ، ممات اس کا نام ہے
صدقے ہو جس پہ خضر ، وفات اس کا نام ہے
۱ - نئی صدی کا پہلا سال
خ
بند ششم
جانِ نزار آکے لبوں پر اٹک گئی
آنکھوں سے خون بن کے تمنا ٹپک گئی
روزِ طرب جہاں میں سیہ پوش ہو گیا
اے روزگارِ غم تری قسمت چمک گئی
آئی جو یاس خنجرِ عریاں لیے ہوئے
ڈر کر امید ، گوشئہ دل میں دبک گئی
جادو نگاہ دیدۂ صیاد تھی کوئی
دیکھا جو آنکھ بھر کے تو بلبل پھڑک گئی
اے شمعِ بزمِ ماتمِ سلطانۂ جہاں
کیا تھی جھلک تری کہ ثریّا تلک گئی
ماتم بھی وہ دیا کہ ہزاروں میں ایک ہے
آنکھ اپنی انتخابِ فلک پر پھڑک گئی
لالی افق پہ آنکھ نے دیکھی جو شامِ عید
اک بات تھی کہ خونِ جگر کو کھٹک گئی
سمجھی ہے اپنے آپ کو آئی ہوئی اجل
لو میری خامشی سے قضا بھی بہک گئی
اے درد آ مرے چمنِ دل کی سیر کر
غم کی کلی ہوائے نفس سے چٹک گئی
اے دردِ جاں گداز خدا کے لیے نہ تھم
ہم بھی اٹھیں گے ساتھ جو تیری کسک گئی
ہر آنکھ ، دل بہ ریزشِ طوفاں نہادہ ہے
مژگانِ چشم کیا رگِ ابرِ کشادہ ہے
خ


بند ہفتم
ماتم میں آ رہے ہیں یہ ساماں کیے ہوئے
داغِ جگر کو شمعِ شبستان کیے ہوئے
تاریک ہو گیا ہے زمانہ مگر قضا
آ جائے غم کی شمع کو سوزاں کیے ہوئے
رکھتا ہوں طائرِ دلِ رنگیں نوا کو میں
پہلو کو غیرتِ چمنستاں کیے ہوئے
لکھتا ہوں شعر دیدۂ خوں بار سے مگر
کاغذ کو رشکِ بابِ گلستاں کیے ہوئے
ماتم میں لے گیا ہوں دلِ پاش پاش کو
آزادِ جاں گدازیٔ درماں کیے ہوئے
ہر زخمِ دل کو ماتمِ خاتونِ دھر میں
بیٹھے ہیں مستِ ذوقِ نمکداں کیے ہوئے
مغرب کے آسماں پہ چمکتی ہے تیغِ غم
جوہر کو راز دارِ رگِ جاں کیے ہوئے
لے اے عروسِ ہند تری آبرو گئی
آنکھوں کو اشکِ غم سے دُر افشاں کئے ہوئے
برطانیہ تو آج گلے مل کے ہم سے رو
سامانِ بحر ریزیِ طوفاں کیے ہوئے
بوتے ہیں نخلِ آہ کو باغِ جہاں میں ہم
ممنونِ آبِ دیدئہ گریاں کیے ہوئے
آہم چو سرو در چمن روزگار ماند
ایں مصرع بلند ز من یاد گار ماند
بند ہشتم
کیا منزلِ عدم کو ہمارا نفس گیا
یہ سب سے پہلے صورتِ بانگِ جرس گیا
ہاں اے ہجوم غم ترے قربان جائوں میں
اجڑا ہوا تھا شہر مرے دل کا ، بس گیا
ہو ہو کے پرزے خارِ غمِ سینہ سوز سے
تن سے نکل کے دامنِ موجِ نفس گیا
ایسا اثر ہے گریۂ آہن گداز سے
اشکوں کے ساتھ مل کے ہمارا قفس گیا
اٹھا وہ ابر گوشئہ مغرب سے شعلہ ریز
مشرق سے بڑھ کے ہند پہ آ کر برس گیا
صدمہ پڑا وہ آ کے کہ ٹوٹا ہے بند بند
کیا مرغِ روح توڑ کے اپنا قفس گیا
نکلا وہ مار صحنِ گلستانِ عیش سے
دل کو ، جگر کو ،سینے کو ، پہلو کو ڈس گیا
اے روز تو پہاڑ تھا یا غم کا روز تھا
دن بن کے تو چڑھا تھا پہ ہو کر برس گیا۱
لا گلشنِ عدم سے اسے اے سمومِ غم
بوئے گلِ اجل کو مرا جی ترس گیا
آنکھوں کی راہ کیوں نہ گیا بن کے جوئے خوں
دم بھی گیا تو لے کے یہ جی میں ہوس گیا
شہرہ ہوا جہاں میں یہ کس کی وفات کا
ہے ہر ورق سیاہ بیاضِ حیات کا
۱ - غم کے باعث دن ، سال کے برابر ہوگیا
خ
بند نہم
ہاں بھولنا نہ موجۂ بادِ سحر کہیں
ہو ملکِ نیستی میں جو تیرا گذر کہیں
مانگی تھی ہم نے آج اجل کے لیے دعا
صدقے نہ ہو گیا ہو دعا پر اثر کہیں
ٹلتی نہیں ہے شورِ بکا سے اجل کبھی
اس تیغِ جاں ستاں کی نہیں ہے سپر کہیں
دونی تھی جن کی شان سے ہیروں کی آبرو
وہ آج کر گئے ہیں جہاں سے سفر کہیں
اے کوہِ نور تو نے تو دیکھے ہیں تاجور
دیکھا ہے اس طرح کا کوئی تاجور کہیں؟
دیتے ہیں تجھ کو دامنِ کہسار کی قسم
اس شان کا ملا ہے تجھے داد گر کہیں؟
بن کر چراغ سارے زمانے میں ڈھونڈنا
کہنا ہمیں بھی آئے جو ایسا نظر کہیں
جس کی ضیا سے آنکھ چکا چوند تھی تِری
دنیا میں اب نہیں وہ جبیں جلوہ گر کہیں
تو کیا کسی پہ گوہرِ جاں تک نثار تھے
پیدا جہاں میں ہوتے ہیں ایسے بشر کہیں
صورت تری ہے اشکِ جگر سوز کی طرح
قربان ہو نہ جائے ہماری نظر کہیں
ہلتا ہے جس سے عرش یہ رونا اسی کا ہے
زینت تھی جس سے تجھ کو ، جنازا اسی کا ہے
بند دہم
پیغامِ خانہ سوزیِ دل بار بار دے
فرصت نہ دو گھڑی نفسِ شعلہ بار دے
زورِ جنوں میں جائے جو دشتِ عدم کو دل
پہلے قدم پہ جامۂ ہستی اُتار دے
پھونکا ہے غم کی آگ نے جانِ نزار کو
ہم کو تسلیّاں دلِ آشفتہ کار دے
جس کا دلوں پہ راج ہو مرتا نہیں کبھی
صدیاں ہزار گردشِ دوراں گزار دے
رہتا ہے دل میں صورتِ حرفِ نگیں وہ نام
شہرت جسے جہان میں پروردگار دے
وکٹوریہ نمرُد کہ نام نکو گذاشت
ہے زندگی یہی جسے پروردگار دے
اے غم کشانِ دُودۂ شاہی خدا تمہیں
اس دردِ جاں گزا میں شکیب و قرار دے
رفتار اس کے نقشِ قدم پر کرے نصیب
یہ مہر مادری کی تمہیں یادگار دے
اے باغِ ہند تیرا خیاباں بجائے گل
موتی مثالِ دامنِ ابرِ بہار دے
پژمردہ کر گئی ہے جو بادِ خزاں تجھے
صد نو بہارِ ناز تجھے روزگار دے
مرحوم کے نصیب ثوابِ جزیل ہو
ہاتھوں میں اپنے دامنِ صبرِ جمیل ہو
۱ - پمفلٹ شائع کردہ مطبع مفید عام ، لاہور (۱۹۰۱ئ)
خ
یتیم کا خطاب ہلال عید سے
بند اوّل
اے مہِ عید بے حجاب ہے تو

حسنِ خورشید کا جواب ہے تو
اے گریبانِ جامۂ شب عید

شاہدِ عیش کا شباب ہے تو
اے نشانِ رکوعِ سورئہ نور

نقشۂ کلک انتخاب ہے تو
اے جوابِ خطِ جبینِ نیاز

طاعتِ صوم کا ثواب ہے تو
ہائے اے حلقۂ پرِ طائوس

قابل ذٰلِکَ الکتاب ہے تو
فوجِ اسلام کا نشاں تو ہے

چشمِ نصرت کا انتخاب ہے تو
چشمِ طفلی نے جب تجھے دیکھا

کہہ دیا خواب کو کہ خواب ہے تو
طوفِ منزل گہِ زمیں کے لیے

ہمہ تن پائے در رکاب ہے تو
یہ ابھرتے ہی آنکھ سے چُھپنا

روشنی کا مگر حباب ہے تو
تو کمند غزال شادی ہے
لذت افزائے شور طفلی ہے
بند دوم
مقصدِ دیدئہ امید ہے کل

گوہرِ عیش کی خرید ہے کل
دیدئہ مہرِ عالم آرا میں

سرمۂ عید کی کشید ہے کل
گلشنِ نو بہارِ ہستی میں

سبزئہ عیش کی امید ہے کل
کحلِ محراب ہر جبینِ نیاز

زینت افزائے عینِ عید ہے کل
اے مہِ نو ترا پیامِ طرب

ہے شنید آج چشم دید ہے کل
اے نسیمِ نشاطِ روحانی

باغِ دل میں تری وزید ہے کل
ہے یہی نغمۂ لبِ طفلی

ہاتھ لانا ادھر کہ عید ہے کل
کمسنوں کو یہ کہہ رہا ہے ہلال

لو میاں شب بخیر عید ہے کل
سرِ بالیں لباسِ طفلی ہے

میری عریاں تنی کی عید ہے کل
اے مہ نو خوشی ہو کیا جی کو
تیرے آنے سے کیا یتیمی کو
بند سوم
جھوٹ ہے عید کا ہلال ہے تو

ساغرِ بادئہ ملال ہے تو
کہہ سنا قصۂ ستم زدگاں

کہ ہمارا لبِ مقال ہے تو
خامشی سوز ہے نظارہ ترا

غازئہ عارضِ مقال ہے تو
اے گدائے شعاعِ پرتوِ مہر

ہمہ تن کاسئہ سوال ہے تو
چشمۂ مہر پر نظر ہے تری

تشنہ کام میٔ کمال ہے تو
یہ دکھاوا ہے سب تلاشِ کمال

پا بہ منزل گہِ زوال ہے تو
ہائے شاید خبر نہیں تجھ کو

اپنی امّید کا مآل ہے تو
بڑھ گیا خم مرے مقّدر کا

کیوں نہ کہہ دیں کہ بیمثال ہے تو
میرے شوقِ لباسِ نو کے لیے

سبق آموز انفعال ہے تو
کیا بتائوں تجھے کہ کیا ہوں میں
تجھ کو حسرت سے دیکھتا ہوں میں

بند چہارم
ستمِ گوشِ باغباں ہوں میں

خبرِ آمدِ خزاں ہوں میں
شرمسارِ متاعِ ہستی ہوں

مایۂ نازشِ زیاں ہوں میں
مجھ سے شرما گیا تبسم بھی

کہ سراپا لبِ فغاں ہوں میں
بار ہوں طاقتِ شنیدن پر

کس مصیبت کی داستاں ہوں میں
آہ منزل نہیں نصیبوں میں

موجۂ گردِ کارواں ہوں میں
اپنی بے مایگی پہ نازاں ہوں

مفت جاتا ہوں ، کیا گراں ہوں میں
اے فلک خوانِ زندگی پہ مگر

کوئی نا خواندہ میہماں ہوں میں
ستمِ ناروا سے مرتا ہوں

آسماں کا مزاج داں ہوں میں
آرزو یاس کو یہ کہتی ہے

اک مٹے شہر کا نشاں ہوں میں
ایسی قسمت کسی کی ہوتی ہے
آہ میری اثر کو روتی ہے
بند پنجم
بن کے نشتر چبھا ہے تو دل میں

آرزو ہو گئی لہو دل میں
چاکِ دل پر نثار ہوتی ہے

حسرتِ سوزنِ رفو دل میں
یاس نقشہ جمائے جاتی ہے

چھپتی پھرتی ہے آرزو دل میں
درد یتزی سے بڑھ گیا اے غم

کیا رہی تیری آبرو دل میں
دو گھڑی بیٹھنے نہیں دیتی

ہے کوئی چیز فتنہ ُخو دل میں
گرہِ رشتۂ حیات نہ ہو

یہ جو ہوتی ہے آرزو دل میں
دیکھ اے یاس اب تلک باقی

خونِ امّید کی ہے بو دل میں
عمر تیری بڑی ہے یاد پدر

تھی ابھی تیری گفتگو دل میں
اے خیالِ مسرّتِ طفلی

آگیا ہے کدھر سے تو دل میں
دردِ دل کا بھی کیا فسانہ ہے
خون رونے کا اک بہانہ ہے
بند ششم
مصر ہستی میں شام آتی ہے

رنگ اپنا جمائے جاتی ہے
اے سبوئے میٔ شفق ، اے شام

تو میٔ بے خودی پلاتی ہے
سرمۂ دیدئہ افق بن کر

چشمِ ہستی میں تو سماتی ہے
کس خموشی سے اڑ رہے ہیں طیور

تو رہِ آشیاں دکھاتی ہے
ریزش دانہائے اختر کو

مزرعِ آسماں میں آتی ہے
تو پرِ طیرِ آشیاں رَو کو

چشمِ صیّاد سے چھپاتی ہے
صبح در آستیں ہے تو شاید

آنکھ اختر کی کھلتی جاتی ہے
تو پیامِ وفاتِ بیداری

محفلِ زندگی میں لاتی ہے
اپنے دامن میں بہر غنچۂ گل

خواب لے کر چمن میں آتی ہے
تیری تاثیر ہو گئی آخر
میری تقدیر ہو گئی آخر
بند ہفتم
آبرو جائے موت کی نہ کہیں

موت بن جائے بیکسی نہ کہیں
درد کو زندگی سمجھتے ہیں

جاوداں ہو یہ زندگی نہ کہیں
ہوں وہ بیکس کہ ڈرتا رہتا ہوں

چھوڑ دے مجھ کو بیکسی نہ کہیں
زخم منّت پذیرِ مرہم ہے

چھپ کے سنتی ہو چاندنی نہ کہیں
غنچۂ دل میں ہے چٹک ایسی

اس کلی میں ہو بے کلی نہ کہیں
ہوں نفس در کفن مثالِ سحر

موت ہو میری زندگی نہ کہیں
گاہے ماہے ہلال آتا ہے

ہو لبِ نانِ مفلسی نہ کہیں
ماہ کے بھیس میں نمایاں ہو

اپنی تقدیر کی کجی نہ کہیں
خطِ دستِ سوال ہے اپنا

ہو رگِ جانِ مفلسی نہ کہیں
قابلِ بحرِ زندگی نہ ہوا
ٹکڑے ٹکڑے مرا سفینہ ہوا
بند ہشتم
سیر میں اب نہ دل لگائیں گے

کس کی انگلی پکڑ کے جائیں گے
صبح جانا کسی کا وہ گھر سے

اور وہ رونا کہ ہم بھی جائیں گے
کھیل میں آ گئی جو چوٹ کبھی

کس کی آنکھوں سے اب چھپائیں گے
کوئی ناغہ جو ہو گیا تو کسے

ساتھ مکتب میں لے کے جائیں گے
سننے والے گزر گئے اے دل

اپنے شکوے کسے سنائیں گے
اٹھ گئے آہ قدر داں اپنے

لکھ کے تختی کسے دکھائیں گے
دردِ دل کی زباں نرالی ہے

تجھ کو اے خامشی سکھائیں گے
کس غضب کے نصیب ہیں اپنے

روتے آئے تھے روتے جائیں گے
عید آئی ہے اے لباسِ کہن

اب ترے چاک پھر سلائیں گے
عید کا چاند آشکار ہوا
تیر غم کا جگر کے پار ہوا

بند نہم
آنکھ میں تارِ اشکِ پیہم ہے

کیا رواں آبِ خنجرِ غم ہے
دیکھ اے ضبط گِر نہ جائے کہیں

اشکِ غم آبروئے ماتم ہے
اے مہِ عید تو ہلال نہیں

سینہ کاوی کو ناخنِ غم ہے
پھول ایسا ہے اشکِ چشمِ یتیم

رونقِ خانۂ محرّم ہے
اس گلستاں میں آشیاں ہے مرا

ہر شجر جس کا نخلِ ماتم ہے
کس کے نظّارئہ مصیبت کو

ماہ بامِ فلک پہ یوں خم ہے
خونِ امید ہے یہ اشک نہیں

کس بھلاوے میںچشمِ پرنم ہے
پوچھنا اے نفس نکل کے ذرا

کیوں اجل کا مزاج برہم ہے
اے فلک کیوں زمیں ہے برسرِکیں؟

میری بربادیوں کو تو کم ہے؟
ہے جو دل میں نہاں ، کہیں کیوں کر
مفلسی کے ستم سہیں کیوں کر
بند دہم
ہاتھ اے مفلسی صفا ہے ترا

ہائے کیا تیر بے خطا ہے ترا
تیرہ روزی کا ہے تجھی پہ مدار

بدنصیبی کو آسرا ہے ترا
مایۂ صد شکستِ قیمتِ دل

دہر میں ایک سامنا ہے ترا
تو بھلا مجھ پہ کیوں نثار نہ ہو

کہ یتیمی تو مدّعا ہے ترا
مسکراتا ہے تجھ کو دیکھ کے زخم

یہ کوئی صورت آشنا ہے ترا
التجا پر خموشیِ منعم

ایک فقرہ جلا بھنا ہے ترا
یہ بھی کیا دامنِ یتیمی ہے

نام کیسا نکل گیا ہے ترا
موت مانگے سے بھی نہیں آتی

درد کیا زندگی فزا ہے ترا
شورِ آوازِ چاکِ پیراہن

لبِ اظہارِ مدعا ہے ترا
ہیں جہاں کو غموں کے خار پسند
اس چمن کو نہیں بہار پسند
بند یاز دہم
چمنِ خار خار ہے دنیا

خونِ صد نو بہار ہے دنیا
زندگی نام رکھ دیا کس نے

موت کا انتظار ہے دنیا
ہے نسیم جہاں خزاں پرور

دیکھنے کو بہار ہے دنیا
ڈھونڈ لیتی ہے اک نہ اک پہلو

درد کی غم گسار ہے دنیا
ہے تمنا فزا ہوائے جہاں

کیا شکستِ خمار ہے دنیا
خون روتا ہے شوق منزل کا

رہزن و رہ گزار ہے دنیا
جان لیتی ہے جستجو اس کی

دولت زیرِ مار ہے دنیا
یاس و امید کا ملاوا ہے

کوئی جاتی بہار ہے دنیا
خندہ زن ہے فلک زدوں پہ جہاں

چرخ کی راز دار ہے دنیا
اہلِ دنیا و شرحِ دردِ جگر
رگِ بے خون و کاوشِ نشتر
بند دواز دہم
کیا قیامت ہیں غم کے آنسو بھی

بڑھتا جاتا ہے دردِ پہلو بھی
نوکِ مژگاں ہے نشترِ رگِ اشک

خوں فشاں ہو رہے ہیں آنسو بھی
ٹوٹی پھوٹی زباں میں کہتا ہے

رنگِ احوال ، دردِ پہلو بھی
سوزشِ اشکِ غم ہے برقِ مژہ

جل گیا سبزئہ لبِ جو بھی
آہ اے چشمِ اشک ریزِ یتیم

خواب کا اک خیال ہے تو بھی
حسرتِ دیدِ غم گسار نہ پوچھ

چشم ریزاں ہیں میرے آنسو بھی
قطرئہ خوں تو عام ہے لیکن

دل کو کہتے ہیں دردِ پہلو بھی
آ ترے صدقے اے خیال پدر

عید کا چاند ہو گیا تو بھی
ہائے اے برق بن گئی گر کر

میرے حاصل کی آبرو تو بھی
عید کا چاند اضطراب بنا
طاقِ آتشگہِ عذاب بنا
بند سیز دہم
طعن دیتا ہے کس بلا کے مجھے

آسماں بن گیا ستا کے مجھے
ہائے بے خود کیا تصوّر نے

داستانِ عرب سنا کے مجھے
ہے تصّدق مری یتیمی پر

کوئی نقشہ دکھا دکھا کے مجھے
چاہیے اے خیال پاسِ ادب

تو کہاں لے گیا اڑا کے مجھے
ہائے اے آتشِ فراقِ پدر

خاک کر دے جلا جلا کے مجھے
اے یتیمی فتادگی بن کر

چھوڑنا خاک میں ملا کے مجھے
لبِ اظہار وا ہوا نہ کبھی

غم نے دیکھا ہے آزما کے مجھے
پردہ رکھ لے شکستہ پائی کا

کارواں لے چلے اٹھا کے مجھے
زندگی کیا اسی کو کہتے ہیں

کہ مزے مل گئے فنا کے مجھے
عرش ہلتا ہے جب یہ روتے ہیں
کیا یتیموں کے اشک ہوتے ہیں


بند چہار دہم
کیا ہنسی ضبط کی اڑاتے ہیں

اشک آ آ کے چھیڑ جاتے ہیں
اک بہانہ ہلالِ عید کا ہے

قوم کو حالِ دل سناتے ہیں
کس مزے کی ہے داستاں اپنی

قوم سنتی ہے ہم سناتے ہیں
دیکھ اے زندگی مرے آنسو

یہ ترے نقشِ نو مٹاتے ہیں
ہاں بتا اے فلک کہ طفلی میں

درد کو کس طرح چھپاتے ہیں
خاک راہِ فنا میں اڑتی ہے

منہ کفن میں چھپائے جاتے ہیں
وہ بھی ہوتے ہیں اے خدا کوئی

جو مصیبت کو بھول جاتے ہیں
اس طرح کی ہے داستاں اپنی

ہے عیاں جس قدر چھپاتے ہیں
ہم نہ بولیں تو خامشی کہہ دے

یہ قیامت کے دکھ اٹھاتے ہیں
آبرو بڑھ گئی خموشی کی
یہ زباں بن گئی یتیمی کی
بند پانز دہم
رنگِ گلشن جو ہو خزاں کے لیے

قہر ہوتا ہے باغباں کے لیے
چاہیے پاس برق کا اے دل

ہو خسِ خشک آشیاں کے لیے
اڑ کے آتا ہے رنگِ عارضِ زرد

کس مصیبت کی داستاں کے لیے
حال دل کا سنا دیا سارا

کچھ بھی رکھا نہ رازداں کے لیے
ہے اقامت طلب جدار مری

قوم ہو خضر اس مکاں کے لیے
ہاتھ اے قومِ مہرباں تیرا

ابر ہے کس کے گلستاں کے لیے
حال اپنا اگر تجھے نہ کہیں

اور رکھیں اسے کہاں کے لیے
صورتِ شمعِ خانۂ مفلس

خامشی ہے مری زباں کے لیے
اب مگر ضبط کا نہیں یارا

لب ترسنے لگے فغاں کے لیے
درد مندوں کی درد خواہ ہے قوم
بے کسوں کی امید گاہ ہے قوم
خ
میں اور میری قوم
ہو چکا اے قوم تیرا آشیاں برباد اب
زندگی کا دم ہے زیرِ دامنِ صیّاد اب
اے میری قوم ناز میں تیرے اٹھائوں گا
گل میں ہزار کھائوں گا اور گل کھلائوں گا
کب تک نہ دے گی نالۂ بلبل کا کچھ جواب
اے گل بدن فسانہ خزاں کا سنائوں گا
ہے تجھ میں خوئے شمع تو پروانہ بن کے میں
جلنے کو جل بجھوں گا پہ جوہر دکھائوں گا
دیکھوں گا کیسے نیند سے تو جاگتی نہیں
خوب آج گدگدائوں گا ، پائوں دبائوں گا
تیرا لہو سفید جو شیریں ادا ہوا
میں جوئے شیر کوہکنی کر کے لائوں گا
جاگی نہ توُ تو صورِ سرافیل کی طرح
نالوں سے اپنے شورشِ محشر مچائوں گا
ثابت قدم ہوں مجھ کو قسم ربِّ پاک کی
چیروں گا کوہ و دشت ، بیاباں ہلائوں گا
ٹیکا سمجھ کے میں ترے بختِ سیاہ کو
عین الکمال برزخِ دنیا دکھائوں گا
عاشق کی زندگی ہے خط و خال دیکھنا
اور میری زندگی ترا اقبال دیکھنا(۱)
۱ - علم مجلسی حصہ ششم ص ۴۱ اکتوبر ۱۹۳۱ء
خ


پنجۂ فولاد
(منشی محمدالدین فوق کے ہفتہ وار اخبار کے متعلق جو ۱۹۰۱ء میں جاری ہوا تھا۔)
’’پنجۂ فولاد‘‘ اک اخبار ہے

جس سے سارا ہند واقف کار ہے
دفترِ اخبار ہے لاہور میں

جس کا کوچہ مثلِ کوئے یار ہے
ہے روش اس کی پسندِ خاص و عام

واہ وا کیا معتدل اخبار ہے
غیر سے نفرت نہ اپنوں سے بگاڑ

اپنے بیگانے کا ہر دم یار ہے
سطر سطر اس کی مفیدِ ملک و قوم

کوئی کہہ دے یہ خبر بے کار ہے
دید کے قابل نہ ہو کیوں’’بزمِ فوق‘‘

شمع اس محفل کی یہ اخبار ہے
’’ضامن صحت‘‘ کا ایسا ہے عمل

وہ ضمانت کے لیے تیار ہے
ہے ’’تجارت‘‘ کا بھی کالم کیا مفید

یوسفِ معنی کا یہ بازار ہے
وہ ’’لطائف‘‘ ہیں کہ پڑھتے ہی جنھیں

لوٹنے میں دل کبوتر وار ہے
کیوں نہ نظم و نثر کا چرچا رہے

جب اڈیٹر ناظم و نَثّار ہے
’’سیٹلمنٹ آفس‘‘ کا بھی ہے بندوبست

شاہد ان دعووں کا خود اخبار ہے
ہے مدلّل رائے اس اخبار کی

یہ زبوں تر کفر سے انکار ہے
رائے زن اس سے نہیں بڑھ کر کوئی

منصفوں کو اس کا آپ اقرار ہے
جتنے ہیں ہمعصر دیکھیں غور سے

فقرے فقرے سے ٹپکتا پیار ہے
تین رائج سکے قیمت سال کی

ایسا سستا بھی کوئی اخبار ہے؟
اور پھر انعام میں ناول ہیں مفت

واہ کیا سودا ہے کیا بیوپار ہے
آٹھویں دن حاضری لے لیجیے

تابعِ فرمان خدمت گار ہے
کیجیے گا آ کے اس گلشن کی سیر

ایک گلشن رشکِ صد گلزار ہے
رنگِ آزادی ہے ہر مضمون میں

سرو کا بوٹا بھی میوہ دار ہے
کون ہے اس بانکے پرچے کا مدیر

بات یہ بھی قابلِ اظہار ہے
لیجیے مجھ سے جواب مختصر

یہ معمّا ہے کہ جو دشوار ہے
نام ہے اس کا محمد دین فوق

عمر چھوٹی ہے مگر ہشیار ہے
شوق ہے مضموں نویسی کا اسے

طبع ہے یا ابرِ گوہر بار ہے
گشت کے عالم میں دیکھا تھا اسے

آدمی ہشیار واقف کار ہے۱
۱ - کشمیری گزٹ ، جون ۱۹۰۳ء
خ
ہم نہ چھوڑیں گے دامن
(یہ نظم اقبال نے ایک دوست کی فرمائش پر آٹھ دس منٹ میں کہی تھی)
سراپا ہوا مثلِ آغوشِ دریا

نہانے کو اترا جو وہ رشک گلشن
پیٔ دید کھولیں حبابوں نے آنکھیں

اٹھائی نظارے کو موجوں نے گردن
اسیرِ خمِ زلف کیونکر نہ ہو خضر

یہ قامت، یہ عارض ،یہ سینہ ، یہ جوبن
خمِ زلف موجوں نے آکر اڑائے

غضب ہے پڑے رہزنوں کو بھی رہزن
ادھر سر حبابوں نے ساحل سے ٹپکے

نہا کر جو نکلا وہ دریا سے پرُفن
ہوئی خونفشاں چشمِ گرداب ایسی

کہ دریا ہوا غیرتِ صحنِ گلشن
جو دستِ حنائی سے دامن نچوڑا

کہا میں نے اے روکشِ شمعِ روشن
کہیں آگ سے بھی ٹپکتا ہے پانی

بجا ہے جوکہیے تجھے سامری فن
مری چشم گریاں کی تجھ کو قسم ہے
صنم چھوڑ دے ہم نہ جھوڑیں گے دامن
۱ - کشمیری گزٹ ، ستمبر ۱۹۰۱ء
خ

خیر مقدم
(لاٹ صاحب اور ڈائریکٹر تعلیم کا)
زہے نشاطِ فراواں کہ اخترِ تقدیر
چمک رہا ہے ابھر کر مثالِ مہرِ منیر
کیا ہے آنکھ نے ممدوحِ انتخاب ایسا
صفت سے جس کی زبانِ قلم میں ہے تاثیر
خوشا نصیب وہ گوہر ہے آج زینتِ بزم
کہ جس کی شان سے ہے آبروئے تاج و سریر
وہ کون زیب دہِ تختِ صوبۂ پنجاب
کہ جس کے ہاتھ نے کی قصرِ عدل کی تعمیر
عجب معاملہ ہے کچھ ولایتِ دل کا
کہ اک نگاہ سے ہوتا ہے یہ نگر تسخیر
حضور زینتِ محفل ہیں ، ناز ہے ہم کو
جھلک رہی ہے نصیبوں میں سبزیِ کشمیر
مزے سے سوتا ہے بے خوف دیدئہ عالم
کہ تیرے عہد کا ہے خواب بھی نکو تعبیر
بدل کے امن کے باعث ہے اصطلاحِ زباں
بجائے نالۂ زنجیر ، نغمۂ زنجیر
کوئی جو غور سے دیکھے تو امن کی ہے بہار
یہ درسگاہ ، یہ محفل ، یہ شان ، یہ تعمیر
جو بزم اپنی ہے طاعت کے رنگ میں رنگیں
تو درس گاہِ رموزِ وفا کی ہے تفسیر
اسی اصول کو ہم کیمیا سمجھتے ہیں
نہیں ہے غیرِ اطاعت جہان میں اکسیر
مدد جہان میں کرتے ہیں آپ ہم اپنی
غریب دل کے ہیں لیکن مزاج کے ہیں امیر
مگر حضور نے ہم پر کیا ہے وہ احساں
کہ جس کے ذوق سے شیریں ہوا لبِ تقریر
وہ لوگ ہم ہیں کہ نیکی کو یاد رکھتے ہیں
اِسی سبب سے زمانے میں اپنی ہے توقیر
دعا نکلتی ہے دل سے حضور شاد رہیں
رہیں جہان میں عظمت طرازِ تاج و سریر
عجب طرح کا نظارہ ہے اپنی محفل میں
کہ جس کے حسن پہ نازاں ہے خامۂ تحریر
ہوئے ہیں رونقِ محفل جنابِ ولیم بل
ضیائے مہر کی صورت ہے جن کی ہر تدبیر
یہ علم و فضل کی آنکھوں کا نور ہیں واللہ
انہی کی ذات سے حاصل ہے مہر کو تنویر
خدا انہیں بھی زمانے میں شاد کام رکھے
یہ وہ ہیں دہر میں جن کا نہیں عدیل و نظیر
قمر کے گرد ستارے ہیں ہم عناں کیا ہیں
ہے جس طرح کا شہنشہ اسی طرح کے وزیر
خوشا نصیب کہ یہ ہمرہِ حضور آئے
ہماری بزم کی یکبار بڑھ گئی توقیر
بڑھے جہان میں اقبال ان مشیروں کا
کہ ان کی ذات سراپا ہے عدل کی تصویر۱
۱- مخزن فروری ۱۹۰۲ء
خ
دین و دنیا
دہلی دروازے کی جانب ایک دن جاتا تھا میں
شام کو گھر بیٹھے رہنا قابلِ الزام ہے
خضر صورت مولوی صاحب کھڑے تھے اک وہاں
ہم مسلمانوں میں ایسی مولویّت عام ہے
وعظ کہتے تھے ’’کوئی مسلم نہ انگریزی پڑھے
کفر ہے آغاز اس بولی کا ، کفر انجام ہے‘‘
میں نے یہ سن کر کیا ان کو مخاطب اس طرح
’’آپ کا ہونا بھی اپنی گردشِ ایّام ہے
کیوں مسلمانوں کی کشتی کو الٹ دیتے نہیں
آپ کے دل میں جو اتنی کاوشِ انجام ہے
کفر کی تعریف میں کہتے ہیں انگریزی ہے شرط
آپ کی منطق بھی حضرت قابلِ انعام ہے
پھر اسی پر اکتفا کرتے نہیں ، کہتے ہیں یہ
مذہبِ منصور ہے ، مقبولِ خاص و عام ہے
واہ کیا کہنا ہے ، کیا تاثیر ہے ، کیا وعظ ہے
آپ کی ہر بات گویا بمبئی کا آم ہے
ادّعائے حُبّ دیں ہے آپ کو اس وعظ پر
ایسی حُب کو لام کی تشدید سے سَلّام ہے
مسلموں کو فکرِ دیں ہو فکرِ دنیا کچھ نہ ہو
کچے حنظل کی طرح یہ بھی خیالِ خام ہے
بندہ پرور اب تو ہم چالوں میں آنے کے نہیں
آپ کی دیں داریوں کا راز طشت ازبام ہے
خوب قرآں کو بنایا دام تزویر آپ نے
کامیابی کیوں نہ ہو حضرت یہ خاصا دام ہے
صدقے جائوں فہم پر دنیا نہیں دیں سے الگ
یہ تو اک پابندیٔ احکامِ دیں کا نام ہے
بندہ پرور بندگی اپنی یہیں سے ہو قبول
وعظ اب ایسا صدائے مرغِ بے ہنگام ہے
ان سے پوچھو ہند ہی کیا رہ گیا تھا آپ کو
اور بھی تو دیس ہیں آخر جہاں آرام ہے
باندھیے بستر کہ ان وعظوں کی خاطر سامنے
انڈیمن ہے ، چین ہے ، جاپان ہے ، آسام ہے
جب کہا حضرت!کہ ہیں اب ڈھنگ ہمدردی کے اور
دین کی تائید انگریزی پڑھوں کا کام ہے‘‘
جوش میں کیا آئے اک سوڈے کی بوتل کُھل گئی
گالیوں کے بِس سے منہ ان کا چھلکتا جام ہے
ایسے دینداروں سے تنگ آئے ہیں آخر کیا کریں
آج سنتے ہیں کہ جیمسٹ (۱) جی کے ہاں ’’لیلام‘‘ ہے
آپ کی تعریف لکھنی ہے قلم کو اس طرح
جس طرح گھوڑے کے حق میں سنکھیا ، بادام ہے
موچی دروازے میں ہیں فخرِ اطّبائے جہاں
ان سے امّید شفا لیکن خیالِ خام ہے
بیچتے ہیں برف کی قفلی دسمبر میں چہ خوش
ایسے دیںداروں کا سر بے عین و قاف و لام ہے
نظم چھپوانے جو صدیقی پریس میں ، میں گیا
مطبعِ مطبوع ہے ، مشہور خاص و عام ہے
ہیں یہاں اک دوست کالج کے زمانے سے مرے
آپ کے دم سے پریس کی عزّت و اکرام ہے
نام محی الدین ہے کرتے ہیں وہ احیائے دیں
آپ کا دینی کتابوں کی اشاعت کام ہے
میں نے یہ پوچھا کہ حضرت آپ کو فرصت تو ہے
نظم چھپوانی ہے مجھ کو اک ذرا سا کام ہے
دکھ نہ جائے دیکھنا شاعر کا دل انکار سے
یہ وہ تلخی ہے کہ مثلِ تلخیِ دُشنام ہے
آج کل لوگوں کو ہے انکار کی عادت بہت
نام بے چارے حسینوں کا یونہی بدنام ہے
ہنس کے فرمانے لگے یہ انجمن کا کام ہے
انجمن کاکام کیا ہے خدمتِ اسلام ہے
ہم کریں اس کام کو سو کام اپنے چھوڑ کر
آپ کیا سمجھے ہیں حضرت یہ بھی کوئی کام ہے
چھاپ دینا نظم کا مجھ پر گراں کوئی نہیں
خدمتِ دیں اپنے دل کو جامۂ احرام ہے
ہو اگر فرصت نہ مجھ کو اور سے چھپوا کے دوں
ہو نہ اتنا بھی تو جھوٹا دعویِ اسلام ہے
نظم ہے آخر کوئی طاعون کا ٹیکا نہیں
چھاپنا چاہے جو کوئی دس منٹ کا کام ہے
بات یہ چھوٹی سی ہے لیکن مروّت کو تو دیکھ
حق تو یہ ہے جوشِ ہمدردی اسی کا نام ہے
یہ مرّوت ہو عزیزوں کی نگاہوں میں اگر
پھر وہی ہم ہیں وہی شوکت وہی اسلام ہے
اس کہانی کے بیاں سے تھی غرض اک اور ہی
میرے ہر مصرع میں مخفی صنعتِ ایہام ہے
اس طرح دنیا کا بندہ بھی نہ ہونا چاہیے
ایسی دنیا ہو تو نورالدین ، گنگارام ہے
چاہیے ہر کام میں ہو دین کی خدمت کا پاس
حضرتِؐ مدفونِ یثرب کا یہی پیغام ہے
روح ہے جب تک بدن میں عشق ہم جنسوں سے ہو
عشق بھی اک مذہبِ اسلام ہی کا نام ہے
ہے دماغوں کی لطافت کچھ اسی کا سوز و ساز
عشق اس دنیا کی انگیٹھی میں عودِ خام ہے
سر جھکائے ایک دن جاتا تھا ٹکسالی کو میں
دائیں بائیں گُھورنے سے آنکھ کو کیا کام ہے
آ رہا تھا میرے پیچھے کوئی یہ کہتا ہوا
آہ یہ دنیا سراپا مایۂ آلام ہے
بابو جی درویش ہوں میں ہو چکا آٹا مرا
فکر ہے فردا کی اور دل ہے کہ بے آرام ہے
علمِ دیں کا شوق ہے دنیا سے مطلب کچھ نہیں
دال دل کو اپنے دالِ دین سے ادغام ہے
گائوں سے یاں کھینچ لایا ہے مجھے پڑھنے کا شوق
علم دیں کے ساتھ اپنے دل کو نسبت تام ہے
یہ کہا اور جھٹ دکھا دی اک پرانی سی کتاب
میں نے یہ سمجھا کوئی ڈگری ہے یا اسٹام ہے
میں نے یہ سن کر کہا دُکھتے ہوئے دل سے اسے
واہ کیا نیّت ہے ، کیا اوقات ، کیا اسلام ہے
خوار ہے تو جیسے اسٹیشن پہ ہو بلٹی کا مال
تیری دیںداری کا یہ ذلّت ہی کیا انجام ہے
نیچری مجھ کو سمجھ کر ہو گئے کافور آپ
آج کل سچی نصیحت کا یہی انعام ہے
الغرض دیں ہو تو اس کے ساتھ کچھ دنیا بھی ہو
ورنہ روزِ روشنِ اسلام کی پھر شام ہے
دین ، دنیا کا محافظ ہے اگر سمجھے کوئی
جیسے بچے کے گلے میں ناخنِ ضرغام ہے
یوں تو اس دنیائے دوں میں سیکڑوں امراض ہیں
پر بخیلوں کے لیے چندہ بھی اک سرسام ہے
چندہ جب لینے گئے کہلا دیا بیمار ہیں
ٹل گئے جس دم کہا پہلے سے کچھ آرام ہے
ذکر جب اقبال کا آیا تو بول اٹھا کوئی
رہتا ہے بھاٹی میں اک دیوانۂ اصنام ہے
۱ - جیمسٹ جی ایک پارسی تھا جس کا نیلام گھر اس زمانے میں بہت مشہور تھا۔
خ
اسلامیہ کالج کا خطاب پنجاب کے مسلمانوں سے
بند اوّل
ہم سخن ہونے کو ہے معمار سے تعمیر آج
آئینے کو ہے سکندر سے سرِ تقریر آج
نقش نے نقّاش کو اپنا مخاطب کر لیا
شوخیٔ تحریر سے گویا ہوئی تصویر آج
سن کے کیا کہتی ہے دیکھیں بادِ عنبر بارِ صبح
لب کشا ہونے کو ہے اک غنچۂ دلگیر آج
دیکھئے گُل کس طرح کہتا ہے احوالِ خزاں
مانگ کر لایا ہے بلبل سے لبِ تقریر آج
عشق ہر صورت سے ہے آمادئہ تزئینِ حسن
ہے پرِ پروانہ سے کارِ لبِ گل گیر آج
گرمیٔ فریاد کی آتش گدازی دیکھنا
شمع کے اشکوں میں ہے لپٹی ہوئی تنویر آج
آہ میں یارب وہ کیا انداز معشوقانہ تھا
جوشِ لذّت میں فدا ہو ہو گئی تاثیر آج
عقدے کھل جانے کو ہیں مثلِ دہانِ روزہ دار
ہے ہلالِ عید اپنا ناخنِ تدبیر آج
دیکھیے اس سحر کا ہوتا ہے کس کس پر اثر
ہے دخانِ شمعِ محفل سرمۂ تسخیر آج
زینت محفل ہیں فرہادانِ شیرینِ عطا
اس محل میں ہے رواں ہونے کو جوئے شیر آج
صبر را از منزلِ دل پابجولاں کردہ ام
گیسوئے مقصود را آخر پریشاں کردہ ام


بند دوم
آج ہم حالِ دلِ درد آشنا کہنے کو ہیں
اس بھری محفل میں اپنا ماجرا کہنے کو ہیں
ہر نفس پیچیدہ ہے مانند دُورِ شمعِ طور
داستانِ دلکشِ مہر و وفا کہنے کو ہیں
دیکھیے محفل میں تڑپاتا ہے کس کس کو یہ شور
مرثیہ اپنے دلِ گم گشتہ کا کہنے کو ہیں
بوئے گل لپٹی ہوئی ہو غنچۂ منقار میں
ورنہ مرغانِ چمن ، رنگیں نوا کہنے کو ہیں
تجھ کو اے شوقِ جراحت دیں تسلّی کس طرح
آہ ! یہ تیرِ نظر بھی بے خطا کہنے کو ہیں
قصۂ مطلب طویل و دفترِ تقریر تنگ
خود بخود کوئی سمجھ جائے کہ کیا کہنے کو ہیں
محفلِ عشرت میں ہے کیا جانے کس کا انتظار
آج ہر آہٹ کو ہم آوازِ پا کہنے کو ہیں
ہے سوئے منزل رواں ہونے کو اپنا کارواں
ہم صریرِ خامہ کو بانگِ درا کہنے کو ہیں

ہے گہر باری پہ مائل تو جو اے دستِ کرم
ہم تجھے ابرِ سخا ، بحرِ عطا کہنے کو ہیں
خود بخود منہ سے نکل جانا بھی اچھا ہے مگر
دم تو لے آخر ، تجھے اے مدّعا! کہنے کو ہیں
باز اعجازِ مسیحا را ہویدا کردہ ام
پیکرے را بازبانِ خامہ گویا کردہ ام
بند سوم
ابر بن کر تم جو اس گلشن پہ گوہر بار ہو
بخت سبزے کا مثال دیدئہ بیدار ہو
میں صدف ، تم ابرِ نیساں ، میں گلستاں ، تم بہار
مزرعِ نوخیز میں ، تم ابر دریا بار ہو
میں نتیجہ اک حدیثِ امیِؐ یثرب کا ہوں
تم اسی امیؐ کی امّت کے علمبردار ہو
اک مہِ نو آسمان علم و حکمت پر ہوں میں
تم بھی اک فوجِ ہلالی کے سپہ سالار ہو
نام لیوا اک دیارِ علم و حکمت کا ہوں میں
اور تم اگلے زمانوں کے وہی انصار ہو
یاں کبھی بادِ خزاں کا رنگ جم سکتا نہیں
میں مسلمانوں کا گلشن ، تم مری دیوار ہو
تم اگر چاہو تو اس گلشن کے ایسے بھاگ ہوں
ہر کلی گل ہو کے اس کی زینتِ دستار ہو
رہنے والے انتخابِ ہفت کشور کے ہو تم
کیوں نہ اس گلشن کی نکہت روکشِ تاتار ہو
میری دیواروں کو چھو جائے جو اکسیرِ عطا
خاک بھی میری مثالِ گوہرِ شہوار ہو
دیکھ اے ذوقِ خریداری! یہ موقع ہے کہیں
حسنِ یوسف سے نہ خالی مصر کا بازار ہو
یوسف علم استم و پنجاب کنعان منِ است
از دمیدِ صبحِ حکمت چاکِ دامانِ من است
بند چہارم
مجھ میں وہ جادو ہے روتوں کو ہنسا سکتا ہوں میں
قوم کے بگڑے ہوئوں کو پھر بنا سکتا ہوں میں
عید ہوں میں اے نگاہِ چشمِ نظّارہ تری
شاھدِ مقصود کا پردہ اٹھا سکتا ہوں میں
طیرِ حکمت باغِ دنیا میں ہوں اے صیّاد ! میں
دام تو سونے کا بنوا لے تو آ سکتا ہوں میں
طوسیؔ و رازیؔ و سیناؔ و غزالیؔ و ظہیرؔ
آہ وہ دل کش مرقع پھر دکھا سکتا ہوں میں
آئیں اڑ اڑ کر پتنگے مصر و روم و شام سے
شمع اک پنجاب میں ایسی جلا سکتا ہوں میں
آزما کر تم ذرا دیکھو مرے اعجاز کو
ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں وہ دکھا سکتا ہوں میں
گوش بر آواز تھا مغرب کبھی جس کے لیے
وہ صدا پھر اس زمانے کو سنا سکتا ہوں میں
ناز تھا جس پر کبھی غرناطہ و بغداد کو
پھر وہی محفل زمانے کو دکھا سکتا ہوں میں
گھر کسی کا جن کی ضو سے غیرتِ مشرق بنے
اس انوکھی شان کے موتی لٹا سکتا ہوں میں
کارواں سمجھے اگر خضرِ رہِ ہمّت مجھے
منزلِ مقصود کا رستا دکھا سکتا ہوں میں
از خُمِ حکمت بروں کردم شرابِ ناب را
ہاں ، مبارک سرزمینِ خطۂ پنجاب را
بند پنجم
بن گیا ہے دستِ سائل دامنِ گلزار کیا
باغ پر چھایا ہوا ہے ابرِ گوھر بار کیا
کچھ ہوا ایسی چلے یا رب کہ گلشن خیز ہو
خار کیا ، گل کی کلی کیا ، غنچۂ منقار کیا
حسن خود منّتِ کشِ چشمِ تماشائی ہوا
اب نہیں دنیا میں باقی طالبِ دیدار کیا
اک جہاں آیا ہے گل گشتِ چمن کے واسطے
باغباں باہر نہ پھینکے گا چمن کے خار کیا
زندگی اپنی زمانے میں تمہارے دم سے ہے
ہے خطِ دستِ کرم میرے نفس کا تار کیا
ہاں جسے چھونا ہو دامانِ ثریّا کو کبھی
ایک دو اینٹوں سے اٹھ سکتی ہے وہ دیوار کیا
تیغ کے بھی دن کبھی تھے اب قلم کا دور ہے
بن گئی کشور کشا یہ کاٹھ کی تلوار کیا
خوبیِ قسمت سے پہنچا علم کا یوسف یہاں
ورنہ کیا پنجاب اور پنجاب کا بازار کیا
مجھ سے وابستہ نہیں کیا آبرو پنجاب کی
تیر کی صورت نہیں ہیں طعنۂ اغیار کیا
آرزوئے دل کو بھی کہنا کوئی دشوار ہے
کام خاموشی سے تجھ کو اے لبِ اظہار کیا
گوش را جویائے آوازِ غریباں کردئہ
شانہ را مائل بہ گیسوئے پریشاں کردئہ
بند ششم
کیوں نہ دیوانے ہوں لب سوزِ نہاں کے واسطے
ڈھونڈ کر محفل نکالی داستاں کے واسطے
اس بھری محفل میں اپنا رازِ دل کہتا ہوں میں
باغ ہی زیبا ہے بلبل کی فغاں کے واسطے
طعنہ زن ہے ضبط اور لذّت بڑی افشا میں ہے
ہے کوئی مشکل سی مشکل رازداں کے واسطے
جس نے پایا اپنی محنت سے زمانے میں فروغ
ہے وہی اختر جبینِ کہکشاں کے واسطے
باغباں کا ڈر کہیں ، خطرہ کہیں صیّاد کا
مشکلیں ہوتی ہیں سو ، اک آشیاں کے واسطے
خضر ہمّت کا رفیقِ راہِ منزل ہو اگر
گلستاں تیرے لیے تو گلستاں کے واسطے
زندگی وہ چاہیے دنیا کی زینت جس سے ہو
شمعِ روشن بن کے رہ بزمِ جہاں کے واسطے
تشنہ لب کے پاس جاتا ہے کبھی اٹھ کرکنواں؟
رخت کب منزل نے باندھا کارواں کے واسطے
گلشنِ عالم میں وہ دل کش نظارہ ڈھونڈنا
آنکھ کو فرصت نہ ہو خوابِ گراں کے واسطے
یہ تو پوشیدہ ہے بے آرامیِ محنت میں کچھ
جا رہا ہے تو کہاں آرامِ جاں کے واسطے
روشن از نورِ مہِ حکمت شبستانِ من است
کآں دُرِ گم گشتۂ مومن بدامانِ من است
بند ہفتم
ہاں رگِ ہمت کو اپنی جوش میں لائے کوئی
عشقِ اخواں کا اثر دنیا کو دکھلائے کوئی
جوشِ ہمدردی میں پنہاں دولتِ ایماں ہے بس
نقشۂ خیر القروں آنکھوں کو دکھلائے کوئی
ہے پریشاں بادِ ناکامی سے گیسوئے مراد
شانۂ دستِ عطا سے اس کو سلجھائے کوئی
بہر استقبال استادہ ہے ہر گل کی کلی
اس چمن میں صورتِ بادِ صبا آئے کوئی
یہ گل و گلزار صدقہ امّیِ یثربؐ کا ہے
دیکھنا اے باغباں غنچہ نہ مرجھائے کوئی
مدّعا کو یہ سکھایا شورشِ فریاد نے
خود بخود میری طرح منہ سے نکل آئے کوئی
کہہ گئی ذوقِ کرم کو شوخی حسنِ طلب
ہاتھ سے عاشق کا دل بن کر نکل جائے کوئی
اک چھٹا دریا رواں ہونے کو ہے پنجاب میں
ابر کی صورت اٹھے ، اٹھ کر برس جائے کوئی
تاک میں بیٹھی ہوئی ہے شوخیِ دستِ طلب
دیکھیے اس بزم سے بچ کر کہاں جائے کوئی
فکرِ دیں کے ساتھ رکھنا فکرِ دنیا بھی ضرور
ہیں بہت دشمن کہیں دھوکا نہ دے جائے کوئی
خویش را مسلم ہمی گویند و با ماکار نیست
رشتۂ تسبیحِ شاں جز رشتۂ زُنّار نیست
بند ہشتم
علم کا محبوب رونق بخشِ کاشانہ تو ہو
انجمن اپنی مثالِ بزمِ جانانہ تو ہو
پھر سماں بندھ جائے گا غرناطہ و بغداد کا
پھر ذرا بھولا ہوا تازہ وہ افسانہ تو ہو
بزم میں شوقِ میٔ حکمت ہوا پیدا مگر
میَ بھی بٹ جائے گی پہلے فکرِ پیمانہ تو ہو
یہ نظامیّہ سلامت ہے تو پھر سعدیؔ بہت
پر ذرا ویسا منوّر اپنا کاشانہ تو ہو
یادگارِ فاتحانِ ہند و اندلس ہو تمھیں
شان شاہانہ نہ ہو میری، امیرانہ تو ہو
پائمالی ہے جہاں میں ترکِ حکمت کی سزا
اس چمن سے مثلِ سبزہ کوئی بیگانہ تو ہو
وہ غنی ہے علم کی دولت بھی کرتا ہے عطا
ہاں مگر پہلے رَوِش تیری گدایانہ تو ہو
آنکھ کو بیدار کر دیتی ہے یہ دیوانگی
کوئی اس حسنِ جہاں آرا کا دیوانہ تو ہو
رام کر لینا زمانے کا ترے ہاتھوں میں ہے
زندگی تیری جہاں میں دلربایانہ تو ہو
جل کے مرجانا چراغِ علم پر مشکل نہیں
پہلے تیرے دل میں پیدا نور پروانہ تو ہو
اے کہ حرف اطلَبِوا لَوکَانَ بِالسّین گفتہ ای
گوہرِ حکمت بہ تارِ جانِ امّت سفتہ ای
بند نہم
اے کہ بر دلھا رموزِ عشق آساں کردئہ ای
سینہ ہا را از تجلّی یوسفستاں کردہ ای
اے کہ صد طور است پیدا از نشانِ پائے تو
خاکِ یثرب را تجلّی گاہِ عرفاں کردہ ای
اے کہ ذاتِ تو نہاں در پردئہ عینِ عرب
روے خود را در نقابِ میم پنہاں کردہ ای
اے کہ بعد از تو نبوّت شد بہ ہر مفہوم شرک
بزم را روشن ز نورِ شمعِ ایماں کردہ ای
اے کہ ہم نامِ خدا ، بابِ دیارِ علم تو
اُمّیے بودی و حکمت را نمایاں کردہ ای
آتشِ الفت بہ دامانِ ربوبیت زدی
عالمے را صورتِ آئینہ حیراں کردہ ای
فیضِ تو دشتِ عرب را مطمحِ انظار ساخت
خاکِ ایں ویرانہ را گلشن بداماں کردہ ای
دل نہ نالد در فراقِ ماسوائے نورِ تو
خشک چوبے را ز ہجر خویش گریاں کردہ ای
گل فرستادن بہ بحرِ بے کراں می زیبدش
قطرئہ بے مایہ را ہم دستِ طوفاں کردہ ای
بے عمل را لطف تو لا ’تَقنَطُوا‘ آموز گشت
بسکہ وا بر ہر کسے بابِ دبستاں کردئہ ای
ہاں دعا کن بہرِ ما ، اے مایۂ ایمانِ ما
پرُ شود از گوہرِ حکمت سرِ دامانِ ما۱
۱ - سرود رفتہ ص ۳۰
خ

 


شکریۂ انگشتری

آپ نے مجھ کو جو بھیجی ارمغاں انگشتری

دے رہی ہے مہر و الفت کا نشاں انگشتری
زینتِ دستِ حنا مالیدئہ جاناں ہوئی

ہے مثالِ عاشقاں آتش بجاں انگشتری
تو سراپا آیتے از سورئہ قرآنِ فیض

وقفِ مطلق اے سراجِ مہرباں انگشتری
میرے ہاتھوں سے اسے پہنے اگر وہ دل ربا

ہو رموزِ بے دلی کی ترجماں انگشتری
ہو نہ برق افگن کہیں اے طائرِ رنگِ حنا

تاکتی رہتی ہے تیرا آشیاں انگشتری
ساغرِ مے میں پڑا انگشتِ ساقی کا جو عکس

بن گئی گردابۂ آبِ رواں انگشتری
ہوں بہ تبدیلِ قوافی فارسی میں نغمہ خواں
ہند سے جاتی ہے سوئے اصفہاں انگشتری
یا رم از کشمر فرستادست چار انگشتری

چار در صورت بمعنی صد ہزار انگشتری
چار را گر صد ہزار آوردہ ام اینک دلیل

شد قبولِ دستِ یارم ہر چہار انگشتری
داغ داغ از موجِ مینا کاریش جوشِ بہار

میدہد چوں غنچۂ گل بوئے یار انگشتری
در لہاور۱ آمد و چشمِ تماشا شد تمام

بود در کشمیر چشمِ انتظار انگشتری
یار را ساغر بکف انگشتری در دستِ یار

حلقہ اش خمیازئہ دستِ خمار انگشتری
ما اسیرِ حلقہ اش او خود اسیرِ دستِ دوست

اللہ اللہ دام و صیّاد و شکار انگشتری
خاتمِ دستِ سلیماں حلقہ در گوشِ وے است

اے عجب انگشتری را جاں نثار انگشتری
وَہ چہ بکشاید بدستِ آں نگارِ سیم تن

ماند گر زیں پیشتر سربستہ کار انگشتری
من دلِ گم گشتہ خود را کجا جویم سراغ

دُزدیٔ دُزدِ حنا را پردہ دار انگشتری
راز دارِ دزدہم دزدست در بازارِ حسن

چشمکِ دزد حنا را راز دار انگشتری
ہر دو باہم ساختند و نقدِ دلہامی برند

پختہ مغز انگشتِ جاناں ، پختہ کار انگشتری
نو بہارِ دلفریب انگشتری دردستِ یار

بوسہ بر دستش زند لیل و نہار انگشتری
بوالہوس ز انگشتری طرزِ اطاعت یادگیر

می نہد سر بر خطِ فرمانِ یار انگشتری
ماہِ نو قالب تہی کر دست از حسرت بہ چرخ

جلوہ فرماشد چو در انگشتِ یار انگشتری
ارمغانم سلکِ گوہرہاست یعنی ایں غزل

کز سراجم نور ہا آمد چہار انگشتری
گشت اے اقبال مقبولِ امیرِ مُلک حسن

کرد وا مارا گرہ آخر ز کار انگشتری۲
۱ - لاہور کا دوسرا نام جن کو امیر خسروؒ ’’قران السعدین‘‘ میں استعمال فرماتے ہیں (اقبال)
۲ - سرودِ رفتہ ص ۶۰
خ
ماتم پسر
اندھیرا صمدؔ کا مکاں ہو گیا

وہ خورشیدِ روشن نہاں ہو گیا
بیاباں ہماری سرا بن گئی

مسافر وطن کو رواں ہو گیا
گیا اڑ کے وہ بلبلِ خوش نوا

چمن پائمالِ خزاں ہو گیا
نہیں باغِ کشمیر میں وہ بہار

نظر سے جو وہ گل نہاں ہو گیا
گیا کارواں ، اور میں راہ میں

غبارِ رہِ کارواں ہو گیا
گرا کٹ کے آنکھوں سے لختِ جگر

مرے صبر کا امتحاں ہو گیا
بڑھا اور اک دشمن جاںِ ستاں

دھواں آہ کا آسماں ہو گیا
ستم اس غضب کا خزاں نے کیا

بیاباں مرا بوستاں ہو گیا
ہوئی غم کی عادت کچھ ایسی مجھے

کہ غم مجھ کو آرامِ جاں ہو گیا
کسی نوجواں کی جدائی میں قد

جوانی میں مثلِ کماں ہو گیا
جدائی میں نالاں ہو بلبل نہ کیوں

وہ گل زیبِ باغِ جناں ہو گیا
وہ سرخی ہے اشکِ شفق رنگ میں

حریف میٔ ارغواں ہو گیا
بنایا تھا ڈر ڈر کے جو آشیاں

وہی نذرِ برقِ تپاں ہو گیا
کروں ضبط اے ہم نشیںکس طرح

کہ ہر اشک طوفاں نشاں ہو گیا
غضب ہے غلامِ حسن کا فراق

کہ جینا بھی مجھ کو گراں ہو گیا
دیا چن کے وہ غم فلک نے اسے
کہ مقبلؔ سراپا فغاں ہو گیا۱
۱ - مخزن ، جولائی ۱۹۰۲ء
فریادِ امّت
دل میں جو کچھ ہے ، نہ لب پر اسے لائوں کیوں کر
ہو چھپانے کی نہ جو بات چھپائوں کیوں کر
شوقِ نظّارہ یہ کہتا ہے قیامت آئے
پھر میں نالوں سے قیامت نہ اٹھائوں کیوں کر
میری ہستی نے رکھا مجھ سے تجھے پوشیدہ
پھر تری راہ میں اس کو نہ مٹائوں کیوں کر
صدمۂ ہجر میں کیا لطف ہے اللہ اللہ
یہ بھی اک ناز ہے تیرا ، نہ اٹھائوں کیوں کر
زندگی تجھ سے ہے اے نارِ محبّت میری
اشکِ غم سے ترے شعلوں کو بجھائوں کیوں کر
تجھ میں َسو نغمے ہیں اے تارِ ربابِ ہستی
زخمۂ عشق سے تجھ کو نہ بجائوں کیوں کر
ضبط کی تاب نہ یارائے خموشی مجھ کو
ہائے اس دردِ محبت کو چھپائوں کیوں کر
بات ہے راز کی پر منہ سے نکل جائے گی
یہ میٔ کہنہ خُمِ دل سے اچھل جائے گی
آسماں مجھ کو بجھا دے جو فروزاں ہوں میں
صورتِ شمع سرِ گورِ غریباں ہوں میں
ہوں وہ بیمار جو ہو فکرِ مداوا مجھ کو
درد چپکے سے یہ کہتا ہے کہ درماں ہوں میں
دیکھنا تو مری صورت پہ نہ جانا گُل چیں
دیکھنے کو صفتِ نو گُلِ خنداں ہوں میں
موت سمجھا ہوں مگر زندگیِ فانی کو
نام آ جائے جو اس کا تو گریزاں ہوں میں
دور رہتا ہوں کسی بزم سے اور جیتا ہوں
یہ بھی جینا ہے کوئی جس سے پشیماں ہوں میں
کنجِ عزلت سے مجھے عشق نے کھینچا آخر
یہ وہی چیز ہے جس چیز پہ نازاں ہوں میں
داغِ دل مہر کی صورت ہے نمایاں لیکن
ہے اسے شوق ابھی اور نمایاں ہوں میں
ضبط کی جا کے سنا اور کسی کو ناصح
اشک بڑھ بڑھ کے یہ کہتا ہے کہ طوفاں ہوں میں
ہوں وہ مضمون کہ مشکل ہے سمجھنا میرا
کوئی مائل ہو سمجھنے پہ تو آساں ہوں میں
رند کہتا ہے ولی مجھ کو ، ولی رند مجھے
سن کے ان دونوں کی تقریر کو حیراں ہوں میں
زاہدِ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں
کوئی کہتا ہے کہ اقبال ہے صوفی مشرب
کوئی سمجھا ہے کہ شیدائے حسیناں ہوں میں
ہوں عیاں سب پہ مگر پھر بھی ہیں اتنی باتیں
کیا غضب آئے نگاہوں سے جو پنہاں ہوں میں
دیکھ اے چشمِ عدو مجھ کو حقارت سے نہ دیکھ
جس پہ خالق کو بھی ہو ناز وہ انساں ہوں میں
مزرعِ سوختۂ عشق ہے حاصل میرا
درد قربان ہو جس دل پہ وہ ہے دل میرا
خ
کچھ اسی کو ہے مزا دہر میں آزادی کا
جو ہوا قیدیٔ زنجیرِ پری خانۂ دل
خ
آتی ہے اپنی سمجھ اور پہ مائل ہو کر
آنکھ کھل جاتی ہے انسان کی بے دل ہو کر
لوگ سودا کو یہ کہتے ہیں ’’برا ہوتا ہے‘‘
عقل آئی مجھے پابندِ سلاسل ہو کر
آرزو کا کبھی رونا ، کبھی اپنا ماتم
اس سے پوچھے کوئی ، کیا دل نے لیا دل ہو کر
میری ہستی ہی تو تھی میری نظر کا پردہ
اٹھ گیا بزم سے میں پردئہ محفل ہو کر
عین ہستی ہوا ہستی کا فنا ہو جانا
حق دکھایا مجھے اس نکتے نے باطل ہو کر
خلق معقول ہے ، محسوس ہے خالق اے دل
دیکھ نادان ذرا آپ سے غافل ہو کر
طور پر تونے جو اے دیدئہ موسیٰ دیکھا
وہی کچھ قیس نے دیکھا پسِ محمل ہو کر
کیوں کہوں بے خودیِ شوق میں لذّت کیا ہے
تو نے دیکھا نہیں زاہد کبھی غافل ہو کر
رہِ الفت میں رواں ہوں ، کبھی افتادہ ہوں
موج ہو کر ، کبھی خاکِ لبِ ساحل ہو کر
دمِ خنجر میں دمِ ذبح سما جاتا ہوں
جوھرِ آئنۂ خنجرِ قاتل ہو کر
وہ مسافر ہوں ملے جب نہ پتا منزل کا
خود بھی مٹ جائوں نشانِ رہِ منزل ہو کر
ہے فروغِ دو جہاں داغِ محبّت کی ضیا
چاند یہ وہ ہے کہ گھٹتا نہیں کامل ہو کر
دیدئہ شوق کو دیدار نہ ہو ، کیا معنی
آئے محفل میں جو دیدار کے قابل ہو کر
عشق کا تیر قیامت تھا الٰہی توبہ
دل تڑپتا ہے مرا طائرِ بسمل ہو کر
میٔ عرفاں سے مرے کاسۂ دل بھر جائے
میں بھی نکلا ہوں تری راہ میں سائل ہو کر
’’المدد سیّدِ مکّی مدنی العربی
دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی‘‘
لاکھ سامان ہے اک بے سرو ساماں ہونا
مجھ کو جمعیّتِ خاطر ہے پریشاں ہونا
تیری الفت کی اگر ہو نہ حرارت دل میں
’’آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا‘‘
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
دل جو بربادِ محبت ہوا ، آباد ہوا
سازِ تعمیر تھا اس قصر کو ویراں ہونا
علم و حکمت کے مدینے کی کشش ہے مجھ کو
لطف دے جاتا ہے کیا کیا مجھے ناداں ہونا
کبھی یثرب میں اویسِ قرنیؓ سے چھپنا
کبھی برقِ نگہِ موسیِ عمراں ہونا
قاب قوسین بھی ، دعویٰ بھی عبودیّت کا
کبھی چلمن کو اٹھانا ، کبھی پنہاں ہونا
لطف دیتا ہے مجھے مٹ کے تری الفت میں
ہمہ تن شوقِ ہوائے عربستاں ہونا
یہی اسلام ہے میرا ، یہی ایماں میرا
تیرے نظّارئہ رخسار سے حیراں ہونا
خندئہ صبحِ تمنائے براہیم استی
چہرہ پرداز بحیرت کدئہ میم استی
حشر میں ابر شفاعت کا گہر بار آیا
دیکھ اے جنسِ عمل تیرا خریدار آیا
پیرہن عشق کا جب حسنِ ازل نے پہنا
بن کے یثرب میں وہ آپ اپنا خریدار آیا
میں گیا حشر میں جس دم تو صدا یوں آئی
دیکھنا دیکھنا وہ کافرِ دیندار آیا
لطف آنے کا تو جب ہے کہ کسی پر آئے
ورنہ دل اپنا بھی آنے کو تو سو بار آیا
جوش سودائے محبت میں گریباں اپنا
میں نے دیکھا تو نہ ہاتھوں میں کوئی تار آیا
عشق کی راہ میں اک سیر تھی ہر منزل پر
نجد کا دشت کہیں مصر کا بازار آیا
میں نے سو گلشنِ جنت کو کیا اس پہ نثار
دشتِ یثرب میں اگر زیرِ قدم خار آیا
لیں شفاعت نے قیامت میں بلائیں کیا کیا
عرقِ شرم میں ڈوبا جو گنہگار آیا
وہ مری شرمِ گنہ اور وہ سفارش تیری
ہائے اس پیار پہ کیا کیا نہ مجھے پیار آیا
ہے ترے عشق کا مے خانہ عجب مے خانہ
یعنی ہشیار گیا اور میں سرشار آیا
’’ما عَرفَنا‘‘ نے چھپا رکھی ہے عظمت تیری
’’قاَب قوسین‘‘ سے کھلتی ہے حقیقت تیری
لے چلا بحرِ محبت کا تلاطم مجھ کو
کشتیِ نوح ہے ہر موجۂ قلزم مجھ کو
حسن تیرا مری آنکھوں میں سمایا جب سے
تیر لگتی ہے شعاعِ مہ و انجم مجھ کو
تیرے قربان میں اے ساقیِ مے خانۂ عشق
میں نے اک جام کہا تو نے دیے خُم مجھ کو
خاک ہو کر یہ ملا اوج تری الفت میں
’’کہ فرشتوں نے لیا بہرِ تیمم مجھ کو‘‘
گرد آسا سرِ دامن سے لگا پھرتا ہوں
حشر کے روز بھلا دو نہ کہیں تم مجھ کو
کوئی دیکھے تو ترے عاشقِ شیدا کا مزاج
حور سے کہتا ہے چھیڑا نہ کرو تم مجھ کو
موت آ جائے جو یثرب کے کسی کوچے میں
میں نہ اٹھوں جو مسیحا بھی کہے ’’قم‘‘ مجھ کو
صفتِ نوکِ سرِ خار شبِ فرقت میں
چبھ رہی ہے نگہِ دیدئہ انجم مجھ کو
خوف رہتا ہے یہ ہر دم کہ رہِ یثرب سے
طور کی سمت نہ لے جائے توہّم مجھ کو
تو نے آنکھوں کے اشارے سے جو تسکیں کر دی
شورِ محشر ہوا گلبانگِ ترنّم مجھ کو
اپنا مطلب مجھے کہنا ہے مگر تیرے حضور
چھوڑ جائے نہ کہیں تابِ تکلّم مجھ کو
ہے ابھی امّتِ مرحوم کا رونا باقی
دیکھ اے بے خودیِ شوق نہ کر گم مجھ کو
ہمہ حسرت ہوں سراپا غمِ بربادی ہوں
ستمِ دہر کا مارا ہوا فریادی ہوں
اے کہ تھا نوح کو طوفاں میں سہارا تیرا
اور براہیم کو آتش میں بھروسا تیرا
اے کہ مشعل تھا ترا ظلمتِ عالم میں وجود
اور نورِ نگہِ عرش تھا سایا تیرا
اے کہ پرتو ہے ترے ہاتھ کا مہتاب کا نور
چاند بھی چاند بنا پاکے اشارا تیرا
گرچہ پوشیدہ رہا حسن ترا پردوں میں
ہے عیاں معنیِ ’’لولاک‘‘ سے پایا تیرا
ناز تھا حضرت موسیٰ کو یدِ بیضا پر
سو تجلی کا محل نقشِ کفِ پا تیرا
چشمِ ہستی صفتِ دیدئہ اعمٰے ہوتی
دیدئہ ’’کن‘‘ میں اگر نور نہ ہوتا تیرا
مجھ کو انکار نہیں آمدِ مہدی سے مگر
غیر ممکن ہے کوئی مثل ہو پیدا تیرا
کیا کہوں امّتِ مرحوم کی حالت کیا ہے
جس سے برباد ہوئے ہم وہ مصیبت کیا ہے
حال امت کا برا ہو کہ بھلا کہتے ہیں
صفتِ آئنہ جو کچھ ہے صفا کہتے ہیں
واعظوں میں یہ تکبّر کہ الٰہی توبہ
اپنی ہر بات کو آوازِ خدا کہتے ہیں
ان کے ہر کام میں دنیا طلبی کا سودا
ہاں مگر وعظ میں دنیا کو برا کہتے ہیں
غیر بھی ہو تو اسے چاہیے اچھا کہنا
پر غضب ہے کہ یہ اپنوں کو برا کہتے ہیں
فرقہ بندی کی ہوا تیرے گلستاں میں چلی
یہ وہ ناداں ہیں اسے بادِ صبا کہتے ہیں
شاہدِ قوم ہوا خنجرِ پیکار سے خوں
ہائے غفلت یہ اسے رنگِ حنا کہتے ہیں
آہ جس بات سے ہو فتنۂ محشر پیدا
یہ وہ بندے ہیں اسے فتنہ ربا کہتے ہیں
جن کی دینداری میں ہے آرزوئے زر پنہاں
آ کے دھوکے میں انہیں راہ نماکہتے ہیں
لاکھ اقوام کو دنیا میں اجاڑا اس نے
یہ تعصّب کو مگر گھر کا دیا کہتے ہیں
خانہ جنگی کو سمجھتے ہیں بنائے ایماں
مرض الموت ہے جو اس کو دوا کہتے ہیں
یہ نصاریٰ کا خدا اور وہ علی شیعوں کا
ہائے کس ڈھنگ سے اچھوں کو برا کہتے ہیں
مقصدِ لَحمُکَ لَحُمِیُ پہ کھلی ان کی زباں
یہ تو اک راہ سے تجھ کو بھی برا کہتے ہیں
تیرے پیاروں کا جو یہ حال ہو اے شافعِ حشر
میرے جیسوں کو تو کیا جانیے کیا کہتے ہیں
بُغض لِلّٰہ کے پردے میں عداوت ذاتی
دین کی آڑ میں کیا کرتے ہیں ، کیا کہتے ہیں
جن کا یہ دیں ہو کہ اپنوں سے کریں ترکِ سلام
ایسے بندوں کو یہ بندے ’’صلحا‘‘ کہتے ہیں
قوم کے عشق میں ہو فکرِ کفن بھی نہ جسے
یہ اسے بندئہ بے دامِ ہوا کہتے ہیں
یہ دوا ، صفحۂ ہستی سے نہ مٹ جانا ہو
درد کے حد سے گزرنے کو دوا کہتے ہیں
وصل ہو لیلیِ مقصود سے کیوں کر اپنا
اخترِ سوختۂ قیس ہے اختر اپنا
امراء جو ہیں وہ سنتے نہیں اپنا کہنا
سامنے تیرے پڑا ہے مجھے کیا کیا کہنا
ہم جو خاموش تھے اب تک تو ادب مانع تھا
ورنہ آتا تھا ہمیں حرفِ تمنّا کہنا
درد مندوں کا کہیں حال چھپا رہتا ہے
اپنی خاموشی بھی تھی ایک طرح کا کہنا
شکوہِ منّت کشِ لب ہے کبھی منّت کشِ چشم
میرا کہنا جو ہے رونا تو ہے رونا ، کہنا
قوم کو قوم بنا سکتے ہیں دولت والے
یہ اگر راہ پہ آ جائیں تو پھر کیا کہنا
بادئہ عیش میں سرمست رہا کرتے ہیں
یاد فرماں نہ ترا اور نہ خدا کا کہنا
ہم نے سو بار کہا ’’قوم کی حالت ہے بری‘‘
پر سمجھتے نہیں یہ لوگ ہمارا کہنا
جو مرے دل میں ہے ، کہہ دوں تو کوئی کہہ دے گا
منہ پہ ہوتا نہیں ان لوگوں کو اچھّا کہنا
ہم کہیں کچھ تو کہے جائیں ، انہیں کیا پروا
کوئی کہہ دے تو اثر کرتا ہے کیا کیا کہنا
ان کی محفل میں ہے کچھ بار انہی لوگوں کو
جن کو آتا ہو سرِ بزم لطیفا کہنا
دیکھتے ہیں یہ غریبوں کو تو برہم ہو کر
فقر تھا فخر ترا شاہِ دو عالم ہو کر
اس مصیبت میں ہے اک تو ہی سہارا اپنا
تنگ آ کر لبِ فریاد ہوا وا اپنا
ایسی حالت میں بھی امید نہ ٹوٹی اپنی
نام لیوا ہیں ترے ، تجھ پہ ہے دعوا اپنا
فرقہ بندی سے کیا راہ نمائوں نے خراب
ہائے ان مالیوں نے باغ اجاڑا اپنا
ہم تو مٹ جائیں گے معمورئہ ہستی سے مگر
صبر ان راہ نمائوں پہ پڑے گا اپنا
تری سرکار میں اپنوں کا گلہ کیا کیجیے
ہو ہی جاتا ہے مصیبت میں پرایا اپنا
ہم نے سو راہ اخوّت کی نکالی لیکن
نہ تو اپنا ہوا اپنا نہ پرایا اپنا
دیکھ اے نوح کی کشتی کے بچانے والے
آیا گرداب حوادث میں سفینہ اپنا
اس مصیبت میں اگر تو بھی ہماری نہ سنے
اور ہم کس سے کہیں جا کے فسانا اپنا
ہاں برس ابرِ کرم ، دیر نہیں ہے اچھی
کہ نہ ہونے کے برابر ہوا ہونا اپنا
لطف یہ ہے کہ پھلے قوم کی کھیتی اس سے
ورنہ ہونے کو تو آنسو بھی ہے دریا اپنا
اب جو ہے ابر مصیبت کا دھواں دھار آیا
ڈھونڈتا پھرتا ہے تجھ کو دلِ شیدا اپنا
یوں تو پوشیدہ نہ تھی تجھ سے ہماری حالت
ہم نے گھبرا کے مگر تذکرہ چھیڑا اپنا
زندگی تجھ سے ہے اے فخرِ براہیم اپنی
کر دعا حق سے کہ مشکل ہوا جینا اپنا
ایک یہ بزم ہے لے دے کے ہماری باقی
ہے انہی لوگوں کی ہمّت پہ بھروسا اپنا
داستاں درد کی لمبی ہے ، کہیں کیا تجھ سے
ہے ضعیفوں کو سہارے کی تمنّا تجھ سے
قوم کو جس سے شفا ہو وہ دوا کون سی ہے
یہ چمن جس سے ہرا ہو وہ صبا کون سی ہے
جس کی تاثیر سے ہو عزّتِ دین و دنیا
ہائے اے شافعِ محشر وہ دعا کون سی ہے
جس کی تاثیر سے یک جان ہو امّت ساری
ہاں بتا دے ہمیں وہ طرزِ وفا کون سی ہے
جس کے ہر قطرے میں تاثیر ہو یک رنگی کی
ہاں بتا دے وہ میٔ ہوش ربا کون سی ہے
قافلہ جس سے رواں ہو سوئے منزل اپنا
ناقہ وہ کیا ہے ، وہ آوازِ درا کون سی ہے
اپنی فریاد میں تاثیر نہیں ہے باقی
جس سے دل قوم کا پگھلے وہ صدا کون سی ہے
سب کو دولت کا بھروسا ہے زمانے میں مگر
اپنی امّید یہاں تیرے سوا کون سی ہے
اپنی کھیتی ہے اجڑ جانے کو اے ابرِ کرم
تجھ کو جو کھینچ کے لائے وہ ہوا کون سی ہے
ہے نہاں جن کی گدائی میں امیری سب کی
آج دنیا میں وہ بزمِ فقرا کون سی ہے
تیرے قرباں کہ دکھا دی ہے یہ محفل تونے
میں نے پوچھا جو اخّوت کی بِنا کون سی ہے
راہ اس محفلِ رنگیں کی دکھا دے سب کو
اور اس بزم کا دیوانہ بنا دے سب کو۱
۱ - سرود رفتہ ، ص ۴۲ ، رودادِ انجمن
خ
اہلِ درد
زندگی دنیا کی مرگِ ناگہانِ اہلِ درد
موت پیغامِ حیاتِ جاودانِ اہلِ درد
بند ہو کر اور کھلتی ہے زبانِ اہل درد
بولتا ہے مثلِ نے ہر استخوانِ اہلِ درد
یہ وہ پستی ہے کہ اس پستی میں ہے رفعت نہاں
سر کے بل گرتا ہے گویا نردبانِ اہلِ درد
آپ بائع آپ ہی نقد و متاع و مشتری
ساری دنیا سے نرالی ہے دکانِ اہلِ درد
اس خموشی اور گویائی کے صدقے جائیے
محوِ شکرِ بے زبانی ہے زبانِ اہلِ درد
بیخودی میں یہ پہنچ جاتے ہیں اپنے آپ تک
عین بیداری نہ ہو خوابِ گرانِ اہلِ درد
کہہ رہی ہے ہر کلی گلزارِ ابراہیم کی
آگ سے ہوتا ہے پیدا گلستانِ اہلِ درد
پالیا موسیٰ نے آخر بندئہ اللہ کو
درد والوں ہی کو ملتا ہے نشانِ اہلِ درد
ان کی دنیا بھی یہی ، عرشِ معلّیٰ بھی یہی
دل مکانِ اہلِ درد و لامکانِ اہلِ درد
ہائے کیوں محشرپہ واعظ نے اٹھا رکھی ہے بات
ہے اسی دنیا میں ہوتا امتحانِ اہلِ درد
درد ہی کے دم سے ہے ان دل جلوں کی زندگی
درد سے پیدا ہوئی روح و روانِ اہلِ درد
لیتے ہیں داغِ محبّت سے گلِ جنّت مراد
ہائے کیا مرغوب ہے طرزِ بیانِ اہلِ درد
یہ اجڑ جانے کو آبادی سمجھتے ہیں مگر
ڈھونڈتا ہے راہزن کو کاروانِ اہلِ درد
ارتجالاً ہم نے اے اقبال کہہ ڈالے یہ شعر
تھی نوازش کو جو فکرِ امتحانِ اہلِ درد
خ
دیگر
صبرِ ایوبِ وفا خُو جزوِ جانِ اہلِ درد
گریۂ آدم سرشتِ دودمانِ اہلِ درد
ہے سکوں نا آشنا طبعِ جہانِ اہلِ درد
جوں قمر سائر ہے قطبِ آسمانِ اہلِ درد
اوجِ یک مشتِ غبارِ آستانِ اہلِ درد
جوہرِ رفعت بلا گردانِ شانِ اہلِ درد
پھر رہے ہیں گلشنِ ہستی کے نظّاروں میں مست
نکہتِ گل ہے شرابِ ارغوانِ اہلِ درد
ابتدا میں شرحِ رمز آیۂ لاتقربا
کس قدر مشکل تھا پہلا امتحانِ اہلِ درد

ہم نشیں رونا ہمارا کچھ نیا رونا نہیں
تھی ہم آہنگِ ندائے ’’کن‘‘ فغانِ اہلِ درد
شورشِ محشر جسے واعظ نے ہے سمجھا ہوا
ہے وہ گلبانگِ درائے کاروانِ اہلِ درد
بتکدے کی سمت کیوں جاتا ہے یا رب برہمن
کعبۂ دل ہی تو ہے ہندوستانِ اہلِ درد
گرمیِ جوشِ عقیدت سے کیا کرتی ہے طوف
کعبۂ برقِ بلا ہے آشیانِ اہلِ درد
ذبح ہونا کوچۂ الفت میں ہے ان کی نماز
ہے صدا تکبیر کی گویا اذانِ اہلِ درد
دار پر چڑھنا نہ تھا ، معراج تھا منصور کو
تھی وہ سولی در حقیقت نردبانِ اہلِ درد
موجِ خونِ سرمد و تبریزی و منصور سے
کس قدر رنگیں ہے یا رب داستانِ اہلِ درد
تو نے اے انسانِ غافل آہ ! کچھ پروا نہ کی
بے زباں طائر سمجھتے تھے زبانِ اہلِ درد
دیدئہ سوزن سے بھی رکھتے ہیں یہ پنہاں اسے
کوئی کیا دیکھے گا زخمِ بے نشانِ اہلِ درد
دیکھنے والے سمجھتے تھے دمِ عیسیٰ جسے
تھی وہ اک موجِ نسیمِ بوستانِ اہلِ درد
پھرتے رہتے ہیں میان کوچۂ ’’حبل الورید‘‘
ہے اسی آوارگی میں عزّو شانِ اہلِ درد
کہہ دیا اقبال اک مصرع نوازشؔ نے جو آج
وہ بہانہ ہو گیا بہرِ بیانِ اہلِ درد۱
۱ - مخزن ، مئی ۱۹۰۳ء
خ
برگِ گل
کیوں نہ ہوں ارماں مرے دل میں کلیم اللہ کے
طور در آغوش ہیں ذرّے تری درگاہ کے
میں تری درگاہ کی جانب جو نکلا ، لے اڑا
آسماں تارے بنا کر میری گردِ راہ کے
ہے زیارت کی تمنّا ، المدد اے سوزِ عشق
پھول لا دے مجھ کو گلزارِ خلیل اللہ کے
شانِ محبوبی ہوئی ہے پردہ دارِ شانِ عشق
ہائے کیا رتبے ہیں اس سرکارِ عالی جاہ کے
تر جو تیرے آستانے کی تمنّا میں ہوئی
اشک موتی بن گئے چشمِ تماشا خواہ کے
رنگ اس درگہ کے ہر ذرّے میں ہے توحید کا
طائرانِ بام بھی طائر ہیں بسم اللہ کے
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا اثبات نفیِ غیر میں
’’لا‘‘ کے دریا میں نہاں، موتی ہیں ’’اِلا اللہ‘‘ کے
سنگِ اسود تھا مگر سنگِ فسانِ تیغِ عشق
زخم میرے کیا ہیں ، دروازے ہیں بیت اللہ کے
عشق اس کو بھی تری درگاہ کی رفعت سے ہے
آہ! یہ انجم نہیں ، آنسو ہیں چشمِ ماہ کے
کس قدر سر سبز ہے صحرا محبّت کا مری
اشک کی نہریں ہیں اور سائے ہیں نخلِ آہ کے
تیرے ناخن نے جو کھولی میمِ احمدؐ کی گرہ
کھل گئے عُقدے جہاں میں ہر خدا آگاہ کے
میرے جیسے بے نوائوں کا بھلا مذکور کیا
قیصر و فغفور درباں ہیں تری درگاہ کے
محوِ اظہارِ تمنائے دلِ نا کام ہوں
لاج رکھ لینا کہ میں اقبال کا ہم نام ہوں۱
سہمی پھرتی ہے شفا میرے دلِ بیمار سے
اے مسیحا دم ! بچالے مجھ کو اس آزار سے
اے ضیائے چشمِ عرفاں ، اے چراغِ راہِ عشق
تنگ آیا ہوں جفائے چرخِ ناہنجار سے
سینۂ پاکِ علیؓ جن کا امانت دار تھا
اے شہِ ذی جاہ ! تو واقف ہے ان اسرار سے
ہند کا داتا ہے تو تیرا بڑا دربار ہے
کچھ ملے مجھ کو بھی اس دربارِ گوہر بار سے
اک نظر میں خسروِ ملکِ سخن خسرو ہوا
میں کہیں خالی نہ پھر جائوں تری سرکار سے
تاک میں بیٹھی ہے بجلی میرے حاصل کے لیے
بیر ہے بادِ بہاری کو مرے گلزار سے
آج کل اصغر جو تھے اکبر ہیں اور مولا غلام
ہیں مجھے شکوے ہزاروں چرخِ کج رفتار سے
کیا کروں اوروں کا شکوہ اے امیرِ ملکِ فقر!
دشمنی میں بڑھ گئے اہلِ وطن اغیار سے
کہہ رہے ہیں مجھ کو پربستہ قفس میں دیکھ کر
اڑ نہ جائے یہ کہیں پر کھول کر منقار سے
گریۂ شبنم پہ گل ہنستے ہیں کیا بے درد ہیں
وہ جو تھی بوئے محبت اڑ گئی گلزار سے
گھات میں صیّاد ، مائل آشیاں سوزی پہ برق
باغ بھی بگڑا ہوا ہے عندلیبِ زار سے
کہہ دیا تنگ آ کے اتنا بھی کہ میں مجبور تھا
خامشی ممکن نہیں خو کردئہ گفتار سے
ہاں قسم دیتا ہوں میں مد فونِ یثربؐ کی تجھے
کر دعا حق سے کہ میں چھٹ جائوں اس آزار سے
سخت ہے میری مصیبت ، سخت گھبرایا ہوں میں
بن کے فریادی تری سرکار میں آیا ہوں میں
کیمیا سے بھی فزوں ہے تیری خاکِ در مجھے
ہاں عطا کر دے مرے مقصود کا گوہر مجھے
تو ہے محبوبِ الٰہی ، کر دعا میرے لیے
یہ مصیبت ہے مثالِ فتنۂ محشر مجھے
آہ اس غم میں اگر تو نے خبر میری نہ لی
غرق کر ڈالے گی آخر کو یہ چشمِ تر مجھے
ہو اگر یوسف مرا زحمت کشِ چاہِ الم
چَین آئے مصرِ آزادی میں پھر کیونکر مجھے
آپ یہ وقفِ تپش ہم صورتِ سیماب ہے
کیا تسلّی دے بھلا میرا دلِ مضطر مجھے
کیا کہوں میں قصۂ ہمدردیِ اہلِ وطن
تیر کوئی بھیجتا ہے اور کوئی نشتر مجھے
یہ خوشی پھیلی مرے غم سے کہ شادی مرگ ہیں
زندگانی ہو گئی ہے موت سے بدتر مجھے
اس بڑی سرکار کے قابل مری فریاد ہے
چل، حضوری میں شہِ یثربؐ کی تو لے کر مجھے
میرا کیا منہ ہے کہ اس سرکار میں جائوں مگر
تیرے جیسا مل گیا تقدیر سے رہبر مجھے
واسطہ دوں گا اگر لختِ دل زہرا ؓ کا میں
غم میں کیوں کر چھوڑ دیں گے شافعِ محشرؐ مجھے
ہوں مریدِ خاندانِ خفتۂ خاکِ نجف
موجِ دریا آپ لے جائے گی ساحل پر مجھے
رونے والا ہوں شہیدِ کربلا کے غم میں میں
کیا دُرِ مقصد نہ دیں گے ساقیِ کوثر مجھے
دل میں ہے مجھ بے عمل کے داغِ عشقِ اہلِ بیت
ڈھونڈتا پھرتا ہے ظّلِ دامنِ حیدرؓ مجھے
جا ہی پہنچے گی صدا پنجاب سے دہلی تلک
کر دیا ہے گرچہ اس غم نے بہت لاغر مجھے
آہ ! تیرے سامنے آنے کے ناقابل ہوں میں
منہ چھپا کر مانگتا ہوں تجھ سے وہ سائل ہوں میں
خ
شیشۂ ساعت کی ریگ
اے مُشتِ گردِ میداں ، اے ریگ سرخ صحرا
کس فتنہ خوُ نے تجھ سے دشتِ عرب چھڑایا
صر صر کے دوش پر تو اڑتی پھری ہے صدیوں
بلّور کے مکاں میں کرتی ہے اب بسیرا
ہے خار زارِ غربت تیرے لیے یہ شیشہ
قصرِ بلّور جس کو میری نظر نے سمجھا
تیرے سکوت میں ہے سو داستاں پرانی
عہدِ کہن بھی گویا دیکھا ہوا ہے تیرا
اس دن کی یاد اب تک باقی ہے تیرے دل میں
کنعاں کا قافلہ جب سوئے حجاز آیا
دیکھے ہوئے ہیں تیرے فرعون کے سپاہی
تو ہو چکی ہے شاید پامالِ قومِ موسیٰ
چومے تھے تو نے اڑ کر مریم کے پائے نازک
ٹوٹا جو ناصرہ کی تقدیر کا ستارا
شاید گواہ ہے تو اس روز کے ستم پر
یثرب کا چاند جس دم اپنے وطن سے نکلا
ہو کس طرح بھلا تو اس نقشِ پا سے غافل
جس نے ترے وطن کو جنت بنا دیا تھا
اے ریگِ سرخ تیرا ہر ذرّہ کہہ رہا ہے
میں جانتا ہوں قصّہ میدانِ کربلا کا
تو گردِ پا ہے شاید بصرہ کے زائروں کی
بانگِ درا سے تیرا ہر ذرّہ ہے شناسا
طرزِ نفس شماری شیشے سے تو نے سیکھی
جاسوس بن گئی تو اقلیمِ زندگی کی۱
۱ - خواجہ محمد اقبال ، حضرت کے ایک مرید خاص کا نام تھا ، جن پر ان کی بڑی نظر عنایت تھی-
۲ - سرود ِرفتہ ص ۸۶
خ
دربارِ بہاول پور
بزمِ انجم میں ہے گو چھوٹا سا اک اختر ، زمیں
آج رفعت میں ثریّا سے بھی ہے اوپر زمیں
اوج میں بالا فلک سے ، مہر سے تنویر میں
کیا نصیبہ ہے رہی ہر معرکے میں ور زمیں
انتہائے نور سے ہر ذرّہ اختر خیز ہے
مہر و ماہ و مشتری صیغے ہیں اور مصدر زمیں
لے کے پیغامِ طرب جاتی ہے سوئے آسماں
اب نہ ٹھہرے گی کبھی اطلس کے شانوں پر زمیں
شوق بِک جانے کا ہے فیروزئہ گردوں کو بھی
مول لیتی ہے لٹانے کے لیے گوہر زمیں
بسکہ گلشن ریز ہے ہر قطرئہ ابرِ بہار
ہے شگفتہ صورتِ طبعِ سخن گستر زمیں
برگِ گل کی رگ میں ہے جنبش رگِ جاں کی طرح
ہے امیں اعجازِ عیسیٰ کی کہ افسوں گر زمیں
خاک پر کھینچیں جو نقشہ مرغِ بسم اللہ کا
قوتِ پرواز دے دے حرفِ قُم کہہ کر زمیں
صاف آتا ہے نظر صحنِ چمن میں عکسِ گل
بن گئی آپ اپنے آئینے کی روشن گر زمیں
اس قدر نظّارہ پرور ہے کہ نرگس کے عوض
خاک سے کرتی ہے پیدا چشمِ اسکندر زمیں
امتحاں ہو اس کی وسعت کا جو مقصودِ چمن
خواب میں سبزے کے آئے آسماں بن کر زمیں
چاندنی کے پھول پر ہے ماہِ کامل کا سماں
دن کو ہے اوڑھے ہوئے مہتاب کی چادر زمیں
آسماں کہتا ہے ظلمت کا جو ہو دامن میں داغ
دھوئے پانی چشمۂ خورشید سے لے کر زمیں
چومتی ہے ، دیکھنا جوشِ عقیدت کا کمال
پائے تختِ یادگارِ عّمِ پیغمبرؐ زمیں
زینت مسند ہوا عبّاسیوں کا آفتاب
ہو گئی آزادِ احسانِ شہِ خاور زمیں
یعنی نوابِ بہاول خاں ، کرے جس پر فدا
بحر موتی ، آسماں انجم ، زر و گوہر زمیں
جس کے بدخواہوں کی شمعِ آرزو کے واسطے
رکھتی ہے آغوش میں صد موجۂ صرصر زمیں
جس کی بزمِ مسند آرائی کے نظّارے کو آج
دل کے آئینے سے لائی دیدئہ جوہر زمیں
فیضِ نقشِ پا سے جس کے ہے وہ جاں بخشی کا ذوق
شمع سے لیتی ہے پروانے کی خاکستر زمیں
جس کی راہِ آستاں کو حق نے وہ رتبہ دیا
کہکشاں اس کو سمجھتا ہے فلک ، محور زمیں
آستانہ جس کا ہے اس قوم کی امّیدگاہ
تھی کبھی جس قوم کے آگے جبیں گستر زمیں
جس کے فیض پا سے ہے شفّاف مثلِ آئنہ
چشمِ اعدا میں چھپا کر خاک کا عنصر زمیں
جس کے ثانی کو نہ دیکھے مدّتوں ڈھونڈے اگر
ہاتھ میں لے کر چراغِ لالۂ احمر زمیں
وہ سراپا نور اک مطلع خطابیّہ پڑھوں
جس کے ہر مصرع کو سمجھے مطلعِ خاور زمیں
اے کہ فیضِ نقشِ پا سے تیرے گل برسر زمیں
اے کہ تیرے دم قدم سے خسروِ خاور زمیں
اے کہ تیرے آستاں سے آسماں انجم بہ جیب
اے کہ ہے تیرے کرم سے معدنِ گوہر زمیں
لے کے آئی ہے برائے خطبۂ نامِ سعید
چوبِ نخلِ طور سے ترشا ہوا منبر زمیں
تیری رفعت سے جو یہ حیرت میں ہے ڈوبا ہوا
جانتی ہے مہر کو اک مہرئہ ششدر زمیں
ہے سراپا طور عکسِ روئے روشن سے ترے
ورنہ تھی بے نور مثلِ دیدئہ عبہر زمیں
مایۂ نازش ہے تو اس خانداں کے واسطے
اب تلک رکھتی ہے جس کی داستاں ازبر زمیں
ہو ترا عہدِ مبارک صبحِ حکمت کی نمود
وہ چمک پائے کہ ہو محسودِ ہر اختر زمیں
سامنے آنکھوں کے پھر جائے سماں بغداد کا
ہند میں پیدا ہو پھر عبّاسیوں کی سرزمیں
محو کر دے عدل تیرا آسماں کی کج روی
کلّیات دہر کے حق میں بنے مسطر زمیں
صلح ہو ایسی ، گلے مل جائیں ناقوس و اذاں
ساتھ مسجد کے رکھے بت خانۂ آزر زمیں
نامِ شاہنشاہِ اکبر زندئہ جاوید ہے
ورنہ دامن میں لیے بیٹھی ہے سو قیصر زمیں
بادشاہوں کی عبادت ہے رعیّت پروری
ہے اسی اخلاص کے سجدے سے قائم ہر زمیں
ہے مروّت کی صدف میں گوہرِ تسخیر دل
یہ گہر وہ ہے کرے جس پر فدا کشور زمیں
حکمراں مستِ شرابِ عیش و عشرت ہو اگر
آسماں کی طرح ہوتی ہے ستم پرور زمیں
عدل ہو مالی اگر اس کا یہی فردوس ہے
ورنہ ہے مٹی کا ڈھیلا ، خاک کا پیکر زمیں
ہے گل و گلزار محنت کے عرق سے سلطنت
ہو نہ یہ پانی تو پھر سر سبز ہو کیوں کر زمیں
چاہیے پہرا دماغِ عاقبت اندیش کا
بے دری میں ہے مثالِ گنبدِ اخضر زمیں
لامکاں تک کیوں نہ جائے گی دعا اقبال کی
عرش تک پہنچی ہے جس کے شعر کی اڑ کر زمیں
خانداں تیرا رہے زیبندئہ تاج و سریر
جب تلک مثلِ قمر کھاتی رہے چکّر زمیں
مسندِ احباب رفعت سے ثریّا بوس ہو
خاک رختِ خواب ہو اعدا کا اور بستر زمیں
تیرے دشمن کو اگر شوقِ گل و گلزار ہو
باغ میں سبزے کی جا پیدا کرے نشتر زمیں
ہو اگر پنہاں تری ہیبت سے ڈر کر زیرِ خاک
مانگ کر لائے شعاعِ مہر سے خنجر زمیں
پاک ہے گردِ غرض سے آئنہ اشعار کا
جو فلک رفعت میں ہو ، لایا ہوں وہ چن کر زمیں
تھی تو پتھر ہی مگر مدحت سرا کے واسطے
ہو گئی ہے گل کی پتّی سے بھی نازک تر زمیں
خ
شمعِ زندگانی
اے شمع زندگانی کیوں جھلملا رہی ہے
شاید کہ بادِ صرصر تجھ کو بجھا رہی ہے
ہاں ہاں ذرا ٹھہر جا اس منزلِ فنا میں
بزمِ جہاں کی الفت مجھ کو ستا رہی ہے
مجھ زار و ناتواں پر لِلّٰہ اب کرم کر
کیوں نخلِ آرزو پر بجلی گرا رہی ہے

دل کا بخار کچھ تو مجھ کو نکالنے دے
گزری ہوئی کہانی اب تک رُلا رہی ہے
کیا نا امید ہو کر بزمِ جہاں سے جائوں
کیوں خاک میں ابھی سے مجھ کو ملا رہی ہے
دنیا کے یہ مناظر پیشِ نظر ابھی ہیں
مجھ کو مری تمنّا اب تک ستا رہی ہے
برباد ہو رہی ہے کشتِ مراد میری
مثلِ چنار اس کو ناحق جلا رہی ہے
ارمان و آرزو پر تجھ کو نہ رحم آیا
کیوں میری حسرتوں کو دل سے مٹا رہی ہے
اے شمع کیوں ابھی سے آنکھیں ہیں سب کی پر نم
کیا مرگِ ناگہانی تشریف لا رہی ہے
رو لیں گے بعد میرے جی بھر کے رونے والے
کیوں تو ابھی سے رو کر سب کو رُلا رہی ہے
تیری اگر خوشی ہو ، مرنے پہ میں ہوں راضی
شمعِ حیات گل ہو ، کیوں جھلملا رہی ہے۱
۱ - باقیات ص ۲۲۸
خ

چاند اور شاعر
شاعر
اک رات میرے دل میں جو کچھ آ گیا خیال
یوں چودھویں کے چاند سے میں نے کیا سوال
اے چاند تجھ سے رات کی عزت ہے ، لاج ہے
سورج کا راج دن کو ، ترا شب کو راج ہے
تو نے یہ آسمان کی محفل سجائی ہے
تو نے زمیں کو نور کی چادر اُڑھائی ہے
تو وہ دیا ہے جس سے زمانے میں نور ہے
ہے تو فلک پہ ، نور ترا دور دور ہے
پھیکی پڑی ہوئی ہے ستاروں کی روشنی
گویا کہ اس چمن پہ خزاں کی ہوا چلی
تیری چمک کے سامنے شرما گئے ہیں یہ
تیری ہوا بندھی ہے تو مرجھا گئے ہیں یہ
اس وقت تیرے سامنے سورج بھی مات ہے
دولھا ہے تو ، نجوم کی محفل برات ہے
پائی ہے چاندنی یہ کہاں سے ، بتا مجھے
یہ نور ، یہ کمال کہاں سے ملا تجھے؟
مجھ کو بھی آرزو ہے کہ ایسا کمال ہو
تیری طرح کمال مرا بے مثال ہو
روشن ہو میرے دم سے زمانہ اسی طرح
دنیا میں اپنا نام نکالوں تری طرح
حاصل کروں کمال ، بنوں چودھویں کا چاند
تو ہے فلک کا چاند ، بنوں میں زمیں کا چاند
ہر ایک کی نظر میں سمائوں اسی طرح
شہرت کے آسمان پہ چمکوں اسی طرح
چاند
میرا سوال سن کے کہا چاند نے مجھے
لے بھید اپنے نور کا کہتا ہوں میں تجھے
سورج اگر نہ ہو تو گزارا نہیں مرا
مانگا ہوا ہے نور یہ اپنا نہیں مرا
سورج کے دم سے مجھ کو یہ حاصل کمال ہے
کامل اسی کے نور سے میرا ہلال ہے
پھرتا ہوں روشنی کی تمنّا میں رات دن
رہتا ہوں میں کمال کے سودا میں رات دن
مجھ کو اڑائے پھرتی ہے خواہش کمال کی
کر پیروی جہان میں میری مثال کی
بے فائدہ نہ اپنے دنوں کو خراب کر
میری طرح تلاش کوئی آفتاب کر
کہتے ہیں جس کو علم وہ اک آفتاب ہے
یکتا ہے ، بے مثال ہے اور لاجواب ہے
ایسے کمال کی ہے تمنّا اگر تجھے
تو نور جا کے مانگ اسی آفتاب سے
ہے چاند کے کمال کو خطرہ زوال کا
رہتا ہے ہر گھڑی اسے دھڑکا زوال کا
محفوظ اس خطر سے ہنر کا کمال ہے
گھٹنے کا اس کو ڈر ہے نہ خوفِ زوال ہے
دنیا میں زندگی کا نہیں اعتبار کچھ
رہتی ہے اس چمن میں ہمیشہ بہار کچھ
انساں کو فکر چاہیے ہر دم کمال کی
’’کسبِ کمال کن کہ عزیزِ جہاں شوی‘‘
خ
جہاں تک ہو سکے نیکی کرو!
بچوں کے لیے
کہتے ہیں ایک سال نہ بارش ہوئی کہیں
گرمی سے آفتاب کی تپنے لگی زمیں
تھا آسمان پر نہ کہیں ابر کا نشاں
پانی ملا نہ جب تو ہوئیں خشک کھیتیاں
لالے پڑے تھے جان کے ہر جاندار کو
اجڑے چمن ، ترستے ترستے بہار کو
منہ تک رہی تھی خشک زمیں آسمان کا
امّید ساتھ چھوڑ چکی تھی کسان کا
بارش کی کچھ امید نہ تھی اس غریب کو
یہ حال تھا کہ جیسے کوئی سوگوار ہو
اک دن جو اپنے کھیت میں آکر کھڑا ہوا
پودوں کا حال دیکھ کے بے تاب ہو گیا
ہر بار آسماں کی طرف دیکھتا تھا وہ
بارش کے انتظار میں گھبرا رہا تھا وہ
ناگاہ ایک ابر کا ٹکڑا نظر پڑا
لاتی تھی اپنے ساتھ اڑا کر جسے ہوا
پانی کی ایک بوند نے تاکا اِدھر اُدھر
بولی وہ اس کسان کی حالت کو دیکھ کر
ویران ہو گئی ہے جو کھیتی غریب کی
ہے آسمان پر نظر اس بدنصیب کی
دل میں یہ آرزو ہے کہ اس کا بھلا کروں
یعنی برس کے کھیت کو اس کے ہرا کروں
بوندوں نے جب سنی یہ سہیلی کی گفتگو
ہنس کر دیا جواب کہ اللّہ رے آرزو
تو اک ذرا سی بوند ہے ، اتنا بڑا یہ کھیت
تیرے ذرا سے نم سے نہ ہو گا ہرا یہ کھیت
تیری بساط کیا ہے کہ اس کو ہرا کرے
ہو خود جو ہیچ ، کیا وہ کسی کا بھلا کرے
اس بوند نے مگر یہ بگڑ کر دیا جواب
بولی وہ بات جس نے کیا سب کو لاجواب
مانا کہ ایک بوند ہوں ، دریا نہیں ہوں میں
قطرہ ذرا سا ہوں ، کوئی چھینٹا نہیں ہوں میں
مانا کہ میرا نم کوئی دریا کا نم نہیں
ہمت تو میری بحر کی ہمّت سے کم نہیں
نیکی کی راہ میں کبھی ہمّت نہ ہاریے
مقدور ہو تو عمر اسی میں گذاریے
قربان اپنی جان کروں گی کسان پر
کیا لوں گی میں ٹھہر کے یہاں آسمان پر
نیکی کے کام سے کبھی رکنا نہ چاہیے
اس میں کسی کے ساتھ کی پروا نہ چاہیے
لو میں چلی، یہ کہہ کے روانہ ہوئی وہ بوند
بوندوں کی انجمن میں یگانہ ہوئی وہ بوند
ٹپ دے سے اس کی ناک پہ وہ بوند گر پڑی
سوکھی ہوئی کسان کے دل کی کلی کھلی
دیکھا سہیلیوں نے تو حیران ہو گئیں
ہمّت کے اس کمال پہ کی سب نے آفریں
بولیں کہ چاہیے نہ سہیلی کو چھوڑنا
اچھا نہیں ہے منہ کو رفاقت سے موڑنا
ساتھی کے ساتھ سب کو برسنا ضرور ہے
گر ہم نہ ساتھ دیں تو مروّت سے دور ہے
یہ کہہ کے ایک ساتھ وہ بوندیں رواں ہوئیں
چھینٹا سا بن کے کھیت کے اوپر برس گئیں
قسمت کھلی کسان کی ، بگڑی ہوئی بنی
سوکھی ہوئی غریب کی کھیتی ہری ہوئی
پھر سامنے نظر کے بندھا آس کا سماں
تھی آس آس پاس ، گیا یاس کا سماں
اجڑا ہوا جو کھیت تھا آخر ہرا ہوا
سارا یہ ایک بوند کی ہمّت کا کام تھا
دیکھی گئی نہ اس سے مصیبت کسان کی
بے تاب ہو کے کھیت پہ اس کے برس گئی
ننھّی سی بوند اور یہ ہمّت ، خدا کی شان
یہ فیض ، یہ کرم ، یہ مروّت ، خدا کی شان !۱
۱ - بیاض اعجاز ص ۳۱۰
خ
بچوں کے لیے چند نصیحتیں
کاٹ لینا ہر کٹھن منزل کا کچھ مشکل نہیں
اک ذرا انسان میں چلنے کی ہمّت چاہیے
مل نہیں سکتی نکمّوں کو زمانے میں مراد
کامیابی کی جو ہو خواہش تو محنت چاہیے
خاک محنت ہو سکے گی جب نہ ہو ہاتھوں میں زور
تندرستی کے لیے ورزش کی عادت چاہیے
خوش مزاجی سا زمانے میں کوئی جادو نہیں
ہر کوئی تحسیں کہے ، ایسی طبیعت چاہیے
ہنس کے ملنا رام کر لیتا ہے ہر انسان کو
سب سے میٹھا بولنے کی تم کو عادت چاہیے
ایک ہی اللہ کے بندے ہیں سب چھوٹے بڑے
اپنے ہم جنسوں سے دنیا میں محبت چاہیے
ہے برائی سی برائی ! کام کل پر چھوڑنا
آج سب کچھ کر کے اٹّھو گر فراغت چاہیے
جو بروں کے پاس بیٹھے گا ، برا ہو جائے گا
نیک ہونے کے لیے نیکوں کی صحبت چاہیے
ساتھ والے دیکھنا تم سے نہ بڑھ جائیں کہیں
جوش ایسا چاہیے ، ایسی حمیّت چاہیے
حکمراں ہو ، کوئی ہو اپنا ہو یا بیگانہ ہو
دی خدا نے جس کو عزّت اس کی عزّت چاہیے
دیکھ کر چلنا ، کچل جائے نہ چیونٹی راہ میں
آدمی کو بے زبانوں سے بھی الفت چاہیے
ہے اسی میں بھید عزّت کا اگر سمجھے کوئی
چھوٹے بچوّں کو بزرگوں کی اطاعت چاہیے
علم کہتے ہیں جسے ، سب سے بڑی دولت ہے یہ
ڈھونڈ لو اس کو اگر دنیا میں عزّت چاہیے
سب برا کہتے ہیں لڑنے کو ، بری عادت ہے یہ
ساتھ کے لڑکے جو ہوں ، ان سے رفاقت چاہیے
ہوں جماعت میں شرارت کرنے والے بھی اگر
دور کی ان سے فقط صاحب سلامت چاہیے
دیکھنا آپس میں پھر نفرت نہ ہو جائے کہیں
اس قدر حد سے زیادہ بھی نہ ملّت چاہیے
باپ دادوں کی بڑائی پر نہ اِترانا کہیں
سب بڑائی اپنی محنت کی بدولت چاہیے
چاہتے ہو گر کہ سب چھوٹے بڑے عزّت کریں
شرم آنکھوں میں ، نگاہوں میں مروّت چاہیے
بات اونچی ذات میں بھی کوئی اترانے کی ہے؟
آدمی کو اپنے کاموں کی شرافت چاہیے
گر کتابیں ہو گئیں میلی تو کیا پڑھنے کا لطف
کام کی چیزیں ہیں جو ، ان کی حفاظت چاہیے۱
۱ - بیاض اعجاز ص ۳۳۲
خ
گھوڑوں کی مجلس
اک روز کسی گھوڑے کے دل میں یہ سمائی
انسان مری قوم سے کرتا ہے برائی
رکھّا ہے مرے بھائیوں کو اس نے جکڑ کر
تدبیر ہو ایسی کہ ملے ان کو رہائی
میں قوم کی ذلّت نہ کبھی دیکھ سکوں گا
اک آگ سی ہے اس نے مرے جی کو لگائی
یہ ٹھان کے جنگل کے رفیقوں کو بلایا
سب آئے کہ اس بات میں تھی سب کی بھلائی
حاضر ہوئے بوڑھے بھی ، بچھیرے بھی ، جواں بھی
دیتے ہوئے انسان کی سختی کی دہائی
پہلے تو ہری گھاس سے کی ان کی تواضع
مہمانوں کو پھر بات جو تھی دل کی بتائی
اک گھوڑے کو کرسی پہ صدارت کی بٹھا کر
سب نے یہ کہا ، آپ کریں راہ نمائی
ہونے لگا گھوڑوں کا بڑی دھوم سے جلسہ
دینے لگی اس قوم کی اک شان دکھائی
کچھ دیر تو ہوتی رہیں آپس میں صلاحیں
ہر ایک نے تدبیر رہائی کی بتائی
مجلس سے اٹھا آخرِ کار ایک بچھیرا
اور اٹھ کے متانت سے زباں اپنی ہلائی
تقریر پہ سو جان سے صدقے تھی فصاحت
تھی گھوڑے کی باتوں میں قیامت کی صفائی
بولا کہ مرِی قوم میں غیرت نہیں باقی
کس طرح ہو پھر غیر کے ہاتھوں سے رہائی
جینا جو ہمارا ہے وہ ذلّت کا ہے جینا
ہم نے تو بزرگوں کی بھی عزّت ہے گنوائی
ہم گاڑیاں انسان کی کھینچیں ، یہ غضب ہے
محنت کریں ہم اور یہ کھا جائے کمائی
سردی سے رہیں ہم تو طویلوں میں ٹھٹھرتے
لیٹے یہ حویلی میں لیے گرم رضائی
گُھڑ دوڑ میں ہم اپنا بہاتے ہیں پسینہ
جو اس کی بھلائی ہے ، وہ ہے اپنی برائی
کیا کہیے مصیبت ہمیں پڑ جاتی ہے کیسی
ہو جائے جو ظالم کے قبیلوں میں لڑائی
لوہے کی لگامیں ہیں تو چمڑے کے ہیں چابک
افسوس کہ غیرت نہ مِری قوم کو آئی
روئے کوئی اس قوم کے دکھڑے کو کہاں تک
ہم سمجھے ہیں اے وائے غلامی میں بڑائی
اے قوم ! یہ اچھا نہیں ہر روز کا جلنا
زیبا ہے ہمیں قید سے انساں کی نکلنا
خ
تقریر ہوئی ختم تو بیٹھا وہ بچھیرا
ہر گھوڑے نے مجلس میں دلیلوں کو سراہا
ہر بات بچھیرے کی سراہی گئی لیکن
کچھ کہنے پہ آمادہ تھا اک اور بھی گھوڑا
لاغر تھا بہت گرچہ بڑھاپے کے سبب سے
اٹّھا کہ اسے قوم کو تھا راہ پہ لانا
بولا کہ مِرے دوست کی باتیں ہیں بہت خوب
پر جوشِ جوانی نے کیا ہے اسے اندھا
مانا کہ اسے قوم کی ذلّت نہیں بھاتی
بچّہ ہے ، ابھی اس نے زمانہ نہیں دیکھا
ہے زور دیا آپ نے انساں کے ستم پر
تقریر کو ہے خوب مثالوں سے سجایا
سختی سے ہمیں پیش وہ آتا ہے یہ مانا
سختی میں جو راحت ہو تو سختی ہے گوارا
انسان کے احسان کو سمجھا نہیں تم نے
دیتا ہے طویلوں میں تمھیں وقت پہ دانا
رہنے کو طویلوں میں سمجھتے ہو برا تم
جنگل کی رہایش میں ہے سو طرح کا کھٹکا
دن رات وہاں گھات میں رہتے ہیں درندے
پینے کا جو پانی ہے وہ اکثر نہیں ملتا
ہے قید میں انسان کی راحت ہی سراسر
ہر حال میں ہے اس کی غلامی ہمیں زیبا
دن آتے ہیں ایسے بھی کہ بارش کی کمی سے
ہو گھاس نہ پیدا تو یہ رکھتا ہے ذخیرا
یہ آپ پہنتا ہے جو کمخواب کے کپڑے
زربفت کے جھولوں سے ہے تم کو بھی سجایا
بیمار جو ہو جائو تو کرتا ہے دوا بھی
کرتا ہے ہمارے لیے نقصاں بھی گوارا
گُھڑ دوڑ کے گھوڑوں کی جو ہوتی ہے تواضع
آرام وہ حیواں کو میسر نہیں ہوتا
آرام ہیں لاکھوں ہمیں انسان کے دم سے
میرا تو شکایت پہ کبھی لب نہ کھلے گا
میں نے تو بتا دی ہے تمہیں سب کے بھلے کی
مانے جو نہ کوئی تو مجھے کچھ نہیں پروا
ان باتوں سے حیران سے کچھ رہ گئے گھوڑے
تقریر وہ کی اس نے کہ جادو تھی سراپا
سب مان گئے دور شکایت ہوئی سب کی
تھی بوڑھے کی تقریر میں تاثیر غضب کی۱
۱ - اردو کی پانچویں کتاب ص ۹۵

شہد کی مکھّی
اس پھول پہ بیٹھی کبھی اس پھول پہ بیٹھی
بتلائو تو کیا ڈھونڈتی ہے شہد کی مکھّی؟
کیوں آتی ہے ، کیا کام ہے گلزار میں اس کا
یہ بات جو سمجھائو تو سمجھیں تمہیں دانا
چہکارتے پھرتے ہیں جو گلشن میں پرندے
کیا شہد کی مکھّی کی ملاقات ہے ان سے؟
عاشق ہے یہ قمری کی کہ بلبل پہ ہے شیدا؟
یا کھینچ کے لاتا ہے اسے سیر کا چسکا؟
دل باغ کی کلیوں سے تو اٹکا نہیں اس کا؟
بھاتا ہے اسے ان کے چٹکنے کا تماشا؟
سبزے سے ہے کچھ کام کہ مطلب ہے صبا سے
یا پیار ہے گلشن کے پرندوں کی صدا سے؟
بھاتا ہے اسے پھول پہ بلبل کا چہکنا؟
قمری کا ویا سرو پہ بیٹھے ہوئے گانا؟

پیغام کوئی لاتی ہے بلبل کی زبانی؟
کہتی ہے ویا پھول کے کانوں میں کہانی؟
کیوں باغ میں آتی ہے یہ بتلائو تو جانیں
کیا لینے کو آتی ہے ؟ یہ سمجھائو تو جانیں
بے وجہ تو آخر کوئی آنا نہیں اس کا
ہشیار ہے مکھّی ، اسے غافل نہ سمجھنا
بے ُسود نہیں باغ میں اس شوق سے اڑنا
کچھ کھیل میں یہ وقت گنواتی نہیں اپنا
کرتی نہیں کچھ کام اگر عقل تمہاری
ہم تم کو بتاتے ہیں ، سنو بات ہماری
کہتے ہیں جسے شہد وہ اک طرح کا رس ہے
آوارہ اسی چیز کی خاطر یہ مگس ہے
رکھّا ہے خدا نے اسے پھولوں میں چھپا کر
مکھّی اسے لے جاتی ہے چھتّے میں اٹھا کر
ہر پھول سے یہ چوستی پھرتی ہے اسی کو
یہ کام بڑا ہے ، اسے بے ُسود نہ جانو
مکھّی یہ نہیں ہے ، کوئی نعمت ہے خدا کی
ملتا نہ ہمیں شہد ، یہ مکھّی جو نہ ہوتی
خود کھاتی ہے ، اوروں کو کھلاتی ہے یہ مکھّی
اس شہد کو پھولوں سے اڑاتی ہے یہ مکھّی
انسان کی ، یہ چیز غذا بھی ہے دوا بھی
قوّت ہے اگر اس میں تو ہے اس میں شفا بھی
رکھتے ہو اگر ہوش تو اس بات کو سمجھو
تم شہد کی مکھّی کی طرح علم کو ڈھونڈو
یہ علم بھی اک شہد ہے اور شہد بھی ایسا
دنیا میں نہیں شہد کوئی اس سے مصفّا
ہر شہد سے جو شہد ہے میٹھا ، وہ یہی ہے
کرتا ہے جو انساں کو توانا ، وہ یہی ہے
یہ عقل کے آئینے کو دیتا ہے صفائی
یہ شہد ہے انساں کی ، وہ مکھّی کی کمائی
سچ سمجھو تو انسان کی عظمت ہے اسی سے
اس خاک کے پتلے کو سنوارا ہے اسی نے
پھولوں کی طرح اپنی کتابوں کو سمجھنا
چسکا ہو اگر تم کو بھی کچھ علم کے رس کا۱
۱ - بیاضِ اعجاز ص ۳۳۸
خ
محنت
وہی لوگ پاتے ہیں عزّت زیادہ

جو کرتے ہیں دنیا میں محنت زیادہ
اسی میں ہے عزّت ، خبردار رہنا

بڑا دکھ ہے دنیا میں بے کار رہنا
اسی سے ہے آباد نگری جہاں کی

یہ دنیا میں بنیاد ہے ہر مکاں کی
بڑائی بشر کو اسی سے ملی ہے

نکمّی جو گذرے وہ کیا زندگی ہے
زمانے میں عزت ،حکومت یہی ہے

بڑی سب سے دنیا میں دولت یہی ہے
حقیقت جو محنت کی پہچانتے ہیں

اسے کیمیا سے سوا جانتے ہیں
کوئی بڑھ کے محنت سے سونا نہیں ہے

کہ اس زر کو چوری کا کھٹکا نہیں ہے
جہاں میں اگر کیمیا ہے تو یہ ہے

غریبی کے دکھ کی دوا ہے تو یہ ہے
ہری کھیتیاں جو نظر آ رہی ہیں

ہمیں شان محنت کی دکھلا رہی ہیں
نہیں کرتے دنیا میں نادان محنت

جو سمجھیں تو سونے کی ہے کان محنت
اسی سے زمانے میں دولت بڑھے گی

جو دولت بڑھے گی تو عزّت بڑھے گی
کوئی اس کو سمجھے تو اکسیر ہے یہ

بڑا بن کے رہنے کی تدبیر ہے یہ
یہ کل وہ ہے ، چلتے ہیں سب کام اسی سے

نکلتا ہے انسان کا نام اسی سے
جو محنت نہ ہوتی تجارت نہ ہوتی

کسی قوم کی شان و شوکت نہ ہوتی
سہارا ہمارا تمہارا یہی ہے

اندھیرے گھروں کا اجالا یہی ہے
بڑے کام کی چیز ہے کام کرنا

جہاں کو اسی کام سے رام کرنا
گڈریوں کو شاہنشہی اس نے دی ہے

کولمبس کو دنیا نئی اس نے دی ہے
کھڑا ہے یہ سنسار محنت کی کل پر

یہ سب کارخانہ ہے اس کل کے بل پر
بناتی ہے یہ شہر نگری ، بنوں کو

بساتی ہے اُجڑی ہوئی بستیوں کو
جو ہاتھوں سے اپنے کمایا وہ اچھا

جو ہو اپنی محنت کا پیسا وہ اچھا
مری جان ! غافل نہ محنت سے رہنا
اگر چاہتے ہو فراغت سے رہنا۱
۱ - اردو کی پانچویں کتاب ص ۵
خ
مزدور کا خواب
مسافر رات کے ، چاندی کی جیب و آستیں والے
ستارے آسماں کے جن کو کہتے ہیں زمیں والے
اٹھا کر دوش پر اپنے عروسِ شب کی محمل کو
سحر کے خوف سے اڑتے چلے جاتے تھے منزل کو
مثالِ گیسوئے شب خامشی بھی بڑھتی جاتی تھی
صدا موجوں کی لیکن ساحلِ دربنؔ سے آتی تھی
وہ غافل سو رہا تھا بستر ریگِ بیاباں پر
----------
ہوائیں چومتی آتی تھیں پہنائے سمندر کو
اڑا سکتی نہ تھیں اس کے تنِ عریاں کی چادر کو
ہوئیں آنکھیں جو اعجاز تخیّل کی تماشائی
شبِ غربت میں کی صبحِ وطن نے جلوہ آرائی
کنارِ آبِ راوی خواب نے پہنچا دیا اس کو
تماشا گاہِ طفلی کا سماں دکھلا دیا اس کو
ہوا اک بار پھر داخل وہ اس ٹوٹے ہوئے گھر میں
--------
جہاں محنت ہم آغوشِ کفایت ہو کے رہتی تھی
قناعت خانہ پروردِ محبت ہو کے رہتی تھی
جہاں چرخے کی خواب آور صدا ،پردہ تھی آہوں کا۱
۱ - بیاض اعجاز ص ۲۸۶
خ
گلِ خزاں دیدہ
خوشا وہ دن کہ میں آرائش صحنِ گلستاں تھا
خوشا وہ دن کہ میرے فرق پر تاجِ زر افشاں تھا
خوشا وہ دن کہ شوقِ جامہ زیبی تھا گلستاں میں
شمیمِ ناز سے میرا معطّر جب گریباں تھا
بہارِ جلوئہ حسن ازل تھا پردئہ گل میں
وہ جگنو تھا کہ کاشانہ فروزِ صحنِ بستاں تھا
نگاہیں بلبل و گلچیں کی بے ڈھب مجھ پہ پڑتی تھیں
بہارِ حسن تھی ، جوشِ شبابِ فتنہ ساماں تھا
صبا گہوارہ جنباں ، قصّہ گو بانگِ عنادل تھی
مرا چھوٹا سا بستر خوابِ آسائش کا ساماں تھا
فضائے لالہ و ریحان و گل پریوں کی محفل تھی
نسیمِ صبح کا جھونکا جو تھا تختِ سلیماں تھا
ترنّم ریز تھا شاخوں پہ میرے طائرِ سدرہ
چمن کا میرے دست آموز اک مرغِ غزل خواں تھا
جوابِ خطۂ کشمیر میرا کنجِ دل کش تھا
بہارِ سبزہ و گل تھی ، ہجومِ سرو و ریحاں تھا
ادھر سنبل کو تھا ناز اپنے گیسوئے مسلسل پر
ادھر نرگس کو گلشن میں غرورِ چشمِ فتّاں تھا
کلی دوشیزئہ ناکتخدا تھی ایک گلشن میں
شگوفہ جو چمن میں تھا عروسِ گل بداماں تھا
موافق مجھ سے تھی آب و ہوائے دہر اے ہمدم
صبا تھی عطر آگیں ، ابرِ رحمت گوہر افشاں تھا
نہ تھا یوں منتشر شیرازئہ جمعیّت اجزا
برنگِ بو نہ جھونکوں میںہوا کے یوں پریشاں تھا
ارم خانہ تھا مجھ کو آہ ، کنجِ دل نشیں میرا
زمیں پر یوں نہ سیلی خوردئہ ریگ بیاباں تھا
نہ یوں الجھے ہوئے تھے خارِ صحرا میرے دامن سے
نہ یوں ڈوبا ہوا خوں میں ہر اک تارِ گریباں تھا
گلِ خنداں تھا میں بھی باغِ عالم کے مرقّعے میں
نہ میں حسرت کا پتلا تھا نہ میں تصویرِ حرماں تھا
نہ یوں نالہ کشِ بیتابیِ دل تھا بیاباں میں
نہ یوں شکوہ طرازِ گردشِ آشوبِ دوراں تھا
کہاں لائی اڑا کر آہ تو بادِ خزاں مجھ کو
کہیں خارِ بیاباں تھے ، کہیں غولِ بیاباں تھا
یہ ہے افسانہ کل کا ، کیا کہوں اے ہمنشیں تجھ سے
چمن میرا وطن تھا ، میرا کاشانہ گلستاں تھا
بہارِ عالمِ نیرنگ تھی ہر پنکھڑی میری
نہ تھا معلوم رنگِ انقلابِ دہر پنہاں تھا
حقیقت کھل گئی ، دورِ خزاں آیا جو گلشن میں
نہ تھا غازہ رخِ گل رنگ پر ، خونِ شہیداں تھا
مرا حُسنِ تعّیش سوز تھا رقصِ شرر گویا
چمن میں میں گلِ شمعِ سرِ گورِ غریباں تھا
طلسمِ بے ثباتِ دہر تھا رنگِ بقا میرا
بساطِ گوشئہ مرقد مری ہستی کا میداں تھا
تحیّرزا تھا منظر آہ ، اک اک باغ ہستی کا
وجودِ عالمِ امکاں مگر خوابِ پریشاں تھا۱
۱- نوادر اقبال ص ۲۱۸
خ
عیشِ جوانی
اے شبابِ رفتہ اے آرامِ جانِ بے قرار
کتنے دلکش ، آہ ظالم ، تھے ترے لیل و نہار
ہائے وہ دن ، موجزن تھے دل میں جب ارمانِ وصل
ہائے وہ راتیں کہ تھی جب صحبتِ بوس و کنار
اف وہ رسوائی کا عالم جب دلِ آوارہ کو
تیر و نشتر سے تھے بڑھ کر پندِ ناصح ، ناگوار
کچھ عجب تسکیں فزا تھے اُف وہ ایّامِ نشاط
جوش پر اپنی جوانی کی تھی جب فصلِ بہار
ہلکی ہلکی بام پر نکھری ہوئی وہ چاندنی
ٹھنڈی ٹھنڈی روح افزا وہ نسیمِ خوشگوار
دل میں ارمانوں کا وہ مجمع ، وہ بزمِ آرزو
وہ تپاکِ قلب سے ’’اُف اُف‘‘ زباں پر بار بار
وہ محبت کے مزے ، وہ لطفِ شب ہائے وصال
چاندنی راتوں کا وہ منظر ، وہ پھولوں کی بہار
بام پر اک ماہ سیما سے وہ سامانِ وصال
اک پری وش سے وہ ذوقِ لذّتِ بوس و کنار
وہ نگاہِ ناز سرمستِ میٔ ریعانِ حسن
نیم باز آنکھوں میں وہ خوابِ جوانی کا خمار
ساعدِ سیمیں میں پھولوں کے وہ گجرے خوش نما
بھینی بھینی گردنِ نازک میں بیلے کی بہار
ہلکا ہلکا اک دوپٹّا صندلی زیبِ بدن
دوشِ نازک پر نزاکت سے وہ آنچل ناگوار
رخ پہ بل کھائے ہوئے وہ آہ ، گیسوئے دراز
بکھری بکھری گورے گالوں پر وہ زلفِ مشکبار
نیچی نیچی آہ وہ نظریں ، وہ اندازِ حجاب
نرگسِ مستانہ میں وہ سرمۂ دنبالہ دار
ہلکی ہلکی پان کی سرخی لبِ گلرنگ پر
وہ حنائی ہاتھ جن سے پنجۂ گل شرمسار
نشۂ جوشِ جوانی کی وہ مستانہ امنگ
جس طرح ہو کوئی سرمستِ ادا مستِ خمار
گل سے رخساروں پہ قطرے یوں پسینے کے عیاں
جس طرح وقتِ سحر پھولوں پہ شبنم آشکار
ہائے وہ الّھڑ پنے کے دن ، جوانی کا وہ سِن
عنفوانِ حسن کا کم کم وہ سینے پر ابھار
بام پر وہ چاندنی میں شب کو خلوت کے مزے
لطفِ یکجائی کے ساماں ، لذّتِ بوس و کنار
بھینی بھینی عطر میں ڈوبی ہوئی بادِ نسیم
ٹھنڈی ٹھنڈی چاند کی وہ آہ کرنیں خوشگوار
میری جانب سے وہ پیہم عرضِ شرحِ آرزو
داستانِ عشق رودادِ دلِ امیدوار
ضّدِ ہم آغوشی ، شوقِ نیم جامہ کو اِدھر
اور اُدھر محوِ تغافل نازِ حسنِ پردہ دار
وصل میں لب پر اِدھر عذرِ نزاکت کا گلہ
اضطرابِ دل سے یاں شکوہ زباں پر بار بار
مسکرا کر منہ چھپا لینا اُدھر زیرِ نقاب
اور ادھر ذوقِ تماشا کو نگاہیں بے قرار
گوری گوری گردنِ نازک میں فرطِ شوق سے
ڈال دینا بڑھ کے باہیں وہ مرا بے اختیار
وہ دلوں میں آہ اک پیکانِ الفت کی خلش
عشق کے اک ناوکِ دل جُو سے دو سینے فگار
وہ تبسم ہائے پنہاں ، وہ نگاہ شرمگیں
نیچی نظروں سے چرا لینا وہ دل بے اختیار
ہائے وہ شب بھر شرابِ وصل کی سرمستیاں
صبح کو آنکھوں میں کم کم خوابِ نوشیں کا خمار
پھیکا پھیکا لب پہ وہ بد رنگ لاکھا پان کا
نیلے نیلے رخ پہ بوسوں کے نشاں وہ آشکار
دوش پر بکھرے ہوئے وہ لمبے لمبے سر کے بال
ابھرے سینے پر وہ کملائے ہوئے پھولوں کے ہار
آہ وہ جھیپنی ہوئی نظریں ، وہ شرمیلی ادا
شب کی کیفیّت کا جن سے رازِ پنہاں آشکار
حسرت اے شامِ جوانی ، آہ اے شامِ وصال
تیرا دورانِ طرب تھا کس قدر نا پایدار
آہ اے دورِ نشاطِ ہستیٔ موہوم ، آہ
کتنے سرگرمِ تگ و دو تھے ترے لیل و نہار
برق کی چشمک تھی ایّام جوانی کی نمود
وصل کی سرگرمیاں تھیں شوخیِ رقص و شرار
لطفِ یکجائی کے ساماں کچھ دنوں باہم رہے
اور نکالی مل کے چندے حسرتِ بوس و کنار
خوش نہ آئی چرخ کو یہ صحبتِ لطف و نشاط
رنگ لایا آہ آخر آسمانِ دُوں شعار
انقلابِ دہر نے لی ایسی کروٹ ناگہاں
وہ بساطِ عیش برہم ہو گئی پایانِ کار
اٹھ گئے وہ آہ اگلے لطف و صحبت کے مزے
صبر رخصت ہو گیا ، جاتا رہا دل سے قرار
وہ دلِ زندہ کبھی تھا آہ جو جانِ نشاط
اس کا اب ہونے لگا افسوس مُردوں میں شمار
دردِ دل کی طرح ان آنکھوں میں اب شامِ فراق
پھیلتی جاتی ہے بڑھ کر ظلمتِ شب ہائے تار
اب کہاں ذوقِ ہم آغوشی کے وہ اگلے مزے
ناتوانی سے ہے کروٹ کر بھی بدلنا ناگوار
کس پہ تم بھولے ہوئے ہو آہ یارانِ نشاط
ہونے والا ایک دن ہے عیشِ دنیا کا فشار
خندئہ گل ہے مگر ہنگامۂ لطف و طرب
چار دن کی آہ مہماں ہے جوانی کی بہار۱
۱ - ابتدائی کلام ِاقبال ص ۸۳
خ
عورت
چاند کی لے کر گولائی ، سانپ کا پیچ اور خم
گھاس کی پتّی کی ہلکی تھر تھراہٹ بیش و کم
بیدِ مجنوں کی نزاکت ، بیل کے بل کی کجی
بانکپن طائوس کا ، نرمی گلِ کہسار کی
پیارے پیارے ، بھولے بھالے ، دیدئہ آہوئے چیں
جن پہ ہو رقصِ شعاعِ نورِ خورشیدِ جبیں
ابر سے آنسو، صبا سے بے وفائی لے اڑا
سہم خرگوش اور چیتے سے لیا جور و جفا
سرد مہری یخ نے دی ، سختی ملی الماس سے
تا بتانِ آہنیں دل کا دلِ سنگیں بنے
طوطیِ گلزار نے رنگینیِ منقار دی
قمریِ بے زار نے شیرینیِ گفتار دی
روزِ اوّل سے ودیعت نور کا جوبن ہوا
پّرِ بلبل کا اضافہ اس پہ ہلکا پن ہوا
گُندھ گندھا کر یہ مصالحہ جب اکٹھا ہو گیا
دستِ قدرت نے بنایا ایک ڈھانچا نور کا
آگ کا جوبن ہوا ، اور نور کی صورت بنی
شکل عورت کی بنی، کیا موہنی مورت بنی۱
۱ - ابتدائی کلام اقبال ص ۲۹۱
۲ - مصالحہ ہی لکھا جائے کہ اقبال اس لفظ کو اسی طرح لکھتے تھے -صحیح لفظ ’’مسالا‘‘
خ

قطرئہ اشک
پانی برس کے دھوتا ہے جب چہرئہ زمیں
پھٹتا ہے آسمان پہ پردہ سحاب کا
اس پردے سے نکلتا ہے مہرِ جہاں فروز
نقشہ دکھاتا ہے صدفِ دُرِّ ناب کا
قطرے فضا میں چند معلّق ہیں آب کے
پڑتا ہے ان پہ عکس رخِ آفتاب کا
قوسِ قزح کی چادرِ رنگیں کو اوڑھ کر
پیرِ فلک دکھاتا ہے عالم شباب کا
فرطِ طرب سے محفلِ قدرت ہے جھومتی
چھاتا ہے کائنات پہ نشّہ شراب کا
سب مست ہو کے گرتے ہیں آغوشِ خواب میں
کرتے ہیں یعنی سجدہ خدا کی جناب میں
پہلو سے اٹّھے دردِ محبت کی جب گھٹا
ہوتا یہی ہے حال دلِ داغدار کا
بادل امڈ امڈ کے برستے ہیں آنکھ سے
دُھلتا ہے چہرہ سینۂ ہنگامہ زار کا
رہتا ہے ایک قطرہ معلّق جو آنکھ میں
پڑتا ہے اس میں عکس کسی شہسوار کا
آتا ہے حسنِ قوسِ قزح جھوم جھوم کے
بندھتا ہے چرخِ دل پہ سماں خلد زار کا
آئینہ وار سینہ چمکتا ہے نور سے
جلوہ دکھاتا ہے فلکِ زرنگار کا
کرتی ہیں دل میں رقص تمنّا کی شوخیاں
ہوتی ہیں آشکار محبت کی خوبیاں
اے طفلِ اشک! اے مری الفت کی آبرو
اے وہ کہ جس سے پایہ ہے برتر مجاز کا
مدّت سے بزمِ عشق ہے ویراں پڑی ہوئی
شعلہ بجھا ہے مشعلِ سوز و گداز کا
وقفِ خزاں ہوا چمنستانِ آبرو
نغمہ نہیں وہ بلبلِ ہنگامہ ساز کا
وہ دل کہ جس میں جلوے تڑپتے تھے رات دن
ہر تار اب شکستہ ہے اس دل کے ساز کا
ظلمت سرا بنی ہے شبستانِ آرزو
جلوہ نہیں جو دل میں مرے جلوہ ساز کا
آباد آ کے کر مری چشمِ خیال کو
میں تجھ سے دیکھتا ہوں کسی کے جمال کو ۱
۱ - بیاضِ محمد انور : بحوالہ گیان چند ، اقبالیات جولائی - ستمبر ۱۹۸۷ء
خ
نظم بے عنوان
کیا شرارہ چمک اٹّھا مری خاکستر میں
سوز سے اپنے نفس آپ جلا جاتا ہے
کچھ متانت سی ہوئی مری روش میں پیدا
دل سے وہ نقش لڑکپن کا مٹا جاتا ہے
لطف ملتا نہیں کچھ اگلے تماشائوں میں
اب کوئی اور جنوں دل کو ہوا جاتا ہے
جس طرح نیند کی لذّت میں کھلونا رنگین
طفلکِ خفتہ کے ہاتھوں سے گرا جاتا ہے
آگیا خوابِ محبت میں یونہی ہوش مجھے
ہو گئے کھیل لڑکپن کے فراموش مجھے۱
۱- بیاض اوّل، ص ۱۹
خ

 

 


گمشدہ دستانہ
(نامکمل نظم)
وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کیا اٹھا لیا تونے
----------------
اتار کر ابھی رکھا تھا میز پر ہم نے
نظر بچا کے ہماری چھپا لیا تو نے۱

۱ - بیاض اوّل ،ص ۳۷
خ


نظموں کے جزوی متروکات

ہمالہ
بند ۔۸
وہ اچھالی پنجۂ قدرت نے گیند اک نور کی
جھانکتا ہے وہ درختوں کے پرے خورشید بھی
دل لگی کرتی ہے ہر پتے سے جس کی روشنی
میرے کانوں میں صدا آئی مگر کچھ اور ہی
دل کی تاریکی میں وہ خورشیدِ جاں افروز ہے
شمعِ ہستی جس کی کرنوں سے ضیا اندوز ہے
بند۔ ۹
وہ اصولِ حق نمائے نفیِ ہستی کی صدا
روح کو ملتی ہے جس سے لذّتِ آبِ بقا
جس سے پردہ روئے قانونِ محبت کا اٹھا
جس نے انساں کو دیا رازِ حقیقت کا پتا
تیرے دامن کی ہوائوں سے اُگا تھا یہ شجر
بیخ جس کی ہند میں ہے ، چین و جاپاں میں ثمر
بند ۔۱۰
تو تو ہے مدت سے اپنی سرزمیں کا آشنا
کچھ بتا ان راز دانانِ حقیقت کا پتا
تیری خاموشی میں ہے عہدِ سلف کا ماجرا
تیرے ہر ذرّے میں ہے کوہِ المپس کی فضا
ایک جلوہ تھا کلیمِ طورِ سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراسر چشمِ بینا کے لیے
بند ۔۱۲
آنکھ اے دل کھول اور نظّارئہ قدرت کو دیکھ
اس فضا کو ، اس گل و گلزار کی رنگت کو دیکھ
اپنی پستی دیکھ اور اس کوہ کی رفعت کو دیکھ
اس خموشی میں سرورِ گوشۂ عزلت کو دیکھ
شاہدِ مطلب ملے جس سے، وہ ساماں ہے یہی
دردِ دل جاتا رہے جس سے ،وہ درماں ہے یہی۱
۱- مخزن اپریل ۱۹۰۱ء
خ
گلِ رنگیں
بند ۔ ۲
تیرے حسنِ گلشن آرا پر جھُکا جاتا ہے دل
لذّتِ نظّارہ سے بے خود ہوا جاتا ہے دل
پر لگا کر صورتِ بلبل اڑا جاتا ہے دل
حلقہ ہائے موجِ نکہت میں پھنسا جاتا ہے دل
بند۔ ۴
آہ اے گل ! تجھ میں بھی جوہر وہی مستور ہے
جو دلِ انساں میں مضمر مثلِ موج نور ہے
میری صورت تو بھی اک برگِ ریاضِ طور ہے
ہائے پھر مجھ سے جدائی کیوں تجھے منظور ہے
دل میں کچھ آتا ہے لیکن منہ سے کہہ سکتا نہیں
اور تکلیفِ خموشی کو بھی سہہ سکتا نہیں
بند ۔ ۵
بھا گئے انداز تیرے اے گلِ رعنا مجھے
مار ڈالے گا خوشی سے جھومنا تیرا مجھے
کیوں نہیں ملتی یہ تسکینِ قرار افزا مجھے
ہاں سکھا دے کچھ سبق اپنی خموشی کا مجھے
باغِ ہستی میں پریشاں مثلِ بو رہتا ہوں میں
زخمیِ شمشیرِ ذوقِ جستجو رہتا ہوں میں۱
بند ۔ ۳ : آخری شعر
آشنائے سوزِ فریادِ دلِ مہجور ہوں
پھول ہوں میں بھی مگر اپنے چمن سے دور ہوں
۱ ۔ مخزن ، مئی ۱۹۰۱ء
خ
عہدِ طفلی
بند۔ ۱
ہاں اٹھا اے ساحرِ اَیّام ! یہ جادو ذرا
ابلقِ گردوں نہ ہو محوِ رمِ آہو ذرا
ہائے پھر آجا کہیں سے عمرِ رفتہ ! تو ذرا
لا وہ نظّارا پیٔ چشمِ تماشا جوُ ذرا
خون رلواتے ہیں ایّامِ جوانی کے مزے
لا کہیں سے پھر وہی ایّامِ طفلی کے مزے
بند۔ ۲
ہائے وہ عالم کہ عالم گیر تھی اپنی ادا
غیرتِ صد فصلِ گل تھی اپنے گلشن کی ہوا
مکتبِ طفلی میں غیر از درسِ آزادی نہ تھا
زنگِ افکارِ جہاں سے شیشۂ دل تھا صفا
مایہ دارِ صد مسرّت اک تبسّم تھا مرا
گوشِ دل لگ جائیں جس پر وہ تکلّم تھا مرا
بند۔ ۵
آہ ! اے دنیا نمک پاشِ خراشِ دل ہے تو
جس کے ہر دانے میں سو بجلی ہے ،وہ حاصل ہے تو
جو مسافر سے پرے رہتی ہے، وہ منزل ہے تو
جس کی لیلیٰ مایۂ وحشت ہو ، وہ محمل ہے تو
تیرے ہاتھوں کوئی جویائے میٔ تسکیں نہ ہو
ایمن از مارِ زمینِ گلستاں گل چیں نہ ہو۱
۱ - مخزن : جولائی ۱۹۰۱ء
خ
مرزا غالب
بند۔ ۲
معجزِ کلکِ تصور ہے ویا دیواں ہے یہ
یا کوئی تفسیرِ رمزِ فطرتِ انساں ہے یہ
نازشِ موسیٰ کلامی ہائے ہندوستاں ہے یہ
نورِ معنی سے دل افروزِ سخنداناں ہے یہ
’’نقش فریادی ہے تیری شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا‘‘۱
۱ - مخزن ستمبر ۱۹۰۱ء ، پانچویں مصرع میں اقبال نے ادنیٰ سا تصرف کیا ہے
خ
ابرِ کوہسار
بند۔ ۳
دل لگی کوہ کے چشموں سے مجھے بھاتی ہے
زندگی اپنی اسی طرح گزر جاتی ہے
بند ۔۴
غنچۂ گل مرے سائے سے چٹک جاتا ہے
اخترِ قسمتِ گلزار چمک جاتا ہے
میرا ہر قطرہ گلستاں پہ پھڑک جاتا ہے
دلِ بلبل کی طرح گل سے اٹک جاتا ہے
بند۔ ۶
ہے مجھے دامنِ کہسار میں سننے کا مزا
نغمۂ دخترِ دوشیزئہ دہقاں کی صدا
وہ سرِ کوہ سے تھم تھم کے اترنا اس کا
حشر ڈھاتی ہے یہ آہستہ خرامی کی ادا
سر پہ وہ دودھ کی ٹھلیا کو اٹھاتے آنا
اور وہ تھم تھم کے اترتے ہوئے گاتے آنا
بند۔ ۷
قدم اپنا جو سوئے شہر و دیار اٹھتا ہے
شیشۂ خاطرِ محزوں سے غبار اٹھتا ہے
کوئی کہتا ہے کہ وہ ابرِ بہار اٹھتا ہے
اور کوئی جوشِ طرب میں یہ پکار اٹھتا ہے
’’تند و پر شور و سیہ مست ز کہسار آمد
مے کشاں مژدہ کہ ابر آمد و بسیار آمد‘‘
بند۔ ۸
میری عادت میں ہے اک شور مچاتے آنا
سرِ کہسار سے طنبور بجاتے آنا
چھیڑ سے باغ کی کلیوں کو ہنساتے آنا
شکوہ ہائے ستمِ مہر مٹاتے آنا
توسنِ باد پہ اڑتا ہوا آتا ہوں میں
گرمیِ مہر کے کشتوں کا مسیحا ہوں میں
بند۔ ۹
وہ ضیا گسترِ عالم ، وہ عروسِ زیبا
نام انسان کی بولی میں قمر ہے جس کا
اٹھ گیا موجِ ہوا سے کبھی دامن جو مرا
ہو گیا عارضِ خاتونِ فلک بے پردا
نظر آتے ہی مگر پردہ نشیں چھپتے ہیں
روئے تاباں کی جھلک دے کے حسیں چھپتے ہیں
بند۔ ۱۰
کی ذرا دست درازی جو ہوا نے مجھ پر
چاکِ دامن سے دمکتے نظر آئے اختر
مجھ سے چلنے میں نہ ہو گا کوئی غافل بڑھ کر
گر پڑے ہیں مرے دامن کی گرہ کھل کے گہر
مقصدِ ہر صدفِ قلزم زخّار ہوں میں
ابرِ رحمت ہوں ، گہردار ، گہربار ہوں میں۱
۱ - مخزن نومبر ۱۹۰۱ء
خ
ایک مکڑا اور مکھّی
شعر۔ ۳
بڑھ کر کوئی شے ملنے ملانے سے نہیں ہے
ہو یہ بھی نہ دنیا میں تو کس کام کا جینا
شعر۔ ۵
ہر طرح سے تیار ہوں خدمت کو تمہاری
اوروں کی طرح مجھ کو دکھاوا نہیں آتا
شعر۔ ۱۲
کیجئے یہیں آرام کہ یہ آپ کا گھر ہے
اب وقت ہے کھانے کا ، یہیں کھائیے کھانا
شعر۔ ۱۳
ڈرتا ہوں کہ دشمن کہیں بیمار نہ ہو جائیں
رہ جائیں نہ پر تھک کے ، مجھے ہے یہی کھٹکا
شعر۔ ۲۰
ان باتوں سے قابو میں نہ آئے گی یہ مکھّی
اب اور کوئی چاہیے دینا اسے چکما
شعر۔ ۲۵
پہنائی ہے کیا آپ کو پوشاک سنہری
پر آپ کے چٹّے ہیں کہ چاندی کا ہے گہنا
شعر۔ ۳۱
لڑکو! مرے قصّے کو جو دانا ہو تو سمجھو!
مکھّی کی طرح ہو نہ کہیں حال تمہارا
شعر۔ ۳۲
پھنس جاتے ہیں ، جو سنتے ہیں تعریف کی باتیں
لوگوں کی خوشامد پہ کبھی کان نہ دھرنا۱
۱ - اردو کی پانچویں کتاب ص ۵۳ :(۱۹۰۵ئ)
خ
ایک پہاڑ اور گلہری
پہاڑ
ذرا سے قد پہ تجھے چاہیے نہ اِترانا
کہ میرے سامنے تیرا گھمنڈ ہے بے جا
مری طفیل سے پانی ملا ہے دریا کو
دبائے بیٹھا ہوں دامن میں دشت و صحرا کو
فلک کی شان سے آنکھیں ملائے بیٹھا ہوں
بَنوں کو پیٹھ پہ اپنی اٹھائے بیٹھا ہوں
اسے جو چومتی ہیں اٹھ کے چوٹیاں میری
بلائیں لیتا ہے جھک جھک کے آسماں میری
جو برف ہے مرے سر پر بدن پہ سبزی ہے
ہری قمیص پہ گویا سفید پگڑی ہے
بڑا پہاڑ ہوں میں ، شان ہے بڑی میری
کسی سے ہو نہیں سکتی برابری میری
گلہری
ذرا سی بات ہے ، انصاف سے مگر کہنا
یہ زندگی ہے کوئی اس طرح پڑے رہنا
قدم نہ اٹّھے تو جینا ہے موت سے بدتر
ہزار عیب سے یہ ایک عیب ہے بڑھ کر
قلم بنا کے نہ لاتا اگر مری دُم کا
ہنر کو اپنے مصور نہ پھر دکھا سکتا
جہاں کے باغ کی گویا سنگھار ہے ہر چیز
کہ اپنی اپنی جگہ شاندار ہے ہر چیز
نہیں کسی کو حقارت سے دیکھنا اچھّا
یہ بات جس نے سمجھ لی وہی رہا اچھّا
پہاڑ سن کے گلہری کی بات شرمایا
مثل ہے وہ کہ بڑے بول کا ہے سر نیچا۱
۱ - اردو کی چھٹی کتاب (۱۹۰۴ئ)
خ
ایک گائے اور بکری
جن کے پانی میں وہ صفائی تھی
نظر آتے تھے تہ کے کنکر بھی
کیا کہوں میں اگا تھا کیا سبزہ
کوئی مخمل کا فرش تھا سبزہ
بس چلے تو کہیں نکل جائوں
دودھ مکھّن سے اس کو ترسائوں
ہم بھی آخر خدا کے ہیں بندے
روز کے ناز اٹھ نہیں سکتے
یہ غلامی ہمیں نہیں بھاتی
میں تو اس قید سے ہوں گھبراتی
یوں ہمیں قید میں جو رکھتا ہے
ہم نے کیا جانے کیا بگاڑا ہے
اپنا غصّہ کبھی نکالوں گی
دُم کے چابک سے مار ڈالوں گی
مجھ سے کرتا ہے یہ مؤا اَن بَن
توڑ ڈالوں گی دودھ کے برتن
تُمہی انصاف سے ذرا کہنا
آدمی ہے کہ ظلم کا پتلا
اس شکایت سے منہ کو بند کرو
ٹیڑھا رستا نہ تم پسند کرو
رہنے سہنے کو ہے مکاں ایسا
خوف سردی کا ہے نہ گرمی کا
اس کے ہوتے خطر نہیں ہم کو
شیر چیتے کا ڈر نہیں ہم کو۱
۱ - اردو کی چھٹی کتاب (۱۹۰۴ئ) ص ۱۳۱
خ
بچّے کی دعا
میری خوشبو سے معطر ہو زمانہ سارا
بن کے بلبل ہو مرے حسن پہ دنیا شیدا
علم دنیا کے چمن میں ہو اگر گل کی طرح
میں چہکتا رہوں اس پھول پہ بلبل کی طرح
دکھ اٹھائے مرے ہاتھوں سے نہ جاندار کوئی
اے خدا عمر اسی طرح بسر ہو میری
دکھ بھی آ جائے تو ہو دل نہ پریشاں میرا
شکر ہر حال میں ہو میری زباں پر تیرا۱
۱ - اردو کی چھٹی کتاب ص ۵۸
خ
ہمدردی
بلبل
آنکھوں سے ٹپک رہے تھے آنسو
کہتا تھا کہ ہائے اب کروں کیا
پھیلی ہے یہ رات کی سیاسی
رستا نہیں گھونسلے کا ملتا
خورشید کے ڈوبنے سے پہلے
گھر کو مجھے چاہیے تھا جانا
بچے مرے دیر سے ہیں بھوکے
دے گا انہیں کون جا کے دانا
مر جائیں نہ وہ غریب ڈر کر
گر جائیں نہ گھونسلے سے باہر
جگنو
روشن ہیں جو پر مرے تو مجھ کو
آسان ہے راہ کا دکھانا
اوروں کے جو کام میں نہ آئوں
کس کام کا پھر مرا ہے جینا
بلبل کو اڑا یہ کہہ کے جگنو
لے کر اسے گھونسلے میں آیا۱
۱ - اردو کی پانچویں کتاب (۱۹۰۵ئ) ص ۵۸
خ
ماں کا خواب
کوئی اس سمے کا بیاں کیا کرے
اندھیرا ، خموشی بغل گیر تھے
سیاہی کا نقشہ تھا ایسا جما
اجالا کہیں نام کو بھی نہ تھا
ستارے فلک پر چمکتے نہ تھے
کہ ظلمت کے ڈر سے تھے سہمے ہوئے
یکایک دکھائی دیا چاندنا
ہوا جس سے کچھ کچھ مجھے حوصلا
بڑی دور تھی مجھ سے یہ روشنی
مگر رفتہ رفتہ قریب آ گئی
کہوں کیا جماعت وہ بچوں کی تھی
کہ معصومیت چلتی پھرتی ہوئی
جدائی کے صدمے سہوں کس طرح
جو گزری ہے مجھ پر کہوں کس طرح
پریشاں ترے غم میں رہتا ہے دل
عجب طرح کا رنج سہتا ہے دل
اجل سے بھی بدتر ہے جینا مرا
لٹا دن دہاڑے خزینا مرا۱
۱ - اردو کی پانچویں کتاب ص ۳۵
خ
پرندے کی فریاد
وہ ساتھ سب کے اڑنا ، وہ سیر آسماں کی
وہ باغ کی بہاریں ، وہ سب کا مل کے گانا
پتّوں کا ٹہنیوں پر وہ جھومنا خوشی میں
ٹھنڈی ہوا کے پیچھے وہ تالیاں بجانا
تڑپا رہی ہے مجھ کو رہ رہ کے یاد اس کی
تقدیر میں لکھا تھا پنجرے کا آب و دانا
خ
باغوں میں بسنے والے خوشیاں منا رہے ہیں
میں دل جلا اکیلا دکھ میں کراہتا ہوں
ارمان ہے یہ جی میں ، اڑ کر چمن کو جائوں
ٹہنی پہ گل کی بیٹھوں ، آزاد ہو کے گائوں
بیری کی شاخ پر ہو ویسا ہی پھر بسیرا
اس اجڑے گھونسلے کو پھر جا کے میںبسائوں
چگتا پھروں چمن میں دانے ذرا ذرا سے
ساتھی جو ہیں پرانے ، ان سے ملوں ملائوں
پھر دن پھریں ہمارے ، پھر سیر ہو وطن کی
اڑتے پھریں خوشی سے ، کھائیں ہوا چمن کی
آزاد جس نے رہ کر ، دن اپنے ہوں گزارے
اس کو بھلا خبر کیا ، یہ قید کیا بلا ہے۱
۱ - مخزن ، فروری ۱۹۰۷ء
خفتگانِ خاک سے استفسار
(۱)
کھیت سے آتا ہے دہقاں منہ میں کچھ گاتا ہوا
پائے گرد آلود دیتے ہیں مسافت کا پتا
کام دھندا ہو چکا اب نیند ہے ، آرام ہے
ہائے وہ آغازِ محنت جس کا یہ انجام ہے
رات کی آمد ہے ، مرغانِ ہوا خاموش ہیں
ابتدا و انتہا آپس میں ہم آغوش ہیں
شورشِ گفتارِ انساں کی صدا آتی نہیں
وہ صدائے نغمۂ گوش آشنا آتی نہیں
(۲)
اے عدم کے رہنے والو تم جو یوں خاموش ہو
مے وہ کیسی ہے ؟ نشے میں جس کے تم بے ہوش ہو
وہ ولایت بھی ہمارے دیس کی صورت ہے کیا
شب وہاں کی کیا ہے ، صبح و شام کی رنگت ہے کیا؟
دل میں ہوتے ہیں اسی صورت سے پیدا ولولے
اس ولایت میں بھی کیا مجبور کہتے ہیں اسے
واں بھی آزارِ غریبی سے کبھی روتے ہیں کیا
اس ولایت میں بھی دل ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں کیا
یہ خوشامد اس ولایت کا بھی کیا دستور ہے؟
واں بھی کیا سنگِ ریا سے شیشۂ دل چور ہے
واں کی عزّت بھی ، حکومت بھی ، حباب آسا ہے کیا؟
واں بھی یہ دولت ہی پیمانہ شرافت کا ہے کیا
آہ اس کشور میں تو جوہر کی عزّت کچھ نہیں
واں کی نگری میں بھی اس موتی کی قیمت کچھ نہیں؟
خرمنِ دہقاں کو ہے بجلی کا ڈر ایسا ہی کیا؟
اس جہاں میں ہے تبسّم پرُ خطر ایسا ہی کیا؟
(۳)
اس جدائی میں نہفتہ وصل کا ساماں ہے کیا
چشم بستہ سرمۂ گوہر پیٔ انساں ہے کیا
اس نگر کی طرح کیا واں بھی ہے رونا موت کا
کیا وہاں کی زندگی کو بھی ہے کھٹکا موت کا؟
یاں تو چلمن کی جھلک سے اور بڑھ جاتا ہے شوق
کیا وہاں پر جلوئہ بے پردہ دکھلاتا ہے شوق؟
حسن و خوبی ہو کے بے پردہ نظر آتے ہیں کیا
اس جہاں میں عشق کے ارماں نکل جاتے ہیں کیا؟
بے نشاں ہے جس کی ہستی ، وہ اسی بستی میں ہے
جس کو کہتے ہیں بلندی ، وہ اسی پستی میں ہے
ہم جسے کہتے ہیں ہستی ، ہے وہ کیا تفسیرِ حسن؟
ہے صداقت بھی ، سعادت بھی وہاں تصویرِ حسن؟۱
۱ - مخزن فروری ۱۹۰۲ء ، بیاض اعجاز ص ۲۴۸
خ
شمع و پروانہ
وہ بات تجھ میں کیا ہے کہ یہ بے قرار ہے
جاں در ہوائے لذّتِ خوابِ مزار ہے
بے اختیار سوز سے تیرے بھڑک اٹھا
قسمت کا اپنی بن کے ستارہ چمک اٹھا
تھوڑی سی روشنی پہ فدا ہو رہا ہے یہ
اک نور ہے کہ جس میں فنا ہو رہا ہے یہ
پروانہ کیا ہے ، اک دلِ ایذا طلب ہے یہ
عینِ وصال و سوزِ جدائی غضب ہے یہ
۱ - مخزن ، اپریل ۱۹۰۲ء
عقل و دل
خضر سے چھپ کے مر رہا ہوں میں
تشنہ کامِ میٔ فنا ہوں میں
ہم کلامی ہے غیریت کی دلیل
خامشی پر مٹا ہوا ہوں میں
کانپ اٹھتا ہوں ذکرِ مرہم پر
وہ دلِ درد آشنا ہوں میں
تنکے چن چن کے باغِ الفت کے
آشیانہ بنا رہا ہوں میں
گلِ پژمردئہ چمن ہوں مگر
رونقِ خانۂ صبا ہوں میں
کارواں سے نکل گیا آگے
مثلِ آوازئہ درا ہوں میں
دستِ واعظ سے آج بن کے نماز
کس ادا سے قضا ہوا ہوں میں
مجھ سے بیزار ہے دلِ زاہد
دیدئہ حور کی حیا ہوں میں
ہے زباں مائلِ ترانۂ شوق
سننے والے کو دیکھتا ہوں میں
میں نے مانا کہ بے عمل ہوں مگر
رمزِ وحدت سے آشنا ہوں میں
پردئہ میم میں رہے کوئی
اس بھلاوے کو جانتا ہوں میں
سب کسی کا کرم ہے یہ ورنہ
کیا مرا شوق ، اور کیا ہوں میں
میں کسی کو برا کہوں ، توبہ
ساری دنیا سے خود برا ہوں میں
جام ٹوٹا ہوا ہوں میں لیکن
میٔ حق سے بھرا ہوا ہوں میں
ایک دانے پہ ہے نظر تیری
اور خرمن کو دیکھتا ہوں میں
تو جدائی پہ جان دیتا ہے
وصل کی راہ سوچتا ہوں میں
بھائیوں میں بگاڑ ہو جس سے
اس عبادت کو کیا سراہوں میں
بت پرستی تو ایک مذہب ہے
کفر ، غفلت کو جانتا ہوں میں
مرگِ اغیار پر خوشی ہے تجھے
اور آنسو بہا رہا ہوں میں
میرے رونے پہ ہنس رہا ہے تو
تیرے ہنسنے کو رو رہا ہوں میں
بند ۔دوم
علم پلتا ہے میری گودی میں
رازِ ہستی سے آشنا ہوں میں
تو مری ہم سری کرے ، توبہ
دیدئہ ہست کی ضیا ہوں میں
میرے دم سے جہان بستا ہے
اس اندھیرے میں چاندنا ہوں میں
گلشنِ طور میں بہار مری
قطرئہ بحر آشنا ہوں میں
ہائے یہ دل ہو میرے پہلو میں
تو یہ سمجھے کہ دہریا ہوں میں

اہلِ دل کو بگاڑ سے مطلب
سب بزرگوں کی خاکِ پا ہوں میں
فیض اقبال ہے اسی در کا
بندئہ شاہِ ’’لافتیٰ‘‘ ہوں میں۱
۱ - مخزن - مئی ۱۹۰۲ء
خ
صدائے درد
اے ہمالہ ! تو چھپالے اپنے دامن میں مجھے
ہے غضب کی بے کلی اپنے نشیمن میں مجھے
مدّتیں گزری ہیں مجھ کو رنج و غم سہتے ہوئے
شرم سی آتی ہے اب اس کو وطن کہتے ہوئے
آہ ویرانی ہے پنہاں یاں کی ہر تعمیر میں
آشیاں اور اس گلستانِ خزاں تاثیر میں
آشیاں ایسے گلستاں میں بنائوں کس طرح
اپنے ہم جنسوں کی بربادی کو دیکھوں کس طرح
پھر بلا لے مجھ کو اے صحرائے وسطِ ایشیا
آہ اس بستی میں اب میرا گزارا ہو چکا
پار لے چل مجھ کو پھر اے کشتیِ موجِ اٹک
اب نہیں بھاتی یہاں کے بوستانوں کی مہک
ہاں سلامِ آخری اے مولدِ گوتم تجھے
اب فضا تیری نظر آتی ہے نا محرم مجھے
الوداع اے مدفنِ ہجویریِؒ اعجاز دم
رخصت اے آرام گاہِ شنکرِ جادو رقم
الوداع اے سیرگاہِ شیخِ شیراز الوداع
اے دیارِ بالمیکِ نکتہ پرداز الوداع
الوداع اے سرزمینِ نانکِ شیریں بیاں
رخصت اے آرام گاہِ چشتیِؒ عیسیٰ نشاں
رمزِ الفت سے مرے اہلِ وطن غافل ہوئے
کار زارِ عرصۂ ہستی کے ناقابل ہوئے
اپنی اصلیّت سے ناواقف ہیں ، کیا انساں ہیں یہ
غیر اپنوں کو سمجھتے ہیں ، عجب ناداں ہیں یہ
جس کا اک مدّت سے دھڑکا تھا وہ دن آنے کو ہے
صفحۂ ہستی سے اپنا نام مٹ جانے کو ہے
دل حزیں ہے ، جاں رہینِ رنجِ بے اندازہ ہے
آہ اک دفتر تھا اپنا ، وہ بھی بے شیرازہ ہے
امتیازِ قوم و ملّت پر مٹے جاتے ہیں یہ
اور اس الجھی ہوئی گتھّی کو الجھاتے ہیں یہ
ہم نے یہ مانا کہ مذہب جان ہے انسان کی
کچھ اسی کے دم سے قائم شان ہے انسان کی
روح کا جوبن نکھرتا ہے اسی تدبیر سے
آدمی سونے کا بن جاتا ہے اس اکسیر سے
رنگِ قومیّت مگر اس سے بدل سکتا نہیں
خونِ آبائی رگِ تن سے نکل سکتا نہیں
وصلِ محبوبِ ازل کی ہیں یہ تدبیریں سبھی
اک بیاضِ نظمِ ہستی کی ہیں تفسیریں سبھی
ایک ہی مے سے اگر ہر چشمِ دل مخمور ہے
یہ عداوت کیوں ہماری بزم کا دستور ہے۱
۱ - مخزن ، جون ۱۹۰۲ء
خ
شمع
ان اشکباریوں میں طہارت کا راز ہے
کیسا وضو ہے یہ کہ سراپا نماز ہے
ایذا پسند ہے دلِ اندوہ گیں ترا
کچھ تجھ پہ رازِ غمکدئہ دہر کھل گیا
’’از مہرتا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئنہ
طوطی کو شش جہت سے مقابل ہے آئنہ‘‘
سمجھے کہ خامشی ہے مآلِ ضیائے شمع
اے وائے گفتگوئے لبِ بے صدائے شمع
خورشیدِ شب ہے جلوئہ ظلمت ربا ترا
تجھ کو بھی ہے خبر کہ یہ ہے چاندنا ترا
جلتی اسی شرار سے ہے شمعِ ماسوا
ساماں طرازِ ظلمتِ شب ہے یہ چاندنا
آزادِ دست بردِ بقا و فنا ہوں میں
کشتہ ہو یہ شرار ، تو کیا جانے کیا ہوں میں
جوں نَے ، کمندِ نالۂ دل میں اسیر ہوں
فرقت میں نیستاں کی سراپا نفیر ہوں
محمود اپنے آپ کو سمجھا ، ایاز ہے
کیا غفلت آفریں یہ میٔ خانہ ساز ہے
دردا کہ وہمِ غیر میں ہوں میں پھنسا ہوا
آزر ، خلیل ہے بتِ پندار کا ہوا
دل خار زارِ کم نگہی میں الجھ نہ جائے
ڈرتا ہوں کوئی میری فغاں کو سمجھ نہ جائے۱
۱ - مخزن ، دسمبر ۱۹۰۲ء
خ
ایک آرزو
پتّوں کا ہو نظارہ میری کتاب خوانی
دفتر ہو معرفت کا ، جو گل کھلا ہوا ہو
یوں وادیوں میں ٹھہرے آ کر شفق کی سرخی
جیسے کسی گلی میں کوئی شکستہ پا ہو
پچھم کو جا رہا ہو ، کچھ اس ادا سے سورج
جیسے کوئی کسی کے دامن کو کھینچتا ہو
ظلمت جھلک رہی ہو اس طرح چاندنے میں
جوں آنکھ میں سحر کی سرمہ لگا ہوا ہو
دل کھول کر بہائوں اپنے وطن پہ آنسو
سر سبز جن کے نم سے ، بوٹا امید کا ہو
سمجھیں مرے سخن کو ہندوستان والے
موزون ہو گئے ہیں نالے ، سخن نہیں ہے
شمشاد ، گل کا بَیری ، گل ، یاسمن کا دشمن
ہو آشیاں کے قابل ، یہ وہ چمن نہیں ہے
اپنوں کو غیر سمجھوں اس سر زمیں میں رہ کر
میں بے وطن ہوں میرا کوئی وطن نہیں ہے
وہ مے نہیں کہ جس کی تاثیر تھی محبت
ساقی نہیں وہ باقی ، وہ انجمن نہیں ہے
’’در محفلے کہ یاراں شربِ مدام کردند
چوں نو بتے بہ ما شد ، آتش بہ جام کردند‘‘۱
۱ - مخزن ، دسمبر ۱۹۰۲ء

خ
آفتابِ صبح
اے چراغِ آسماں! اے آفتابِ صبح دم!
راستا تیرا نہیں شرمندئہ نقشِ قدم!
ابر میں چھپنا ترا ، لاتا ہے دل پر ابرِ غم
یہ ادا ، چشم تماشائی پہ کرتی ہے ستم
تو وہ مطلع ہے سرِ دیوانِ عالم کے لیے
خامۂ قدرت نے آبِ زر سے لکھّا ہے جسے
ہائے کس حسنِ جہاں آرا کی ہے تجھ میں جھلک
خیرہ ہو جاتی ہے تیرے نور سے چشمِ فلک
روح پرور ہے تجلّی تیری اے چشمِ فلک
ملتی جلتی ہے چراغِ طور سے تیری چمک
خانۂ دل نور سے معمور ہو جائے مرا
نقطۂ دل ، تخمِ نخلِ طور ہو جائے مرا۱
۱ - خدنگ نظر مئی ۱۹۰۲ء
خ
دردِ عشق
پروانہ سوئے شمع نہ قسمت کو رو کے آئے
ذوقِ تپش سے بزم میں آزاد ہو کے آئے
اس بزم میں کسی کو نہیں آرزو تری
موتی ہے تو ، مٹے نہ کہیں آبرو تری
محفل یہ مر مٹی ہے شرابِ مجاز پر
ادراک طعنہ زن ہے سرورِ گداز پر
رہبر تو خضرِ فکر ہے اور ذوقِ دید ہے
ہاتھوں میں انجمن کے پرانی کلید ہے
نایاب ہو کے اپنی حقیقت دکھا انہیں
جو عجز میں نہاں ہے ، وہ رفعت دکھا انہیں
فکرِ بلند ، غرقِ شرابِ غرور ہے
اس بے خبر کو راہ پہ لانا ضرور ہے
طے کر کے آسماں کو جو بے مدعا پھرے
دیوانہ وار تیرا پتا پوچھتا پھرے
بے تاب پھر جہاں ہو ترے اشتیاق میں
گریاں ہو چشمِ حسن بھی تیرے فراق میں۱
۱ - پنجۂ فولاد ۲۸ ستمبر ۱۹۰۳ء
خ
گلِ پژمردہ
ہم سفر آخر تری بو کی تری رنگت ہوئی
ہائے کیا تاراج تیرے حسن کی دولت ہوئی
بلبلِ نالاں نہ پہچانے اگر دیکھے تجھے
ہو پشیماں عشق پر اپنے جو پہچانے تجھے
سرگراں سی اب شعاعِ مہرِ تاباں تجھ سے ہے
آہ وہ بادِ سحر بھی اب گریزاں تجھ سے ہے
دیدئہ گل چیں کو اب تیری ادا بھاتی نہیں
لال جوڑا اب شفق بھی تجھ کو پہناتی نہیں
شاخ تیری بارِ بلبل سے نہ اب خم کھائے گی
آبِ گوہر سے نہ اب شبنم تجھے نہلائے گی
آہ وہ تتلی ، وہ اک معصومیت اڑتی ہوئی
تھک کے اب پرواز سے تجھ پر نہ بیٹھے گی کبھی
وہ ذرا سا جانور ، دل دادئہ آوارگی
کھینچتی تھی سوئے گلشن جس کو شیرینی تری
گرچہ تھا صحنِ چمن میں عاشقِ شیدا ترا
اب تجھے دیکھے تو بھاگے ’’الخدر‘‘ کہتا ہوا
میری آنکھوں کو مگر اے گل بھلا لگتا ہے تو
آتی ہے مجھ کو تری پژمردگی سے اپنی بو
ہیں مرے سینے میں بھی پوشیدہ زخمِ بے رفو
داغ بن کر رہ اسی اجڑے ہوئے گلشن میں تو
لب مرا ہے بلبلِ رنگیں نوا تیرے لیے
میری ٹھنڈی آہ ہے بادِ صبا تیرے لیے۱
۱ - بیاض اعجاز ص ۲۶۴
سیّد کی لوحِ تربت
(۱)
اے کہ زائر بن کے میری قبر پر آیا ہے تو
اے کہ مستانہ میٔ حسنِ عقیدت کا ہے تو
بسکہ ہے بادِ صبا یاں کی اخوّت آفریں
یہ وہ گلشن ہے جہاں سبزہ بھی بیگانہ نہیں
یہ وہ نظّارہ ہے ، یاں ہر گل سراپا دیدہ ہے
اپنے گلشن کی زمیں میں باغباں خوابیدہ ہے
(۲)
دیکھ اپنوں میں نہ پیدا ہو کہیں بے گانگی
چل نہ جائے تیرے گلشن میں ہوا پیکار کی
دین کے پردے میں تو دنیا کا سودائی نہ ہو
آڑ میں مذہب کی شوقِ عزّت افزائی نہ ہو
گالیاں دینا کسی کو دین کی خدمت نہیں
یہ تعصّب کوئی مفتاحِ در جنت نہیں
راہبر کو قافلے کے ساتھ رہنا چاہیے
کیا چلے گا کارواں ، جب رہنما پیچھے رہے
(۳)
ہو شرابِ حبِّ قومی میں اگر سرشار تو
ہو نہ اپنی عزّت افزائی کی تجھ کو آرزو
قافلہ جب تک پہنچ جائے نہ منزل کے قریں
رہنما ہوتے ہیں جو ، رستے میں دم لیتے نہیں
کیا مزا رکھتی ہے ابنائے وطن کی فکر بھی
اس میں کچھ ہوتی نہیں اپنے کفن کی فکر بھی
دیکھ آوازِ ملامت سے نہ گھبرانا ذرا
عشق کے شعلے کو بھڑکاتی ہے یہ بن کر ہوا
وہ شجر ہے عشقِ اخواں ، زندگی ہے جس کا پھل
قوم کے عاشق کو چھو سکتا نہیں دستِ اجل
عالمِ عقبے میں ہے سب سے بڑی عزّت یہی
عشقِ اخواں میں اگر مطعون ہو جائے کوئی
عشق ہر صورت میں تسکینِ دل ناشاد ہے
پر کہیں ، نالہ کہیں ، شیون کہیں فریاد ہے
خود بخود منہ سے نکل جاتی ہے ، ایسی لے ہے یہ
شیشۂ دل سے اچھل جاتی ہے ، ایسی مے ہے یہ
چوں زمینائے محبت خوردہ بودم بادئہ
تا ثریّا رفت ایں قومِ بہ خاک افتادئہ
(۴)
اپنے حق کے مانگنے میں رکھ ادب مدِّ نظر
چاہیے سائل کو آدابِ طلب مدِّ نظر
معنیِٔ رمزِ اطاعت کی نہ ہو جس کو خبر
چاہیے دنیا کو اس ناداں کی صحبت سے حذر
’’آب چوں در روغن افتد ، نالہ خیزد از چراغ
صحبتِ نا جنس باشد باعثِ آزار ہا‘‘
(۵)
چاہیے ہو باعثِ آرامِ جاں شاعر کی لے
لاج اس جزوِ نبوّت کی ترے ہاتھوں میں ہے
دیکھ اے جادو بیاں ، تو نے اگر پروا نہ کی
آبرو گر جائے گی اس گوہرِ یک دانہ کی
’’از شرابِ حُبِّ ہم جنسانِ خود مستانہ باش
شعلۂ شمعِ وطن را صورتِ پروانہ باش‘‘۱
۱ - مخزن جنوری ۱۹۰۳ء
خ
ماہ ِنو
شام نے آ کر پڑھا دیباچۂ مضمونِ شب
ہے لبِ پیرِ فلک پر مصرعِ موزونِ شب
منشیِ قدرت مگر کھا کر کہیں ٹھوکر گرا
جب سیاہی گر چکی ، قط زن سیاہی پر گرا
کاسئہ سیمیں لیے ہاتھوں میں آیا ، دیکھنا
آسماں دریوزئہ ظلمت کو نکلا ، دیکھنا
اے چراغِ دودمانِ آفتابِ خاوری
قہر ہے چشمِ تصوّر پر تری جادوگری
تو وہ رہرو ہے کہ پھرتا ہی رہا منزل کے گرد
قیس کی صورت جبیں سا ہی رہا محمل کے گرد
سرمۂ گوہر مری آنکھوں کو تیری دید ہے
اے مہِ نَو تو ہلالِ مطلعِ امّید ہے
آرزوئے نور میں ہے صورتِ سیماب تو
تیری بے تابی کے صدقے ،ہے عجب بے تاب تو
چاہیے میری نگاہوں کو انوکھی چاندنی
لا کہیں سے ماہِ کامل بن کے ، ایسی چاندنی
ظلمتِ بے گانگی میرے وطن سے دور ہو
خاکِ ہندوستاں کا ہر ذرّہ سراپا طور ہو۱
۱ - بیاض اعجاز ص ۲۱۱
خ
انسان اور بزمِ قدرت
نور یکساں ترے ویرانے میں ، آبادی میں
شہر میں ، دشت میں ، کہسار کی ہر وادی میں
جو سمجھنے کی تھی ، وہ بات نہ سمجھی تونے
یعنی مے پی ہے تمیز من و تو کی تونے۲
۲ - مخزن ستمبر ۱۹۰۳ء
خ
پیامِ صبح
ہلائی اس نے زنجیرِ درِ مے خانہ یہ کہہ کر
اٹھو ، دروازہ کھو لو نسخۂ خوابِ پریشاں کا
اٹھایا آکے سبزے کو صدائے ’’قم باذنی‘‘ سے
دبایا پائے نازک اس نے ہر طفلِ دبستاں کا
اٹھایا قطرئہ شبنم کو اس نے بسترِ گل سے
چھڑایا نیند کے ہاتھوں سے دامن نرگسستاں کا۱
۱ - انتخاب فتنہ ۳۰ دسمبر ۱۹۰۳ء
خ
عشق اور موت
کہیں عجز سے گردنیں جھک رہی تھیں
رعونت کہیں مانعِ بندگی تھی
پتنگا کہیں مستِ ذوقِ تپیدن
کہیں شمع کو نازشِ دلبری تھی
جو قمری کو ملتا تھا طوقِ غلامی
صنوبر کا انعام ، آزادگی تھی
یہ گرمِ فغاں تھی ، وہ محوِ تبسّم
جو بلبل کا غم تھا ، وہ گل کی خوشی تھی
وہ دردِ محبت ، وہ ایمانِ ہستی
وہ افشانِ حسنِ ازل کا ستارا
سرِ کوہ چمکے جو وہ بن کے بجلی
تو ہو غیرتِ طور ہر سنگِ خارا۲
۲ - مخزن نومبر ۱۹۰۳ء
زہد اور رندی
دو نذر تو فرماتے تھے ہو کر متبسّم
دینداروں کی امداد ہے ایماں کی نشانی
کہتے ہیں کہ ہے اس کو محبت فقرا سے
دیکھی نہیں ہم نے تو کوئی اس کی نشانی
ہر رات اسے راگ کے جلسوں سے سروکار
پھرتا ہے سرِ مزرعِ اوراد پہ پانی۱
۱ - مخزن دسمبر ۱۹۰۳ء
خ
موجِ دریا
غنچۂ آب میں گلشن کی تماشائی ہوں
اپنی ہستی کو مٹانے کی تمنّائی ہوں
کشتۂ عشق ہوں ، محروم شکیبائی ہوں
حوصلہ دیکھ کہ میں بحر کی سودائی ہوں
زندگی جزو کی ہے ، کل میں فنا ہو جانا
’’درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا‘‘۲
۲ - دکن ریویو ، نومبر - دسمبر ۱۹۰۴ء
رخصتِ اے بزمِ جہاں
تیر لگتی ہے نگاہِ چشمِ نو دولت مجھے
ہے ترے عجزِ خوشامد زادہ سے نفرت مجھے
مدّتوں ضبطِ تکلّم کے ستم سہتا رہا
اشک کی صورت میں اپنا حالِ دل کہتا رہا
خامشی کا بار لیکن اب اٹھا سکتا نہیں
آئنہ مشرب ہوں ، راز اپنا چھپا سکتا نہیں
(۲)
مل کے رہتی ہیں تہِ دامانِ دریا مچھلیاں
یعنی وہ چاندی کے طائر ، بے پر و بے آشیاں
مل کے اڑتے، مل کے گاتے ہیں گلستاں کے طیور
خیمہ زن انسان ہیں شہروں میں، ویرانوں سے دور
(۳)
کوہ کے دامن میں کیا بے مدّعا پھرتا ہوں میں
کیا مصافِ زندگی سے بھاگتا پھرتا ہوں میں۱
۱ - مخزن مارچ ۱۹۰۴ء
خ
طفلِ شیر خوار
ایسی چیزوں کو جو تو سمجھا ہے سامانِ خوشی
کیا کسی دکھ درد کے مکتب کی ابجد ہے یہی
درد سے اے نو اسیرِ حلقۂ گردابِ درد
ہوتی جائے گی تجھے آگاہیِ اسبابِ درد
اس چمکتی چیز کی خاطر یہ بیتابی ہے کیا؟
اب سیاہی کے گرانے کی تجھے سوجھی ہے کیا
ہے تجھے کچھ فرش پر اس کو گرانے میں مزا
ٹوٹ جائے آئنہ میرا ، تجھے پروا ہے کیا
تالیوں کا ہو کوئی گچھّا کہ سونے کی گھڑی
مل گئی جو شے تجھے ، تیرا کھلونا بن گئی
جو تری آنکھوں کے آگے ہو ، ہوس انگیز ہے
یعنی ہر شے توسنِ ادراک کی مہمیز ہے
پھوٹتی ہے فصلِ گل کی جس طرح پہلے کلی
منہ پہ ڈالے سبز پتیّ کی نقابِ عارضی
یوں ترے ہنسنے سے دل میں ہے تمنّا کی نمود
اے گلِ نشگفتۂ صحنِ چمن زارِ وجود
۱ - مخزن ، فروری ۱۹۰۴ء
خ
تصویرِ درد
(۱)
ہوئی ہے سرمۂ آواز گو لذّت خموشی کی
نگہ بن بن کے آنکھوں سے نکلتی ہے فغاں میری
مری حیرت روانی سوز ہے اس درجہ اے ساقی
کہ مینا بن گئی آخر شرابِ ارغواں میری
شکارِ خوفِ رسوائی ہے میری نو گرفتاری
کسی صورت ہو یا رب ساری دنیا رازداں میری
(۲)
شکایت آسماں کی میرے لب پر آ نہیں سکتی
کہ میں قسمت کا مارا ، آپ ہی اپنی مصیت ہوں
مری ہستی نے آلودہ کیا دامانِ عصیاں کو
وہ عاصی ہوں کہ میں اپنے گناہوں کی ندامت ہوں
مرے طوفِ جبیں کو اڑ کے خاکِ آستاں آئی
میں وہ درماندئہ دامانِ صحرائے عبادت ہوں
سیہ کاری مری زاہد سے کہتی ہے یہ محشر میں
سبھی کچھ ہوں مگر ہم رنگِ محرابِ عبادت ہوں
مری ہستی نہیں ، وحدت میں کثرت کا تماشا ہے
کہ خود عاشق ہوں ، خود معشوق ہوں ، خود دردِ فرقت ہوں
وضو کے واسطے آتا ہے کعبہ لے کے زمزم کو
الٰہی کون سی وادی میں میں محو عبادت ہوں
نہ چھپ ، او کاٹنے والے مجھے ، میرے نیستاں سے
سراپا صورتِ نے تیری فرقت کی شکایت ہوں
نجف میرا مدینہ ہے ، مدینہ ہے مرا کعبہ
میںبندہ اور کا ہوں ، امّتِ شاہِ ولایت ہوں
جو سمجھوں اور کچھ خاکِ عرب میں سونے والے کو
مجھے معذور رکھ ، میں مستِ صہبائے محبت ہوں
یہی صہبا ہے جو رفعت بنا دیتی ہے پستی کو
اسی صہبا میں آنکھیں دیکھتی ہیں رازِ ہستی کو
(۳)
شرابِ عشق میں کیا جانے کیا تاثیر ہوتی ہے
کہ مشتِ خاک جس سے روکشِ اکسیر ہوتی ہے
یہ وہ مے ہے ، تکلّم بن کے رہتی ہے زبانوں میں
نگاہوں میں مثالِ سرمۂ تسخیر ہوتی ہے

زباں میری ہے لیکن کہنے والا اور ہے کوئی
مری تقدیر گویا اور کی تقدیر ہوتی ہے
بس اے ذوقِ خموشی ! رخصتِ فریاد دے مجھ کو
کہ چپ بیٹھوں تو گویائی گریباں گیر ہوتی ہے
اثر ایسا کیا ہے دل پہ تاراجِ گلستاں نے
مجھے پروازِ رنگِ گل ، صدائے تیر ہوتی ہے
سنا ہے میں نے جو کچھ اہل محفل کو سناتا ہوں
خموشی بے محل ، مثلِ دمِ شمشیر ہوتی ہے
نفس کا آئنہ باندھا ہوا ہے میں نے آہوں میں
مری ہر بات میرے درد کی تصویر ہوتی ہے
خود اپنے آنسوؤں میں رونے والا چھپ کے بیٹھا ہو
صدائے نالۂ دل کی یہی تاثیر ہوتی ہے
تمیزِ ما و من ہوتی نہیں حرفِ محبت میں
مثالِ خامشی گویا مری تقدیر ہوتی ہے
سنے ہیں اہلِ محفل نے فسانے حال و ماضی کے
مرے نالوں میں استقبال کی تفسیر ہوتی ہے
برا ہوں یا بھلا ہوں ، میرا کہنا سب کو بھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے
(۴)
ہوائے امتیازِ ملّت و آئیں کی موجوں نے
غضب کا تفرقہ ڈالا ترے خرمن کے دانوں میں
جہاں خوں ہو رہا ہے کارزارِ زندگانی سے
میٔ غفلت کے ساغر چل رہے ہیں نوجوانوں میں
تغیّر اس طرح کا محفلِ ہستی میں آیا ہے
کہ ہے چُپ بیٹھ رہنا بھی تباہی کے نشانوں میں
مزا دیتا نہیں کچھ صورتِ گل صد زباں ہونا
زباں جب ایک بھی گویا نہ ہو اتنی زبانوں میں
ہوا پیکار کی آخر اجاڑے گی گلستاں کو
خدا رکھّے یہ ہے اپنے پرانے مہربانوں میں
قیامت ہے کہ ہر ذرّے سے پیدا سو مصیبت ہے
زمیں بھی اپنی شاید جا ملی ہے آسمانوں میں
اڑالے جائے گی موجِ ہوائے نیستی ان کو
نہ ہو جب راہ پیمائی کی طاقت ناتوانوں میں
رُلایا خوں مری آنکھوں کو تیرے خوابِ غفلت نے
مری تقدیر میں لکھا تھا رونا کلکِ قدرت نے

(۵)
دکھادوں گا میں اے ہندوستاں رنگِ وفا سب کو
کہ اپنی زندگانی تجھ پہ قرباں کر کے چھوڑوں گا
نہیں بے وجہ ، وحشت میں اڑانا خاکِ زنداں کا
کہ میں اس خاک سے پیدا بیاباں کرکے چھوڑوں گا
شریکِ محنتِ زنداں ہوں گو یوسف صفت خود بھی
مگر تعبیرِ خوابِ اہلِ زنداں کر کے چھوڑوں گا
ابھی مجھ دل جلے کو ہم صفیرو ! اور رونے دو
کہ میں سارے چمن کو شبنمستاںکر کے چھوڑوں گا
تعصّب نے مری خاکِ وطن میں گھر بنایا ہے
وہ طوفاں ہوں کہ میں اس گھر کو ویراں کر کے چھوڑوں گا
اگر آپس میں لڑنا آج کل کی ہے مسلمانی
مسلمانوں کو آخر نا مسلماں کر کے چھوڑوں گا
اٹھادوں گا نقابِ عارضِ محبوبِ یک رنگی
تجھے اس خانہ جنگی پر پشیماں کر کے چھوڑوں گا
جو تیرا درد تھا ، تاکا ہے اس نے میرے پہلو کو
تری اُفتاد نے توڑا ہے میرے دست و بازو کو

(۶)
اڑا کر لے گئی لذّت تُجھے آوارہ رہنے کی
چمن میں کچھ نہ دیکھا صورتِ بادِ صبا تونے
تری تعمیر میں مضمر ہوئی افتادگی کیوں کر
لگائی ہے مگر اس گھر کو خشتِ نقشِ پا تونے
تلاشِ تکمۂ اخگر سے پیدا ہے جنوں تیرا
جو پہنی صورتِ تصویر کاغذ کی قبا تونے
سبق لیتا رہا اُفتادگی کا خاکِ ساحل سے
نہ سیکھا موجِ دریا سے علاجِ خوابِ پا تونے
نہیں ہے دہریت کیا بندئہ حرص و ہوا ہونا
قیامت ہے مگر اوروں کو سمجھا دہریا تونے
وہ حسنِ عالم آرا تیرے دل میں جلوہ گستر تھا
غضب ہے آسمانوں میں دیا اس کا پتا تونے
نہیں ممکن شناسائی ہو تجھ کو رمزِ وحدت سے
صدائے غیر سمجھا ، جب سنی اپنی صدا تونے
(۷)
نظر اس دور میں مجھ کو ترا جینا نہیں آتا
کہ صہبائے محبت کا تجھے پینا نہیں آتا
پکڑ کر عجز کا دامن ، پہنچ عرش معلّٰے پر
نگاہوں کو نظر اس بام کا زینا نہیں آتا
عدو صبحِ صفائے دل کی ہے ظلمت تعصّب کی
مقابل چشمِ نابینا کے آئینا نہیں آتا
یہیں بے نوُر ہے ، محشر میں تو کیا خاک دیکھے گا
کہ تجھ کو دیکھنا اے دیدئہ بینا نہیں آتا
یہ بہتر تھا کہ تو اے شیشۂ دل چوُر ہو جاتا
صفا رہنا تجھے مانندِ آئینا نہیں آتا
اکارت ہے ، بناوٹ سے ترا رونا نمازوں میں
کہ ہاتھ اس طرح وہ پوشیدہ گنجینا نہیں آتا
بنا آنکھوں کو جامِ اشک ، دل کو درد کی مینا
مزا جینے کا کچھ بے ساغر و مینا نہیں آتا
بجھا دینا ہی اچھا ہے چراغِ زندگانی کا
محبت میںجو مر مر کے تجھے جینا نہیں آتا
بنا اس راہ میں ذوقِ طلب کو ہم سفر اپنا
اکیلے لطفِ سیرِ وادیِ سینا نہیں آتا
تلاشِ خضر کب تک تشنۂ زہرِ محبت ہو
جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا
نمی گویم قیامت جوش زن یا شورِ طوفاں شو
ز طوفان دستبردار آنچہ نتوانی شدن ، آں شو
(۸)
تبّسم سے غرض ہے پردہ داری چشمِ گریاں کی
چھپا کر بیٹھ صبحِ عید میں شامِ محرّم کو
جمالِ یوسفِ یثرب کو دیکھ آئینۂ دل میں
نہ ڈھونڈ اے دیدئہ حیراں نمودِ ابنِ مریم کو
شفا دیکھی ہے بیماری میں کیا ان درد مندوں نے
کہ بے حاصل سمجھتے ہیں تلاشِ ابنِ مریم کو
خدا جانے یہ بندے کون سی آتش میں جلتے ہیں
کہ خاکستر کی اک مٹھّی سمجھتے ہیں جہنّم کو
۱ - مخزن مارچ ۱۹۰۴ء
خ
نالۂ فراق
ہوگئی رخصت مسرّت ، غم مرا ہمدم ہوا
دفتر صبر و شکیبائی جو تھا ، برہم ہوا
کچھ عجب اس کی جدائی میں مرا عالم ہوا
دل مرا منّت پذیرِ نالۂ پیہم ہوا
حاضراں از دور چوں محشر خروشم دیدہ اند
دیدہ ہا باز است لیک از راہِ گوشم دیدہ اند
دجلہ ریزی کر رہا ہے دیدئہ پرُخوں مرا
صورتِ سیماب ، مضطر ہے دلِ محزوں مرا
دردِ فرقت سے ہے رنگیں نالۂ موزوں مرا
داغِ حرماں ہے سراپا ہر گلِ مضموں مرا
آہ ، وہ حاصل نہیں اوروں کی مدحت میں مجھے
لطف جو ملتا تھا کچھ تیری ملامت میں مجھے
زندگی کا دامنِ انساں میں گویا خار ہے
آرزو کا دل میں ، سینے میں نفس کا خار ہے
یوں تو اس عالم کے ہر ذرّے سے اگتا خار ہے
خار فرقت کا مگر سب سے نکیلا خار ہے
’’زندگانی در جگر خار است و در پا سوزن است
تا نفس باقی است در پیراہنِ ما سوزن است‘‘۱
۱ - مخزن مئی ۱۹۰۴ء
خ
چاند
اے قمر کیا خامشی افزا ہے تیری روشنی
رات کے دامن میں ہے گویا سحر سوئی ہوئی
خ
حسنِ کامل تیری صورت کا نشاط انگیز ہے
چاندنی میں تیری اک تسکینِ غم آمیز ہے
خ
گھر بنایا تونے گو ہنگامۂ ہستی سے دور
چاندنی تیری نہیں انسان کی بستی سے دور
ہاں اتر آ میرے دل میں ساتھ لے کر چاندنی
اس اندھیرے گھر میں بھی ہو جائے دم بھر چاندنی۱
۱ - مخزن جولائی ۱۹۰۴ء
خ
بلالؓ
ستم ہے شوق کی آتش کو مثلِ موجِ ہوا
’’خدا بھلا کرے آزار دینے والوں کا‘‘
ترے نصیب کا آخر چمک گیا اختر
علیؓ کے سینے میں جو راز تھا ، کھلا تجھ پر
نمازِ عشق حسینِؓ حجاز ہے گویا
یہی نماز ، خدا کی نماز ہے گویا
۱ - مخزن ستمبر ۱۹۰۴ء
خ
سرگزشتِ آدم
نگاہ پائی ازل سے جو نکتہ بیں میں نے
ہر ایک چیز میں دیکھا اسے مکیں میں نے
خ
سوالِ دید میں لذّت ہے اے کلیم ایسی
ہزار بار سنی ہے وہی ’نہیں‘ میں نے
خ
کہا کسی نے فسانہ جو عرش و کرسی کا
وہ سادہ لوح ہوں میں ، کر لیا یقیں میں نے
خ
کبھی میں قتل ہوا کربلا کے میداں میں
کہی کسی کو ستم پر بھی آفریں میں نے
خ
اٹھائے تلخیِ انکار میں مزے کیا کیا
بناکے ایک زمانے کو نکتہ چیں میں نے
عجیب طرز ہے کچھ گفتگوئے واعظ کا
خدا بچائے ، یہ باتیں سنی نہ تھیں میں نے
وہ چیز نام ہے جس کا جہاں میں آزادی
سنی ضرور ہے ، دیکھی کہیں نہیں میں نے
نہ توڑ میرے دلِ درد مند کو ظالم
بڑی تلاش سے پایا ہے یہ نگیں میں نے
خدا تو ملتا ہے ، انسان ہی نہیں ملتا
یہ چیز وہ ہے کہ دیکھی کہیں نہیں میں نے
عجیب شے ہے صنم خانۂ امیر ، اقبال
میں بُت پرست ہوں ، رکھدی کہیں جبیں میں نے۱
۱ - مخزن، ستمبر ۱۹۰۴ء
خ
جگنو
اک مشتِ گِل میں رکھّا احساس کا شرارہ
انساں کو آگہی کیا ، ظلمت کو چاندنی دی
۲ - مخزن دسمبر ۱۹۰۴ء
خ
صبح کا ستارہ
عارضی حسن ہے ، دشمن ہے مرا نورِ سحر
یہ ملا خسروِ خاور کا پیامی بن کر
صبر کا خون نکل آیا ہو مل کر مجھ میں
ایک طوفان ہو افکار کا مضمر مجھ میں
۱ - مخزن دسمبر ۱۹۰۴ء
خ
ہندوستانی بچوں کا قومی گیت
آخری بند
گوتم کا جو وطن ہے ، جاپان کا حرم ہے
عیسیٰ کے عاشقوں کا چھوٹا یروشلم ہے
مدفون جس زمیں میں اسلام کا حشم ہے
ہر پھول جس چمن کا فردوس ہے ارم ہے
میرا وطن وہی ہے - میرا وطن وہی ہے۲
۲ - مخزن فروری ۱۹۰۵ء
خ
نیا شوالا
کچھ فکر پھوٹ کی کر ، مالی ہے تو چمن کا
بوٹوں کو پھونک ڈالا اس بِس بھری ہوا نے
پھر اک انوپ ایسی سونے کی مورتی ہو
اس ہردوار دل میں لا کر جسے بٹھا دیں
سندر ہو اس کی صورت ، چھب اس کی موہنی ہو
اس دیوتا سے مانگیں جو دل کی ہوں مرادیں
زنّار ہو گلے میں ، تسبیح ہاتھ میں ہو
یعنی صنم کدے میں شانِ حرم دکھا دیں
پہلو کو چیر ڈالیں ، درشن ہو عام اس کا
ہر آتما کو گویا اک آگ سی لگا دیں
آنکھوں کی ہے جو گنگا ، لے لے کے اس سے پانی
اس دیوتا کے آگے اک نہر سی بہا دیں
’’ہندوستان‘‘ لکھ دیں ماتھے پہ اس صنم کے
بھولے ہوئے ترانے دنیا کو پھر سنا دیں
مندر میں ہو بلانا جس دم پجاریوں کو
آوازئہ اذاں کو ناقوس میں چھپا دیں
اگنی ہے جو وہ نرگن ، کہتے ہیں پیت جس کو
دھرموں کے یہ بکھیڑے اس آگ میں جلا دیں
ہے ریت عاشقوں کی تن من نثار کرنا
رونا ، ستم اٹھانا اور ان کو پیار کرنا۱
۱ - مخزن مارچ ۱۹۰۵ء
خ
داغ
جوہرِ رنگیں نوائی پا چکا جس دم کمال
پھر نہ ہو سکتی تھی ممکن میرؔ و مرزاؔ کی مثال
کر دیا قدرت نے پیدا ایک دونوں کا نظیر
داغؔ یعنی وصلِ فکرِ میرزاؔ و دردِ میرؔ
شعر کا کاشانہ لیکن آج پھر ویراں ہوا
دیدئہ خونبار پھر منّت کشِ داماں ہوا
کم نہیں محشر سے کچھ ایسی صدا کی خامشی
آہ ! دل سوزی تو تھی گو نکتہ آموزی نہ تھی۲
۲ - مخزن اپریل ۱۹۰۵ء
خ
ابر
پیامِ عیشِ و طرب آسمان سے آیا
ثبوتِ قلّتِ مے لامکان سے آیا
نمودِ ابر سے ہشیار ہو گیا سبزہ
اسی کے ہجر میں گویا اداس تھا سبزہ
ہوا کے نم سے ہوئی نرم سرو کی ٹہنی
جو آ کے فاختہ بیٹھی تو جھک گئی ٹہنی
ہلا رہی ہے سرِ شاخِ گل کو موج ہوا
بنا ہے باغ میں بلبل کے واسطے جھولا
نشیمنوں سے نکل کر پرند گاتے ہیں
ہوا میں کھیلتے پھرتے ہیں ، چہچہاتے ہیں
چمن میں سرو برائے نماز اٹھا ہے
وضو کرانے کو سقّائے ابر آیا ہے
اتر کے آگئے وادی میں ابر کے ٹکڑے
ویا ہوا سے پریشاں ہیں روئی کے گالے
مری نگاہ میں پھرتا ہے اور ہی نقشا
جو دیکھتا ہوں خرامِ سکوں نما ان کا
کھڑے ہیں محفلِ قدرت کو دیکھنے والے
کسان کھیتوں سے اٹھ اٹھ کے جھونپڑوں کو چلے
جفا کشی کا خضر کہیے ان کسانوں کو
یہ سبز کرتے ہیں کہسار کی چٹانوں کو۱
۱ - زمانہ جون ۱۹۰۵ء
خ
کنارِ راوی
نظارہ موج کو پھر وجہِ اضطراب ہے کیا
یہ کہنہ مشق ، نو آموز پیچ و تاب ہے کیا
نمازِ شام کی خاطر یہ اہلِ دل ہیں کھڑے
مری نگاہ میں انسان پا بہ گِل ہیں کھڑے
۲ - مخزن نومبر ۱۹۰۵ء
خ
التجائے مسافر
ترے وجود سے روشن ہے راہِ منزلِ شوق
دیارِ عشق کا مصحف ، کلام ہے تیرا
خروشِ میکدئہ شوق ہے ترے دم سے
طلب ہو خضر کو جس کی وہ جام ہے تیرا
کرم کرم کہ غریب الدیار ہے اقبال
مریدِ پیرِ نجف ہے ، غلام ہے تیرا
کیا ہے تیرا ، مقّدر نے مدح خواں مجھ کو
کہے ہزار مبارک مری زباں مجھ کو
چڑھا کے پھول مرے رنگِ رفتہ کے سرِ قبر
اڑائے پھرتی ہے حیرت کہاں کہاں مجھ کو
بیاں کروں تپشِ عشق کو تو آتشِ دل
شرارے دے پیٔ تمہیدِ داستاں مجھ کو
میں تفتہ دل ہوں پرانا نیاز مند ترا
دکھایا آج خدا نے یہ آستاں مجھ کو
مرے سفینے کو تو نے کنارہ بوس کیا
اماں نہ دیتا تھا جب بحرِ بیکراں مجھ کو
تلاشِ مہر میں شبنم صفت اڑا کہ چمن
ذرا سا دیتا ہے غنچے کا آشیاں مجھ کو
رہوں میں خادمِ خلقِ خدا ، جیوں جب تک
نہیں ہے آرزوئے عمرِ جاوداں مجھ کو
گریز میرے دلِ درد مند کا ہے شعار
بہت ستاتا ہے اندیشۂ زیاں مجھ کو
مرا وہ یار بھی ، معشوق بھی ، برادر بھی
کہ جس کے عشق سے جنّت ہے یہ جہاں مجھ کو
یونہی بنی رہے محفل مرے احبّا کی
ہرا بھرا نظر آئے یہ بوستاں مجھ کو
بھلا ہو دونوں جہاں میں حسن نظامی کا
ملا ہے جس کی بدولت یہ آستاں مجھ کو
قسم ہے اس کے دلِ درد مند کی آقا
تری ثنا کے لیے حق نے دی زباں مجھ کو
۱ - مخزن اکتوبر ۱۹۰۵ء
خ
پیام
کیوں کر نہ وہ جہان کو پیغامِ بزمِ راز دے
غم کی صدائے دلنشیں جس کا شکستہ ساز دے
غافل ! تجھے خبر نہیں لذّتِ فراغ میں ہے کیا
دنیا ادا پہ کر فدا ، عقبے بہائے ناز دے
بکتا جہان میں نہیں ارزاں متاعِ کافری
قیمت میں اس کی خرقہ دے ،تسبیح دے ، نماز دے
پابند یک صنم نہ ہو ہر لحظہ نو نیاز رہ
پوجا کر اس روش میں تو پیرہن نماز دے
ہو شوقِ سیر گل اگر ، ایسا چمن تلاش کر
ہر غنچے کی چٹک جہاں لطفِ نوائے راز دے
۱ - مخزن فروری ۱۹۰۶ء ، تبرکات اقبال ص ۲۱
خ
سوامی رام تیرتھ
کیا کہوں زندوں سے میں اس شاہدِ مستور کی
دار کو سمجھے ہوئے ہیں جو سزا منصور کی
۲ - مخزن جنوری ۱۹۰۷ء

خ
طلبہ علی گڑھ کالج کے نام
مستورِ مے درونِ جام ، پر توِ مے برونِ جام
اس کا مقام اور ہے ، اس کا مقام اور ہے
یوں تو پلانے آتے ہیں محفل کو ساقیانِ ہند
لیکن انہیں خبر نہیں ، یہ تشنہ کام اور ہے
جس بزم کی بساط ہو سرحد چیں سے مصر تک
ساقی ہے اس کا اور ہی ، مے اور جام اور ہے
اے بزمِ دورِ آخری کس کی تلاش ہے تجھے
تو سبحۂ حجاز ہے تیرا امام اور ہے
باقی ہے زندگی میں کیا ذوقِ نمو اگر نہ ہو
حرکتِ آدمی ہے اور حرکتِ جام اور ہے
فانوس کی طرح جیؤ ، آتش بہ پیرہن رہو
اے جلنے والو! لذتِ سوزِ تمام اور ہے
۱ - بیاض اعجاز ص ۱۷۳ ، مخزن جون ۱۹۰۷ء
خ
وصال
آشکارا چشمِ عالم پر ہوں اور پوشیدہ ہوں
یعنی مثل [ ] عریاں ہوں اور نادیدہ ہوں۲
۲ - بیاض اول ص ۲
خ
عاشقِ ہر جائی
(۱)
نائو طوفانی ہے لیکن صورتِ گوشِ صدف
گوش تیرا موج کی شورش سے بے پروا بھی ہے
ہم عنانِ عصرِ حاضر ، عاشقِ عہدِ کہن
دوش ہی گویا تجھے امروز بھی ، فردا بھی ہے
تو پریشاں مو مثالِ قیس رہتا ہے مگر
اس پریشانی میں سیرِ گیسوئے لیلیٰ بھی ہے
(۲)
تو ذرا میری نظر کی جلوہ آشامی تو دیکھ
طور شرما جائے ایسا حوصلہ رکھتا ہوں میں۱
۱ - روز گارِ فقیر ۳۲۸
خ
کوششِ ناتمام
آئی صدا یہ چاند کی بزم طواف پیشہ سے
صبحِ ازل سے ہے سفر رہتا قیام کے لیے
قلبِ زمیں سے مانگ کے لائی ہے داغِ جستجو
بادِ بہار ، لالۂ شعلہ بجام کے لیے
صورت گرِ ازل کو بھی شاید ہے [ ] حشر
بجلی یہ بے قرار ہے شورشِ عام کے لیے
دوسرا بند
قدرت کا اک فریب ہے لطفِ حصولِ مدّعا
خارِ امید کی خلش ، روح کا تازیانہ ہے
مصروفیت طیور کی شوقِ فراغ سے نہیں
محنت کا ذوق باعثِ تعمیرِ آشیانہ ہے
خاکِ چمن نے کر دیا رازِ امید آشکار
کاوشِ دل ہے مدّعا ، گل کی کلی بہانہ ہے
قمری و عندلیب کو شرطِ حیات ہے وہ شور
گوشِ غلط شنو میں جو نالۂ عاشقانہ ہے
سعیِ نمو کے نام ہیں سبزہ و غنچہ و شجر
عالم ہے زلفِ پر شکن [ ] اک بہانہ ہے
کوشش لا زوال سے زندہ جو روز گار ہو
موت سے ڈر گئے ہیں سب [ ] ہو یا قرار ہو۱
۱ - بیاض اوّل ،ص ۱۱
خ
جلوئہ حسن
یعنی جو آگ تأثّر کو لگا دیتا ہے
اور دل کو شرر آباد بنا دیتا ہے
دورئہ عصر کی ہستی کو مٹاتا ہے خیال
ہر گھڑی ایک نیا دہر بناتا ہے خیال۱
۱ - بیاض اوّل، ص ۸۲
خ
تنہائی
آوارہ یہ چاند ، رات خاموش
صہبائے نظارہ و میٔ گوش
یہ بوئے گلِ قمر ، یہ ماہتاب
خم خانۂ دہر کی میٔ ناب۲
۲ - بیاض اوّل ،ص ۸۰
خ
پیامِ عشق
دیار خاموش دل میں ایسا ستم کشِ دردِ جستجو ہو
کہ اپنے سینے میں آپ پوشیدہ صورتِ حرفِ راز ہو جا۳
۳ - ماہ نو اقبال نمبر ۱۹۷۷ئ، ص ۲۲۴
عبدالقادر کے نام
پھونک ڈالا تھا کبھی دفترِ باطل جس نے
حدّتِ دم سے اسی شعلے کو پیدا کر دیں
تنِ آتش زدئہ شوق کو مانندِ سرشک
قطعِ منزل کے لیے آبلۂ پا کر دیں
درد ہے سارے زمانے کا ہمارے دل میں
جنس کمیاب ہے آ ، نرخ کو بالا کر دیں
زاہد شہر کہ ہے سوختہ طبعی میں مثال
خشک ہے ، اس کو غریقِ نمِ صہبا کر دیں
سنگ رس شاخ چنی ہم نے نشیمن کے لیے
اپنے بے دردوں کو آمادئہ ایذا کر دیں۱
۱ - مخزن دسمبر ۱۹۰۸ء
خ

 

صقلیہ
(جزیرئہ سسلی)
آفرینش جن کی دنیائے کہن کی تھی اجل
جن کی ہیبت سے لرز جاتے تھے باطل کے محل
خ
مرثیہ تیری تباہی کا مری قسمت میں تھا
یہ تڑپنا اور تڑپانا مری قسمت میں تھا
۱ - مخزن اگست ۱۹۰۸ء
خ

 

 


مکمل متروکہ غزلیں

آبِ تیغِ یار تھوڑا سا نہ لے کر رکھ دیا
باغِ جنت میں خدا نے آبِ کوثر رکھ دیا
آنکھ میں ہے جوشِ اشک اور سینے میں سوزاں ہے دل
یاں سمندر رکھ دیا اور واں سمندر رکھ دیا
ہے یقیں پھر جائے گا جب دیکھ لے گا وہ صنم
غیر کے گھر آج میں نے اپنا بستر رکھ دیا
بعدِ مردن بھی نہ ڈالا بار کچھ احباب پر
قبر میں میرا صبا نے جسمِ لاغر رکھ دیا
نقشِ پائے غیر دیکھے ہیں جو کوئے یار میں
رہ گزر میں میں نے خارِ جسمِ لاغر رکھ دیا
آمدِ خط سے ہوا پوشیدہ کب چاہِ ذقن
خضر نے اک چشمۂ حیواں چھپا کر رکھ دیا
ہنس کے پوچھا اس صنم نے ، کون ہے تیرا رقیب
میں نے اس کے سامنے آئینہ لے کر رکھ دیا
کشتۂ رخسار کا ظاہر نشاں ہو، اس لیے
قبر پر اس نے ہماری سنگِ مرمر رکھ دیا
خانۂ دل دے دیا ہے داغِ الفت کے عوض
رہن میں نے اک درم پر آج یہ گھر رکھ دیا
ہو نہ جائے پردئہ انوارِ حق تیرا نقاب
تو نے گر اس کو اٹھا کر روزِ محشر رکھ دیا
ہاتھ دھو بیٹھ آبِ حیواں سے ، خدا جانے کہاں
خضر نے اس کو چھپا کر اے سکندر رکھ دیا
قصّہ خوانِ یار کو بھیجا ہے لکھ کر حالِ دل
ہاتھ میں قاصد کے میں نے ایک دفتر رکھ دیا
۱ - سرود رفتہ، ص ۲۴۲ ، رسالہ زبان ، دہلی ستمبر ۱۸۹۳ء
خ

کیا مزا بلبل کو آیا شیوئہ بے داد کا
ڈھونڈتی پھرتی ہے اڑ اڑ کر جو گھر صیّاد کا
کس بتِ پردہ نشیں کے عشق میں ہوں مبتلا
حسرتِ دل پر ہے برقع دامنِ فریاد کا
جب دعا بہرِ اثر مانگی تو یہ پایا جواب
غیر رو کر لے گئے حصہ تری فریاد کا
ہوں وہ ناداں ، ڈر سے زیرِ دام پنہاں ہو گیا
دور سے چہرہ نظر آیا اگر صیّاد کا
سن کے اس کو بے رخی سے بھاگ جاتا ہے مدام
کیا اثر معشوق ہے اے دل تری فریاد کا
شرم آئی جب مری رگ میں لہو نکلا نہ کچھ
آب میں ہے غرق گویا نیشتر فَصّاد کا
قمریوں نے باغ میں دیکھا ہے اس خوش قد کو کیا
ہے چھری ان کے لیے پتّا ہر اک شمشاد کا
بھول جاتے ہیں مجھے سب یار کے جور و ستم
میں تو دیوانہ ہوں اے اقبال تیری یاد کا۱
۱ - سرود رفتہ ، ص ۱۴۳، زبان دہلی نومبر ۱۸۹۳ء
خ
کام بلبل نے کیا ہے مانی و بہزاد کا
برگِ گل پر اس نے فوٹو لے لیا صیّاد کا
پہلے یہ بیگانگی ہم کو نظر آئی نہ تھی
سبزئہ گلشن پہ سایہ پڑ گیا صیّاد کا
چلتے چلتے باغ میں بلبل نے یوں گل سے کہا
تجھ کو گلچیں کا مبارک ، مجھ کو گھر صیّاد کا
کچھ کدورت ہے دلوں کی ، کچھ دھواں آہوں کا ہے
یہ زمین و آسماں ہے خانۂ صیّاد کا
یادِ گلشن ہے زباں پر ، لب پہ ذکر آشیاں
داغِ ہجرِ گل جگر میں ، دل میں ڈر صیّاد کا
بیکسوں کے پاس کون آئے قفس میں ہم صفیر
یادِ گل آتی ہے یا آتا ہے ڈر صیّاد کا
ہائے کس کس لطف سے ظالم نے بتلایا مجھے
بھول کر گلچیں سے پوچھا تھا پتا صیّاد کا
چلتے چلتے خارِ گل سے کیوں اٹک جاتا ہے یہ
دل کسی بلبل کا ہے ، دامن مگر صیّاد کا
قتل کرتا ہے مجھے ، آتا نہیں ہے دل میں رحم
آہنِ مقراض کا ہے دل مگر صیّاد کا
ہوں کبھی اس شاخ پر میں اور کبھی اس شاخ پر
ناک میں آخر کو دم آیا مِرے صیّاد کا
ہو گیا اقبال قیدی محفلِ گجرات کا
کام کیا اخلاق کرتے ہیں مگر صیّاد کا۱
۱ - بیاض اعجاز، ص ۶۹
جان دے کر تمہیں جینے کی دعا دیتے ہیں
پھر بھی کہتے ہو کہ عاشق ہمیں کیا دیتے ہیں
کوچۂ یار میں ساتھ اپنے سُلایا ان کو
بختِ خفتہ کو مرے پائوں دعا دیتے ہیں
بدگمانی کی بھی کچھ حد ہے کہ ہم قاصد سے
قسمیں سو لیتے ہیں جب ایک پتا دیتے ہیں
موت بازار میں بکتی ہے تو لا دو مجھ کو
ہم نشیں کس لیے جینے کی دعا دیتے ہیں
رحم آتا ہے ہمیں قیس کی عریانی پر
دھجیاں دامنِ صحرا کی اڑا دیتے ہیں
ایسی ذلّت ہے مرے واسطے عزّت سے سوا
خود وہ اٹھ کر مجھے محفل سے اٹھا دیتے ہیں
غیر کہتے ہیں کہ یہ پھول گیا ہے مردہ
قبر پر میری جو وہ پھول چڑھا دیتے ہیں
موت بولی جو ہوا کوچۂ قاتل میں گزر
سر اسی راہ میں مردانِ خدا دیتے ہیں
ان کو بے تاب کیا ، غیر کا گھر پھونک دیا
ہم دعائیں تجھے اے آہِ رسا دیتے ہیں
گرم ہم پر کبھی ہوتا ہے جو وہ بت اقبال
حضرتِ داغ کے اشعار سنا دیتے ہیں۱
۱ - نوادر اقبال ،ص ۲۸ ، زبان ، دہلی، فروری ۱۸۹۴ء
خ

بر سرِ زینت جو شمعِ محفلِ جانانہ ہے
شانہ اس کی زلفِ پیچاں کا پرِ پروانہ ہے
شکوئہ جور و جفا سے باز آ جاتے ہیں ہم
کیوں صفِ محشر میں حالت تیری بے تابانہ ہے
رخنہ اندازی نہ کر ، کہہ دے کوئی گل گیر کو
شمع کا یہ گل نہیں ، خاکِ تنِ پروانہ ہے۱
کچھ خبر پوچھیں اسیرِ زلفِ پیچاں کی ، مگر
سو زبانیں اس کی ہیں ، کیا اعتبارِ شانہ ہے
اللہ اللہ ، دیدئہ واعظ میں اڑ کر جا پڑی
پردہ دارِ مے کشاں خاکِ درِ مے خانہ ہے
میری باری پر گرا ہے ، دیکھ تو جذبِ شکست
ساقیا ! توبہ سے پہلے ٹوٹتا پیمانہ ہے
رنگ لائی ہیں عبادت کا مری مے خواریاں
روکشِ سجدہ مری ہر لغزشِ مستانہ ہے
ہو گیا میری جبیں سے بت پرستی کا ظہور
خطِ پیشانی ، رگِ سنگِ درِ مے خانہ ہے
دیکھ مغرب کی طرف سے جھومتا آتا ہے کیا
ساقیا ! بادل نہیں ، اڑتا ہوا مے خانہ ہے
مے پرستی بھی نہاں ہے گردشِ تقدیر میں
خطِ پیشانی مرا گویا خطِ پیمانہ ہے
خانہ بربادی کے صدقے ، سوئے صحرا جائیں کیوں
خیر سے گھر ہی ہمارا رشکِ صد ویرانہ ہے
پائے ساقی پر گرایا ، جب گرایا ہے تجھے
چال سے خالی کہاں یہ لغزشِ مستانہ ہے۲
سخت جاں شرمندئہ شوقِ شہادت کیوں نہ ہوں
تیغ میں بل پڑ گیا ، قاتل کو دردِ شانہ ہے
ضعف کر دیتا مجھے شرمندئہ دشتِ جنوں
خانہ بربادی مگر بولی یہیں ویرانہ ہے
حضرت واعظ ہیں مے خانے میں شاید آ گئے
کلمۂ لاحول وردِ ہر لبِ پیمانہ ہے
حضرتِ ناصح کو اس محفل میں لے جا کر کہا
ہاں بتا ، اب میں ہوں دیوانہ کہ تو دیوانہ ہے
تیری محفل میں کبھی چلتا ، کبھی رکتا ہے یہ
ذکر بھی میرا مگر میری طرح دیوانہ ہے
اس نے زانو بدلا تو تعظیم کو اٹھنے لگا
تو بھی اے دردِ دلِ مضطر کوئی دیوانہ ہے
شورشِ قالوا بلٰی اٹّھی جہاں صبحِ الست
دل اسی مے خانے کا ٹوٹا ہوا پیمانہ ہے
اڑ کے اے اقبال ! سوئے بزمِ یثرب جائے گا
روح کا طائر ، عرب کی شمع کا پروانہ ہے؛۳
۱ - بیاضِ اعجاز، ص ۲۷
۲ - راوی ،صد سالہ اقبال نمبر، ص ۲۲۰
۳ - باقیاتِ اقبال، ص ۵۶۸
خ
تم آزمائو ’’ہاں‘‘ کو زباں سے نکال کے
یہ صدقے ہو گی میرے سوالِ وصال کے
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے

جادو عجب نگاہِ خریدارِ دل میں تھا
بکتا ہے ساتھ بیچنے والا بھی مال کے
چلتے ہوئے کسی کا جو آنچل سرک گیا
بولی حیا ، حضور ! دوپٹّا سنبھال کے
اے ضبط ہو شیار! مرا حرفِ مدّعا
قابو میں آ نہ جائے زبانِ سوال کے
مارے ہیں آسماں نے مجھے تاک تاک کر
کیا بے خطا ہیں تیر کمانِ ھلال کے
بگڑے حیا نہ شوخیٔ رفتار سے کہیں
چلتے نہیں وہ اپنا دوپٹّا سنبھال کے
میں نے کہا کہ بے دہنی اور یہ گالیاں!
کہنے لگے کہ بول ذرا منہ سنبھال کے
ہم موت مانگتے ہیں ، وہ گھبرائے جاتے ہیں
سمجھے انھوں نے اور ہی معنی ’’وصال‘‘ کے
حسرت نہیں ، کسی کی تمنا نہیں ہوں میں
مجھ کو نکالیے گا ذرا دیکھ بھال کے
کم بخت اک ’’نہیں‘‘ کی ہزاروں ہیں صورتیں
ہوتے ہیں سو جواب سوالِ وصال کے
کہتے ہیں ہنس کے ، جایے ہم سے نہ بولیے
قربان جائوں طرزِ بیانِ ملال کے
کہتا ہے خضر دشتِ جنوں میں مجھے کہ چل
آتا ہوں میں بھی پائوں سے کانٹے نکال کے
ان کی گلی میں اور کچھ اندھیر ہو نہ جائے
اے ضعف ! دیکھ مجھ کو گرانا سنبھال کے
تصویر میں نے مانگی تو ہنس کر دیا جواب
عاشق ہوئے تھے تم تو کسی بے مثال کے
اقبال لکھنؤ سے نہ دلّی سے ہے غرض
ہم تو اسیر ہیں خمِ زلفِ کمال کے۱
۱ - بیاضِ اعجاز ،ص ۳۹ ، شورِ محشر، دسمبر ۱۸۹۶ء
خ
تصّور بھی جو بندھتا ہے تو خالِ روئے جاناں کا
بلندی پر ستارہ ہے شبِ تاریکِ ہجراں کا
نقاہت قیس کی بولی جو گزری پاس سے لیلیٰ
ذرا دامن بچانا یہ بھی کانٹا ہے بیاباں کا
جو ڈالی خاک مٹّھی سے ،کہا نالوں نے چلّا کر
تجھے آتا نہیں سر پر اٹھا لینا بیاباں کا
اڑا جب طائرِ رنگِ حنا لیلیٰ کے ہاتھوں سے
وہیں پھندا بنایا قیس نے تارِ گریباں کا
جنوں کو زخمِ دل کہتا ہے ، قائل میں بھی ہوں تیرا
جو پھاہا بن کے آنکلے کوئی پرزہ گریباں کا
جو وحشت میں کبھی موئے میانِ یار کو دیکھا
جنوں کہنے لگا ، یہ تار ہے تیرے گریباں کا
یہی کہتا ہے چاکِ دامنِ یوسف زلیخا کو
مجھے ٹانکا لگے تارِ نگاہِ پیرِ کنعاں کا
سمجھ کر اخترِ قسمت اٹھا لیتے ہیں ہم اس کو
ستارا جب گرا کوئی ترے ماتھے کی افشاں کا
جنوں ! تیرِ نگاہِ یار نے چھلنی کیا سینہ
نہیں مشکل رہا اب چھاننا خاکِ بیاباں کا
کبھی تیرِ جنوں دل میں ترازو ہو ہی جائے گا
کبھی کام آ ہی جائے گا مرے کانٹا بیاباں کا
حیا مانع رہی لیکن ادھر جذبِ محبت تھا
کسی نے اٹھ کے آخر روزنِ دیوار سے جھانکا
دمِ زورِ جنوں آخر اسی سے سر پٹکتا ہوں
مرے سر پر بڑا احسان ہے دیوارِ زنداں کا
رقیبوں کو جلاتی ہے ، تمہیں بے تاب کرتی ہے
تمہیں کہہ دو ، اثر کیا کم ہے میری آہِ سوزاں کا
غضب ہو گا ، کہیں اب وصل کا وعدہ نہ کر دینا
کہ خوگر ہو گیا ہوں میں شبِ تاریکِ ہجراں کا
برا ہو بدگمانی کا ، اسی پر آنکھ رہتی ہے
نگہباں جانتے ہیں وہ مجھے اپنے نگہباں کا
بدل جائے اگر میرا مقّدر اس کی قسمت سے
قدم آنے نہ دوں تیری گلی میں ایسے درباں کا
سمٹ کر تنگیِ دل سے سویدا بن گیا آخر
خیال آیا اگر دل میں تری زلفِ پریشاں کا
مزا انکار میں ہے وصل کے اقرار سے بڑھ کر
کرشمہ ہے یہ سب شیرینیِ تقریرِ جاناں کا
ہماری شور بختی کا اثر اتنا تو ہو یا رب
نہ ہو زخمِ جگر محتاج قاتل کے نمک داں کا
نسیمؔ و تشنہؔ ہی اقبال کچھ نازاں نہیں اس پر
مجھے بھی فخر ہے شاگردیِ داغِؔ سخنداں کا۱
۱ - باقیات اقبال ،ص ۳۸۳
خ
لاکھ سرتاجِ سخن ناظمِ شرواں ہوگا
پر مرے سامنے اک طفلِ دبستاں ہو گا
مردِ مومن کی نشانی کوئی مجھ سے پوچھے
موت جب آئے گی اس کو تو وہ خنداں ہو گا
عشق کی راہ میں جو کوئی قدم رکھے گا
کبھی گریاں ، کبھی خنداں ، کبھی عریاں ہو گا
جو وفا پیشہ سمجھتا ہے خودی کو ایماں
جنّتی ہو گا ، فرشتوں میں نمایاں ہو گا
کیا کہیں مستِ میٔ عشق کہاں ہوتا ہے
بہ درِ دیر مغاں ناصیہ کوباں ہو گا
جیتے جی سر نہ جھکائیں گے کسی کے آگے
مجھ پہ احسان نہ ہوگا تو یہ احساں ہو گا
زندگی چار دہاڑے ہے تو اس کی خاطر
بلہوس ہو گا جو شرمندئہ احساں ہو گا
چار سو پھولوں کا انبار نظر آتا ہے
شاید اس بزم میں اقبال غزل خواں ہو گا۱
۱ - باقیات اقبال، ص ۳۸۷
خ
ضد سے قمری نے کہا تم کو گلِ تر کا جواب
کہتی ہے بلبل ، نہیں ! سرو و صنوبر کا جواب
مجھ سے بگڑے تو بنے وہ اپنے تیور کا جواب
پھر کے مجھ سے بن گئے میرے مقّدر کا جواب
اٹھ کے تربت سے ترا دامن پکڑ لیتے ہیں ہم
اور کیا دیں اے ستم گر تیری ٹھوکر کا جواب
سر چڑھا جاتا ہے میرے ، پھوٹ کر چھالا مرا
ہو سکا کب یہ مرے پھوٹے مقّدر کا جواب
ساغرِ گیتی نما پر کر نہ اے جمشید ! ناز
شیشۂ دل ہے ہمارا تیرے ساغر کا جواب
تا در مے خانہ کیوں چلتا نہیں تو واعظا
آ دکھا لائیں تجھے ، کیا نام ، کوثر کا جواب
ضد سے عمّٰامے کو واعظ نے کیا غرقِ شراب
پر کہاں رندو ! ہمارے دامن تر کا جواب
کان ، چپکے سے ، مؤذّن کے لیے صبحِ وصال
واہ کیا سوجھا مجھے اللہ اکبر کا جواب
مضطرب اے دل نہ ہو ، وہ دن تو آنے دے ابھی
ہم نے نالوں میں چھپا رکھا ہے محشر کا جواب
پڑ گیا چھالا زباں پر گرمیِ مے کے سبب
دیکھ اے زاہد! حبابِ جامِ کوثر کا جواب
اس نے منہ موڑا جو میرے آبلوں سے ، کیا ہوا
بن کے نشتر چبھ گیا چھالوں میں نشتر کا جواب
روز کہتا تھا ’’ کہیں مرتا نہیں‘‘ ہم مر گئے
دے دیا ہے آج آخر تیری مر مر کا جواب
میں نے یہ پوچھا ، کرو گے قتل تم کیونکر مجھے
مار کر تلوار بولے ، ہے یہ کیونکر کا جواب
حشر میں نالے کرے گا کشتۂ رخسارِ یار
لطف تو جب ہے کہ ہو محشر میں محشر کا جواب
تیرے کانوں تک چلی جائے اگر میری خبر
پھر تو بن جائے ترے کانوں کے گوہر کا جواب
بن کے آیا ہے ہلالِ آسماں لیکن کہاں
تیرے ابرو ، تیرے ناخن ، تیرے خنجر کا جواب
ارشد۱ و رافت۲ سے ہوں اقبال میں خواہانِ داد
آبداری میں ہیں یہ اشعار گوہر کا جواب۳
۱ - میرزا ارشد گورگانی
۲ - رافت بھوپالی
۳ - بیاضِ اعجاز ،ص ۳۴
اٹھتے اٹھتے وہ گئے بیٹھ مری محفل میں
کس طرح ٹل گئی اللہ ہماری آئی
زندگی موت سے ہم دوش ہوئی جاتی ہے
میری میّت اٹھی اور ان کی سواری آئی
بری عادت ہے یہ ہر روز بگڑ جانے کی
اب تلک آپ کو اے جان نہ یاری آئی
ہائے کس ناز سے آیا ہے خیالِ جاناں
چمنِ دل میں مرے بادِ بہاری آئی
وہ مجھے روتے ہوئے دیکھ کے فرماتے ہیں
آپ کو بھی روشِ گریہ و زاری آئی
ہائے آ کر وہ دمِ نزع کسی کا کہنا
ہائے اے کاش مجھے آئے تمھاری آئی
- - - - - - - - - - - - - -
تیر کو ڈھونڈتے ہاتھوں میں کٹاری آئی
- - - - - - - - - - - - - -
لاڈلی رندوں کی ساقی کی دلاری آئی۱
۱ - بیاض اعجاز ،ص ۵۱
خ
خارِ صحرا نہ سہی دشت کے پتّھر ہی سہی
میرا چھالا نہیں پھوٹا تو مقّدر ہی سہی
فکرِ اوقات ہمیں حضرتِ ناصح کیا ہے
کچھ نہیں کھانے کو ملتا تو مرا سر ہی سہی
روزِ محشر کوئی مے خوار نشے میں بولا
میٔ احمر نہیں ملتی ہے تو کوثر ہی سہی
حشر کے روز مرا دستِ جنوں کہتا ہے
اب کہاں جائیں ، چلو دامنِ محشر ہی سہی
اچّھی سوجھی ہے ، تہِ دام پھڑک جائوں گا
میں چمن میں نہ رہوں گا تو مرے پر ہی سہی
تیغ ابرو جو نہیں ہے تو رگِ جاں کے لیے
مژئہ یار کا چبھتا ہوا نشتر ہی سہی
لوگ کہتے ہیں کہ مشکل ہے عدم کی منزل
جیتے جی کاٹ تو لی ، کیا ہوا مر کر ہی سہی
کس کو یاد آئوں گا میں حشر کے ہنگامے میں
میرا دفتر ہے گناہوں کا تو دفتر ہی سہی
ان کو کافر جو کہیں ہم تو یہ ملتا ہے جواب
تم کو اسلام مبارک ہو ، میں کافر ہی سہی
جب کہا آپ ستم گر ہیں تو فرماتے ہیں
آپ کہتے ہیں ستمگر ، تو ستمگر ہی سہی
شعر کہنا نہیں اقبال کو آتا لیکن
آپ کہتے ہیں سخن ور ، تو سخن ور ہی سہی۱
۱ - بیاضِ اعجاز ،ص ۳۶
خ
یہ جوانی کے ولولے اے دل
دو گھڑی کے ابال ہوتے ہیں
میری فرقت میں تم مرو ، توبہ
یہ حسینوں کے جال ہوتے ہیں
زور تم اپنی کم سنی پہ نہ دو
سب حسیں خُرد سال ہوتے ہیں
ہائے وہ مار ڈھیلے ہاتھوں کی
کس مزے کے ملال ہوتے ہیں
ذکر کچھ آپ کا بھی ہے ان میں
قبر میں جو سوال ہوتے ہیں
اف رے نازک مزاجیاں تیری
بات میں سو ملال ہوتے ہیں
جن کی سیرت بھی دل کو پھڑکا دے
وہ حسیں خال خال ہوتے ہیں
عاشقوں سے یہ پوچھتا ہے کوئی
کس طرح پائمال ہوتے ہیں
شاعر ، اقبال سے نہ ہوں حیراں
آدمی باکمال ہوتے ہیں۱
۱ - بیاضِ اعجاز ،ص ۵۵
خ
جس کو شہرت بھی ترستی ہے وہ رسوا اور ہے
ہوش بھی جس پر پھڑک جائیں وہ سودا اور ہے
بن کے پروانہ ترا آیا ہوں میں اے شمعِ طور
بات پھر وہ چھڑ نہ جائے ، یہ تقاضا اور ہے
جان دیتا ہوں تڑپ کر کوچۂ الفت میں میں
دیکھ لو تم بھی کوئی دم کا تماشا اور ہے
اور کچھ اندھیر کر دینا نہ اے نورِ سحر
ہجر کی شب ہے ، ابھی مجھ کو تڑپنا اور ہے
رنگِ ’’اَو ادنیٰ‘‘ میں رنگیں ہو کے اے ذوقِ طلب
کون کہتا تھا کہ لطفِ ’’ماعَرَفنا‘‘ اور ہے
دیکھ اے ذوقِ تکلّم ، یاں کوئی موسیٰ نہیں
جو مری آنکھوں میں پھرتا ہے وہ نقشا اور ہے
شمع کو بھی یوں تو رلواتی ہے پروانے کی موت
حسرتیں روئیں جسے ، وہ مرنے والا اور ہے
تم ہنسی میں سچ سمجھ بیٹھے ، نہیں ! حاشا نہیں!
وصل کیسا ! اب مرے دل کو تمنّا اور ہے
یوں تو اے صیّاد ، آزادی میں ہیں لاکھوں مزے
دام کے نیچے پھڑکنے کا تماشا اور ہے
قیس پر یوں طعنہ زن ہوتی ہے لیلیٰ دشت میں
جس کے کانٹے دل میں چبھتے ہیں ، وہ صحرا اور ہے
بدگمانی تم کو ہوتی ہے مری ہر بات پر
ٹھہرو ٹھہرو ، سنبھلو سنبھلو ، یہ فسانا اور ہے
یوں نہ کُھل کھیلو مری جاں ، ڈھب کی شوخی چاہیے
کوئی کیا سمجھے گا ، دیکھو ! اب زمانا اور ہے
بھیس بدلے محفلِ اغیار میں بیٹھا ہوں میں
وہ سمجھتے ہیں یہ کوئی اوپرا سا اور ہے
تیرے خنجر نے جگر ٹکڑے کیا ، اچھّا کیا
کچھ مرے پہلو میں لیکن چلبلاسا اور ہے
تاکتا پھرتا ہے جنسِ معصیت کو نقدِ عفو
تونے کیا سمجھا ہے اے واعظ ! یہ سودا اور ہے
وہ صف محشر میں کہتے ہیں مجھے پہچان کر
تم وہی اقبال ہو ! لو ، میں نے جانا اور ہے۱
۱ - بیاضِ اعجاز ،ص ۴۰
خ
میں تو کچھ اور ہو گیا جب سے
تیری محفل میں باریابی ہے
حسن مرتا ہے پردہ داری پر
عشق کو شوقِ بے حجابی ہے
موت کے بعد دیکھیے کیا ہو
زندگی میں تو سو خرابی ہے
بادہ کش ہے نگاہ ، گلشن میں
پھول ساغر ، کلی گلابی ہے
آدمی کام کا نہیں رہتا
عشق میں یہ بڑی خرابی ہے
’’لن ترانی‘‘ بھی طور سوزی بھی
پردے پردے میں بے حجابی ہے
پوچھتے کیا ہو مذہبِ اقبال
یہ گنہ گار بوترابی ہے؛۱
۱ - روز گار فقیر ،ص ۲۴۶، بیاض اعجاز، ص ۴۶
خ
میرے تپِ دروں کا بیاں ، قصّہ خواں نہ ہو
شعلے کی بھی زباں ہو تو ممکن بیاں نہ ہو
پوشیدہ اس میں طرزِ جفائے بتاں نہ ہو
اے دل شکایتِ ستمِ آسماں نہ ہو
مدِّ نظر جو دانۂ خالِ بتاں نہ ہو
یوں صبح اٹھ کے شیخ بھی تسبیح خواں نہ ہو
لیلیٰ کے ناقے کو حرکت ، سارباں نہ ہو
جب تک کہ روحِ قیس بدن سے رواں نہ ہو
جنت وہ کیا کہ جس میں ترا آستاں نہ ہو
سر رکھنے کو ذرا سی جگہ بھی جہاں نہ ہو
جانا تو در کنار ، اگر قتل ہوں وہاں
تیری گلی سے خون بھی میرا رواں نہ ہو
تنکا کوئی ہوا نے قفس میں گرا دیا
صیّاد دیکھتا ہے خسِ آشیاں نہ ہو
کہتے ہیں آج غیر کی حسرت نکل گئی
اے دل نکل کے دیکھ کہیں میری جاںنہ ہو
اے دودِ آہ بس کہ نہیں تابِ جور اور
پیدا ہمارے سر پہ نیا آسماں نہ ہو
اے باغباں چمن کا ہر اک برگ ہے دونیم
صحنِ چمن میں دفن کوئی نیم جاں نہ ہو
- - - - - - - - - - - - - - - - - -
جب آہ کا مزا ہے کہ پیدا دھواں نہ ہو
حوروں کے ناز مجھ سے اٹھائے نہ جائیں گے
مجھ ناتواں کا خلد میں یا رب مکاں نہ ہو
اقبال کہہ رہے ہیں یہ میری غزل کے شعر
بے سود ہے کلام اگر قدرداں نہ ہو۱
۱ - بیاض اعجاز، ص ۵۹
خ
تیرے مریض کو تپِ فرقت ہے کیا لگی
اس کو دعا لگی نہ کسی کی دوا لگی
کرتی ہے شمع اس رخِ روشن سے ہمسری
لو اس زباں دراز کو بھی اب ہوا لگی
برباد کر رہی ہے جو یہ آشیاں مرا
صیّاد تیرا ہاتھ بٹانے صبا لگی
زخمِ جگر جو تھے شبِ فرقت میں ہم سخن
چپکے سے چاندنی پسِ دیوار آ لگی
پھوٹا ہے سر مرا تو جنوں تیرا کیا گلہ
قسمت ہی اینٹ بن کے ہے ماتھے پہ آ لگی
تنگ آ کے اس کو بھی تری گالی سمجھ لیا
تیری خبر ہمیں جو نہ اے بے وفا لگی
مشّاطہ باندھ کَس کے حنا بند اس قدر
بولیں بگڑکے ’’ وائے یہ اچھی حنا لگی‘‘
خونِ رقیب نے اسے بے آبرو کیا
تیغِ نگاہِ یار مجھے کیوں نہ آ لگی
زندہ کیا جو لب نے تو مارا نگاہ نے
یعنی بقا کے ساتھ ہے قیدِ فنا لگی
اقبال گر یہی ہیں حسد کی بناوٹیں
جانے مشاعرے میں ہماری بلا لگی۱
۱ - روز گار فقیر ،ص ۲۹۱
خ
فتنے اٹھتے ہیں تیرے کوچے سے
یہ زمیں آسمان ہے گویا
بے حجابی بھی ہے تو ایسی ہے
جس میں پردے کی شان ہے گویا
ہے کشش پر مدار ہستی کا
عشق جانِ جہان ہے گویا
جب سے دل میں ہوا گزر تیرا
یہ مکاں ، لا مکان ہے گویا
کہتے ہیں دیکھ کر خموش مجھے
یہ بڑا کم زبان ہے گویا
عذرِ نا سازیِ مزاج نہیں
صبر کا امتحان ہے گویا
زندگانی کا اعتبار نہیں
آدمی میہمان ہے گویا
تم مرے دل میں رہتے سہتے ہو
یہ تمہارا مکان ہے گویا
عشق کی راہ و رسم الٹی ہے
یاں خموشی زبان ہے گویا
اہل دل ہی اسے سمجھتے ہیں
شعر دل کی زبان ہے گویا۱
۱ - ابتدائی کلام اقبال، ص ۶۰
خ

سمجھ میں آگئی تیرے پہیلی راز قدرت کی
مگر یہ بھی کبھی سو چا ہے تو خود بھی پہیلی ہے
نکل جائیں گے اے ذوقِ طلب ارماں ترے سارے
نمایش گاہِ ہست و بود میں ہر شے پہیلی ہے
- - - - - - - - - -
یہ شعلوں میں پلی ہے ، بجلیوں کے ساتھ کھیلی ہے
تری قسمت پڑی ہندوستاں میں خانہ جنگی کی
یہ شے میرے وطن والوں نے ہاتھوں ہاتھ لے لی ہے
میں اے اقبال دق آیا ہوں ان اردونویسوں سے
جو ہو اخبار روزانہ تو کہتے ہیں کہ’ ڈیلی‘ ہے!۱
۱ - بیاض اعجاز، ص ۴۳
خ

محبت کو دولت بڑی جانتے ہیں
اسے مایۂ زندگی جانتے ہیں
بُری چال ہوتی ہے بے اعتنائی
یہی ہم تو اچھّی بری جانتے ہیں
وہ کیا قدر جانیں گے میری وفا کی
کہ ہوتے ہیں جو آدمی ، جانتے ہیں
کوئی قید سمجھے مگر ہم تو اے دل
محبت کو آزادگی جانتے ہیں
حسینوں میں ہیں کچھ وہی ہوش والے
کہ جو حسن کو عارضی جانتے ہیں
جو ہے گلشنِ طور اے دل تجھے ہم
اسی باغ کی اک کلی جانتے ہیں
کہا ماجرا ان کے گھر کا تو بولے
قسم ہے ، تجھے ہم ولی جانتے ہیں
نرالے ہیں انداز دنیا سے اپنے
کہ تقلید کو خود کشی جانتے ہیں
بڑے شوخ و گستاخ ہیں رند ، زاہد
مسلمان کو دوزخی جانتے ہیں
تری چال دیکھی ہوئی ہے جنھوں نے
قیامت کو اک دل لگی جانتے ہیں
میں ہوں صاف گو منہ نہ کھلوایے گا
تمہاری وفا کو سبھی جانتے ہیں
گداگر ہو اور بال ہوں سر کے لمبے
مسلمان اس کو ولی جانتے ہیں
بدلنا پڑا ہم نشیں نامہ بر کو
اسے واں کے سب آدمی جانتے ہیں
عجب زندگانی ہے اقبال اپنی
نہ مر جانتے ہیں نہ جی جانتے ہیں
کہا میں نے اقبال کو جانتے ہو؟
تو بولے یہ ہنس کر کہ جی جانتے ہیں۱
نئی ہو ، پرانی ہو ، اقبال کو کیا؛
یہ حضرت تو بس ایک پی جانتے ہیں۲
۱ - بیاض اعجاز ،ص۲۸
۲ - ابتدائی کلام اقبال، ص ۱۱۴
خ

تم نے آغازِ محبت میں یہ سوچا ہوگا
کس طرح کا یہ نیا چاہنے والا ہوگا
تم نے سمجھا تو ہے اس گھر کو ہمارا ، لیکن
اب ہمارا ہے ، کوئی دن میں تمہارا ہوگا
حشر میں کچھ تو تمہیں حسن پہ ہوگی امّید
کچھ مرے شکوہ نہ کرنے کا بھروسا ہوگا
گھر میں بیٹھے ہیں خدا رکھّے کہ باہر ہیں کہیں
نامہ بر یہ بھی کسی نے تجھے پوچھا ہوگا
نامہ بر ! کام تو باتوں میںبنا کرتے ہیں
مان جائیں گے اگر تجھ کو سلیقا ہوگا
ہاں ، سنا پہلے ہمیں ، ان سے کہے گا کیا کیا
نامہ بر ہم جو بتائیں وہی کہنا ہوگا
ہم کہیں جائیں ، کسی کام کو جائیں ، لیکن
دل یہ کہتا ہے اسی رہ سے گزرنا ہوگا
تیرے اشعار میں اقبال یہ رنگت تو نہ تھی
تو نے کم بخت کسی شوخ کو تاکا ہوگا۱
۱- سرود رفتہ، ص ۲۴۰
خ
بُرا ہوتا ہے عشقِ شعلہ رویانِ ستم گر بھی
یہ وہ آتش ہے جس میں خاک ہو جائے سمندر بھی
محبت میں دلِ مضطر جبھی کچھ لطف اٹھتا ہے
کہ ہو معشوق ظالم بھی ، جفا جُو بھی ، ستم گر بھی
پتے کی کہہ رہا ہوں ، یاد ہوگی تجھ کو اے واعظ
وہ خلوت ، اور اس خلوت میں پھر ’’آں کارِ دیگر‘‘ بھی
چھپا کر حضرتِ واعظ سے رکھا شیشئہ مے کو
مرے کام آگئی آخر زمینِ زیرِ منبر بھی
کہیں سر رکھ دیا تھا بے خودی میں پائے جاناں پر
وہیں جوڑے کے تاروں میں رہا قسمت کا اختر بھی
شکایت کو میں دوڑوں اور تم جانے نہ دو مجھ کو
مزا آئے جو ہو یہ ہاتھا پائی روزِ محشر بھی
بجا ہے شیخ جی سب کچھ ، مگر میں کس طرح مانوں
اجی حضرت ! مرا دیکھا ہوا ہے آبِ کوثر بھی
سیہ ناموں کو دوزخ کے کسی کو نے میں رکھ دیں گے
خدا سے چال کر جائیں گے عاصی ، روز محشر بھی
بوقتِ ذبح ، دم اس کا نکل کر آگیا مجھ میں
تمہارے ہاتھ میں جاں بخش ہو جاتا ہے خنجر بھی
وہ ناکامِ تمنا ہوں ، اگر میں ڈوبنے جائوں
تو اک پانی کے قطرے کے لیے ترسے سمندر بھی
مزا ہے گر جنوں میں بڑھ کے ناخن تیز ہو جائیں
ملیں بہرِ علاجِ جوشِ فرقت ہم کو نشتر بھی
جنابِ داغ کی اقبال یہ ساری کرامت ہے
ترے جیسے کو کر ڈالا سخن داں بھی ، سخن ور بھی۱
۱ - بیاضِ اعجاز، ص ۴۴
خ
پاس ہے اور ڈھونڈتے ہیں اسے
کتنے غافل جہان والے ہیں
دب کے رہتے نہیں کسی سے بھی
جو زمانے میں آن والے ہیں
میرے دل کے مکان میں رہنا
آپ تو لامکان والے ہیں
کہہ رہے ہیں ملک ’’یہ اہل زمیں
کتنی اونچی اڑان والے ہیں‘‘
تجھ کو اقبال ان سے کیا نسبت
دلّی والے ، زبان والے ہیں
۲ - بیاضِ اعجاز ،ص ۴۲
دل کو ذوقِ دید سے جس دم شناسائی ہوئی
آنکھ محشر کے نظارے کی تمنائی ہوئی
سر کے بل راہِ مدینہ میں جو میں چلنے لگا
شوق پر صدقے تمنّائے جبیں سائی ہوئی
شوقِ گلزارِ مدینہ دل میں گھر کرنے لگا
خواہشِ جنّت چھپی پھرتی ہے شرمائی ہوئی
کوچۂ یثرب کرشمہ ہے یہ کس رفتار کا
پانی پانی ابنِ مریم کی مسیحائی ہوئی
چاک جب دستِ محبت نے کیا دامانِ ’’میم‘‘
حسنِ مخفی سے نگاہوں کو شناسائی ہوئی
میرے اندازِ تپیدن نے اسے بہکا دیا
جانتی ہے موت اپنے آپ کو آئی ہوئی
ہو گئی شرحِ رموزِ اتحادِ حسن و عشق
تیری یکتائی ہی آخر میری تنہائی ہوئی
لوگ بدنامِ محبت کہتے ہیں اقبال کو
غازئہ رخسارِ شہرت جس کی رسوائی ہوئی
۱ - باقیات اقبال، ص ۵۹۵
خ
کب ہنسا تھا کہ جو کہتے ہو کہ رونا ہوگا
ہو رہے گا مری قسمت میں جو ہونا ہوگا
خندئہ گُل پہ مجھے آج تو ہنس لینے دو
پھر اسی بات پہ رو لوں گا جو رونا ہوگا
ہم کو اقبال مصیبت میں مزا ملتا ہے
ہم تو اس بات پہ ہنستے ہیں کہ رونا ہوگا۱
۱ - باقیات اقبال ،ص ۴۵۵
خ
کجی جزوِ فطرت ہے اہلِ ستم کی
کبھی ہم نے خنجر کو سیدھا نہ دیکھا
بہت تو نے اے آنکھ دیکھے تماشے
جسے دیکھنا ، دیکھنا تھا ، نہ دیکھا
ظہور و عدم اپنا مثلِ شرر تھا
یہ سمجھو کہ دنیا کو دیکھا نہ دیکھا
اگرچہ پھرا میں بہت اس چمن میں
کسی نے مرا آنا جانا نہ دیکھا۲
۲ - روز گار فقیر ،ص ۲۸۰
خ
یہ جیتے ہیں تو مرتے ہیں ، جو مرتے ہیں تو جیتے ہیں
نرالی زندگی ہوتی ہے کچھ اللّہ کے بندوں کی
بھلا جنّت میں واعظ دخل کیا سامانِ عشرت کا
وہ اک چھوٹی سی بستی ہے کسی کے درد مندوں کی
کسی کو قتل کرتے ہیں ، کسی کی کھال اترتی ہے
یہ اجرت ہے کتابِ عشق کے شیرازہ بندوں کی
ندامت حضرت واعظ کی ہو گی دید کے قابل
قیامت میں جو سن لی تو نے یا رب ! اپنے بندوں کی
ملامت کر نہ ان کو پیت کی ریتیں نرالی ہیں
انوکھی سب سے ہوتی ہیں نمازیں درد مندوں کی
خدا جانے چھپی ہے کون سے شعلے کے دامن میں
سپند آسا صدائے رفتہ تیرے درد مندوں کی
خدا جانے مری آنکھوں نے اس ظلمت میں کیا دیکھا
کہ دل سے فکر رخصت ہوگئی دنیا کے دھندوں کی
پھنسے گا کیا وہ بلبل جو نہ نکلا آشیانے سے
نہیں ہے مجھ کو اے صیاد پروا تیرے پھندوں کی
نہ یہ دِلّی کی اردو ہے نہ یہ پورب کی بولی ہے
زباں میری ہے اے اقبال بولی درد مندوں کی۱
۱ - روز گار فقیر، جلد دوم، ص ۲۹۴
گزر کس صنم کا ہوا بت کدے میں
کہ بت بن گئے آج سب برہمن بھی
تصّور کی اے دل یہ سب خوبیاں ہیں
کہ غربت میں کرتا ہے سیرِ وطن بھی
حسیں ہم نے دیکھے ہیں دنیا میں لاکھوں
غضب ہے مگر آپ کا سادہ پن بھی
وہ کہتے ہیں یوں میری میّت پہ آ کر
جو وحشت ہے تو پھاڑ دے اب کفن بھی۱
تصّور کے کیونکر نہ قربان جائوں
وصالِ وطن ہے فراقِ وطن بھی
مقّدر میں بلبل کے تھا قید ہونا
تہِ دام تو تھی زمینِ چمن بھی
بہار آئی وحشت کی ہے آمد آمد
گلے میرے ملنے لگا پیرہن بھی
مجھے نقدِ جاں اپنی بھاری ہے یارب
رہِ عشق میں ہے کوئی راہزن بھی؟
یہی ہے جو شوقِ ملاقاتِ حضرت
تو دیکھیں گے اک بار ملکِ دکن بھی
۱ - بیاض اعجاز ،ص ۶۵
نہیں کچھ تذکرے دیدار کے مستوں میں اے واعظ!
کسی کے ذکر کو سن کر تڑپ جانے کی باتیں ہیں
مزے لے لے کے واعظ کیا بیاں کرتا ہے کوثر کا
یہ ذکرِ خلد ہے یا رب کہ مے خانے کی باتیں ہیں
مبارک ہو تجھے مستِ حیاتِ جاوداں رہنا
ہماری بزم میں اے خضر! مر جانے کی باتیں ہیں
انا الحق کہہ کے بے تابانہ سولی پر لٹک جانا
نرالی تیرے دیوانے کی ، مستانے کی باتیں ہیں
تو رمز عجز کو غافل عبودیّت سمجھ بیٹھا
ارے ناداں ! یہ نادانوں کو سمجھانے کی باتیں ہیں
کسی پر جان دیتا ہے بھلا یوں بے غرض کوئی
یہ ساری اے ستمگر دل کے آجانے کی باتیں ہیں
بیاں واعظ نے جس دم کی کہانی طور و موسیٰ کی
تو میں سمجھا کہ یہ بھی میرے ویرانے کی باتیں ہیں
شہیدِ جستجو ہے فکر انساں بزم ہستی میں
یہ کس الجھی ہوئی گتھی کے سلجھانے کی باتیں ہیں۱
۱ - بیاض اعجاز، ص ۶۶
خ
دل کی بستی عجیب بستی ہے
لوٹنے والے کو ترستی ہے
ہو قناعت جو زندگی کا اصول
تنگ دستی ، فراخ دستی ہے
جنسِ دل ہے جہان میں کمیاب
پھر بھی یہ شے غضب کی سستی ہے
تابِ اظہار عشق نے لے لی
گفتگو کو زباں ترستی ہے
ذکرِ جامِ طہور ، وعظ کا وعظ
مے پرستی کی مے پرستی ہے
شعر بھی اک شراب ہے اے دل
ہوشیاری اسی کی مستی ہے
ہم فنا ہو کے بھی فنا نہ ہوئے
نیستی اک طرح کی ہستی ہے
آنکھ کو کیا نظر نہیں آتا؟
ابر کی طرح سے برستی ہے
دیکھیے کیا سلوک ہو اقبال
مجرمِ جرمِ بت پرستی ہے۱
۱ - سرود رفتہ ،ص ۱۵۴
تری شکست ہی منظور تھی اسے اے دل
بنا دیا تجھے نازک تر آبگینے سے
جہاں سے چلتی تھی اقبال گزر قنبرؓ کی
مجھے بھی ملتی ہے روزی اسی خزینے سے
ہمیشہ وردِ زباں ہے علیؓ کا نام اقبال!
کہ پیاس روح کی بجھتی ہے اس نگینے سے
۱ - بیاض اعجاز، ص ۶۵
خ
بلا کشانِ محبت کی یادگار ہوں میں
مٹا ہوا خطِ لوحِ سرِ مزار ہوں میں
فنا ہوئے پہ بھی گویا وفا شعار ہوں میں
جو مٹ گیا تو حسینوں کا اعتبار ہوں میں
کبھی نہ گوشِ سماعت سے شرمسار ہوں میں
وہ راز ہوں کہ زمانے پہ آشکار ہوں میں
نگاہ سے نہ کہیں صبح کو اتر جائوں
شبِ وصال کسی کے گلے کا ہار ہوں میں
نسیمِ صبح نہ چھیڑے مجھے کہ دامن سے
کسی کے ہاتھ کا جھاڑا ہوا غبار ہوں میں
نشے میں مست سمجھتا ہے مجھ کو کیوں واعظ
وہ اپنا وعظ کہے جائے ، ہوشیار ہوں میں
تمہاری شوخ نگاہی نے پڑھ کے کیا پھونکا
قرار بھی مجھے آئے تو بے قرار ہوں میں
تڑپ کے شانِ کریمی نے لے لیا بوسہ
کہا جو سر کو جھکا کر ’گناہگار ہوں میں‘
کسی طرح سے مری بام تک رسائی ہو
فغانِ خاک نشینانِ کوئے یار ہوں میں
رہی نہ زہر میں اقبال وہ پرانی بات
کسی کے ہجر میں جینے سے شرمسار ہوں میں
۱ - باقیات اقبال، ص ۴۳۷
خ
ہے کلیجا فگار ہونے کو
دامنِ لالہ زار ہونے کو
کیا ادا تھی وہ جاں نثاری میں
تھے وہ مجھ پر نثار ہونے کو
جستجوئے قفس ہے میرے لیے
خوب سمجھے شکار ہونے کو
عشق وہ چیز ہے کہ جس میں قرار
چاہیے بے قرار ہونے کو
یارِ جانی کہیں نہیں ملتا
یوں تو ہوتے ہیں یار ، ہونے کو
لالہ اور داغِ دل بہانہ ہے
دل جلوں میں شمار ہونے کو
زخم اور سوزنِ رفو توبہ
کھل گیا بستہ کار ہونے کو
پیس ڈالا ہے آسماں نے مجھے
کس کی رہ کا غبار ہونے کو
وعدہ کرتے ہوئے نہ رک جائو
ہے مجھے اعتبار ہونے کو
اس نے پوچھا کہ کون چُھپتا ہے
ہم چھپے آشکار ہونے کو
ہم نے اقبال عشق بازی کی
پی یہ مَے ہوشیار ہونے کو۱
۱ - مخزن ،جون ۱۹۰۲ء ، سرود رفتہ، ص ۱۵۵
خ
عاشقِ دیدار محشر کا تمنّائی ہوا
وہ سمجھتے ہیں کہ جرمِ ناشکیبائی ہوا
غیر سے غافل ہوا میں اے نمودِ حسنِ یار
عرصۂ محشر میں پیدا کنجِ تنہائی ہوا
میری بینائی ہی شاید مانعِ دیدار تھی
بند جب آنکھیں ہوئیں تیرا تماشائی ہوا
ہائے میری بد نصیبی ، وائے ناکامی مری
پائوں جب ٹوٹے تو شوقِ دشتِ پیمائی ہوا
میں تو اس عاشق کے ذوقِ جستجو پر مرمٹا
’’ماعرفنا‘‘ کہہ کے جو تیرا تمنائی ہوا
تجھ میں کیا اے عشق وہ انداز معشوقانہ تھا
حسن خود ’’لولاک‘‘ کہہ کے تیرا شیدائی ہوا
دیکھ ناداں امیتازِ شمع و پروانہ نہ کر
حسن بن کر عشق اپنا آپ سودائی ہوا
اب مری شہرت کی سوجھی ہے انہیں، دیکھے کوئی
پِس کے میں جس دم غبارِ کوئے رسوائی ہوا
بغض اصحابِ ثلاثہ سے نہیں اقبال کو
دق مگر اک خارجی سے آ کے مولائی ہوا۱
۱ - باقیات اقبال ،ص ۳۹۴
کس شعلہ رو کا دل میں میرے گزر ہوا ہے
اس سر زمیں کا یا رب ! ہر ذرّہ طور کیوں ہے
کھاتا ہے تجھ کو اے دل کس کا غمِ جدائی
تو بے قرار کیوں ہے ، تو ناصبور کیوں ہے
ساقی وہ کون سا تھا، جس نے یہ مے پلا دی
صبحِ ازل کو پی تھی ، اب تک سرور کیوں ہے
تیرے ہی دم قدم سے چمکا نصیب ، ورنہ
یہ خاک ، خاک کیوں ہے ، وہ کوہِ طور کیوں ہے
’’حبل الورید‘‘ سے بھی نزدیک یوں ترسنا
او پاس رہنے والے ! آنکھوں سے دور کیوں ہے
میں مشتِ خاک ، مجھ میں گوہر نہاں ہے کیسا
حیرت ہے مجھ کو یا رب ! ظلمت میں نور کیوں ہے۱
۱ - روز گار فقیر ،ص ۲۷۴
خ
چاہیں اگر تو اپنا کرشمہ دکھائیں ہم
بن کر خیالِ غیر ترے دل میں آئیں ہم
اچھّی کہی شکایتِ جور و جفا کی بھی
اتنی سی بات کے لیے محشر میں جائیں ہم
اے صدمۂ فراق نہ کر ہم سے چھیڑ چھاڑ
تو کس کا ناز ہے کہ تجھے بھی اٹھائیں ہم
پوچھیں گے آج سرمۂ دنبالہ دار سے
کس طرح سے کسی کی نظر میں سمائیں ہم
دشمن شبِ فراق میں ہے اپنا آپ ہی
آ جائے موت اپنی تو گنگا نہائیں ہم
ڈرتے تھے جس کے واسطے وہ بات اب کہاں
تو ایک اب کہے تو تجھے سو سنائیں ہم
ہر چیز منع ہے جو ہمیں اے طبیبِ عشق
لیکن بڑھے جو ضعف تو غش بھی نہ کھائیں ہم
اقبال شعر کے لیے فرصت ضرور ہے
اس فکرِ امتحاں میں غزل کیا سنائیں ہم۱
۱ - بیاض اعجاز ،ص ۲۰
خ
لڑکپن کے ہیں دن صورت ، کسی کی بھولی بھولی ہے
زباں میٹھی ہے’ لب ہنستے ہیں‘ پیاری پیاری بولی ہے
ترا اے سیلِ دریائے محبت منہ تکوں کب تک
مری کشتی جو تھی آپ اپنے ہاتھوں سے ڈبو لی ہے
کوئی شوخی تو دیکھے جب ذرا رونا تھما میرا
کہا بے درد نے ’’کیوں آپ نے مالا پرو لی ہے‘‘
جفا جو کہہ دیا میں نے مگر تم نے برا مانا
خفا کیوں ہو گئے یہ عاشقوں کی بولی ٹھولی ہے
شبِ فرقت تصور تھا مرا ، اعجاز تھا کیا تھا
تری تصویر کو میں نے بلایا ہے تو بولی ہے
وہ میری جستجو میں پھر رہے ہیں ، خیر ہو یارب!
پتا میرا بتانے کو قیامت ساتھ ہولی ہے
سنا ہے آج جنّت میںبڑی رونق کا جلسہ ہے
ترے کشتے کا ہے نیلام اور حوروں کی بولی ہے
تماشائی کوئی آئینۂ ہستی میں ہے اپنا
مزا ہے ، حسن نے اے دل کتاب عشق کھولی ہے
سمجھ سکتا نہ تھا کوئی مجھے اس بزمِ ہستی میں
گرہ تھی زندگی میری ، اجل نے آ کے کھولی ہے
جگت ایشر ہے تو ، ہر آتما کو پیت ہے تیری
صنم خانے کی یا رب کیسی پیاری پیاری بولی ہے
ہمیں یادِ وطن ! کیا پیش آنا ہے خدا جانے
بھلا تو کس لیے غربت زدوں کے ساتھ ہولی ہے
تغیّر روز کا کچھ دید کے قابل نہ تھا نرگس
بتا پھر کس کے نظّارے کو تونے آنکھ کھولی ہے
تبسم ، چاکِ جیبِ گل ، ترنّم ، نالۂ بلبل
یہ بے مہروں کی باتیں ہیں ، یہ بیدردوں کی بولی ہے
مہ و خورشید و انجم دوڑتے ہیں ساتھ ساتھ اس کے
فلک کیا ہے کسی معشوقِ بے پروا کی ڈولی ہے
یہ ہو گی شوخ اے صیّاد مدّت کی اسیری سے
نیا قیدی ہوں میں ، آواز میری بھولی بھولی ہے
لہو کی بوند یاں لالے کی کلیاں بن کے پھوٹی ہیں
مگر زیرِ زمیں کھیلی ترے کشتوں نے ہولی ہے
دیارِ عشق میں واماندگی ، رفتار ہے اے دل
جسے کہتے ہیں خاموشی وہ اس بستی کی بولی ہے
گماں تجھ پر ہوا تھا کیا دلِ بلبل کی چوری کا
صبا نے غنچۂ گل ! کیوں گرہ تیری ٹٹولی ہے
گلِ مضموں سے اے اقبال یہ سہرا ہے ناصرؔ کا
غزل میری غزل کیا ہے ، کسی گلچیں کی جھولی ہے۱
۱ - بیاض اعجاز ،ص ۳۲
خ
کھلا راز ان پر مری بے بسی کا
الٰہی بھرم کھل نہ جائے کسی کا
سوا اس کے اب قوم کو کام کیا ہے
امیروں کا شکوہ، گلہ بے زری کا
خدا جانے کیا ہو گیا ہندیوں کو
کہ اس دیس میں راج ہے دشمنی کا۱
۱ - باقیات اقبال، ص ۳۹۸
خ
پہلے مل جاتا تھا ریاضت سے
اب کسی کو خدا نہیں ملتا
جستجو اپنی جستجو ہی نہ تھی
ورنہ ڈھونڈیں تو کیا نہیں ملتا
ہم نے اقبال کو بہت ڈھونڈا
کوئی اس نام کا نہیں ملتا۲
۲ - بیاض اعجاز ،ص ۶۰
خ
حیرت نظر کو ، دل کو تپش ، لب کو خامشی
انعام بٹ رہے ہیں تری جلوہ گاہ میں
کیا آپ کو بھی یاد ہے اے حضرتِ کلیم!
ٹیلا سا ایک ہے جو محبت کی راہ میں
ہنستا ہوں قصۂ اَرِنی گوئے طور پر
کیا جانے کیا سمایا ہے میری نگاہ میں
غم سے میں ان کے عشق میں گو خاک ہو گیا
پر ، شاد ہوں کہ مل تو گیا گردِ راہ میں
-----(پہلا مصرع نا مکمل)------
تعمیر بت کدے ہوئے کعبے کی راہ میں
اقبال کی نہ پوچھ تلّون مزاجیاں
مے خانے میں کبھی ہے ، کبھی خانقاہ میں۱
۱ - بیاض اعجاز ،ص ۴۲
خ

دیگر
تو نہاں مجھ سے مرے داغِ جگر کی صورت
میں نہاں تجھ سے ترے موئے کمر کی صورت
خیر ، کیا بات ہے پتھر ہے اگر دل تیرا
ہم بھی اس سنگ میں رہتے ہیں شرر کی صورت
نام روشن تو رہے عمر ہو گو برق خرام
زندگی چاہیے دنیا میں شرر کی صورت
ہو شگفتہ ترے دم سے چمنِ دہر تمام
سیر اس باغ کی کر بادِ سحر کی صورت
کوچۂ عشق کے یہ راہ نما بنتے ہیں
اللہ اللہ کوئی دیکھے تو خضر کی صورت
جوش زن بحرِ محبت تھا مگر دل اپنا
صاف نکلا نگہِ دیدئہ تر کی صورت
گالیاں ہم کو دیے جاتے ہو کیوں خیر تو ہے
آج کچھ آپ بڑھے جاتے ہو -- کی صورت
وصل کی رات تو آخر ہوئی اے دامنِ صبر
چاک ہو تو بھی گریبانِ سحر کی صورت
گر پڑا شیشۂ دل سنگِ درِ جاناں پر
یہ بھی ٹوٹے گا یہیں کاسئہ سر کی صورت
خون اب دل میں نہیں اے رہِ الفت باقی
ختم ہو تو بھی کہیں زادِ سفر کی صورت
کیوں نہ آنکھوں پہ بٹھائوں تجھے اے روزن در
تو دکھاتا ہے کسی رشکِ قمر کی صورت
میں تو دیوانہ ہوا ، خیر ، کوئی بات نہ تھی
آپ کیوں پھر گئے لیکن مرے سر کی صورت
یہ تو بتلا دے مؤذّن کہ تری آنکھوں سے
کیا مروّت بھی گئی خوابِ سحر کی صورت
عشقِ یعقوب کا تو محرمِ اسرار تو ہو
پیرہن دے گا دکھا تجھ کو پسر کی صورت
دہر میں ذوقِ سکوں تجھ کو ہے پیغامِ فنا
تازہ رکھ جوشِ سفر شمس و قمر کی صورت
ضربِ شمشیرِ حوادث سے نہ کھو قوتِ ضبط
سخت خود دار ہو دنیا میں سپر کی صورت
ہے گل و لالہ کی صورت تو اُنہی سی لیکن
ان میں یہ سوز نہیں قلب و جگر کی صورت
لطف جب آتا ہے اقبال سخن گوئی کا
شعر نکلے صدفِ دل سے گہر کی صورت
۱ - بیاض اعجاز، ص ۵۰ ، باقیات اقبال، ص ۴۱۶
خ
پاس والوں کو تو آخر دیکھنا ہی تھا مجھے
نادرِؔ کاکوروی نے دور سے دیکھا مجھے
اے حبابِ بحر ، اے پروردئہ دامانِ موج
کچھ پتہ ملتا ہے تجھ سے اپنی ہستی کا مجھے
کیا کروں اے دل چمن آرائے عالم کا گلہ
ضبط کی طاقت نہ دی ، بخشا لبِ گویا مجھے
دل میں جو آتا ہے کہہ دوں گا کہ میں مجبور ہوں
کوئی سمجھے یا نہ سمجھے ، کچھ نہیں پروا مجھے
دل کو ہے اندر ہی اندر جستجو تیری مگر
کیا قیامت ہے کہ سمجھا تو نے بے پروا مجھے
کھل گئی چشمِ تماشا اپنی جس دم اے کلیم
طور ہر ذرّے کے دامن میں نظر آیا مجھے
قہر کر دینا نہ اے صیّاد مجھ کو چھوڑ کر
ہو گیا ہے قید سے کچھ پیار سا پیدا مجھے
کس قدر تاریک تھی یا رب مری صبحِ نمود
آہ ! اس ظلمت نے مجھ سے بھی چھپا رکھا مجھے
حالِ دل کس سے کہوں اے لذتِ افشائے راز
ایک بھی اس دیس میں محرم نہیں ملتا مجھے
رہتے ہیں بے درد میری چشمِ تر پر خندہ زن
اے دلِ درد آشنا تو نے کیا رسوا مجھے
یوں بگڑنا میری خود بینی پہ اب زیبا نہیں
اپنی صورت پر کیا تھا تو نے کیوں پیدا مجھے
تر چلی آتی ہے کچھ صبحِ ازل سے اپنی آنکھ
جب سے روتا ہوں کہ آتا بھی نہ تھا رونا مجھے
جا تو نکلوں وادیِ ایمن میں میں بھی اے کلیم
’’لن ترانی‘‘ کہہ نہ دے وہ شوخِ بے پروا مجھے
یاد دنیا کی کہاں باقی ہے اے اہلِ عدم
ہاں یونہی سا یاد ہے کچھ اپنا مر جانا مجھے
ہے بسیرا اک نئی ڈالی پہ مدّت سے مگر
یاد آتا ہے پرانا آشیاں اپنا مجھے
موت یہ میری نہیں ، میری اجل کی موت ہے
کیوں ڈروں اس سے کہ مر کر پھر نہیں مرنا مجھے
ہر کسی کو بزمِ ہستی میں ہے رونا موت کا
اور اس محفل میں رونا زندگانی کا مجھے
وہ گئے شہرِ خموشاں میں تو یہ آئی صدا
او گزرنے والے ، ٹھوکر سے مٹا جانا مجھے
لکھ دیا تھا میں نے کیا خط میں کہ آیا یہ جواب
کچھ سمجھ کر آپ نے یہ خط لکھا ہوتا مجھے
کس غضب کا رنگ لائی ہے سیہ کاری مری
مغفرت نے بھی نہ روزِ حشر پہچانا مجھے
نادرؔ و نیرنگؔ ہیں اقبال میرے ہم صفیر
ہے اسی تثلیث فی التوحید کا سودا مجھے
۱ - بیاض اعجاز، ص ۵۷
خ
عبادت میں زاہد کو مسرور رہنا
مجھے پی کے تھوڑی سی مخمور رہنا
دمِ آفرینش ہدایت تھی دل کو
کلیم تماشائے ہر طور رہتا
نبھائیں گے کیا ایک سے وہ محبت
جنہیں ہر نظر میں ہو منظور رہنا
سکھائی ہے کس نے تمہیں بے حجابی
حسینوں کا شیوہ ہے مستور رہنا
تمہیں کیا بتائیں محبت ہے کیا شے
یہ ہے دل کے ہاتھوں سے مجبور رہنا
عجب شیوئہ عاشقی ہے جہاں میں
نہ معذور رکھنا ، نہ معذور رہنا
کوئی چال اس خاکساری میں ہو گی
تمہاری تو عادت تھی مغرور رہنا
مقّدر کی تقسیم ہوتی تھی جس دم
پسند آگیا دل کو مجبور رہنا
نہیں عشق بازی یہ زاہد تو کیا ہے
اسیرِ خمِ گیسوئے حور رہنا
نہ ہو جن کی آنکھوں میں تابِ نظارہ
بھلا ان غریبوں سے کیا دور رہنا
دکھاوے کی بے اعتنائی کے صدقے
بڑے کام آیا مجھے دور رہنا
نہ میں تم کو دیکھوں ، نہ اغیار دیکھیں
مری آنکھ میں صورتِ نور رہنا
وہ سَو ناز اقبال پر کر رہے ہیں
زمانے میں ہے ان کو مشہور رہنا۱
۱ - بیاض اعجاز ،ص ۳۵
خ
جو مضموں میرے دل سے حرفِ موزوں بن کے نکلے ہیں
وہی طائر بھی آخر گنبدِ مدفن کے نکلے ہیں
مری جاں، داستاں میری کلیجا تھام کر سننا
کہ میرے حال پر آنسو مرے دشمن کے نکلے ہیں
مسافر من چلے ہوتے ہیں کیا راہِ محبت کے
متاع دل کو لے کر واسطے رہِ زن کے نکلے ہیں
رفو اے بخیہ گر چاکِ محبت ہو تو کیوں کر ہو
مرے زخموں پہ آنسو دیدئہ سوزن کے نکلے ہیں
پسند آئی نہ ان کو سیر نخلستانِ ایمن کی
مگر صحرائے یثرب میں وہ کیا بن ٹھن کے نکلے ہیں
کبھی اس راہ سے شاید سواری تیری گزری ہے
کہ میرے دل میں نقشِ پا ترے توسن کے نکلے ہیں
کرامت دیکھ اے دستِ جنوں بادِ محبت کی
عرب میں جا کے پرزے میرے پیراہن کے نکلے ہیں
گلستانِ جہاں میں مثلِ بلبل اڑتے پھرتے ہیں
قلم سے شعر گویا میرے پریاں بن کے نکلے ہیں
سبب اے ہم نشینو کچھ نہ پوچھو میرے رونے کا
یہ ارماں ہیں کہ جو آنکھوں سے آنسو بن کے نکلے ہیں
نہ تڑپایا کسی کو تیرے نظّارے کے ارماں نے
کہ سارے دیکھنے والے تری چلمن کے نکلے ہیں
کیا حیراں فرشتوں کو بھی تیرے درد مندوں نے
خدا جانے تری محفل سے یہ کیا بن کے نکلے ہیں
چلے جاتے ہیں سیدھے ، پھر ادھر کا رخ نہیں کرتے
جو مثلِ بو نظارے چھوڑ کر گلشن کے نکلے ہیں
خدا جانے یہاں کی ہے ہوا وسعت فزا کیسی
تری درگاہ سے ذرّے بیاباں بن کے نکلے ہیں
جو اپنی کشت زارِ دل کو میں نے اے فلک دیکھا
ستارے بھی ترے دانے مرے خرمن کے نکلے ہیں
تعلّق پھول ہیں گویا ریاضِ آفرینش کے
مگر دیکھا تو کانٹے بھی یہی دامن کے نکلے ہیں
جنھوں نے مثلِ شبنم اس چمن میں آپ کو دیکھا
وہی عاشق کسی کے چہرئہ روشن کے نکلے ہیں
تماشا کی جو وسعت میں نے اپنے دامنِ دل کی
ہزاروں دشت اک گوشے میں اس دامن کے نکلے ہیں
برہمن روزِ محشر ڈھونڈتا پھرتا ہے واعظ کو
صنم جو تھے وہ پتّھر وادیِ ایمن کے نکلے ہیں
وہ مذبوحِ ازل ہوں میں کہ خنجر سب حسینوں کے
پرانے آشنا میرے رگِ گردن کے نکلے ہیں
مجھے اقبال اس سیّد کے گھر سے فیض پہنچا ہے
پلے جو اس کے دامن میں ہیں ، وہ کچھ بن کے نکلے ہیں
خ
نظارئہ کہکشاں نے مجھ کو عجیب نکتہ یہ کل سجھایا
ہزار گردش رہی فلک کو ، مگر یہ تارے بہم رہے ہیں
کوئی غرورِ شہنشہی سے یہ جاکے میرا پیام کہہ دے
کہ اس زیاں خانے میں سکندر رہے نہ دارا نہ جم رہے ہیں
قفس میں اے ہمصفیر ! اگلی شکایتوں کی حکایتیں کیا
خزاں کا دورہ ہے گلستاں میں ، نہ تورہا ہے نہ ہم رہے ہیں
اگر تمنّا ہو عافیت کی ، خدا سے بیگانگی نہ کرنا
جہاں میں تیرِ ستم سے ایمن طیورِ بامِ حرم رہے ہیں۱
۱ - روز گار فقیر، ص ۲۵۴
خ

چمن ہے اپنا دلِ داغدار لالوں کا
بھلا ہو دونوں جہاں میں ستانے والوں کا
سنا ہے صورتِ سینا ، نجف میں بھی اے دل
کوئی مقام ہے غش کھا کے گرنے والوں کا
نہ پوچھ مجھ سے حقیقت دیارِ لندن کی
یہ اک جہان ہے گویا پری جمالوں کا
ولی بھی ، رند بھی ، شاعر بھی ، کیا نہیں اقبال
حساب ہے کوئی کم بخت کے کمالوں کا۱
۱ - روز گار فقیر، ص ۲۵۶
خ
لاکھوں طرح کے لطف ہیں اس اضطراب میں
تھوڑی سی دیر اور ہو خط کے جواب میں
زلفِ دراز ، حسن پہ یوں طعنہ زن ہوئی
تیری طرح سے ہم نہ رہیں گے حجاب میں
کیوں وصل کے سوال پہ چپ لگ گئی تمھیں
دو چار گالیاں ہی سنا دو جواب میں
حسرت بھری نظر کو جو ساقی نے رد کیا
ڈوبی غریب شرم سے جا کے شراب میں
تابِ نظارئہ رخِ روشن نہیں مجھے
جب بے نقاب تم ہو تو ہوں میں نقاب میں۱
اچھّا ہوا یہیں سے نکیرین چپ ہوئے
کچھ بات بڑھ چلی تھی سوال و جواب میں
آئینہ رکھ کے سامنے زلفیں سنوار تو
تیری بلا سے کوئی رہے پیچ و تاب میں
۱ - بیاض اعجاز ،ص ۵۷
خ
نظّارہ ماہ کا سامانِ بے خودی ہے مجھے
یہ چاندنی ہے کہ گردوں سے مے برستی ہے
وہ سیر دل کی کرے ، ذوقِ جستجو ہو جسے
جہاں کو جس نے بسایا ، یہ اس کی بستی ہے
میں اس دیار کے ، پچھم کے ساکنو ! صدقے
جہاں کے کوچوں میں غیرت ہے ، تنگدستی ہے
ہزاروں نقش مٹے اک ترے بنانے کو
تری نمود سے غافل ! نمودِ ہستی ہے۲
۲ - بیاض اعجاز، ص ۳۲۹


غزلوں کے جزوی متروکات

غزل
؎ نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
گیا ہے ادھر سے کوئی یوں نکل کر
قیامت تھی ، بجلی تھی ، رفتار کیا تھی
سلیقہ نہ تھا بات کرنے کا تم کو
مجھے یاد ہے میری سرکار کیا تھی
لیا مغفرت نے تڑپ کر بغل میں
کرامت تھی شرم ، گنہگار کیا تھی
چھپائی ہے زاہد کوئی چیز تو نے
یہ شے ، تیرے قرباں ، مرے یار کیا تھی
ٹھہرتا، ذرا سن کے ، کم بخت ! آتا
وہاں نامہ بر ! آج تکرار کیا تھی
نہ چھوڑا کبھی بے وفائی نے تم کو
مری طرح یہ بھی وفا دار کیا تھی
ہزاروں کلیجے کو تھامے ہوئے ہیں
الٰہی وہ چشمِ فسوں کار کیا تھی
قفس میں ہے بلبل تو ویراں چمن ہے
یہی رونقِ رنگِ گلزار کیا تھی
مرا دل بھی اٹھنے کو چاہا نہ واں سے
فسوں تھا کوئی ، بزمِ اغیار کیا تھی
ترے ساتھ اڑتی گئی رہ گزر میں
مری خاک اے دامنِ یار کیا تھی
یہ وعدہ کسی نے کیا کیا سمجھ کر
مری بزم تھی بزم اغیار کیا تھی۱
۱ - بیاض اعجاز، ص ۲۹ ، شعر نمبر ۱۱ ، سرود رفتہ، ص ۲۴۰
خ

غزل
؎ لائوں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے
دیکھ لیتا ہوں جہاں تنکا کوئی چبھتا ہوا
میں اٹھا لیتا ہوں اپنے آشیانے کے لیے
ہم صفیرو تم مری عالی نگاہی دیکھنا
شاخِ نخلِ طور تاڑی آشیانے کے لیے
قصّہ خواں نے کیوں سنا دی داستاں مجھ کو مری
رہ گیا تھا میں ہی کیا اپنے فسانے کے لیے
عشق نے مٹّی کو مسجودِ ملائک کر دیا
ورنہ انساں اور فرشتے سر جھکانے کے لیے
صبحِ پیدایش یہ کہتا تھا کسی کو دردِ عشق
آنکھ رونے کے لیے، دل ٹوٹ جانے کے لیے
ترک کر دی تھی غزل خوانی مگر اقبالؔ نے
یہ غزل لکھّی ہمایوںؔ کو سنانے کے لیے۱
۱ - سرود رفتہ، ص ۱۶۰
خ

غزل
؎ کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیوں کر ہوا
موت کی ظلمت میں ہے پنہاں شراب زندگی
مر گیا ہوں یوں تو میں ، لیکن فنا کیوں کر ہوا

یوں تو مرتے ہو ہنسی ٹھٹھّے پہ اے اقبالؔ تم
دل تمہارا اس قدر درد آشنا کیوں کر ہوا۱
۱ - سرود رفتہ ، ص ۱۴۰ ، مخزن، فروری ۱۹۰۳ء
خ
غزل
؎ انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
بیابانوں میں اے دل اہلِ دل کی جستجو کیسی
کریں جو پیار انساں سے وہی اللہ والے ہیں
غضب کے من چلے ہیں جنس دل کے بیچنے والے
یہ بندے مال کے ساتھ آپ بھی بک جانے والے ہیں
پتا یوں تو بتاتے ہیں وہ سب کو لامکاں اپنا
ہمیں معلوم ہے اے دل ، جہاں کے رہنے والے ہیں
پلا دی اس کو کیا مے ساقیِ بادِ بہاری نے
زبانِ برگِ گُل پر قطرئہ شبنم کے چھالے ہیں
نہیں کچھ امتیازِ ما و تو شہرِ محبت میں
نرالا دیس ہے ، دستور بھی واں کے نرالے ہیں
نہ دیکھ اے دیدئہ خوں بار دل کو کم نگاہی سے
ترے آنسو اسی اجڑے ہوئے گلشن کے لالے ہیں
دعا دیتا ہوں ، روتا ہوں ، گلہ کرتا ہوں قسمت کا
ہزاروں ڈھنگ اظہارِ تمنّا کے نکالے ہیں
الٰہی کون سا مالی ہے اس دل کے گلستاں کا
امیدوں کے شجر ، زخموں کے گل، داغوں کے لالے ہیں
نشانِ ماہِ کنعاں اے زلیخا پوچھ لے مجھ سے
کہ میں نے چاہِ دل سے سیکڑوں یوسف نکالے ہیں۱
کہیں جائیں تمہارے دشت پیما چھپ نہیں سکتے
خود ان کے نقشِ پا کہتے ہیں ان تلووں میں چھالے ہیں۲
۱ - بیاض اعجاز، ص ۱ ، دکن ریویو، اگست ۱۹۰۴ء
۲ - ماہ نو ، اقبال نمبر، ۱۹۷۷ء
خ
غزل
؎ ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
سو سو امید بندھتی ہے اک اک نگاہ پر
مجھ کو نہ ایسے پیار سے دیکھا کرے کوئی
دے کر جھلک سی آپ تو پردے میں ہو رہے
اور کہہ گئے نگاہ کو ڈھونڈا کرے کوئی
بولے بھی سن کے قصّۂ ہجراں تو یہ کہا
کی دل لگی تو یہ بھی گوارا کرے کوئی
جوش و خروشِ عشقِ غلامِ نبی ، اگر
دیکھا نہ ہو تو آج تماشا کرے کوئی۱
ہم جانتے ہیں میم کے پردے میں کون ہے
ہاں بھیدیوں سے منہ نہ چھپایا کرے کوئی
صبح ازل یہ دردِ محبت نے دی صدا
مجھ کو بھی ساتھ حسن کے پیدا کرے کوئی
محفل میں شغلِ مے ہو ، شبِ ماہتاب ہو
اور میں گروں تو مجھ کو سنبھالا کرے کوئی
اقبالؔ عشق نے مرے سب بل دیے نکال
مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی۲
۱ - پیسہ اخبار، لاہور ۳۰ مئی ۱۹۰۳ء
۲ - مخزن، اپریل ۱۹۰۳ء

خ

 


غزل
؎ کہوں کیا آرزوئے بے دلی مجھ کو کہاں تک ہے
حباب آسا سرِ موجِ نفس باندھا ہے محمل کو
ذرا دیکھ اے شرر ، ذوقِ فنا مجھ کو کہاں تک ہے
وہی اک شعلہ ہے ، تربت بھی ہے اور شمعِ تربت بھی
مزا مرنے کا کچھ پروانۂ آتش بجاں تک ہے
نہ سیکھی تو نے مرغِ رنگِ گل سے رمزِ آزادی
یہ قیدِ بوستاں ، بلبل ، خیالِ آشیاں تک ہے
بنائیں چارہ گر نے دیدئہ حیراں کی زنجیریں
نظر آسامری وحشت میں بے تابی یہاں تک ہے
میں خارِ خشک پہلو شعلۂ گلخن کے قابل ہوں
پڑے رہنا مرا گلشن میں رحمِ باغباں تک ہے
مثالِ عکس ، بے تارِ نفس ہے زندگی میری
تری آسیب کاری اے اجل اقلیمِ جاں تک ہے
زباں تک عقدئہ بت خانہ بن کر رہ گیا مطلب
اثر مجھ دل جلے کی بستہ کاری کا کہاں تک ہے
نہیں منت پذیرِ چشم رونا شمعِ سوزاں کا
سمجھ غافل گدازِ دل میں آزادی کہاں تک ہے
بھلا اے گل کبھی اس رمز کو تو نے بھی سمجھا ہے
تری شبنم فریبی کیوں بہارِ بوستاں تک ہے
یہ ہے اقبالؔ فیضِ یادِ نامِ مرتضیٰؓ جس سے
نگاہِ فکر میں خلوت سرائے لامکاں تک ہے۱
۱ - بیاض اعجاز، ص ۴۵، مخزن، اکتوبر ۱۹۰۳ء
خ
غزل
؎جنہیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں ، زمینوں میں
میں تاریکی ہوں لیکن مجھ میں پوشیدہ وہ گوہر ہے
جھلک جس کی عیاں ہے ، اے فلک ، تیرے نگینوں میں
کہیں لیلیٰ نے شاید دیکھ پائی ہے جھلک تیری
کہ محمل سے نکل کر جا ملی صحرا نشینوں میں
میں اے خضر محبت ڈھونڈتا ہوں اس ولایت کو
جہاں سبزے کی صورت طور اگتے ہیں زمینوں میں۲
۲ - سرود رفتہ، ص ۱۶۲
خ
غزل
؎ ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری جاں ! نہیں ربط غیروں سے اچھا
بھلا میں تمہارا برا چاہتا ہوں
مجھے جلوئہ گل ہے برق تجلّی
سنبھالو مجھے ، میں گرا چاہتا ہوں
نہ کوثر کا خواہاں ، نہ حوروں کا شیدا
خدا جانے میں کیا ہوں ، کیا چاہتا ہوں
اگوں ، سبز ہوں ، پِس کے ہوں خون آخر
میں قسمتِ مثال حنا چاہتا ہوں
شجر ہوں گری مجھ پہ برقِ محبت
ہرا ہو گیا ہوں ، پھلا چاہتا ہوں
مری جاں ، تری بے حجابی سے پہلے
تری دید کا حوصلا چاہتا ہوں
محبت مٹا دے گی بیگانگی کو
سنبھل بیٹھ میں تو ہوا چاہتا ہوں
ہوا خاک میں اے ہوائے محبت
مدینے کی جانب اڑا چاہتا ہوں
چلو مل کے اقبالؔ کے گھر کو ڈھونڈیں
کہ میں بھی اسے دیکھنا چاہتا ہوں۱
۱ - کلیات اقبال، حیدر آباد ص ۱۳ ، مخزن، جنوری ۱۹۰۴ء
خ

غزل
؎ کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے
اثر غضب کا دعائے قدح میں ہے ساقی
کوئی اسے بھی ذرا داخلِ نماز کرے
جواب ملتا ہے ’’لولاک‘‘ ، ’’ماعرفنا‘‘ کا
کوئی جو عجز کے دامن کو یاں دراز کرے
پرانے کفر کو تازہ کروں یہ کہہ کہہ کر
مدینہ وہ ہے کہ کعبہ جدھر نماز کرے
شعاعِ نور کو تاریکیِ جہاں میں نہ ڈھونڈ
یہی ہے شمع اگر دل کو تو گداز کرے
نہیں ہے فرق محبت میں اور غلامی میں
یہ عشق وہ ہے کہ محمود کو ایاز کرے۱
۱ - سرود رفتہ، ص ۱۶۲ ، مخزن، جون ۱۹۰۴ء
خ

غزل
؎سختیاں کرتا ہوں دل پر ،غیر سے غافل ہوں میں
اے تماشائی مری پستی کا نظّارہ تو دیکھ
اسفلِ عالی نظر ہوں ، ناقصِ کامل ہوں میں
تم نے تاکا دل کو لیکن اف رے شوقِ تیرِ عشق
دل سے کہتا ہے جگر ، تو دل نہیں ہے ، دل ہوں میں
تجھ میں پوشیدہ ہے لیلیٰ اور ہے لیلیٰ کوئی
کہہ رہا ہے دل ترا ، لیلیٰ نہیں ، محمل ہوں میں
کشت آزادی کی بجلی تھی مری تقلید ہی
پھونک ڈالی اپنی کھیتی ، آہ ، کیا غافل ہوں میں
میں وہی ہوں ، کھو گیا تھا جس کا دل صبحِ الست
اب نہ پہچانو تو تم جانو ، وہی بے دل ہوں میں
ہے عبث اے برق تجھ کو میرے حاصل کی تلاش
مجھ پہ آ کے گر کہ اپنا آپ ہی حاصل ہوں میں
تخم ریزی جس کی ہنگام صدائے ’’کن‘‘ ہوئی
اس پرانی مزرعِ زرخیز کا حاصل ہوں میں
جانتا ہوں جلوئہ بے پردہ ہے کاشانہ سوز
سادگی دیکھو کہ پھر دیدار کا سائل ہوں میں۱
۱ - سرود رفتہ، ص ۱۵۹ ، مخزن ،دسمبر ۱۹۰۴ء
خ
غزل
؎مجنوں نے شہر چھوڑا ، تو صحرا بھی چھوڑ دے
مینارِ دل پہ اپنے خدا کا نزول دیکھ
یہ انتظارِ مہدی و عیسیٰ بھی چھوڑ دے
ہاں اے شرابِ عشق ، یہ دن ہیں نمود کے
ایسی اچھل کہ خلوتِ مینا بھی چھوڑ دے۲
۲ - مخزن، مئی ۱۹۰۵ء
خ

غزل
؎ زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں
آنسوئوں کی سبحہ گردانی سے ہے پیری میں کام
صبح کے دامن میں شبنم کے سوا کچھ بھی نہیں۱
۱ - ابتدائی کلام اقبال، ص ۲۹۶
خ
غزل
؎ الٰہی عقلِ خجستہ پے کو ذرا سی دیوانگی سکھا دے
ہے سلطنت جس کی دفن دِلّی میں خود وہ کابل میں سو رہا ہے
جہاں میں سب کچھ ہے ، اک علاج قضائے چرخِ کہن نہیں ہے۲
۲ - روز گار فقیر، جلد دوم، ص ۳۰۴

خ

غزل
؎ زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا
اڑایا ذوقِ تپش پتنگے سے ، شمع سے شوقِ اشک باری
کہیں سے سیکھی نماز میں نے ، لیا کہیں سے سبق وضو کا
جو چاک میرے جگر کے دیکھے ، کلی نے بادِ صبا سے پوچھا
یہ آدمی ہے کہ گل ہے ؟ منت پذیر ہے سوزنِ رفو کا ۱
۱ - سرود رفتہ، ص ۱۵۹
خ
غزل
؎ چمک تیری عیاں بجلی میں ، آتش میں، شرارے میں
جو نکلی نالہ بن کر غنچۂ منقارِ بلبل سے
وہی نکہت چمن سے اڑ کے جا چمکی ستارے میں
مِرے پہلو میں دل ہے یا کوئی آئینہ جادو کا
تری صورت نظر آئی مجھے اپنے نظارے میں
اتارا میں نے زنجیرِ رسومِ اہلِ ظاہر کو
ملا وہ لطفِ آزادی مجھے تیرے سہارے میں
نہاں تھا تُو تو روشن تھا چراغِ زندگی میرا
مگر موجِ نفس پوشیدہ تھی تیرے نظارے میں۲

۲ - سرود رفتہ، ص ۱۵۸ ، مخزن، دسمبر ۱۹۰۶ء

خ

غزل
؎ یوں تو اے بزمِ جہاں ! دلکش تھے ہنگامے ترے
کیا سنائوں قصۂ بے تابیِ ایّامِ ہجر
صبحِ محشر ایک فردا میرے فردائوں میں تھی
محفلِ ہستی میں آزارِ تہی دستی نہ ہو
یہ بھی اک میری جوانی کی تمنّائوں میں تھی
اے کلیم ان کے نہ ملنے کی شکایت ہے عبث
کون سی بانکی ادا تیرے تقاضائوں میں تھی۱
فتنۂ محشر کسی صورت ہو بیتابِ نمود
مشورت یہ آج تیرے ناشکیبائوں میں تھی
۱ - بیاض اعجاز، ص ۶۱ ، بیاض اوّل، ص ۱۱۲
خ

غزل
؎مثال پر توِمے ، طوفِ جام کرتے ہیں
ہوا جہاں کی ہے پیکار آفریں کیسی
کہاں عدم کے مسافر مقام کرتے ہیں
عجب فسانہ ہے مجھ کافرِ محبت کا
صنم بھی سن کے جسے رام رام کرتے ہیں
نظارہ لالے کا تڑپا گیا مرے جی کو
بہار میں اسے آتش بجام کرتے ہیں
رہینِ لذّتِ ہستی نہ ہو کہ مثل شرار
یہ راہ ایک نفس میں تمام کرتے ہیں
جہاں کو ہوتی ہے عبرت ہماری پستی سے
نظامِ دہر میں ہم کچھ تو کام کرتے ہیں
نہ قدر ہو مرے اشعار کی گراں کیونکر
پسند ان کو وزیرِ نظام کرتے ہیں۱
۱ - بیاض اعجاز، ص ۴۱
خ
غزل
؎ زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدارِ یار ہوگا
جنہوں نے میری زبانِ گویا کو محشرستاں صدا کاجانا
مرا وہ دل چیر کر جو دیکھیں تو واں سکوتِ مزار ہوگا۲
۲ - سرود رفتہ، ص ۱۵۸
غزل
؎ یہ سرودِ قمری و بلبل فریبِ گوش ہے
خوف کچھ اس کا ترے فرقت نصیبوں کو نہیں
حشر اوروں کا ابھی فردا ہے ، ان کا دوش ہے
کھل گیا آخر چمن میں ہستیِ بلبل کا راز
لذّتِ پرواز ، ہنگامے سے ہم آغوش ہے
پوچھتی تھی گل سے کل بلبل کہ اے جانِ چمن!
بھید یہ کیا ہے کہ میں نالاں ہوں ، تو خاموش ہے
بار ہستی میں وہ کیا لذّت تھی ایسی اے حباب!
موج پشتِ غم سراپا ، تو سراپا دوش ہے۱
۱ - بیاض اوّل، ص ۱۱۰
خ

غزل
؎ نالہ ہے بلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی
جلوئہ گل کا ہے اک دام نمایاں ، بلبل
اس گلستاں میں ہیں پوشیدہ کئی دام ابھی
ہم نوا لذّتِ آزادیِ پرواز کجا
بے پری سے ہے نشیمن بھی مجھے دام ابھی۱
۱ - سرود رفتہ، ص ۱۵۸، مخزن، مئی ۱۹۱۷ء
خ
غزل
؎ پردہ چہرے سے اٹھا انجمن آرائی کر
دل ہے یک بین و یک اندیش تو پروا کیا ہے
بے خطر دیدئہ بیتاب کو ہرجائی کر۲
۲ - روز گار فقیر، جلد دوم، ص ۳۱۹

خ
غزل
؎کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کوئی جا کے مسلمِ خستہ جاں کو سنائے میرا پیام یہ
جو وطن ہے دشمنِ آبرو تو اماں ہے ملکِ حجاز میں
تجھے کیا بتائوں میں ہم نشیں ، مجھے موت میں جو مزا ملا
نہ ملا مسیح و خضر کو بھی ، وہ نشاط عمرِ دراز میں۳
۳ - کلیات اقبال، حیدر آباد، ص ۹

 


مکمل قطعات ؍ رباعیات


قطعات

کہکشاں میں آ کے اختر مل گئے
اک لڑی میں آکے گوہر مل گئے
واہ وا کیا محفلِ احباب ہے
ہم وطن ، غربت میں آ کر مل گئے
خ
ظلم سہتے ہیں وطن اپنا نہ جن سے چھٹ سکا
شکوئہ حکّام ، پر اے دل نہیں تیرا بجا
کیا عجب کشمیر میں رہ کر جو ہے ان پر جفا
پائے گل اندر چمن دائم پُر است از خارہا
خ
موتی عدن سے ، لعل ہوا ہے یمن سے دور
یا نافۂ غزال ہوا ہے ختن سے دور
ہندوستاں میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کر
بلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دور
خ
سو تدابیر کی اے قوم یہ ہے اک تدبیر
چشمِ اغیار میں بڑھتی ہے اسی سے توقیر
دُرِ مطلب ہے اخوّت کے صدف میں پنہاں
مل کے دنیا میں رہو مثلِ حروفِ کشمیر
خ
سامنے ایسے گلستاں کے کبھی گر نکلے
جیبِ خجلت سے سر طور نہ باہر نکلے
ہے جو ہر لحظہ تجلی گہِ مولائے جلیل
عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے
خ
پنجۂ ظلم و جہالت نے برا حال کیا
بن کے مقراض ہمیں بے پر وبے بال کیا
توڑ اس دستِ جفا کیش کو یا رب جس نے
روحِ آزادیِ کشمیر کو پامال کیا
خ
بت پرستی کو مرے پیشِ نظر لاتی ہے
یادِ ایّامِ گزشتہ مجھے شرماتی ہے
ہے جو پیشانی پہ اسلام کا ٹیکا اقبال
کوئی پنڈت مجھے کہتا ہے تو شرم آتی ہے
کشمیر کا چمن جو مجھے دل پذیر ہے
اس باغِ جاں فزا کا یہ بلبل اسیر ہے
ورثے میں ہم کو آئی ہے آدم کی جائداد
جو ہے وطن ہمارا وہ جنّت نظیر ہے۱
خ
دہر کی شانِ بقا خطۂ کشمیر میں دیکھ
باغِ جنّت کی ہوا خطۂ کشمیر میں دیکھ
ذرّے ذرّے میں ہے اک حسن کا طوفان بپا
جوش میں لطفِ خدا خطۂ کشمیر میں دیکھ۲
۱ - کشمیر گزٹ، ستمبر ۱۹۰۱ئ، رسالہ مجلس کشمیری مسلمانان، لاہور، اکتوبر ۱۸۹۶
۲ - سرود رفتہ، ص ۲۴۵
خ

ترجمہ از ڈائک
دل ، شمع صفت عشق سے ہو نور سراپا
اور فکر یہ روشن ہو کہ آئینہ ہو گویا
نیکی ہو ہر اک فعل میں نیّت کی ہویدا
ہر حال میں ہو خالقِ ہستی پہ بھروسا
ایسی کوئی نعمت تہِ افلاک نہیں ہے
یہ بات جو حاصل ہو تو کچھ باک نہیں ہے
۱ - مخزن ،جنوری ۱۹۰۴ء
رباعی
واعظ ! ترے فلسفے سے ہوں میں حیراں
منطق ہے تری نئی ، نیا طرزِ بیاں
انسان کے واسطے ہے مذہب ، لیکن
تو کہتا ہے ، مذہب کے لیے ہے انساں۲
۲ - زمانہ ، جون ۱۹۰۵ء

خ

مدینے کی خاک
قطرے کے منہ سے نام جو تیرا نکل گیا
بادل سے گر کے روئے ہوا پر سنبھل گیا
عظمت ہے خاکِ پاکِ مدینہ کی خاک کو
خورشید بھی گیا تو وہاں سر کے بل گیا۱
۱ - بیاض اعجاز ، ص ۶۹
خ
صحنِ گلشن سے ہوں گو میں آشیاں برباد دور
لالہ و گل سے نہیں میرا دلِ ناشاد دور
در کنارِ لالہ و آغوشِ گل آرام نیست
شبنمے را کز محیطِ بیکراں افتاد دور۲
۲۔ بیاض اعجاز ، ص ۱۶
خ
آٹو گراف نازلی بیگم
لندن ، ۹ جون ۱۹۰۸ء
اے کہ تیرے آستانے پر جبیں گستر قمر

اور فیضِ آستاں بوسی سے گل برسر قمر
روشنی لے کر تری ، موجِ غبارِ راہ سے

دیتا ہے لیلائے شب کو نور کی چادر قمر
کاروانِ قوم کو ہے تجھ سے زینت اس طرح

جس طرح گردوں پہ صدرِ محفلِ اختر قمر
شمعِ بزمِ اہلِ ملت را چراغِ طور کُن

یعنی ظلمت خانۂ مارا سراپا نور کن۳
۳ - عکس مشمولہ ’’ اقبال ‘‘ از عطیہ فیضی (انگریزی) ص ۳۰
خ
رباعی
پتھر ہے اگر علم سے بے گانہ ہے
بے عقل ہے ، بے ہوش ہے ، دیوانہ ہے
کیا لَہو و لعب میں آبرو پائے گا
نادان ! چھلکنے کو یہ پیمانہ ہے۱
خ
۱ - ماہ نو ،اقبال نمبر ۷۷، ص ۲۵۶
بنائے قومیت
تو قیس نہیں تو تجھ کو بن سے کیا کام
زر پاس نہیں تو راہزن سے کیا کام
مسلم کی بنائے قومیت ہے اسلام
مسلم ہے اگر تو تو وطن سے کیا کام۲
۲ - رو داد انجمن ۱۹۱۲ء ، صوفی، مئی ۱۹۱۲ء
خ
طائرِ شام
لبریز ہے سرود سے تیرے سکوتِ شام
طائر کہاں ہے ایک طلسمِ نوا ہے تو
انساں کی ہے جو شام وہ تاروں کی ہے سحر
خوابیدہ ہیں نجوم ، اذاں کی صدا ہے تو۱
۱ - بیاض اقبال اوّل، ص ۹۸
خ
قطعہ
گم گشتۂ کنعاں ہے ، اے خوگرِ زنداں تو
ہستی کے خیاباں میں ہر پھول زلیخا ہے
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی
تو ہستیِ بینا ہے ، دانا ہے ، توانا ہے۲
۲ - مشمولہ شاد اقبال، خط محرّرہ یکم اکتوبر ۱۹۱۳ء

خ

قطعہ
اے حبابِ بحر ، اے پروردۂ دامانِ موج
کچھ پتا ملتا ہے تجھ سے اپنی ہستی کا مجھے
کھل گئی چشمِ تماشا اپنی جس دم اے کلیم
طور ہر ذرّے کے دامن میں نظر آیا مجھے

موت یہ میری نہیں ، میری اجل کی موت ہے
کیوں ڈروں اس سے کہ مر کر پھر نہیں مرنا مجھے ۱
۱ - کلیات اقبال ، حیدر آباد ،ص ۲۴
خ
برائے مشاعرہ بزمِ اردو، لاہور (۲۷ جنوری ۱۹۱۷ئ)
بجلی کی زد میں آتے ہیں پہلے وہی طیور
جو اس چمن سرا میں بلند آشیاں رہے
موقوفِ آرزو ہے توانائیِ حیات
پیری ، شباب ہے جو تمنّا جواں رہے
کچھ اور شے نہیں ہے وہی زندگی ہے موت
جس زندگی میں کاوشِ سود و زیاں رہے۲
۲ - بیاض اعجاز، ص ۷۰ ، مخزن، فروری ۱۹۱۷ء
خ
مکافاتِ عمل
ہر عمل کے لیے ہے رد عمل
دہر میں نیش کا جواب ہے نیش
شیر سے آسمان لیتا ہے
انتقامِ غزال و اشتر و میش
سر گزشتِ جہاں کا سّرِ خفی
کہہ گیا ہے کوئی نکو اندیش
’’شمع پروانہ را بسوخت ولے
زود بریاں شود بروغنِ خویش‘‘۱
۱ - بیاض ،ص ۹ ، نظام لاہو ر ، فروری ۱۹۱۹ء
خ
جلیا نوالہ باغ امرت سر
ہر زائرِ چمن سے یہ کہتی ہے خاکِ باغ
غافل نہ رہ جہان میں گردوں کی چال سے
سینچا گیا ہے خونِ شہیداں سے اس کا تخم
تو آنسوئوں کا بخل نہ کر اس نہال سے۲
۲ - نوادر اقبال، ص ۲۹۴
خ
رباعی
گردوں کو کوئی زمین کر سکتا ہے
حکمت جو ہے مشین کر سکتا ہے
ٹکڑے ٹکڑے وہ چین کر سکتا ہے
جو ایک کو تین تین کر سکتا ہے
۳ - بیاض سوم، ص ۱۳

 

دورِ دوم کا کلام
(۱۹۰۹ء تا ۱۹۲۴)
’’بانگِ درا‘‘ کی اشاعت تک

خ مکمل متروکہ نظمیں
خ نظموں کے جزوی متروکات
خ مکمل متروکہ غزلیں
خ غزلوں کے جزوی متروکات
خ ظریفانہ قطعات
خ ظریفانہ قطعات کے جزوی متروکات
خ قطعات ؍ رباعیات

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مکمل متروکہ نظمیں

علم
تو ہی ہے اے علم ہر جا زینۂ بامِ عروج
تیری برکت سے ہوا آفاق میں نامِ عروج
رہنمائے منزلِ مقصد ہے تو سب کے لیے
تو نسیمِ صبح ہے ہر غنچۂ لب کے لیے
تیرے ہی زیرِ قدم ہے خسروی کی افسری
دہر میں قائم ہے تیرے دم سے شانِ قیصری
تیری پابوسی سے پہنچے آدمی افلاک پر
سر کشی تجھ سے گراتی ہے بشر کو خاک پر
کنجِ آسائش میں گنجِ شایگاں تجھ سے ملے
عالمِ فانی میں عمرِ جاوداں تجھ سے ملے
تیرے دم سے نت نئی ایجاد ہے آفاق میں
تیرے ہر جلوے کی ہر دم یاد ہے آفاق میں
خوشی نصیبی ، شوکت و حشمت ترا انعام ہے
تیرا اک خادم ہے یاں ، اقبال جس کا نام ہے
اہلِ عالم کے لیے تو مونس و غم خوار ہے
تیری ہی برکت سے یاں ہر اک کا بیڑا پار ہے
تیرا دامن جس نے تھاما وہ ٹھکانے لگ گیا
تیری پابوسی میں پنہاں ہیں رموزِ ’’لافتا‘‘
تو ہے اک شانِ یداللّہ خلق کے ہر کام میں
فتح و نصرت ہے تری برکت سے ہر ایّام میں
جو ترے باغِ معانی کی ہوا کھاتا نہیں
باغِ عالم میں کبھی نشو و نما پاتا نہیں
اے چراغِ بزمِ ہستی ، محفل آرائے جہاں
تجھ سے روشن ہے بیاض ہستیِ کون و مکاں
تو ہے اک شمعِ ہدا راہِ حقیقت کے لیے
اک چراغِ نور ہے اہلِ طریقت کے لیے

امتیازِ نیک و بد تیرے سوا ہوتی نہیں
تجھ سے محکم ہے جہاں میں رشتۂ دنیا و دیں
عاشقانِ حق کو تو ہے دیدئہ عین الیقیں
حاشیہ بردار ہیں تیرے جہاں میں ہر کہیں
تجھ سے قائم ہے جہاں میں عزّت و شانِ ہنر
وہ شجر ہے تو کہ ہے جس کا بہت میٹھا ثمر
تو ہے کانِ عقل و دانش ، مخزنِ حکمت ہے تو
زینتِ انساں ہے تو ، زیور ہے تو ، عزّت ہے تو
پایۂ نازِ سخن ور ، زنیت افزائے سخن
تو ہے ، تجھ سے ہی فزوں ہے رونقِ ہر انجمن
فی الحقیقت نوعِ انساں کا تو اک استاد ہے
سچ تو یہ ہے تیری برکت سے جہاں آباد ہے
ہر کہ شد شیدائے حُسنت ، عاقل و فرزانہ شد
سر کش از حکم تو در بزمِ جہاں دیوانہ شد۱
۱ - انوار اقبال، ص ۳۰۴
خ

شکریہ
گرچہ قدرت نے مجھے افسردہ دل پیدا کیا
آنکھ وہ بخشی کہ ہے نظّارہ آشامِ بہار
کھینچ کر سوئے گلستاں لے گیا ذوقِ نظر
عاشقِ فطرت کو ہے صحنِ گلستاں کوئے یار
گل نے بلبل سے کہا ، لے ہم صفیر آیا ترا
کہتی تھی بلبل کہ ’’اے مقصودِ چشمِ انتظار
اتنے دن غائب رہا تو گلشنِ پنجاب سے
کر لیا تھا کیا کسی صیّاد نے تجھ کو شکار‘‘
کس سے کہتے راز اپنا لالہ ہائے شعلہ پوش
کس پہ کرتے دردِ دل اپنا عنادل آشکار
پوچھتی تھی روز مجھ سے نرگسِ شبنم فریب
ہو گیا غائب کہاں اپنے چمن کا رازدار
پھول فرقت میں تری سوزن بہ پیراہن رہے
دیدئہ قمری میں تھا صحنِ گلستاں خار زار

غنچۂ نو خیز کو یہ کہہ کے بہلاتی تھی میں
ہے یہیں پوشیدہ وہ وارفتۂ فصلِ بہار
کچھ تو کہہ ہم سے بھی اس وارفتگی کا ماجرا
لے گیا تجھ کو کہاں تیرا دلِ بے اختیار
کس تجلّی گاہ نے کھینچا ترا دامانِ دل
تیری مشتِ خاک نے کس دیس میں پایا قرار
کیا کہوں اس بوستانِ غیرتِ فردوس کی
جس کے پھولوں میں ہوا ہے ہم نوا میرا گزار
جس کے ذرّے مہرِ عالم تاب کو سامانِ نور
جس کی طور افروزیوں پر دیدئہ موسیٰ نثار
جس کے بلبل عندلیبِ عقلِ کل کے ہم صفیر
جس کے غنچوں کے لیے رخسارِ حور آئینہ دار
خطّۂ جنت ، فضا جس کی ہے دامن گیرِ دل
عظمتِ دیرینۂ ہندوستاں کی یادگار
جس نے اسمِ اعظمِ محبوب کی تاثیر سے
وسعتِ عالم میں پایا صورتِ گردوں وقار

نور کے ذرّوں سے قدرت نے بنائی یہ زمیں
آئینہ ٹپکے دکن کی خاک اگر پائے فشار
آستانے پر وزارت کے ہوا میرا گزر
بڑھ گیا جس سے مرا ملکِ سخن میں اعتبار
اس قدر حق نے بنایا اس کو عالی مرتبت
آسماں اس آستانے کی ہے اک موجِ غبار
کی وزیرِ شاہ نے وہ عزّت افزائی مری
چرخ کے انجم مری رفعت پہ ہوتے تھے نثار
مسند آرائے وزارت راجۂ کیواں حشم
روشن اس کی رائے روشن سے نگارِ روزگار
اس کی تقریروں سے رنگیں گلستانِ شاعری
اس کی تحریروں پہ نظمِ مملکت کا انحصار
لیلیِٰ معنی کا محمل ، اس کی نثرِ دل پذیر
نظم اس کی ، شاہدِ رازِ ازل کی پردہ دار
اس کے فیضِ پاکی منّت خواہ ، کانِ لعل خیز
بحرِ گوہر آفریں دستِ کرم سے شرمسار

سلسلہ اس کی مروّت کا یونہی لا انتہا
جس طرح ساحل سے عاری بحرِ ناپیدا کنار
دل ربا اس کا تکلّم ، خُلق اس کا عطرِ گل
غنچۂ دل کے لیے موجِ نفس ، بادِ بہار
ہو خطا کاری کا ڈر ایسے مدبّر کو کہاں
جس کی ہر تدبیر کی تقدیر ہو آئینہ دار
ہے یہاں شانِ امارت ، پردہ دارِ شانِ فقر
خرقہ درویشی کا ہے زیر قبائے زرنگار
خاکساری جوہر آئینۂ عظمت بنی
دست وقفِ کار فرمائی و دل مصروفِ یار
نقش وہ اس کی عنایت نے مرے دل پر کیا
محو کر سکتا نہیں جس کو مرورِ روزگار
کیوں نہ ہو ، اس شاہ کو زیبا ہے ایسا ہی وزیر
ذات ہو جس کی شہنشاہانِ عالم کا وقار
شکریہ احساں کا اے اقبال لازم تھا مجھے
مدح پیرائی امیروں کی نہیں میرا شعار
۱ - بیاض اوّل، ص ۳۹ ، بیاض اعجاز، ص ۲۲۶
ہمارا تاجدار
(بیاد گار شاہی دربار تاجپوشی ہزامپیریل میجسٹی جارج پنجم بمقام دہلی)
ہمائے اوجِ سعادت ہو آشکار اپنا
کہ تاج پوش ہوا آج تاجدار اپنا
اسی کے دم سے ہے عزّت ہماری قوموں میں
اسی کے نام سے قائم ہے اعتبار اپنا
اسی سے عہدِ وفا ہندیوں نے باندھا ہے
اسی کے خاکِ قدم پر ہے دل نثار اپنا۱
۱ - مخزن ،جنوری ۱۹۱۲ء
خ
نعت
نگاہ عاشق کی دیکھ لیتی ہے پردئہ میم کو اٹھا کر
وہ بزمِ یثرب میں آ کے بیٹھیں ہزار منہ کو چھپا چھپا کر
جو تیرے کوچے کے ساکنوں کا فضائے جنت میں دل نہ بہلا
تسلیاں دے رہی ہیں حوریں خوشامدوں سے منا منا کر
بہار جنّت کو کھینچتا تھا ہمیں مدینے سے آج رضواں
ہزار مشکل سے اس کو ٹالا بڑے بہانے بنا بنا کر
لحد میں سوتے ہیں تیرے شیدا تو حورِ جنت کو اس میں کیا ہے
کہ شورِ محشر کو بھیجتی ہے ، خبر نہیں کیا سکھا سکھا کر
تری جدائی میں خاک ہونا اثر دکھاتا ہے کیمیا کا
دیارِ یثرب میں جا ہی پہنچے ، صبا کی موجوں میں مل ملا کر
شہیدِ عشقِ نبیؐ کے مرنے میں بانکپن بھی ہیں سو طرح کے
اجل بھی کہتی ہے زندہ باشی ، ہمارے مرنے پہ زہر کھا کر
رکھی ہوئی کام آ ہی جاتی ہے جنسِ عصیاں عجیب شے ہے
کوئی اسے پوچھتا پھرے ہے زرِ شفاعت دکھا دکھا کر
ترے ثنا گو عروسِ رحمت سے چھیڑ کرتے ہیں روزِ محشر
کہ اس کو پیچھے لگا لیا ہے گناہ اپنے دکھا دکھا کر
کرے کوئی کیا کہ تاڑ لیتی ہے لاکھ پردوں میں بھی شفاعت
رکھے تھے ہم نے گناہ اپنے ترے غضب سے چھپا چھپا کر
بتائے دیتے ہیں اے صبا ہم یہ گلستانِ عرب کی بو ہے
مُکر نہ اب ، ہاتھ لا ادھر کو ، وہیں سے لائی ہے تو اڑا کر
تری جدائی میں مرنے والے فنا کے تیروں سے بے خطر ہیں
اجل کی ہم نے ہنسی اڑائی ، اسے بھی مارا تھکا تھکا کر

ہنسی بھی کچھ کچھ نکل رہی ہے ، مجھے بھی محشر میں تاکتی ہے
کہیں شفاعت نہ لے گئی ہو مری کتابِ عمل اٹھا کر
اڑا کے لائی ہے اے صبا تو جو بوُ کسی زلفِ عنبریں کی
ہمیں سے اچھّی نہیں یہ باتیں ، خدا کی رہ میں بھی کچھ دیا کر
یہ پردہ داری تو پردہ در ہے مگر شفاعت کا آسرا ہے
دبک کے محشر میں بیٹھ جاتا ہوں دامن تر میں منہ چھپا کر
شہیدِ عشقِ نبیؐ ہوں ، میری لحد پہ شمعِ قمر جلے گی
اٹھا کے لائیں گے خود فرشتے چراغ ، خورشید سے جلا کر
جسے محبت کا درد کہتے ہیں ، مایۂ زندگی ہے مجھ کو
یہ درد وہ ہے کہ میں نے رکھّا ہے دل میں اس کو چھپا چھپا کر
خیالِ راہ عدم سے اقبال تیرے در پر ہوا ہے حاضر
بغل میں زادِ عمل نہیں ہے صلہ مری نعت کا عطا کر
۱ - بیاض اعجاز، ص ۱۲ ، سرودِ رفتہ، ص ۶۲
خ
پیش کش بہ -----
نغمۂ رنگیں سمجھ یا نالۂ پیہم سمجھ
اس نوا کو یا نوائے بربطِ عالم سمجھ
پیش کش ہے درد مندوں کی یہی دو چار اشک
خواہ موتی ، خواہ صبحِ عشق کی شبنم سمجھ
درد کے پانی سے ہے سر سبز یہ کشتِ سخن
فطرتِ شاعر کے آئینے میںجوہر ، غم سمجھ
خندہ ہے بہرِ طلسمِ غنچہ تمہیدِ شکست
تو تبسّم سے مری کلیوں کو نا محرم سمجھ
دل کو لیکن مانعِ خدمت نہیں افسردگی
اس نگیں کو تا ابد زندانیِ خاتم سمجھ
ہے ترے دم سے شرار آباد ، خاکستر مری
واسطے تیرے ، طبیعت ہے چمن پرور مری
گلستاں بن کر مہک اٹھّا دل پرُِخوں مرا
ہے سرود آموزِ بلبل نالۂ موزوں مرا
گردشِ پیہم مبارک ساغر خورشید کو
ہو گیا پابندِ مینا بادئہ گلگوں مرا
زخمۂ الفت سے ہے تارِ رگِ جاں نغمہ خیز
یعنی تیرے سحر سے پیدا ہوا افسوں مرا

میرے نظّارے میں پیدا ہو گیا اندازِ نو
اور ہی میری زمیں ہے اور ہی گردوں مرا
ہے تری منّت طلب میری بہارِ شاعری
تازہ تر ہے میرے دامن میں گلِ مضموں ترا
عشق لیکن دردِ محرومی سے پاتا ہے کمال
ہجر لیلیٰ سے ہوا آوارہ تر مجنوں مرا
ہے ترے نورِ خفی سے محفل افروزی مری
تیرے قدموں پر تصّدق ہے جگر سوزی مری۱
۱ - بیاض اوّل ،ص ۵۹
خ
قربانیِ خلیل
افق پر ہویدا ہوئی شانِ صبح
ہوئے محو تسبیح مرغانِ صبح
فلک پر ملائک نے ہو کر بہم
کیا سورۂ نور کو پڑھ کے دم
یہ پڑھتا تھا دشتِ عرب کا سکوت
’’فسبحان حی الّذی لا یموت‘‘
اٹھے بزم سے محفل آرائے شب
چھپی اپنے محمل میں لیلائے شب
ستارے مٹے ، اوس رونے لگی
زمیں سے بغل گیر ہونے لگی
چھلکتے تھے شبنم سے پھولوں کے جام
مثالِ سکوں تھا ہوا کا خرام
سہاتی ہے کیسی سحر کی گھڑی
سحر ہے دعا کی ، اثر کی گھڑی
وہ معمارِ کعبہ خلیلِ خدا
وہ چشمِ درخشاں کہ وقتِ مقال
دکھاتی تھی پیغمبری کا جلال
وہ دستِ توانا کہ تھا بت شکن
نمایاں تھے پیری کے اس پر شکن
زباں آشنائے سرودِ نیاز
قدم چومتی تھی قبائے دراز
قد --------تھا مست ---------
نگاہوں میں کیفِ شرابِ رضا
وہ رخسار ، وہ صبحِ پیری کا نور
چمک جس کی ہو سرمۂ چشمِ طور
خموشی سے پیدا محبت کا سوز
ہوئی جس سے توحید عالم فروز
جبیں پر رہا نور پرتو فگن
ہوا جس سے شعلوں میں پیدا چمن
نور محمدی
جو ہے خالقِ دہر ، اور دہر بھی
جو ہے بحر اور بحر کی لہر بھی
جو کثرت میں آ کر بھی تنہا رہا
نہاں ہو کے پردوں میں پیدا۱ رہا
رہی بے کلی جس کو سیماب وار
ملا میمِ احمدؐ میں جس کو قرار
ہوا جسمِ بے سایہ بن کر عیاں
بنی جس سے خاکِ عرب آسماں
سمایا نہ جو وہم و ادراک میں
درخشاں ہوا شانِ ’’لولاک‘‘ میں
کہیں اس سے آبادیِ بزمِ قیس
کہیں خیرہ کرتا ہے چشمِ اویس
کہیں قہرِ فاروقؓ ، وعظِ علیؓ
کہیں نعرئہ ’’امّتی امّتی‘‘
عَلم پر کہیں بن کے چمکا ہلال
جلایا کہیں اس نے رختِ بلال
کہیں طور پر ’’لن ترانی‘‘ سے کام
کہیں کوہِ فاراں پہ دیدارِ عام
اسی سے تھا روشن یقینِ خلیل
اسی کی امیں تھی جبینِ خلیل
۱ - پیدا بمعنی آشکار
خ

غرض وہ مَہِ آسمانِ رضا
رہا دیر تک محوِ ذکرِ خدا
نظر کو اٹھائے سوئے آسماں
ہوا اپنے خیمے کی جانب رواں
یہ کہتا تھا اے خالقِ مہر و ماہ
کرم کی مرے حال پر ہو نگاہ
کھٹکتا تھا دل میں ، مگر خارِ فکر
جبیں سے نمایاں تھے آثارِ فکر
رہے دل مرا غیر سے بے خبر
مجھے مستِ صہبائے تسلیم کر
ترے حسن کی آنکھ طالب رہے
محبت تری ، دل پہ غالب رہے
فدا نام پر تیرے ہر شے کروں
رہِ منزلِ امتحاں طے کروں
ضعیفی میں تجھ سے نہ ہوں شرمسار
قدم ہو تری راہ میں استوار
یونہی محوِ ذکرِ خدا ، آ گیا
قریبِ درِ خیمۂ ہاجرا

پکارا کھڑے ہو کے اے اسمٰعیل
ذبیحِ خدا ، نورِ چشمِ خلیل۱
۱ - بیاض اوّل، ص ۷۴
خ
نظم بے عنوان
منظور شکایت کا نرالا مجھے ڈھب ہے
شوخی مری ایسی ہے کہ مسجودِ ادب ہے
ڈر ایسا ہے اقبال کو اصنامِ چمن کا
گلشن میں سمیٹے ہوئے دامانِ طلب ہے
سچ وہ ہے ، نہ بولیں تو خدا ہوتا ہے ناخوش
بولیں تو غضب یہ ہے کہ بندوں کا غضب ہے
مسجد سے سوئے چرچ گریزاں ہے دل اپنا
شاید یہ کسی مس کی محبت کا سبب ہے
دل صورتِ آئینہ مصفّا ہوں تو کیا خوب
لاہور کی بستی کو یہ پیغامِ حلب ہے

پیغام کا مفہوم تو آساں ہے سمجھنا
پر اس کو مسلمان نہ سمجھیں تو غضب ہے
دکھلا بھی دیے آنکھ کو یورپ کے تماشے
کم بخت کو پھر بھی ہوسِ ملکِ عرب ہے
اس فقر سے ہو فخر نہ اسلام کو کیوں کر
یہ فقر وہی فخرِ شہنشاہِ عرب ہے
اس بزم میں اللہ کی باتیں کرو اقبال
یہ لیگ کا جلسہ ہے ، یہ اسلام کلب ہے۱
۱ - بیاض اقبال (منشر اوراق)
خ
نظم بے عنوان
کہا یہ ایک مرے مہرباں نے کل مجھ سے
پلٹ گئے ہیں خیالات ہر مسلماں کے
غضب کیا ہے زمیندار کے ایڈیٹر نے
سکھائے قطرے کو انداز اس نے طوفاں کے
کمال گو اسے لیڈر گری میں ہے لیکن
شراب پیتے ہیں لیڈر ظفر علی خاں کے
یہ عرض میں نے کیا ، آپ کو شکایت کیا
کہ لیڈر آپ کے عامل ہیں حکمِ قرآں کے
شعار ان کا وہی جو شعارِ ملّت ہے
زباں کے سچّے ہیں ، پکّے ہیں عہد و پیماں کے
نشانِ سجدہ سے ہے گل [بجیب] ان کی جبیں
گواہ ہیں یہ کمالِ سرشتِ انساں کے
فروغِ مے سے نہیں چہرہ آشنا ان کا
دلوں میں رکھتے ہیں روشن چراغ ایماں کے
یہ سن کے بولے مرے مہرباں جزاک اللہ
- - - - - - - - - - -
۱ - بیاض دوم، ص ۴۳

خ

نظم بے عنوان
عجیب چیز ہے مغرب کی زندگی جس سے
دماغ ہوتا ہے ، دل آشنا نہیں ہوتا
ہزاروں دوست ہیں ، پر اس طرح سے جیتا ہوں
جہاں میں جیسے کوئی آشنا نہیں ہوتا
نماز پڑھتا ہوں اور بے نماز ہوں اقبال
یہ فرض وہ ہے کہ مجھ سے ادا نہیں ہوتا۱
۱ - بیاض دوم، ص ۴۳
خ
میدانِ جنگ
ہر ذات کانپتی تھی پسِ پردئہ وفات
ڈرنے لگے مشیمۂ قدرت میں ممکنات
برہم ہوئے قواعدِ ترکیبِ سالمات
نکلے نتیجہ کیا نہ رہے جب مقّدمات
گردوں سمٹ کے نقطۂ موہوم ہو گیا
موجود ایک آن میں معدوم ہو گیا۲
۲ - بیاض سوم، ۱۹
خ
عبداللہ و زبیر
زبیر
میداں میں جوانانِ حجازی ہیں صف آرا
- - - - - - - - - - -
پیرو تری تدبیر کی تقدیر نہیں کیا
تو قلبِ کلیسا کے لیے تیر نہیں کیا
تو صاحبِ شمشیرِ جہانگیر نہیں کیا
تو خوگرِ ہنگامۂ تکبیر نہیں کیا
کیا تجھ سے سپہ عہدِ وفا توڑ گئی ہے
خیموں کی حفاظت کے لیے چھوڑ گئی ہے

عبداللہ
ہے اے زبیر تیری ملامت بجا ! درست
سمجھا ہے تو نے مجھ کو [ ] کارواں میں سست
بے شک بعید ہے یہ مسلماں کی شان سے
میداں میں آئے اور ڈرے امتحان سے
دنیا میں اس کی چشمِ فسوں گر کی دھاک ہے
ہر شاہزادہ اس کے لیے سینہ چاک ہے۱

۱ - بیاض سوم ،ص ۱۹

نظم بے عنوان
جوشِ نمود سے ہوا حسنِ بہار بے حجاب
- - - - - - - - - - - -
اترے چمن سے باغ میں ، کلیوں کے بھیس میں نجوم
کرتی ہے سیرِ بوستاں بن کے نسیمِ ماہتاب
فیض سحاب سے ہوئی جوئے چمن ترانہ ریز
ڈوبی ہوئی ہے آب میں آتشِ سینۂ رباب
جام بکف ہے گل ، اگر ، غنچہ سبو بدوش ہے
ابرِ بہار بن گیا مے کدئہ شرابِ ناب
واہمۂ ہوا کو ہے نقش گری میں کیا کمال
موجِ شکستہ سے کیا سازِ عمارتِ حباب
۱ - بیاض اوّل، ص ۱۰۹
خ
شمشیر برطانیہ
(بتقریب فتح پار ڈے برگ)
اے دم شمشیر انگلستاں تجھے صد مرحبا
ہیں ترے خم میں نہاں صد حلقۂ دام فنا
تیرا جوہر ’’انا اُلنَّیّرْ‘‘ کی دیتا ہے صدا
زیب دیتا ہے اگر کہیے تجھے کشور کشا
اے تفِ قمرِ الٰہی ! موت کا ساماں ہے تو
جوشِ سوداے عدو کے واسطے درماں ہے تو
تیری تیزی کی ہے مَلاّحانِ اندلس کو خبر
لے گئی دشتِ اجل میں جن کو تو بن کر خضر
جب پڑی بونا۱ پہ تیری چشمِ جوسر کی نظر
چبھ گئی دل میں تڑپ کر مثلِ نوکِ نیشتر
تجھ کو گرمانے سے پہلے کچھ کروگر۲ پوچھتا
سبزئہ میدانِ واٹرلو۳ سے جا کر پوچھتا
صورت خورشیدِ خاور آتشِ سوزاں ہے تو
برق صورت اوجِ استقلال پر خنداں ہے تو
یوں نکلتی ہے کہ گویا موت کا ارماں ہے تو
قطرئہ خونِ عداوت سے گہر افشاں ہے تو
دیدئہ ہمّت میں تو مثلِ مہِ امّید ہے
ہر چمک تیری دلیلِ آمدِ صد عید ہے

کہہ رہا ہے خاکِ افریقہ کا ہر ذرّہ یہی
فتح ایسی دیدئہ خورشید نے دیکھی نہ تھی
خرمنِ دشمن پہ تو بجلی کی صورت جا پڑی
مرغِ جاں کو مرغِ بسمل کی طرح تڑپا گئی
دیدئہ عالم پہ جوہر آشکارا ہے ترا
گرمیِ شورِ قیامت اک شرارا ہے ترا
فوج اعدا کی ہوا ہو کر پریشاں ہو گئی
صبر کی صورت یہ جمعیّت گریزاں ہو گئی
فتح پر تیری ہلال آسا درخشاں ہو گئی
شام بھی اپنی مثالِ صبحِ خنداں ہو گئی
خرمنِ آرامِ اعدا کو جلا کر چھوڑنا
اس مہِ نو کو مہِ کامل بنا کر چھوڑنا
شاہدِ مقصد کے جوبن پر ابھار آنے کو ہے
شیشۂ جانِ رقیباں پر غبار آنے کو ہے
از پیٔ تسلیم ہر شہر و دیار آنے کو ہے
یہ ترشح ہے ، ابھی ابرِ بہار آنے کو ہے

خود بخود جنباں ہے لب اپنا مبارک باد پر
دل اچھلتا ہے خوشی سے غیر کی افتاد پر
فوج اعدا میں بپا ہنگامۂ محشر رہے
تیرا سر جو سر شرابِ موت کا ساغر رہے
تیرا رتبہ تیغِ ماہِ نو سے بالاتر رہے
بن کے زردی ڈر ترا رخسارِ دشمن پر رہے
خم رہے دشمن کی گردن تیرے خم کے سامنے
اور رہیں بد خواہ بے دم تیرے دم کے سامنے
واسطے تیرے بنے ہر سنگِ رہ ، سنگِ فساں
خون ہر دشمن کا رشکِ موجۂ سیلِ رواں
روشناسِ آسماں ہوں فتح و نصرت کے نشاں
دے ترنّم کی صدا ہر بلبلِ ہندوستاں
پہلوے دشمن میں دل لذت کشِ صد چاک ہو
نام انگلستان کا بالاتر از افلاک ہو۴
۱ - نپولین بونا پارٹ
۲ - ایک جرنیل
۳ - Waterlo میدان جنگ
۴ - بیاض اعجاز ،ص ۲۴۵
خ
پنجاب کا جواب
اے تاجدارِ خطّۂ جنت نشانِ ہند
روشن تجلّیوں سے تری خاورانِ ہند
محکم ترے قلم سے نظامِ جہانِ ہند
تیغِ جگر شگاف تری ، پاسبانِ ہند
ہنگامۂ وغا میں مرا سر قبول ہو
اہلِ وفا کی نذر محقرّ قبول ہو
تلوار تیری دہر میں نقّادِ خیر و شر
بہروز ، جنگ توز ، جگر سوز ، سینہ ور
رایت تری سپاہ کا سرمایۂ ظفر
آزادہ ، پر کشادہ ، پری زادہ ، یم سپر
سطوت سے تیری پختہ جہاں کا نظام ہے
ذرّے کا آفتاب سے اونچا مقام ہے
خ

آزادیِ زبان و قلم ہے اگر یہاں
سامانِ صُلحِ دیر و حرم ہے اگر یہاں
تہذیبِ کاروبارِ امم ہے اگر یہاں
خنجر میں تاب ، تیغ میں دم ہے اگر یہاں
جو کچھ بھی ہے عطائے شہِ محترم سے ہے
آبادیٔ دیار ترے دم قدم سے ہے
وقت آ گیا کہ گرم ہو میدانِ کار زار
پنجاب ہے مخاطبِ پیغامِ شہر یار
اہلِ وفا کے جوہرِ پنہاں ہوں آشکار
معمور ہو سپاہ سے پہنائے روز گار
تاجر کا زر ہو اور سپاہی کا زور ہو
غالب جہاں میں سطوتِ شاہی کا زور ہو
خ
دیکھے ہیں میں نے سیکڑوں ہنگامہ ٔ نبرد
صدیوں رہا ہوں میں اسی وادی کا رہ نورد
طفلِ صغیر بھی مرے جنگاہ میں ہیں مرد
ہوتے ہیں ان کے سامنے شیروں کے رنگ زرد
میں نخل ہوں وفا کا ، محبت ہے پھل مرا
اس قول پر ہے شاہدِ عادل ، عمل مرا
ہندوستاں کی تیغ ہے فتّاحِ ہشت باب
خونخوار ، لالہ بار ، جگر دار ، برق تاب
بیباک ، تابناک ،گہر پاک، بے حجاب
دل بند ، ارجمند ، سحر خند ، سیم باب
یہ تیغِ دل نواز اگر بے نیام ہو
دشمن کا سر ہو اور نہ سودائے خام ہو
خ
اہلِ وفا کا کام ہے دنیا میں سوز و ساز
بے نور ہے وہ شمع جو ہوتی نہیں گداز
پردے میں موت کے ہے نہاں زندگی کا راز
سرمایۂ حقیقتِ کبریٰ ہے یہ مجاز
سمجھو تو موت ایک مقامِ حیات ہے
قوموں کے واسطے یہ پیامِ حیات ہے
خ
اخلاص بے غرض ہے ، صداقت بھی بے غرض
خدمت بھی بے غرض ہے ، اطاعت بھی بے غرض
عہدِ وفا و مہر و محبت بھی بے غرض
تختِ شہنشہی سے عقیدت بھی بے غرض
لیکن خیالِ فطرتِ انساں ضرور ہے
ہندوستاں پہ لطفِ نمایاں ضرور ہے
خ
جب تک چمن کی جلوئہ گل پر اساس ہے
جب تک فروغِ لالۂ احمر لباس ہے
جب تک نسیمِ صبح عنادل کو راس ہے
جب تک کلی کو قطرئہ شبنم کی پیاس ہے
قائم رہے حکومتِ آئیں اسی طرح
دبتا رہے چکور سے شاہیں اسی طرح
۱ - باقیات اقبال، ص ۲۰۶
خ

ایک وید منتر کا ترجمہ
خویشوں سے ہو اندیشہ نہ غیروں سے خطر ہو
احباب سے کھٹکا ہو نہ اعدا سے حذر ہو
روشن مرے سینے میں محبت کا شرر ہو
دل خوف سے آزاد ہو ، بے باک نظر ہو
پہلو میں مرے دل ہو مَے آشامِ محبت
ہر شے ہو مرے واسطے پیغامِ محبت۱
۱ - الترو وید ، سوکت ۱۷ ، منتر ۱۶ ، مشمولہ روز گارِ فقیر، جلد دوم، ص ۳۱۸
خ
معراج
ہر دو جہاں میں ذکرِ حبیبؐ خدا ہے آج
ہر ذرّے کی زبان پہ ’’صلِ علیٰ‘‘ ہے آج
معراجِ مصطفیؐ سے کھلا عقدئہ حیات
روح نبیؐ میں جلوئہ نورِ خدا ہے آج
قوسین میں ثبوت ہے اس جذب و شوق کا
ہر لمحہ ذکر و فکر میں درسِ بقا ہے آج
وہ بزمِ ناز ، وہ گل و بلبل کی خلوتیں
الفت میں امتیازِ من و تو فنا ہے آج
اک جست ہی میں طے ہیں دو عالم کی وسعتیں
اور رشتۂ زمان و مکاں کٹ گیا ہے آج
طائر حریم قدس کے سب نغمہ سنج ہیں
روح الامیں بھی شوق میں مدحت سرا ہے آج
جو منتظر ازل سے تھا اس کے قدوم کا
بہرِ نبیؐ وہ گنبدِ بے در کھلا ہے آج
حوریں خوش آمدید پکاریں بہشت میں
از فرش تا بہ عرش صدا مرحبا ہے آج
یہ رات وہ ہے جس پہ کرے رشک دن کا نور
سایہ ہر ایک سایۂ بالِ ہما ہے آج
عشقِ نبیؐ میں قبلہ نما سے ہوں بے نیاز
نورِ یقیں سے قلب ہی قبلہ نما ہے آج
خ
اقبال آ کہ پھر اسی چوکھٹ پہ جھک پڑیں
آغوشِ رحمت اس کی اسی طرح وا ہے آج۱
۱ - باقیات اقبال ،ص ۲۲۷
خ

نوعِ انساں کی محبت
نوعِ انساں کی محبت میں ہے مذہب کا کمال
امتیاز کاسئہ شیخ و برہمن میں نہیں
خاک اگر ناپاک بھی چھونے سے ہو جائے تو کیا
پاک ہے جو چیز وہ آب و گلِ تن میں نہیں
ہند والے بھی کبھی رکھتے تھے جانِ درد مند
وائے حرماں اب وہ طائر اس نشیمن میں نہیں
یاد ہے تجھ کو کہ تو گل در گریباں تھا کبھی
آج خاشاکِ چمن بھی تیرے دامن میں نہیں
وہ کرامت ، شیشۂ دل جس سے ہو جائے گداز
آج کل کے ساقیانِ سامری فن میں نہیں
رونقِ میخانہ باقی گردشِ صہبا سے ہے
گردش صہبا وصالِ ساغر و مینا سے ہے
۱ - بیاض اعجاز ،ص ۷۵
خ
جوہرِ ایمان
چشمِ باطل پہ عیاں جوہر ایماں کر دے
دے کے ذرّوں کو جلا ، مہرِ درخشاں کر دے
دور پھر آیا ہے مسلم کی جہاں بانی کا
دفترِ کفر کو دنیا میں پریشاں کر دے
عام کی عقل نے یاں وہم و گماں کی ظلمت
شمعِ ایمان کو سینوں میں فروزاں کر دے
ہے محبت میں وہ قوّت کہ بنے سنگ بھی موم
حسنِ اخلاق سے کافر کو مسلماں کر دے
ذرّے ذرّے کو بنا وسعتِ صحرا کا امیں
جوشِ توحید سے ہر قطرے کو طوفاں کر دے
پردئہ جہل اٹھا اپنی خودی سے غافل
اس کی پوشیدہ خدائی کو نمایاں کر دے
عہدِ حاضر ہے جہنّم تو مسلماں ہے خلیل
نورِ ایقان سے آتش کو گلستاں کر دے
خوفِ شر کیوں ہو اگر خیر ہے مقصد تیرا
تیری تسخیر تو ابلیس کو لرزاں کر دے
خ
دل کو مایوس نہ کر رحمت حق سے اقبالؔ
مرغِ افسردہ کو پھر اپنے غزل خواں کر دے
۱ - باقیات ِاقبال، ص ۲۲۶
خ
خطاب بہ مسلم
نورِ توحید سے گر قوّتِ بیدار ہے تو
اپنی قسمت کا یہاں آپ ہی مختار ہے تو
حق کے ہوتے ہوئے باطل سے ہراساں کیوں ہے
گردنِ کفر پہ چلتی ہوئی تلوار ہے تو
تیری ہستی ہی پہ موقوف ہے نظمِ عالم
دستِ قدرت کا بنایا ہوا شہ کار ہے تو
ذرّے ذرّے میں جلا ہے تری تکبیروں سے
ظلمت دہر میں اک مطلعِ انوار ہے تو
ہو یقیں مردہ تو سگ تجھ سے ہے بہتر سو بار
ہو یقیں زندہ تو پھر حیدرِ کرارؓ ہے تو
حق ہی کہہ ، حق ہی نے قوموں کو ابھارا اقبال
حق ہے سینے میں ترے ، مخزنِ اسرار ہے تو
۱ - نوادر اقبال، ص ۷۴
خ


نظم بے عنوان
عشقِ صادق ہے مجھے ٹرکی وایران کے ساتھ
دل کے ہمراہ یہ ہے ، وہ ہے مری جان کے ساتھ
ہند میں دور کی نسبت ہے مراکو سے مجھے
سلسلہ ملتا ہے اس کا عربستاں کے ساتھ
وقعتِ خاص ہے کابل کی بھی میرے دل میں
رشتہ مذہب کا ہے وابستہ ہر افغان کے ساتھ
جو مسلمان ہے دنیا میں ، مرا بھائی ہے
میں مسلمان ہوں ، کہتا ہوں یہ ایمان کے ساتھ
بول بالا رہے اسلام کا دنیا میں صدا
وعظ توحید و رسالت کا ہو قرآن کے ساتھ
۱ - ماہ نو، اقبال نمبر ۱۹۷۷ئ، ص ۳۴۴
خ

کلاہِ لالہ رنگ
اے نشانِ قومِ مسلم ، اے کلاہ لالہ رنگ
اے لباسِ ما سلف مقتولِ تہذیبِ فرنگ
اے کہ تیری شکل سے لرزاں تھا ہر میدانِ جنگ
اے کہ تجھ سے سینۂ مسلم میں اٹھتی تھی امنگ
خ
تجھ سے رخ بدلا ہے کیسا گردش ایّام نے
عہد باندھا ہے مٹانے کا ترے اسلام نے
خ
قومِ ٹرکی ، آہ ، جو سرمایۂ توقیر تھی
قوم اور وہ قوم ، جو اسلام کی شمشیر تھی
جس کی ہستی سے بقائے نعرئہ تکبیر تھی
تو درخشاں جس کے سر پر صورتِ تنویر تھی
جو رہے صدیوں سے کوشاں تیری عزّو جاہ میں
نذر کر دے تجھ کو آزادی کی قرباں گاہ میں!
خ

تجھ سے قائم تھی مسلمانوں کی شانِ مذہبی
تجھ سے روشن تھا ہمارا آسمانِ مذہبی
وضعداری بسکہ ہے روح و روانِ مذہبی
تھا بجا ، کہتے تجھے گر ہم نشانِ مذہبی
قوم کا طرز و تمدّن خاص اگر اپنا نہیں
آج اس معمورئہ عالم میں اس کی جا نہیں
خ
ہو مسلماں جس گھڑی مسجد میں مصروفِ نماز
سجدئہ خالق سے اٹھّے جب سرِ قومِ حجاز
اور کھولے تیرا جلوہ شوخیِ لالہ کا راز
صاف آتی ہے نظر شانِ خدائے بے نیاز
جذبۂ مسلم کی تو اک مختصر تفسیر ہے
تو شہیدانِ وفا کے خون کی تصویر ہے
خلق کہتی تھی تجھے اے ترک ! تو غیّور ہے
دل ترے پہلو میں سنتے تھے کہ برقِ طور ہے
پھر یہ کیسا رنگ بدلا ، کیا تجھے منظور ہے
مذہبیّت چھوڑ دی ، روحانیت کافور ہے
مذہب و وضعِ تمدّن ، سب کی بربادی ہوئی
خوب اے جانباز حاصل تجھ کو آزادی ہوئی
خ

پھر سنبھلتی کاش تو اے ملّتِ عالی تبار
اتنی جلدی تجھ میں تبدیلی نہ ہوتی آشکار
پھر صدا سن لے مری ، یہ گوش دل سے ایک بار
تیری قسمت کا نہیں ہے تیری کوشش پر مدار
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
۱ - باقیات اقبال ،ص ۲۳۰، آخری شعر’ خضرِ راہ‘ میں بھی شامل ہے
خ
قصیدہ نواب حیدر آباد
ایک دن ناکام رہ کر محنت ِ جاں کاہ میں
محو تھا میں شکوہ ہائے قسمتِ کو تاہ میں
ناگہاں آئی دکن سے اک صدائے جاں فزا
جس نے کچھ تسکین بخشی اندہِ جانکاہ میں
چارئہ عیسیٰ نفس ہے گوش بر آوازِ درد
کام کیا شور و فغاں کا عہدِ آصف جاہ میں
دورِ عثمانی میں فریادِ گدا ہے باریاب
بیشتر منعم سے ، گوشِ التفاتِ شاہ میں
کاوشِ جاں کا سکوں اس محشرِ آفات میں
ہے اگر ممکن کہیں تو ظّلِ ’’ظلّ اللہ‘‘ میں
اس کی چشمِ فیض میں یکساں ہیں پنجاب و دکن
فرقِ قرب و بُعد کیا جود و کرم کی راہ میں
آبیاری اس کی ہے سر سبزیِ کشتِ امید
قدر دانی ثمرہ ، نخلِ کوششِ جانکاہ میں
اس کی بزمِ مملکت میں ہے یہ کیفِ جام جب
خلق اسے محبوب وہ محبوب خلق اللہ میں
اس کے حاجت مند کو کیا حاجتِ طولِ سخن
ہے اثر طومار کا جب قصّۂ کوتاہ میں
ہیں فلک کی انجمن میں جب تک انجم محوِ رقص
اور باقی ہے ضیا فانوسِ مہر و ماہ میں
تیرا طالع ، ساطع و لامع رہے خورشید وار
یوں ہی ضوگستر رہے گردونِ بخت و جاہ میں
باغِ عالم میں گلِ اقبالؔ مشک افشاں رہے
خار کی مانند کھٹکے دیدئہ بدخواہ میں۱
۱ - اقبال ریویو (حیدر آباد، انڈیا) اپریل ؍ جون ۱۹۸۴ء

نعت
تیرے قربان مرے گیسووں والے آقاؐ
اب تو بردِ یمنی رخ سے ہٹا لے آقاؐ
بے کسوں اور غریبوں کی دعا لے آقاؐ
نکل آ لے کے ملائک کے رسالے آقاؐ
جلوہ افروز ہو یوں حیرتِ دوراں ہو کر
کفر بھی سجدے میں جھک جائے مسلماں ہو کر
خ
آنے والے عجب انداز ، عجب شان سے آ
نئے اعجاز دکھا اور نئے سامان سے آ
شام سے جلوہ نما ہو کے خراسان سے آ
آ خدا کے لیے آ ، اب کسی عنوان سے آ
بکشا پردئہ رخسار بصد ناز بیا
در لباسِ بشری جانبِ ما باز یبا
خ
ہاتھ میں تیغ بھی ہو ، رایتِ اسلام بھی ہو
جسم پر جامئہ نوری بھی ہو ، احرام بھی ہو
آبِ کوثر بھی تِرے ساتھ ہو اور جام بھی ہو
تشنہ لب روس بھی ہو ، چین بھی ہو ، شام بھی ہو
سب کہیں واہ رے ذی شان رسالت تیریؐ
ہم کہیں واہ رے اسلام صداقت تیری
خ
تو بھی ہو ، ساتھ تِرے حلقۂ اصحاب بھی ہو
یعنی انجم بھی ہوں اور جلوئہ مہتاب بھی ہو
فوجِ عشّاق ہو ، ہنگامۂ احباب بھی ہو
پیچھے پیچھے تری امّت بصد آداب بھی ہو
کلمۂ طیّبہ سے کون و مکاں گونج اٹھے
’’اشہدُ اَنَّ مُحمّدؐ‘‘ سے جہاں گونج اٹھے
۱ - خزینۂ رحمت : چودھری نور احمد انور (۱۹۲۴ئ)
خ
نظم بے عنوان
ترے غریبوں کو عریاں تنی کا غم ہے وہی
وہی گلہ ہے امیروں کی کج ادائی کا

وہی ہے گوشۂ خلوت میں بیٹھ کر رونا
ترے نصیب کا اپنی شکستہ پائی کا
اگرچہ تیز بہت نوکِ خار ہیں یاں بھی
نہیں دماغ میں سودا برہنہ پائی کا
ہوئی خبر ترے حسن و جمال کی جب سے
رہا نہ شوق حسینوں کی آشنائی کا
زمیں خراش ہوں میں ناخنِ خجالت سے
کہ حق ادا نہ ہوا مجھ سے آشنائی کا
اگرچہ سب سے برا ہوں میں جاں نثاروں میں
مری جبیں پہ نہیں داغ بے وفائی کا
کھنچے ہے اپنی ہی گردن پہ بید کی تلوار
خدا دکھائے نہ آزار بے نوائی کا
مثالِ موج جہاں میں ہو خود شکن پہلے
کہ حوصلہ ہو تجھے بحر آشنائی کا
عصا بنے صفتِ گردباد آپ اپنا
شکستہ پا نہ کرے شکوہ بے عصائی کا

بہ لب ز دردِ تو آہے کہ داشتم ، دارم
نشسّتنے سرِ راہے کہ داشتم ، دارم
وہ شعلے کاٹتے ہیں جو شرارے بوتے ہیں
شہنشہوں کو خیالِ مآلِ کار رہے
یہ آپ لائے ہیں مغرب سے سیلِ آزادی
بنائیں اب وہ عمارت کہ استوار رہے
گدا گری ہے حقیقت میں وعدئہ احساں
کرم ، ستم ہے جو سائل کو انتظار رہے
طلسمِ خندئہ گل میں ہے آشیاں اس کا
بہارِ باغ پہ پھر کس کو اعتبار رہے
اماں کبھی نہ ملی دست بردِ دوراں سے
ہمارے چھالے ہمیشہ پسندِ خار رہے
مگر فدا ہیں تری وسعتِ خیال پہ ہم
الٰہی! بزم تری زیبِ روزگار رہے
قیام کس کو ہے اس انقلاب خانے میں
کوئی بِنا نہیں ایسی کہ پائیدار رہے
خ
گرے ہووں کو اٹھانا کمال احساں ہے
وہ کام کر کہ زمانے میں یاد گار رہے
مٹے ہیں صفحۂ ہستی سے ہم ، مگر باقی
ہماری عظمتِ دیرینہ کے مزار رہے
رہے تو ہم بھی ، مگر کیا نمود تھی اپنی
نفس بہ جیبِ فنا ، صورتِ شرار رہے
شکستِ دل کی صدا کو بھی کان سنتے ہیں
کوئی جو محفلِ ہستی میں ہوشیار رہے۱
۱ - بیاض اعجاز ،ص ۲۵۶
خ

 

 


نظموں کے جزوی متروکات

بلادِ اسلامیہ
تیسرا بند
شعر۔ ۳
دورِ گردوں میں نمونے سینکڑوں تہذیب کے
پل کے نکلے مادرِ ایّام کی آغوش سے
خ
پانچواں بند
شعر۔ ۲،۳،۴،۵

صورتِ خورشید چمکا تیرے گردوں پر ہلال
کانپ جاتا ہے مرا زورِ تأثّر سے بدن۱
خشک لب دنیا کو جس نے آبِ جاں پرور دیا
عقل کو آزادِ زنجیرِ توہُّم کر دیا
جس نے عہد وصل باندھا مدّتِ دوراں کے ساتھ
جس نے پوری منصفی کی فطرتِ انساں کے ساتھ
جس کے ڈر سے دہم کا قصرِ کہن آئیں گرا
گردنِ انساں سے طوقِ راہبِ خود بیں گرا
چھٹا بند
گو مٹانا بستیوں کا ہے شعارِ روز گار
عظمتِ ملّت کی باقی یادگاریں ہیں ہزار
یہ ہویدا ہے کہیں مٹتے ہوئے آثار میں
یا نمایاں ہے کسی گرتی ہوئی دیوار میں
اجٹرے گورستاں کی خاموشی سے ہم آغوش ہے
شانِ پیشیں اشکِ خونِ قوم سے گل پوش ہے
نالہ کرتی ہے کہیں ، خاموش سوتی ہے کہیں
اہلِ ملّت کی فراموشی کو روتی ہے کہیں
جلوہ گاہیں اس کی ہیں اپنی زیارت کے لیے
اشکباری کے لیے ، غم کی حکایت کے لیے۲
۱ - بیاض اوّل، ص ۲۹
۲ - ایضاً
خ

گورستانِ شاہی
بند۔ ۴
کہہ رہی ہے کوئی ایّامِ کہن کی داستان
چاندنی کرتی ہے میناروں سے کیا سرگوشیاں
بند۔ ۱۱
صبح کے تارے پہ تھی مشرق کے رہزن کی نظر
وہ اڑا کر لے گیا آویزئہ گوشِ سحر
شب کے اختر ، دیدئہ خورشید سے ڈرتے ہیں یہ
بھیس شبنم کا بدل کر سیرِ گل کرتے ہیں یہ

خ
رات یہ تاروں بھری ، ذوقِ نظر کی عید ہے
ریزہ ریزہ ٹوٹ کر پیمانۂ خورشید ہے
اُگتے ہیں شاخِ چمن سے شعلۂ بے سوزِ گُل
روح کا فردوس ہے حسنِ نظر افروز گل

خ
بند۔ ۱۲
خندئہ طفلک سے ہے اس کی چمک محبوب تر
چھو نہیں سکتی اسے صر صر کی موجِ پُر خطر
زندگی کی مے سے مینائے جہاں لبریز ہے
منظرِ حسرت بھی ہے کوئی تو حسن آمیز ہے۱
۱ - سرودِ رفتہ، ص ۱۳۳، بیاض اوّل، ص ۴۶
خ
فلسفۂ غم
بند۔ ۳
شعر۔ ۴
گو بظاہر تلخیِ دوراں سے آرامیدہ ہے
زندگی کا راز اس کی آنکھ سے پوشیدہ ہے
بند۔ ۶
شعر۔ ۲
خواب سے ہم کو جرس جس دم جگا سکتی نہیں
عقل کی مشعل رہِ منزل دکھا سکتی نہیں۱
خ
پھول کا تحفہ عطا ہونے پر
ہجومِ گل میں پسندِ نگاہِ ناز ہوا
ترانہ ریز تری زندگی کا ساز ہوا
کسی کے حسنِ دلاویز پر نثار ہے تو
خموش نغمۂ تارِ رگِ بہار ہے تو
یہ میرے ہاتھ میں خونیں نوائیاں کیسی
مجھے خبر ہے جدائی میں بیقرار ہے تو
فسردگی کا مرے گھر میں تجھ کو کیا غم ہے
صبا ہے آہوں کی اور آنسوئوں کی شبنم ہے۱
۱ - بیاض اوّل، ص ۷۷
خ
قطعہ
بتائیں کیا زندگی گزرتی ہے ہند کے بتکدے میں کیسی
قیتلِ جور و جفا رہے ہیں ، شہیدِ ناز و ادا رہے ہیں
فریبِ تہذیبِ نو میں آ کر جنہوں نے اپنا شعار چھوڑا
جہان کی رہ گزر میں پامال صورتِ نقشِ پا رہے ہیں۲
۲ - بیاض اعجاز، ص ۱۷ ’رخت سفر‘ ص ۱۸
خ
شکوہ
بانگ درا، صفحہ ۱۶۲
پہلے رہنے کو محل رکھتے تھے اب گھر بھی نہیں

ایسے ششدر ہیں کہ سر رکھنے کو اک در بھی نہیں
پھوڑئیے کس کو یہاں دوش پہ اب سر بھی نہیں

یہ میّسر ہو تو پھر ہاتھ میں پتھر بھی نہیں
نہیںمسجد تو ڈریں طعنۂ اغیار سے کیا
توڑ سکتے نہیں بت خانے کی دیوار سے کیا
خ
تھے اشاعت پہ کمر بستہ غریب اور امیر

غافل اس کام سے رہتے تھے نہ سلطاں نہ وزیر
شہرِ دشمن میں گئے جنگ میں ہو کر جو اسیر

واں بھی مقصود وہی خدمتِ دیں کی تدبیر
ذوقِ تبلیغ سے بے چین رہا کرتے تھے
اہلِ زنداں کو مسلمان کیا کرتے تھے
خ
صفتِ غنچہ ہے تدبیر ہماری دل گیر

ہو نہ تقدیر مساعد تو کرے کیا تدبیر
مدرسے بنتے ہیں ، پوری نہیں ہوتی تعمیر

زندہ ہم خاک ہوں ، تقدیر ہی کہتی ہے ’’بمیر‘‘
دل کو تسلیم کی خُو ڈال کے بہلائیں گے
بے نیازی تری عادت ہے تو سہہ جائیں گے
۱ - بیاض دوم ،ص ۴


خ

رات اور شاعر
یہ دلِ مردہ کو تعلیمِ رضا دیتے ہیں
لٹ کے غارت گرِ گلشن کو دعا دیتے ہیں ۱
۱ - بیاض اوّل ،ص ۶۷
خ

بزم انجم
(۱)
ہے خواب کی پیامی چشمِ کشودہ جن کی
وہ نیلے آسماں کے اڑتے ہوئے شرارے
مخفی چمن تھا گل میں، پنہاں تھا گل کلی میں
ذوقِ نظارہ ہوتا اے کاش آدمی میں
بستی میں دم نہ لینا ، الفت پہ جان دینا
پوشیدہ ہے یہ نکتہ شبنم کی زندگی میں
یہ رسم ہے پرانی ، رہتے ہیں درد والے
بے خواب مثلِ انجم ، راتوں کی خامشی میں
سمجھیں گے کیا وہ ناداں ، آئین سِروری کو
ناقص ہیں اب تلک جو آدابِ بندگی میں
ملّت حجاز کی ہے مصروفِ فرقہ بندی
نادان لٹ رہے ہیں سورج کی روشنی میں
بالائے ریگِ صحرا خوابیدہ رہ گئے یہ
رخصت ہوئے مسافر تاروں کی روشنی میں
بنتی بگڑتی دیکھیں ہم نے ہزاروں قومیں
ایک بات ہے نرالی اس بزمِ آخری میں
بار گلوئے ملّت ، طوقِ وطن نہیں ہے
تازے ہیں یہ مسافر اسلوب را ہروی میں۱
۱ - بیاض اوّل ،ص ۲۱ ، باقیات اقبال، ص ۳۵۸
خ
سیرِ فلک
موج زن جوشِ کوثر و تسنیم
اور کناروں پہ خیمہ زن مے نوش۲
ظلمت افزا تھا اس قدر وہ مقام
چاند چمکے وہاں تو ہو بے ہوش۳
۲ - بیاض اوّل، ص ۳۸
۳ - باقیات اقبال، ص ۳۶۰
خ
نصیحت
کبھی ایراں کے لیے ہو جو دعا کا جلسہ
عذر تیرا ہے کہ ہے میری طبیعت ناساز
بزمِ ملّت کو ہے مرغوب یہی راگ اگر
تو بھی پردے سے نکل اور پہن لے پشواز
قوم را نبض شناسی کن و قارورہ بہ بیں
چند روزے بہمیں وضعِ حکیمانہ بساز۱
سن کے کہنے لگا اقبال بجا فرمایا
شک مجھے آپ کی باتوں میں نہیں بندہ نواز
مجھ میں اوصاف ضروری تو ہیں موجود مگر
ہے کمی ایک، کہوں تم سے جو ہوفاش نہ راز
ڈھب مجھے قوم فروشی کا نہیں یاد کوئی
اور پنجاب میں ملتا نہیں استاد کوئی۲
۱ - بیاض دوم، ص ۱۳
۲ - باقیات اقبال، ص ۳۶۲
خ

بند۔ ۲
عرض کی میں نے کہ حضرت یہ بہانے ہیں سبھی
ہوس قید ہو بلبل کو تو صیّاد بہت
حسن ہی مائلِ تسخیر نہیں ہے ورنہ
شہر میں ملتے ہیں ارزاں دلِ ناشاد بہت
راہ زن کے لیے لازم ہے رہے گرمِ تلاش
بستیاں دشت میں مل جاتی ہیں آباد بہت
دل ہی سینے میں نہیںتیرے تو کیا اس کا علاج
ورنہ لاہور میں بھی ہیں ستم ایجاد بہت
آنکھ ہی قمریِ ناداں کی نہیں حسن شناس
اُگتے ہیں باغ کے ہر گوشے میں شمشاد بہت
یہ نہیں مصر کہ ہو ایک ہی یوسف جس میں
تو خریدار تو بن پہلے ، پری زاد بہت
حکم ہی کوہ کنی کا نہیں دیتا کوئی
پھرتے ہیں تیشہ بکف شملے میں فرہاد بہت
ہے غلط شکوہ کہ ملتا نہیں استاد کوئی
سیکھنا چاہے جو اقبال تو استاد بہت۱
۱ - بیاض دوم، ص ۱۳
خ
انسان
ہیں اس کی محبت سے لبریز تری آنکھیں
اس باغ کا ہر ذرّہ شبنم کو ترستا ہے۱
۲ - بیاض اوّل ،ص ۱۲
خ
غرّئہ شوال
بند اوّل
وسعتِ ہستی میں گو رفعت تجھے منظور ہے
اے فلک مسکن ! افق گردی ترا دستور ہے۱
اے مہِ نو ہم کو تجھ سے الفت دیرینہ ہے
سرگذشتِ ملّتِ بیضا کا تو آئینہ ہے۲
بند دوم
رہ گئے اپنی کہن دامی سے ہم محرومِ صید
اس چمن میں اپنی قسمت کی نگوں ساری بھی دیکھ
مکر کے پھندے میں شہبازِ مراکش آ گیا
امتِ عیسیٰ کا آئینِ جہاں داری بھی دیکھ۳
۱ - سرودِ رفتہ، ص ۱۳۵
۲ - بیاضِ اوّل ،ص ۸۵
۳ - سرودِ رفتہ، ص ۱۳۵


خ


شمع اور شاعر
بند ۔ ۲
جل رہی ہوں میں تو اپنی انجمن کے واسطے
نغمہ پیرا تو بھی ہو اپنے وطن کے واسطے
بند ۔ ۴
رازقِ اقوامِ عالم تھا کبھی جن کا کرم
ایک عالم کی زباں پر ان کے افسانے رہے
بت کدے دنیا کے ویراں کر دیے اس نے مگر
بت شکن کی دل کی بستی میں صنم خانے رہے
ہے خبر تاروں میں لیکن آمدِ خورشید کی
ظلمتِ شب میں نظر آئی کرن امّید کی
بند۔ ۵
داغِ نو سے سینۂ مسلم گلستاں ہو گیا
چھوٹی چھوٹی مشعلیں لالوں کی روشن ہو گئیں
بند ۔ ۶
دور پھر محفل میں چلتا ہے مئے شیراز کا
ہاتھ ہے مستوں کا اور داماں ( ) ہو خرقہ پوش
محوِ تعلیمِ تپش ہیں میرے ہر ذرّے اگر
سوزِ آہنگِ محبت سے ہو تو آتش فروش
ملک ہاتھوں سے گیا ملّت کی آنکھیں کھل گئیں
سرمہ چشمِ دشت میں گردِ رمِ آہو ہوا۱
بند ۔ ۷
شرطِ ہستی ہے زمانے میں مذاقِ انقلاب
ہے وہی خم جو کبھی خنجر ، کبھی ابرو ہوا
بند ۔ ۸
دیکھ تو اپنی پرانی مے میں کیفیت ہے کیا
جامِ دل کو بادئہ نو سے ذرا بیگانہ کر
تونے جو دیکھا ہے کیوں اوروں کو دکھلاتا نہیں
آپ بھی دیوانہ ہو، اوروں کو بھی دیوانہ کر
بند۔ ۱۰
ہم نے مانا قطرئہ مے پر نہیں ہستی تری
فخر اس قطرے پہ کر یہ شوکتِ طوفاں بھی ہے
تو یہ کہتا ہے کہ بیماری ہے میری لا علاج
مجھ کو یہ دعویٰ کہ تیرے درد کا درماں بھی ہے

جادہ تو، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو ، منزل بھی تو
بحر تو، الیاس تو،کشتی بھی تو ، ساحل بھی تو
بند۔ ۱۱
خونِ گل چیں سے کلی رنگیں قبا ہو جائے گی
یہ کلی آزادِ احسانِ صبا ہو جائے گی
صبح نکلے گی تو یہ شبنم ہوا ہو جائے گی
برگِ گل پر موجِ بواک دن فدا ہو جائے گی۲
۱ - سرودِ رفتہ، ص ۱۳۵
۲ - بیاضِ دوم، ص ۱۵
خ
مُسلم
سینۂ سوزاں ترا فریاد سے معمور ہے
نالہ عادت ہے تِری، رونا ترا دستور ہے۳
۳ - بیاض اوّل، ص ۹۷
خ
حضورِ رسالتمآب ﷺ میں
ہوا رفیقِ اجل اشتیاقِ آزادی
سمندِ عمر کو اک اور تازیانہ ہوا۴
۴ - سرودِ رفتہ، ص ۱۳۶
خ


جوابِ شکوہ
بند۔ ا
شعر۔۳
اڑ کے آواز مری تا بہ فلک جا پہنچی
گلِ شاعر کی مہک عرش تلک جا پہنچی۱
بند ۔ ۲
جب میٔ درد سے ہو خِلقتِ شاعر مد ہوش
آنکھ جب خون کے اشکوں سے بنے لالہ فروش
کشورِ دل میں ہوں خاموش خیالوں کے خروش
چرخ سے سوئے زمیں شعر کو لاتا ہے سروش
قیدِ دستور سے بالا ہے مگر دل میرا
فرش سے شعر ہوا عرش پہ نازل میرا۲
بند۔ ۷
کہیں تہذیب کی پوجا ، کہیں تعلیم کی ہے
قوم دنیا میں یہی احمدِؐ بے میم کی ہے۳
بند ۔ ۸
جس طرح احمدِؐ مختار ہے نبیوں میں امام
اس کی اُمت بھی ہے دنیا میں امامِ اقوام
کیا تمھارا بھی نبی ہے وہی آقائے اَنام
تم مسلماں ہو ؟ تمھارا بھی وہی ہے اسلام
اس کی امّت کی علامت تو کوئی تم میں نہیں
مے جو اسلام کی ہوتی ہے وہ اس خُم میں نہیں ۴
بند۔ ۹
کشورِ ہند میں ہے کلبۂ ناکام کا بت
عربستاں میں شفاخانۂ اسلام کا بت
اور لندن میں عبادت کدۂ سام کا بت
لیگ والوں نے تراشا ہے ترے نام کا بت۵
بند ۔ ۱۴
یادِ ایامِ سلف فخرِ اب و جد بے کار
مثل تابانیٔ شمعِ سرِ مرقد بے کار
ایک اگر کام کاتم میں ہے تو یک صد بے کار
دہر کی فرد میں تم ہو صفتِ بد بے کار۶

بند۔ ۲۴
شوقِ تحریرِ مضامیں میں گُھلی جاتی ہے
بیٹھ کر پردہ میں بے پردہ ہوئی جاتی ہے۷

بند۔ ۳۶
ہو نہ افسردہ اگر ہل گئی تعمیر تِری
رازِ توحید ! حکومت نہیں تفسیر تری۸
بند۔ ۳۷
وسعتِ کون و مکاں ساز ہے ، مضراب ہے یہ
دہر مسجد ہے سراپا ، خمِ محراب ہے یہ
جامِ گردوں میں عیاں مثلِ مئے ناب ہے یہ
روحِ خورشید ہے ، خونِ رگِ مہتاب ہے یہ
صوت ہے نغمۂ ’’کُن ‘‘میں تو اسی نام سے ہے
زندگی زندہ اسی نور کے اتمام سے ہے۹
بند۔ ۴۲
انجم اس کے ، فلک اس کے ہیں ، زمیں اس کی ہے
کیا یہ اغیار کی دنیا ہے ؟ نہیں اس کی ہے
سجدے مسجود ہوں جس کے وہ جبیں اس کی ہے
وہ ہمارا ہے امیں ، قوم امیں اس کی ہے
طوف احمدؐ کے امینوں کا فلک کرتے ہیں
یہ وہ بندے ہیں ادب جن کا ملک کرتے ہیں۱۰
۱ - ۳،۵،۶،۸،۹ بیاض اقبال، ص ۸۷
۲ - ۴،۷،۱۰،سرودِ رفتہ، ص ۱۳۶
تعلیم اور اس کے نتائج

شعر ۔ ۲
کفر کے ہاتھ گرو ہے یہ متاعِ نایاب
ہر قدم پر رہِ منزل میں ہے افتاد بھی ساتھ

شعر۔ ۴
دانۂ نخلِ تمنا جو زمیں سے پھوٹا
خاکِ گلشن سے اگی برقِ فلک زاد بھی ساتھ۱

دعا
شعر۔ ۷
آتش منشی جس کی کانٹوں کو جلا ڈالے
اس بادیہ پیما کو وہ آبلۂ پا دے۲
شعر۔ ۱۲
نظّارۂ یوسف کو دیں نذر لہو اپنا
وارفتگیِ شوقِ یارانِ زلیخا دے۳
۱ - بیاض سوم ،ص ۴۰
۲ - روز گار فقیر، ص ۳۵۳
۳ - بیاض اوّل، ص ۹۰
خ

عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں
مجھے قسم ہے نظامی مدینے والےؐ کی
ہمیشہ ماتمِ ملّت میں اشکبار ہوں میں
سرودِ مرغِ نوا ریز و ہم نشینیِ گُل
مرے نصیب کہاں ، غنچۂ مزار ہوں میں۴
۴ - باقیات اقبال، ص ۳۶۹
فاطمہ بنت عبداللہ
ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر
دل کہ برگِ نازکِ گُل سے بھی تھا پاکیزہ تر
موت کے اندیشۂ جانکاہ سے بیگانہ تھا
موجۂ خوں کی ہم آغوشی سے بھی ڈرتا نہ تھا
سینۂ ملّت میں ایسا جلوئہ نادیدہ تھا
جس کے نظّارے میں اک عالم سراپا دیدہ تھا
ہے ابھی جن کے لیے رفتار کی لذت نئی
آسماں کا خم نیا، وسعت نئی ، عظمت نئی
۲ - رختِ سفر ص ۱۴۵، بیاض اقبال اوّل، ص ۱۰۷
خ
محاصرئہ ادرنہ
تھا امتیاز کچھ نہ ہلال و صلیب میں
مقصودِ فوج ، خانۂ معمور ہو گیا
اقبال اس پیمبرِ امّیؐ کے میں فدا
ایثار جس کی قوم کا دستور ہو گیا
دنیا میں جس کی مشعلِ خُلقِ عظیم سے

ہر ذرّہ شرحِ سورئہ والنّور ہو گیا
امّت کا جس نبیؐ کی ، حروف جلی میں نام
قرطاسِ روزگار پہ مسطور ہو گیا
مرہونِ پیچ و تاب وہ امّت ہے اب تو کیا
کیا غم جو اس کا دن شبِ دیجور ہو گیا
دنیا میں پیچ و تاب ہے شرطِ ثمر کہ تاک
کھا کھاکے پیچ صاحبِ انگور ہو گیا۱
ا - باقیات اقبال ،ص ۳۷۰
خ

شبلی و حالی
شعر۔ ۲
معنی شناس قصۂ اقوامِ روزگار
گردوں کو جانتی ہے ترے کارواں کی گرد
خالی مگر بساط عمل ہو گئی تری
یہ کیا ہوا کہ ایک بھی باقی نہیں ہے مرد۲
۲ - بیاض سوم، ص ۷
خ

والدہ مرحومہ کی یاد میں

بند۔ ۱
اپنی نادانی میں انساں کس قدر آسودہ ہے
تہمتِ تاثیر سے موجِ نفس آلودہ ہے

بند۔ ۵
زندگی کی رہ میں جب میں طفلِ نو رفتار تھا
جادئہ خوابیدہ ہر ہر گام پر دشوار تھا
قطع تیری ہمّت افزائی سے یہ منزل ہوئی
میری کشتی بوسہ گستاخِ لبِ ساحل ہوئی
وہ قوی فطرت کہ ہے جس کی طبیعت استوار
جس کے دل سے کانپتے ہیںحادثاتِ روز گار۱
ہم سمجھتے ہیں ثباتِ زندگی پیکر سے ہے
پیکروں کی بے ثباتی جورِ پیکر گر سے ہے
۱ - بیاض اعجاز، ص ۳۴۴
بند۔ ۸
خام فکری سے شفق خونِ سحر سمجھی گئی
صبح شبنم سے بیاضِ چشمِ تر سمجھی گئی۱
۱ - بیاض اعجاز، ص ۳۴۴
خ
دیکھنے میں گرچہ ہے مثلِ شرر ان کا فروغ
خندہ زن ہے صرصرِ ایّام پر ان کا فروغ
کیسی حجت خیز ہے ظلمت فروشی رات کی
دن کے ہنگاموں کا مدفن ہے خموشی رات کی
ظلمتِ آشفتہ کاکل وسعتِ عالم میں ہے
اشک انجم در گریباں روز کے ماتم میں ہے
طفلک شش روزئہ کون و مکاں خاموش ہے
رات کے آغوش میں لیٹا ہوا بے ہوش ہے
آبِ دریا خفتہ ہے موج ہوا غش کردہ ہے
پست ہر ہستی کے سازِ زندگی کا پردہ ہے۲
۲ - باقیات اقبال، ص ۳۷۲
خ
غیر مطبوعہ اشعار
بند۔ ۱
فطرت اس گلشن کی ہے محرومِ تابِ اختیار
ورنہ شاخِ سنگ رس کرتی نہ پیدا برگ و بار
بند۔ ۳
بندشِ امروز و فردا سے رہا کرتی ہے یہ
عہدِ طفلی سے مجھے پھر آشنا کرتی ہے یہ
ہو گئی کاشانۂ فطرت سے حکمت گوشہ گیر
چشمِ بینا پھر تأثّر کی ہوئی فرماں پذیر
رفتی و از اشکِ بلبل بر چمن طوفاں گذشت
روز بر گل چوں چراغانِ شبِ یاراں گذشت
بند۔ ۶
تن کے اجزا ہیں اگر فانی تو فانی ہم نہیں
قطعِ دست و پا سے احساسِ وفا کچھ کم نہیں
عام اس صحرا میں ہے گو موت کی غارت گری
ایک راحت بھی نہیں آمیزش غمِ سے بری
بند۔ ۸
موت کا دکھ اس کی دنیا میں جو ہے عام اس قدر
آدمی قدرت کو ہے سمجھا ہوا بیداد گر
بند۔ ۱۰
راہ پیمائوں کا خمیازہ وہ کہتے ہیں اسے
عشق کے دشت آشنا ، جماّزہ کہتے ہیں اسے۱
۱ - بیاض سوم، ص۱۲
خ
شعاعِ آفتاب
کند تلواریں ہوئیں عہدِ زرہ پوشی گیا
جاگ اٹھ تو بھی کہ دورِ خود فراموشی گیا۲
۲ - سرود رفتہ ،ص ۱۳۹
خ
عُرفی
شعر۔ ۵
کہاں وہ دل کہ تاثیرِ نوا سے موم ہو جائیں
کہاں وہ دیدئہ گریاں ، کہاں وہ اشکِ عنّابی
شعر۔ ۶
نہ ہو محفل میں حِس باقی تو لطفِ نغمہ ریزی کیا
گراں ظلمت پرستوں پر ہے سورج کی جہاں تابی۱
۱ - بیاض سوم ،ص ۸
خ
نانک
تیرے پیمانے میں اے ساقی شرابِ ناب تھی
تیری شخصیّت نے کھینچا ہر دلِ آگاہ کو
اپنے میدانوں میں جب رزمِ ممالک عام تھی
زندگی تیری سراپا صلح کا پیغام تھی
ہند کے بت خانے میں کعبے کا تو معمار تھا
کتنا باطل سوز تیرا شعلۂ گفتار تھا۲
۲ - باقیات اقبال، ص ۳۷۵
خ
مسلمان اور تعلیم جدید
جو راہ پیما دشت کے آفات سے غافل رہے
اب تک وہ اپنی شومیِ تقدیر پر ہے نوحہ گر۳
۳ - بیاض سوم، ص ۴۸
پھولوں کی شہزادی
بند۔ ۱
شعر۔ ۳

یہاں کی شام روشن ہے چراغِ لالہ و گل سے
یہ تابانی نہیں دیکھی ہے میں نے صبحِ خنداں میں
بند۔ ۲
شعر۔ ۲
اسی سے اہلِ بینش پر ہویدا ہے مقام اس کا
بچھا رہتا ہے گردوں میں ، گلستاں میں ، زمیں بن کر۱
۱ - بیاض سوم، ص ۴۶
خ

تضمین بر شعر صائب
شعر۔ ۶
کسی صحرا میں کر لے سینۂ لبریز کو خالی
اگر تڑپا رہا ہے تجھ کو ذوقِ نغمہ پیرائی۲
۲ - ایضاً ،ص ۴۹
خ

فردوس میں مکالمہ
جو قلب خیالاتِ اجابت کا محل ہو
اس قلب پہ اسلام کو ہو سکتا ہے کیا ناز۱
۱ - بیاض سوم، ص ۳۷
مذہب
(تضمین برشعر صائب )
(بانگ ِدرا ص ۲۴۸)
کانپتا ہوں پڑھ کے میں افسانہ اسرائیل کا
ڈر ہے غفلت سے نہ ہو تیرا مقدر بھی وہی
تیری دنیا قوتِ مذہب سے باقی ہے بکام
دین کے معیار سے موزوں ہے شعرِ زندگی
’’سَرو بایک مصرع از قیدِ خزاں آزاد شد
زندئہ جاوید می گردی اگر موزوں شوی‘‘۲
۲ - باقیات اقبال، ص ۳۷۶
خ


پھول
شعر۔ ۷
چمن میں زندگی کو لذتِ ہنگامہ لازم ہے
کوئی دم تو بھی مانندِ عنا دل ہاے و ہو کر لے۱
۱ - بیاض اوّل، ص ۸۳
خ

میں اور تو
مجھے آشیاں بتر از قفس ، مری آنکھ میں کل ولارحس
تنِ ناتواں میں گرہ نفس کہ نہیں مجالِ نوا گری
جو ترے غرورِ بلند پر ہے نوا کا بولہبی اثر
ترے ہر بیاں سے عزیز تر ہے مجھے پلاسِ ابوذریؓ
ترا نالہ مرغِ شکستہ پر، نہیں زندگی کا پیام اگر
ترا سوز داغِ دلِ سحر ، ترا ساز ننگِ نوا گری۲
۲ - باقیات اقبال، ص ۵۶۶
خ

دریوزئہ خلافت
بہت آزمایا ہے غیروں کو تونے
مگر آج ہے وقتِ خویش آزمائی۱
۱ - بیاض چہارم ،ص ۸
خ
خضرِ راہ
نوع انساں کے لیے سب سے بڑی لعنت ہے یہ
شاہراہِ فطرت اللہ میں یہ ہے غارت گری۲
۲ - روز گار فقیر ،ص ۳۵۴
خ


مکمل متروکہ غزلیں

عیاں ستارے ، ہویدا فلک ، زمیں پیدا
تری خدائی تو پیدا ہے ، تو نہیں پیدا
عجیب جامۂ ہستی ملا ہے انساں کو
کہ جس کی جیب نہ دامن نہ آستیں پیدا
میں اشکبار ہوا جب تو ہنس کے وہ بولے
’’ستارے ہونے لگے زیرِ آستیں پیدا‘‘
وہ چیز ، نام ہے جس کا تڑپ محبت کی
مرے وطن میں نہیں ہے ابھی کہیں پیدا
شبِ سیاہ میں تو ہے ، مہِ منیر میں تو
کہیں نہاں ہے ترا حُسن ، اور کہیں پیدا
خدا جو دے مجھے قدرت تو کیا کروں پہلے
کروں صنم کدہ اک کعبے کے قریں پیدا

جو دیکھنا ہو تو چشمِ نیاز پیدا کر
ہر ایک ناز سے ہے ناز آفریں پیدا
چمن نہیں ، یہ سجودِ نیاز کا ہے محل
ہر ایک ذرّے سے ہے مثلِ گُل ، جبیں پیدا
نگاہ میں نہیں رہتا وہ نور بِینائی
دلوں میں ہوتا ہے جس دم غبارِ کیں پیدا
حجاب آتا ہے ، کیا نازنیں کہوں اس کو
کہ جس کی خاکِ قدم سے ہوں نازنیں پیدا
صدا یہ دانۂ تسبیح سے نکلتی ہے
’’پھرے کوئی تو کرے اتنے ہم نشیں پیدا‘‘
پھر آیا دیس میں اقبالؔ بعد مدّت کے
پس از سہ سال ہوا گم شدہ نگیں پیدا
کسی ادب کی جو قسمت بگڑتی ہے اقبالؔ
تو پہلے ہوتے ہیں نادان نکتہ چیں پیدا۱
۱ - بیاض اعجاز، ص ۵۸
خ

پر لگا کر جانبِ منزل اڑا جاتا ہوں میں
سب سے آگے صورتِ بانگِ درا جاتا ہوں میں
واسطہ نیک و بدِ عالم سے جوں آئینہ کیا
سامنے آتا ہے جو کچھ ، دیکھتا جاتا ہوں میں
آتشِ سامانِ ہستی تھا ترا نظّارہ کیا
تجھ کو پایا ہے تو اب خود گم ہوا جاتا ہوں میں
قافلے والے بڑھے جاتے ہیں اے واماندگی
صورتِ نقشِ قدم پیچھے رہا جاتا ہوں میں
آہ دنیا جانتی ہے رعشۂ پیری اسے
داورِ محشر کی جانب کانپتا جاتا ہوں میں
حشر میں مشکل تھا بے دیکھے ترا پہچاننا
ہو کے دنیا ہی سے تیرا آشنا جاتا ہوں میں
رہتا ہوں اقبالؔ ! گھر کی چار دیواری میں بند
کچھ سمجھ کر اہل عالم سے کھچا جاتا ہوں میں۱
۱ - بیاض اعجاز ،ص ۳۷
خ

برائے مشاعرہ بھوپال ۱۸- اگست ۱۹۱۰ء
حلقہ زنجیر کا ہر جوہرِ پنہاں نکلا
آئینہ قیس کی تصویر کا زنداں نکلا !
ہم گراں جان کے لائے تھے عدم سے بلبل
باغِ ہستی میں متاعِ نفس ارزاں نکلا !
وسعت افزائیِ آشفتگیِ شوق نہ پوچھ
خاک کی مٹّھی میں پوشیدہ بیاباں نکلا ! ۱
۱ - بیاض اعجاز ،ص ۷۰ ، نوادرِ اقبال، ص ۷۵
طور پر تونے جو اے دیدئہ موسیٰ دیکھا
وہی کچھ قیس نے دیکھا پسِ محمل ہو کر
میری ہستی ہی جو تھی میری نظر کا پردہ
اٹھ گیا بزم سے میں پردئہ محفل ہو کر
عینِ ہستی ہوا ہستی کا فنا ہو جانا
حق دکھایا مجھے اس نکتے نے باطل ہو کر
خلق معقول ہے ، محسوس ہے خالق اے دل
دیکھ نادان ذرا آپ سے غافل ہو کر۲
۲ - باقیات اقبال، ص ۴۵۳
خ
دیکھ اے غافل یہ دنیا جائے آسایش نہیں
اس ختن سے کر گیا ہے آہوئے آرام رم
ہائے اپنا ہی نظر آیا نہ کچھ انجام اسے
دیکھتا تھا جام میں ہر چیز کا انجام جم
دم میں جب تک دم ہے ، گردوں تک رسائی ہے محال
گلشن ہستی میں ہے سو دام کا اک دام دم۱
۱ - باقیات اقبال، ص ۴۵۳
خ

دل ترے شوق میں جب درد سے بے تاب ہوا
اشک جو آنکھ سے ٹپکا ، دُرِ نایاب ہوا
جوشِ ایماں جو دکھائوں تو الٹ دوں یہ جہاں
دل نہ سینے میں ہوا ، قطرئہ سیماب ہوا
عقل کی فوج نے ہر جنگ میں منہ کی کھائی
عشق میدان میں آیا تو ظفریاب ہوا
کر نہ تقدیر کے شکووں سے خودی کو رسوا
بہرِ تدبیر عیاں عالمِ اسباب ہوا
تیرے پرتو سے ہے ہر چیز میں نورِ عرفاں
گلشنِ دہر ترے حسن سے شاداب ہوا
قلبِ انساں سے چلی آتی ہے فطرت کی صدا
خود کو جو جان گیا ، سمجھو خدایاب ہوا
اس کی اک ضرب سے ہو زلزلہ طاری ہر سو
زورِ مسلم نہ ہوا ، خیال ہوا خواب ہوا
کون جانے کہ قلندر ہے شہنشاہِ جہاں
فرشِ خاکی بھی مجھے فقر میں کمخواب ہوا
جو ضرورت ہوئی بس کہہ دی خدا سے اقبال
میں نہ تکلیف میں شرمندئہ احباب ہوا۱
۱ - نوادر اقبال، ص ۶۹
خ
جہاں زندگی ہے وہاں آرزو ہے
جہاں آرزو ہے وہاں جستجو ہے
نہ ہو جستجو تو ہے ویرانہ عالم
تری جستجو ہی تری آبرو ہے
نظر جب سے تیری نظر سے ملی ہے
جسے دیکھتا ہوں وہی خوب رو ہے
مٹاتے ہیں الفاظ ، معنی کی شوکت
مری بے زبانی ، مری گفتگو ہے
تری آرزو سے ملی وہ قناعت
نہ کوئی ہوس ہے نہ کچھ آرزو ہے
خودی نے عطا کی مجھے خود شناسی
ترا حسن دائم مرے روبرو ہے
نمایاں ہے کثرت میں وحدت کا جلوہ
جدھر دیکھتا ہوں وہی روبرو ہے
وہ کیا شے ہے اقبال سینے میں تیرے
فرشتوں میں ہر دم تری گفتگو ہے ۱
۱ - سرود رفتہ ،ص ۱۵۲
خ

ٹوٹ کر آئنہ سکھلا گیا اسرارِ حیات
آبرو چاہے تو کر سختیِٔ خارا پیدا
آگ سی قوم کے سینے میں بھڑک اٹھتی ہے
ایک دل میں ہو اگر تازہ تمنّا پیدا
عشق کو تنگیِ میدان عمل سے کیا خوف
کہ جنوں ذرّے سے کر لیتا ہے صحرا پیدا
سر پٹکتی ہے پہاڑوں میں ابھی تک بجلی
سنگ پھر کر نہ سکا شعلۂ سینا پیدا
جوئے بے مایہ نہ ہو ابرِ کرم سے نومید
کیا عجب تو بھی کرے شوکتِ دریا پیدا
تجھ میں باقی ہے اگر کچھ اثرِ سوزِ خلیل
نارِ امروز سے کر گلشنِ فردا پیدا
دل اگر خوں ہے تو ہے درد بھی سامانِ نشاط
گریۂ تلخ سے ہے خندئہ مینا پیدا۱
۱ - بیاض اعجاز، ص ۶۸
خ

کھول دروازئہ خلوت گہِ ناز اے ساقی
دیکھ تو مجمعِ اربابِ نیاز اے ساقی!
خطِ گلزار میں قرطاسِ زمیں پر آخر
دستِ فطرت نے لکھا حکمِ جواز اے ساقی!
ایک ہی گردشِ ساغر میں کیا تونے تمام
ورنہ قصّہ تھا محبت کا دراز اے ساقی!
عشقِ بے باک ہے مجبورِ نوا ہائے بلند
اس قدر پست نہ کر پردئہ ساز اے ساقی !
کیفِ یک گونہ ، حقیقت ہے زمانے میں فقط
مے و مے خوارہ و مینا ہے مجاز اے ساقی!
بند رہتی نہیں مستی میں زبانِ واعظ
اس تنک مے کو نہ کر محرمِ راز اے ساقی!
امتیازِ قدحِ شیخ و برہمن کب تک
صورتِ بادہ ہے پیمانہ گداز اے ساقی!
صورتِ سنگ میں ہے جلوئہ معنی مستور
آنکھ کھلتی ہے تو پوجا ہے نماز اے ساقی۱
۱ - بیاض چہارم، ص ۹
خ

قدسیوں کو رشک اس جمعیّتِ خاطر پہ ہے
کچھ نہیں کھلتا کہ میں کس کے پریشانوں میں ہوں!
واعظوں کی بزم میں خاموش میں بیٹھا رہا
اپنا اپنوں میں ہوں ، بیگانہ میںبیگانوں میں ہوں!
جوں امامِ دانۂ تسبیح دنیا میں رہا
میں نہیں دانوں میں ، لیکن پھر بھی ان دانوں میں ہوں!
جائوں دوزخ کو کہ جنّت کو ، مجھے کیا حکم ہے
تیرے دیوانوں میں ، حیرانوں میں ، مستانوں میں ہوں! ۱
خ
نقش ہے تقدیر تیرے خامۂ تدبیر کا
ہے بغل پروردئہ امروز ہر فردا ترا!
اک گھڑی میں شاخ سے پھوٹا ، کھلا ، مرجھا گیا
کیا یہی معشوق تھا اے بلبل شیدا ترا !۲
۱ - بیاض اعجاز، ص ۶۴
۲ - ایضاً ،ص ۶۶
خ

حقیقت میں روحِ ابد ہے زمانہ
یہ امروز و فردا ہیں تیرا فسانہ
نہ ہو جب تلک دل میں ایمانِ کامل
خودی بھی فسانہ ، خدا بھی فسانہ
خودی کی حفاظت کوئی مجھ سے سیکھے
غریبی میں انداز ہیں خسروانہ
فرنگی کی دنیا ، فسوں سامری کا
ادا دلبرانہ ، عمل ساحرانہ
سزا پانے والی ہے یورپ کی غفلت
کہ فطرت بھی رکھتی ہے اک تازیانہ
نہ ہو گر یقیں دیکھ لے سرجھکا کر
ترے دل میں ہے دفن تیرا خزانہ
سفر میں نہ منزل کا رکھ کچھ تخیّل
جلا دے کسی برق سے آشیانہ
کوئی مردِ مومن جگا دے یہ بستی
طریقے ہیں مشرق کے سب راہبانہ
پتنگے ہیں نابود اور شمع گریاں
ہوئی ختم حسرت پہ بزمِ شبانہ
سکھائو اب اقبالؔ کچھ قاہری بھی
بہت کہہ چکے قصّۂ عاشقانہ۱
۱ - سرود رفتہ، ص ۱۵۳
خ

مرے نالے تو ایسے تھے کہ پتھر بھی پگھل جاتے
الٰہی تیری دنیا میں کوئی درد آشنا بھی ہے
پسند آیا مجھے اے گل ترا اندازِ خاموشی
کہ تو اس باغ میں خاموش بھی ، خونیں نوا بھی ہے۱

۱ - بیاض اعجاز، ص ۶۶

خ

 

غزلوں کے جزوی متروکات

غزل
؎ یہ سرودِ قمری و بلبل فریبِ گوش ہے
خوف کچھ اس کا ترے فرقت نصیبوں کو نہیں
حشر اوروں کا ابھی فردا ہے، ان کا دوش ہے
کُھل گیا آخر چمن میں ہستیِ بلبل کا راز
لذتِ پرواز ہنگامے سے ہم آغوش ہے
پوچھتی تھی گل سے کل بلبل کہ اے جانِ چمن
بھید یہ کیا ہے کہ میں نالاں ہوں تو خاموش ہے
بارِ ہستی میں وہ کیا لذّت تھی ایسی اے حباب
موج پشتِ غم سراپا تو سراپا دوش ہے۱
۱۔ بیاض اعجاز ،ص ۶۲

خ

غزل
؎ نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
جلوئہ گل کا ہے اک دام نمایاں بلبل
اس گلستاں میں ہیں پوشیدہ کئی دام ابھی
ہم نوا لذّتِ آزادیِ پرواز کُجا
بے پری سے ہے نشیمن بھی مجھے دام ابھی
غزل
؎ پردہ چہرے سے ہٹا انجمن آرائی کر
دل ہے یک بین و یک اندیش تو پروا کیا ہے
بے خطر دیدئہ بے تاب کو ہرجائی کر۱
۱ ۔ روزگارِ فقیر، ص ۳۱۹
خ
غزل
؎ کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کوئی جا کے مسلمِ خستہ جاں کو سنائے میرا پیام یہ
جو وطن ہے دشمنِ آبرو تو اماں ہے ملکِ حجاز میں

تجھے کیا بتائیے ہم نشیں ہمیں موت میں جو مزا مِلا
نہ مِلا مسیح و خضر کو بھی وہ نشاط عمر دراز میں۱
۱۔ بیاض اعجاز ص ۶
خ

 

 

 

 

 


ظریفانہ قطعات

دارالسلطنت دہلی
ہو گیا زخمِ دلِ بنگال آخر مندمل
وہ جو تھی پہلے تمیزِ کافر و مومن ، گئی
تاجِ شاہی یعنی کلکتّے سے دلّی آ گیا
مل گئی بابو کو جوتی اور پگڑی چھن گئی۱
۱ - بیاض اوّل، ص ۹۱
خ
اک ینگ پارٹی ہے اس انجمن میں ایسی
دانائے انجمن بھی ، نادانِ انجمن بھی
یہ عرض ہے جنابِ نوّاب سے کہ جن سے
قائم یہ انجمن ہے اور شانِ انجمن بھی
کالج کے نوجواں جو بگڑے تھے بن گئے ہیں
محتاجِ مشورت ہیں پیرانِ انجمن بھی۲
۲ - بیاض سوم، ص ۱
خ
کچھ یونیورسٹی میں ڈوبا ، جو باقی تھا بلقان گیا
کیا تم سے کہیں اپریل میں جلسہ سالانہ بھی آتا ہے
پر جیب ہماری خالی ہے ، اب چندوں سے کچھ کام نہیں
ہاں گاہے بگاہے بہرِ بقایا لیگ کا وی پی آتا ہے۱
۱ - بیاض سوم، ص ۱
خ
کہی اچھّی نقیبِ انجمن نے
وہ سمجھے گا اسے جو کارداں ہے
خدا واحد ہے ، دو ناظم ہیں اپنے
دو عملی میں ہمارا آشیاں ہے۲
۲ - بیاض سوم، ص ۱ ، تمدن، اکتوبر ۱۹۱۴ء
خ
ہر محکمے میں عہدے تقسیم ہوں برابر
ہوتی نہیں ہے ہم کو جنگ و جدل سے سیری
خفیہ پولِس میں جب سے حد ہو گئی ہے قائم
ہندو ہیں پیڈ افسر مسلم ہیں آنریری۳
۳ - بیاض سوم ،ص ۲
خ

انساں ہوئے مہذّب لیکن مزہ تو جب ہے
جنگل میں کہہ رہی تھی ہاتھی سے کل یہ ہتھنی
تقریر کو کھڑی ہو کلّو میاں کی بیوی
پردھان ہو سبھا میں بنسی کی دھرم پتنی
۱ - بیاض سوم ،ص ۲
خ
جناب شیخ کو پلوائو خاص لندن کی
عجیب نسخہ ہے یہ خود فرامشی کے لیے
ہمارے حق میں تو جینا بتر ہے مرنے سے
جو زندہ ہیں تو فقط آپ کی خوشی کے لیے
ہوا میں جینے سے بیزار جب تو فرمایا
’’کہاں سے لائو گے بندوق خودکشی کے لیے‘‘ ۲
۲ - بیاض سوم ،ص ۵
خ
اقبال نے مزاج جو پوچھا تو شیخ نے
موزوں کیا یہ شعر زبان سلیس میں
نیلام خرقہ چندئہ ٹرکی کے واسطے
عمّامہ رہنِ مدرسہ بیٹوں کی فیس میں
۳ - بیاض سوم ،ص ۶
اغراضِ مختلف کی ہے پیکار ہند میں
ہر قوم پائے بندِ رسوم و قیود ہے
ممکن نہیں کہ صلح ہو انجن کے دور میں
نقصان یکّہ بان کا ، گھوڑے کا سود ہے۱
۱ - بیاض سوم ،ص ۶
خ
مضمون انوکھے بنگالی اخباروں میں چھپواتے ہیں
سرکار رعیّت پرور ہے کیوں ناحق شور مچاتے ہیں
ہے خوب صفائی شہروں کی اور پارک بھی بنتے جاتے ہیں
گو پیٹ میں اپنے خاک نہیں پر تازہ ہوا تو کھاتے ہیں۲
۲ - بیاض سوم ،ص ۹
خ
اسمِ اعظم کا وہ ذکرِ صبح گاہی اب کہاں
شیخ کے دل میں اگر کچھ ہے تو حبِّ جاہ ہے
ذکرِ حق ، مسلم کے گھر سے ہو گیا رخصت مگر
ایک طوطے کی زباں پر پاک ذات اللہ ہے۳
۳ - بیاض سوم، ص ۹
خ

جامع و مانع کوئی تعریفِ مسلم چاہیے
ذہن میں میرے اصولِ منطق و قانون ہے
فوجداری میں تو ہوتا ہے عموماً مستغیث
ہو تنازع کوئی دیوانی تو وہ مدفون ہے۱
۱ - بیاض سوم ،ص۹
ممکن نہیں کہ ایک ہی بازار میں چلیں
ہم سکّے اَور دھات کے ، وہ اور دھات کے
مخلوط انتخاب سے ہے نا امید ہند
پابند ، یاں کے ووٹ بھی ہیں چھوت چھات کے۲
۲ - بیاض سوم ،ص ۱۰
خ
یوں مسئلہ زبان کا حضرت نے حل کیا
پوچھا جو میں نے کوئی طریقہ بتایے
’’پنجابی گھر میں بولیے ، اردو سٹیج پر
سینسس کے کاغذات میں ہندی لکھایے‘‘۳
۳ - بیاض سوم ،ص ۱۰
خ
انساں نے سیکڑوں جم و دارا کیے پسند
کچلا اسے جنھوں نے عذابوں کے بوجھ سے
دریائے ہست و بود کی رفتار ہے وہی
دبتی ہے سطحِ آب حبابوں کے بوجھ سے۱
۱ - بیاض سوم ،ص ۱۴
خ
ووٹوں پہ منحصر نہیں کونسل کی ممبری
عہدہ ہے یہ جدید ، جدید امتحان ہے
ہے شیخ کم زباں تو برہمن زباں دراز
اس بات میں وہ جیتے گا جو کم زبان ہے۲
۲ - بیاض سوم ،ص ۵۴
خ
ہندوستاں میں جزوِ حکومت ہیں کونسلیں
آغاز ہے ہمارے سیاسی کمال کا
ہم تو فقیر تھے ہی ، ہمارا تو کام تھا
سیکھیں سلیقہ اب امراء بھی سوال کا۳
۳ - بیاض سوم ،ص۵۴
خ
بختِ مسلم کی شبِ تار سے ڈرتی ہے سحر
تیرگی میں ہے یہ شب، دیدئہ آہو کی طرح

ہے اندھیرے میں فقط مولوی صاحب کی نمود
بن کے شمس العلماء چمکے ہیں جگنو کی طرح۱
۱ - بیاض سوم ،ص ۵۶ ، زمانہ، جنوری ۱۹۱۵ء
خ
آساں ہے اب تو ہندو و مسلم کا اتّحاد
کعبے کو پھر شریف نے بتخانہ کر دیا
جوشِ جنوں میں آج سنا دی پتے کی بات
تو نے کمال اے دلِ دیوانہ کر دیا
کہتا تھا کوئی یونیورسٹی کے ہال میں
’’ڈگری دلا کے دین سے بیگانہ کر دیا‘‘
۲ - بیاض اعجاز ،ص ۷۳ (دسمبر ۱۹۱۹ئ)
خ
ہاتھوں سے اپنے دامنِ دنیا نکل گیا
رخصت ہوا دلوں سے خیالِ مفاد بھی
قانونِ وقف کے لیے لڑتے تھے شیخ جی
پوچھو تو وقف کرنے کو ہے جائداد بھی؟۳
۳ - بیاض اعجاز ،ص ۱۱۴
خ

باہر ہوئے جاتے ہو کیوں جامے سے
پوچھو کسی پنڈت سے نہ عَلّامے سے
میں تم کو بتاتا ہوں یونیورسٹی کیا ہے؟
پتلون کی تکرار ہے پاجامے سے۱
۱ - اوراق گم گشتہ، ص ۳۷
خ

بے سلطنت قوم یا جسمِ بے روح
ہے قوم جسم ، سلطنت اس میں ہے مثلِ روح
جب یہ نہیں تو قوم نہیں بلکہ لاش ہے
سعیِ شغال و گرگ سے جنبش ہوئی اگر
نافہم سمجھے قوم میں خود اِنتعاش ہے
البتہ زندگانیِ شخصی کا ہے وجود
قانون میں ہر اک کے لیے زندہ باش ہے
پیمانہ ہائے ساختۂ شاہِ وقت پر
محدود طالبین کی فکرِ معاش ہے
بے علم مذہبی کے ہیں اخلاق نادرست
اس کی خرابیوں سے تو دل پاش پاش ہے
کچھ خاک میں ملیں گے تو کچھ ہوں گے جزوِ غیر
یہ مسئلہ صحیح ہے گو دلخراش ہے
اپنی یہ احتیاط کہ بوسے پہ اکتفا
اس پر بھی یہ عتاب کہ تو بدمعاش ہے
۱ - زمانہ کانپور ، جولائی ۱۹۲۰ء
خ
گاندھی سے ایک روز یہ کہتے تھے مالوی
کمزور کی کمند ہے دنیا میں نارسا
نازک یہ سلطنت صفتِ برگِ گُل نہیں
لے جائے گلستاں سے اڑا کر جسے صبا
گاڑھا اِدھر ہے زیبِ بدن اور زرہ اُدھر
صرصر کی رہ گزار میں کیا عرض ہو بھلا
پِس کر ملے گا گردِ رہِ روزگار میں
دانہ جو آسیا سے ہوا قوّت آزما
بولا یہ بات سن کے کمالِ وقار سے
وہ مردِ پختہ کار و حق اندیش و باصفا
’’خارا حریفِ سعیِ ضعیفاں نمی شود
صد کوچہ ایست در بنِ دنداں خلال را‘‘۲
۲ - ز میندار، ۱۳ نومبر ۱۹۲۱ء
محنت و سرمایہ دنیا میں صف آرا ہو گئے
دیکھئے ہوتا ہے کس کس کی تمنائوں کا خون
حکمت و تدبیر سے یہ فتنۂ آشوب خیز
ٹل نہیں سکتا وَقد کُنْتُمْ بِہِ تَسْتَعْجِلُونَ
کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشمِ مسلم دیکھ لے تفسیرِ حرفِ یَنسِلُوْن۱
۱ - باقیات اقبال، ص ۴۶۳ ، صوفی، دسمبر ۱۹۲۱ء

خ
مالوی
اتنی خدمت کی ہے خلق اللہ کی
دیکھئے ہوتے ہیں کب ’سر‘ مالوی
مسلمِ ناداں کو کیا معلوم ہے
کس خدا کے ہیں پیمبر مالوی
خوب تھا یہ خالصہ جی کا بچن
کب ہے گاندھی کے برابر مالوی
مرد میداں گاندھیِ درویش خو
اور کونسل کے سپیکر مالوی۲
۲ - بیاض چہارم ،ص ۶ (تحریر ۲۲ اپریل ۱۹۲۲ئ) زمیندار، ۲۶ اپریل ۱۹۲۲ء
خدا کی زمیں تھی مزارع نے جوتی
کمائی مگر چودھری جی نے کھائی
نہیں بار ، صاحب کے ٹیبل پہ اس کو
اگر روپ بسکٹ کا دھارے خطائی
پٹی خوب جمّن کے ہاتھوں نصیبن
گئی عرس میں اور شب بھر نہ آئی
۱ - بیاض چہارم، ص ۶
خ
ہند کی کیا پوچھتے ہو اے حسینانِ فرنگ
دل گراں ، ہمت سبک ، ووٹر فزوں ، روزی تنک
بے ٹکٹ ، بے پاس ، بھارت کی سیاسی ریل میں
ہو گیا آخر مسیتا بھی معِ اسباب بُک
’’لُک وِدن‘‘ کا حکم تھا اس بندئہ اللہ کو
اب یہ سنتے ہیں نکلنے کو ہے ’’ مسلم آئوٹ لُک‘‘
کیا عجب پہلے ہی لیڈر میں یہ کر دے آشکار
کس طرح آیا کو لے کر اڑ گیا صاحب کا کُک
ختم تھا مرحوم اکبر پر ہی یہ رنگِ سخن
ہر سخن ور کی یہاں طبع رواں جاتی ہے رُک
قافیہ اک اور بھی اچھّا تھا لیکن کیا کریں
کر دیا متروک دہلی کے زباں دانوں نے ٹُک۱
۱ - بیاض چہارم، ص ۶ ، صوفی، فروری ۱۹۲۳ء
خ
عمل عاشقوں کے ہیں بے طور سارے
نہیں اس کمیٹی کا کوئی اجنڈا
تمہیں ہند ، سرمایہ دارو مبارک
سلامت مجھے میرا فیجی ، یوگنڈا
میں ڈنڈے پہ شاکر ، تو انڈے پہ راضی
مرا پیر ڈنڈا ، ترا پیر انڈا۲
۲ - بیاض چہارم، ص ۶
خ
پیغامِ اتحاد
اخبار میں یہ لکھتا ہے لندن کا پادری
ہم کو نہیں ہے مذہبِ اسلام سے عناد
لیکن وہ ظلم ننگ ہے تہذیب کے لیے
کرتے ہیں ارمنوں پہ جو ترکانِ دوں نہاد
مسلم بھی ہوں حمایتِ حق میں ہمارے ساتھ
مٹ جائے تا جہاں سے بنائے شر و فساد
یہ بات سن کے خوب کہا شاہ نواز نے
’’بلی چوہے کو دیتی ہے پیغامِ اتّحاد‘‘
۱ - بیاض چہارم ، ص ۸
خ
دستور تھا کہ ہوتا تھا پہلے زمانے میں
ملّا کا ، محتسب کا ، خدا کا ، نبی کا ڈر
دو خوف رہ گئے ہیں ہمارے زمانے میں
مضموں نگار بیوی کا ، سی آئی ڈی کا ڈر۲
۲ - سرود رفتہ، ص ۲۳۴ ، انقلاب، فروری ۱۹۲۶ء

خ

 

 

 

 


ظریفانہ قطعات کے جزوی متروکات

قطعہ :
مشرق میں اصول دیں بن جاتے ہیں
شعر اول :
ہندی ناداں ہیں کہ چلّاتے ہیں
یورپ سے برابری کی ٹھہراتے ہیں

اشعار، بانگِ درا، ص ،۲۸۸
خ
گائے اک روز ہوئی اونٹ سے یوں گرمِ سخن
شعر :
جان بل ہانکتا ہے ایک ہی لاٹھی سے ہمیں
یعنی ہے یک جہتی اس کی حکومت کا شعار

 

 

قطعات ؍ رباعیات


رباعی
پتھر ہے اگر علم سے بے گانہ ہے
بے عقل ہے ، بے ہوش ہے ، دیوانہ ہے
کیا لہو و لعب میں آبرو پائے گا
نادان چھلکنے کو یہ پیمانہ ہے۱
۱۔ ماہِ نو، اقبال نمبر ۱۹۷۷ء
خ
بنائے قومیّت
تو قیس نہیں تو تجھ کو بَن سے کیا کام
زر پاس نہیں تو راہزن سے کیا کام
مسلم کی بنائے قومیّت ہے اسلام
مسلم ہے اگر تُو تو وطن سے کیا کام
۲۔ باقیاتِ اقبال ،ص ۲۰۷
طائرِ شام
لبریز ہے سرود سے تیرے سکوتِ شام
طائر کہاں ہے ایک طلسم نوا ہے تو
انساں کی ہے جو شام وہ تاروں کی ہے سحر
خوابیدہ ہیں نجوم اذاں کی صدا ہے تو
۱۔ روز گار فقیر ،ص ۳۴۷
خ
قطعہ
اے حبابِ بحر اے پروردئہ دامانِ موج
کچھ پتہ ملتا ہے تجھ سے اپنی ہستی کا مجھے
کُھل گئی چشمِ تماشا اپنی جس دم اے کلیم
طور ہر ذرّے کے دامن میں نظر آیا مجھے
موت یہ میری نہیں میری اجل کی موت ہے
کیوں ڈروں اس سے کہ مر کر پھر نہیں مرنا مجھے۲
۲۔ نوادرِ اقبال، ص ۲۹۶
خ
قطعہ: برائے مشاعرہ بزم اردو لاہور
بجلی کی زد میں آتے ہیں پہلے وہی طیّور
جو اس چمن سرا میں بلند آشیاں رہے
موقوف آرزو ہے توانائیِ حیات
پیری شباب ہے جو تمنّا جواں رہے
کچھ اور شے نہیں ہے وہی زندگی ہے موت
جس زندگی میں کاوشِ سود و زیاں رہے۱
۱۔ روز گارِ فقیر ،ص ۳۰۹
خ
قطعہ
گم گشتہ کنعاں ہے اے خوگرِ زنداں تو
ہستی کے خیاباں میں ہر پھول زلیخا ہے
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی
تو ہستیِ بینا ہے ، دانا ہے ، توانا ہے۲
۲۔ انوارِ اقبال ،ص ۵۹۸

خ
مکافاتِ عمل
ہر عمل کے لیے ہے ردّ عمل
دہر میں نیش کا جواب ہے نیش
شیر سے آسمان لیتا ہے
انتقامِ غزال و اشتر و میش
سرگذشتِ جہاں کا سرِ ّخفی
کہہ گیا ہے کوئی نِکو اندیش
شمع پروانہ را بسوخت ولے
زود بریاں شود بروغنِ خویش۱
۱۔ باقیات اقبال ،ص ۲۲۰

خ
جلیانوالہ باغ امرتسر
ہر زائرِ چمن سے یہ کہتی ہے خاکِ باغ
غافل نہ رہ جہان میں گردوں کی چال سے
سینچا گیا ہے خونِ شہیداں سے اس کا تخم
تو آنسوئوں کا بُخل نہ کر اس نہال سے۱
۱۔ رختِ سفر ،ص ۱۵۵
خ
رباعی
گردوں کو کوئی زمین کر سکتا ہے
حکمت جو ہے مشین کر سکتا ہے
ٹکڑے ٹکڑے وہ چین کر سکتا ہے
جو ایک کو تین تین کر سکتا ہے
۹۔ نظم لا الہ الا اللہ (ضرب کلیم) کے متروکہ اشعار
ابھی حال ہی میں خالد نظیر صوفی کی کتاب ’’اقبال درونِ خانہ‘‘ (حیات اقبال کا خانگی پہلو ) شائع ہوئی ہے ۔ جس میں اقبال کی نظم لاالہ الا اللہ (مشمولہ ضرب کلیم) کے چند ایسے اشعار شائع ہوئے ہیں جو اب موجودہ نظم میں شامل نہیں ہیں ۔ ان اشعار کا ماخذ علامہ کی بہن کریم بی بی کا وہ بیاض ہے جو خالد نظیر صوفی کے مطابق اب تک محفوظ ہے۔

خودی خدا کا نشاں لا الہ الا اللہ
خدا خودی سے عیاں لا الہ الا اللہ
نظام کن میں اگر تو بچشم دل دیکھے
خودی ہے روحِ رواں لا الہ الا اللہ
جہاںِ عشق و جنوں ہے حقیقتِ روشن
تری خودی میں نہاں لا الہ الا اللہ
اگر تو شان و مقامِ خودی کو پہچانے
ترے ہیں دونوں جہاں لا الہ الا اللہ
ہوا ہے غیر کی محفل میں جا کے تو رسوا
حرم ہے تیرا مکاں لا الہ الا اللہ
دل و نظر میں تفاوت کبھی نہیں ممکن
اگر ہو وردِ زباں لا الہ الا اللہ
تو اپنا آپ نگہباں نہیں گلہ کس کا
کہاں کا جورِ زماں لا الہ الا اللہ
مجاہدانہ بسر کر قلندری آموز
یہی ہے مقصد جاں لا الہ الا اللہ
خطیب سحر بیانی سے کر گیا مسحور
خدا کا ذکر کہاں لا الہ الا اللہ

اگر مقام محبت نظر میں ہو تیرے
سبک ہے بارِ گراں لا الہ الا اللہ
۱۔ اقبال درونِ خانہ(حیات اقبال کا خانگی پہلو ) ص ۳۴
خ

 

 


دورِ سوم کا کلام
(۱۹۲۵ء تا ۱۹۳۸ئ)
’’بال جبریل‘‘ ’’ضربِ کلیم‘‘
’’ارمغانِ حجاز‘‘ کے متروکات

خ مکمل متروکہ نظمیں؍قطعات
خ نظموں کے جزوی متروکات
خ غزلوں کے جزوی متروکات
خ متروکہ قطعات ؍ رباعیات

 

 

 

 

 

 

 

 

 


مکمل متروکہ نظمیں(بالِ جبریل)



نظم
یہ عالمِ گِل ، یہ عالمِ دل
دونوں کی ہے اپنی اپنی منزل
وہ سست قدم یہ تند رو ہے
دونوں کے لیے سفر ہے مشکل
یہ راز نہ کھل سکا کسی پر
کیوں کر ہوئے ہم سفر دل و گل
منزل گِل کی مماتِ جاوید
منزل دل کی حیاتِ جاوید۱
۱ - بیاض پنجم ،ص ۱۷
خ

زمین و زمانہ

(زمین)
جہاں میرے اسرار سے بے خبر ہے
حوادث کی میں اک لحد ہوں پرانی
کوئی حد ہے میری شکم خواریوں کی
مرا لقمہ ہر امّتِ باستانی
مری خاکِ خاموش میں مل گئے ہیں
ستم ہائے تدریجی و ناگہانی
مری خاک میں نادری کا زمانہ
مری خاک میں قبرِ چنگیزخانی
اِدھر سرنگوں کاخ و کو رومیوں کے
اُدھر سرنگوں رایتِ گورگانی
لپیٹے ہوئے اپنے اپنے کفن میں
یہ فرعونِ اوّل ، وہ فرعونِ ثانی
وہ انبارِ جمشید کی استخوانی
یہ مشتِ گِل رستم سیستانی

برونِ زمیں جلوئہ چند روزہ
درونِ زمیں ، ظلمتِ جاودانی۱
۱ - بیاض پنجم، ص، ۲۱ : یہ نظم در اصل ’’زمانہ‘‘ کلیات، ص ۴۲۱ کا ابتدائی حصہ تھی
خ

خطاب بہ فرزند آدم
تری نے میں ہے نغمۂ جبرئیل
ترا دل کلیم و مسیح و خلیل
ترا دل کشائندئہ کائنات
ترا دل ربائندئہ کائنات
ستاروں سے اونچی تری مشت خاک
متاعِ دو عالم تری جان پاک
تو ہے حاصلِ پیچ و تابِ وجود
مفسّر ہے تیری کتابِ وجود
جہاں باجہات اور تو بے جہات
جہاں بے ثبات اور تو باثبات۲
۲ - بیاض پنجم، ص ۲۳
خ

 

 

مکمل نظمیں ؍قطعات (ضرب کلیم)


عورت
طریقِ صوفی و مُلّا بدل گیا لیکن
خدا کے مست قلندر کی شوخیاں نہ گئیں
کل اس نے اپنے مریدانِ خاص سے یہ کہا
ملا نہ مجھ کو کوئی مردِ زن شناس کہیں
سرورِ بادہ سے ہوتی ہے آشکار عورت
سرورِ بادہ اگر ہے تو ’ہاں‘ نہیں تو ’ نہیں‘۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۲
خ

برطانیہ
سنا ہے میں نے کہ برطانوی پشیماں ہیں
ہمیں نئی مَدنیّت سے آشنا کر کے
نہ عقدہ کھول سکے ہیں یہ آئرستاں کا
نہ رختِ ہند کو تہ کر سکے ہیں وا کر کے۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۳
غلاموں کی تبلیغ
کر رہا ہے پیر کی دوں فطرتی کو آشکار
دردِ محکومی کا یہ دارو کہ حاکم ہو مرید
اپنا مذہب حکمراں کے سامنے کرتا ہے پیش
بندئہ محکوم آزادی سے ہو کر نا امید۲
۲ - بیاض ہفتم ،ص ۴
خ
وحدتِ عرب
یہ فلسطینی وہ شامی یہ عراقی وہ عرب
مشکلیں یورپ کے عیّاروں کی آساں ہو گئیں
میں نے دیوارِ حرم پر لکھ دیا غالب کا شعر
’’ملّتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں‘‘۳
۳ - بیاض ہفتم ،ص ۴
خ

تورانی تحریک
نسل تَتَری چینی و عمّانی و روسی
لیکن نہیں نومید مری جانِ پرُ امّید
مذہب نہ سہی وحدتِ اقوام کی بنیاد
کہتا ہے بشپ بھی کہ یہ تثلیث ہو توحید۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۴
صلائے عام
صلائے عام ہے مشرق کے تشنہ کاموں کو
درخشِ آب ہوں میں جلوئہ سراب نہیں
مری نوا نے دیا اس شرر کو ذوقِ نمود
کہ تیری خاک میں ہے اور بے حجاب نہیں
اسی محیط سے طوفاں مرا الجھتا ہے
کہ جس کی موج سبک خیز و بے حباب نہیں
زریر فام ، طلوع و غروب کا پابند
مرے زمانے کے لائق یہ آفتاب نہیں۲
۲ - بیاض ہفتم ،ص ۵
خ
تنسیخِ جہاد
ہے دم بدم تغّیر احوالِ زندگی میں
رہتی نہیں ہمیشہ میروں کے گھر میں میری
نخچیر اب کہاں ہے اس نیلگوں فضا میں
فطرت سکھا رہی ہے شاہیں کو موش گیری۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۷
خ
صوفی
لاہوت سے محروم ہے یہ تارکِ ناسوت
بے چارے کے ہاتھوں میں نہ ناسوت نہ لاہوت
ہنگامۂ امروز کا مفرور سپاہی
آنکھوں میں کچھ نشۂ عالمِ جبروت
حق اور صنم خانۂ باطل کا پجاری
اللہ یہ مومن ہے کہ مومن کا ہے تابوت۲
۲ - بیاض ہفتم ،ص ۸
خ

درویشی
گلہ رکھتا ہوں میں بھی اس مسلماں کُش مسلماں سے
فرنگی نے بہت مہنگی خریدی جس کی بے کیشی
خوش اسلوبی سے کہہ سکتا ہوں اپنا ماجرا لیکن
نہیں ہے زخم کھا کر آہ کرنا شانِ درویشی
مقام ایسے بھی مردانِ ، خدا کو پیش آتے ہیں
کہ خاموشی ہے شیری ، گفتگو روباہی و میشی۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۹

خ

حجاب
فروغِ طبعِ نسوانی ، خود آرائی و پیدائی
اسی سے عالمِ تہذیب کی بڑھتی ہے پہنائی
رہے حد میں تو روشن ہے شبستانِ حیات اس سے
گذر جائے اگر حد سے تو ہے فطرت کی رسوائی

نہ ہو بے قید ، بے قیدی فسادِ زندگانی ہے
یہ فطرت ہے تو زینت کا چھپانا عین دانائی۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۱۰
خ
حیاتِ ابدی
دل مرا فقر کے اسرار سے بیگانہ نہیں
گرچہ رکھتا نہیں میں سر پہ کلاہِ نمدی
عقل کہتی ہے جسے سلسلۂ شام و سحر
اسی پردے میں ہے پوشیدہ حیاتِ ابدی۲
۲- بیاض ہفتم ،ص ۱۳
خ
توبہ
یہ رمزِ غریب ہے کہ جس سے
ہے اہلِ صفا کا سینہ روشن
پوشیدہ گناہ میں ہے توبہ
زیتون میں جس طرح ہے روغن۳
۳۔ اسرائیلی تصوف : ایک مقولہ ص ۱۴
آزادیِ شمشیر
عصرِ حاضر کی نبوّت کے علم داروں کا
تھا یہ ارشاد کہ منسوخ ہوا حکمِ جہاد
کون فطرت کے تقاضوں کو دبا سکتا ہے
شرعِ انگریز نے کر ڈالی ہے شمشیر آزاد ۱
۱ - بیاض ہفتم ص ۲۳
خ

 

مکمل نظمیں ارمغانِ حجاز (اردو)


خرد مندانِ دوزخ کے مقولے
بند۔ ۱
بہت شیریں ہیں گو مشرق کے اندازِ غزل خوانی
مگر اس ساز کے ہر تار میں ہے مرگِ پنہانی
نکلوائے گئے اگلے جہاں سے ہند کے شاعر
خدا نے خوب کی ، اپنے فرشتوں کی نگہبانی
بند ۔ ۲
چھپا نہ اپنی نگاہوں سے آشیاں اپنا
بلند تر ہے ستاروں سے گو سرود ترا
شبیہِ حور و جناں ، عالمِ خیال میں کھینچ
مگر نہ بھول کہ دوزخ میں ہے وجود ترا۱
۱ - بیاض ہشتم ،ص ۲۳
خ
اقبال کا غلاموں سے خطاب
دورِ محکومی میں راحت کفر ، عشرت ہے حرام
دوستوں کی چاہ ، آپس کی محبت ہے حرام
علم نا جائز ہے ، دستارِ فضیلت ہے حرام
انتہا یہ ہے ، غلامی کی عبادت ہے حرام
سایۂ ذلّت سے مومن کا گزرنا ہے حرام
صرف جینا ہی نہیں ہے بلکہ مرنا ہے حرام۱
۱ - اخبار ایمان ، ۹ جنوری ۱۹۳۷ء
خ
شاعر کے فرضی نام سے نظمیں
میرزا محمود اور سر فضل حسین
سامنے دونوں کے ہے دین و سیاست کی بساط
لائے ہیں دونوں کھلاڑی اپنی اپنی کعبتین
نقطۂ فائے فرنگی سے ہے دونوں کی کشود
یہ وہی نقطہ ہے جس سے عین ہو جاتا ہے غین

انتشارِ ملتِ بیضا ہے دونوں کی غرض
متحد کیوں کر نہ ہوں محمود اور فضلِ حسین
لذّت و حرکت سے گو محروم ہیں دونوں مگر
نحوِ انگلش میں روا ہے التقائے ساکنین
یہ ہوائے قادیاں تھی یا ہوائے کہسار
بجھ گئی افسوس بے چارے ظفر کی لالٹین
اب حریمِ قادیاں میں ہے بٹالہ بھی شریک
لازم آیا مولوی پر سجدہ سوئے قبلتین۱

۱ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)

خ
پنج ہزاری نبی
محمود نے چھیڑا جو نبوّت کا فسانہ
کہنے لگا سر فضل کا اک تازہ حواری
کھانے کو میّسر تھا نہ پینے کو میّسر
اللہ کے نبیوں نے یونہی عمر گذاری
اللہ سے بہتر ہے خداوندِ فرنگی
ہر صوبے میں ہیں جس کے نبی پنج ہزاری۱
۱ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)

خ
"Come to me"
سوئے کوہسار اڑ گیا مولوی
بڑے بول نے جب کہا ’’کم ٹومی‘‘
کوئی مفتیِ شہر سے پوچھتا
یہ کفرِ خفی ہے کہ شرکِ جلی
’’مر او را رسد کبریا و منی
کہ ملکش قدیم است و ذاتش غنی‘‘
مگر سادگی سے یہ سمجھا ظفر
کہ نوشیدنی ہے بٹالے کی ٹی۲
۲ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)
خ

لا الہ الاّ فرنگی
ہو گئی ہے مادیانِ قادیاں اس پر سوار
اب کہاں ہے وہ سوارِ مادیانِ قادیاں
التوا کیوں اس قدر اس کی اشاعت میںہوا
ٹیچی ٹیچی نے اڑالی ’’ارمغانِ قادیاں‘‘
لو فرنگی کی اولوالامری سے باز آیا ’’پسر‘‘
کس قدر بدلے زمین و آسمانِ قادیاں
خیر اب پنجاب کی مجھ کو نظر آتی نہیں
ہے بٹالے کے گلے میں ریسمانِ قادیاں
اس قدر پنجاب میں بامِ وزارت ہے بلند
چور چڑھتے ہیں لگا کر نردبانِ قادیاں
لاٹ سے روٹھے ، گئے پنڈت کے استقبال کو دیکھ کس روزن سے نکلا ہے دمانِ قادیان
نیشنل کور و طواف شملہِ و منعِ جہاد
خود غلام احمد نہ سمجھا چیستانِ قادیاں
لاالہ اِلاّ فرنگی ، کلمۂ دینِ بروز
’’الفرنگی اکبر ‘‘ آوازِ اذانِ قادیاں۱
۱ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)
خ

اتحاد پارٹی
زبان و بیاں ہر دو نابالغانہ
سِول کے مضامیں ہیں ’’نور احمدانہ‘‘
ابھی تازہ پرواز ہیں اتّحادی
مناسب ہے ان کے لیے ’’آشیانہ‘‘
کوئی یونین کے جواں ممبروں کو
سنا دے مرا نکتۂ عارفانہ
ق
کہ چوہوں کو غفلت مناسب نہیں ہے
طریقے ہیں بلی کے گو راہبانہ
بٹالے میں بھی رنگ ہے قادیاں کا
کہ ہے ’’کم ٹو می‘‘ کی ندا ملہمانہ
مسلمان مانگیں کلیسا سے فتویٰ
موّحد چلیں جادئہ مشرکانہ
مری کشتِ ویراں کو اللہ کافی
کہ بادل برستے ہیں بے ’’آبیانہ‘‘
الٹ دے گا کون اس بساطِ کہن کو
زمانہ ، زمانہ ، زمانہ ، زمانہ۱
۱ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)
خ
اتّحادی
بوڑھے ووٹر نے کہا اپنے جواں بیٹے سے
’’یہی بندے ہیں خداوند فرنگی کو پسند
ہم فقط اُشترک و گائو و خر و برّہ و میش
اتّحادی ہیں گورنر کی سواری کے سمند‘‘
سن کے بیٹے نے کہا ’’آپ بجا کہتے ہیں
مرتبے ان کے ہیں سرکار کے نزدیک بلند
جھول زر بفت کی بخشی ہے فرنگی نے انہیں
میرے تہبند میں ہیں ایک نہیں سو پیوند
خواجگی ان کی مسلّم ہے زمانے میں مگر
’’خواجگانند کہ ناں از کفِ مزدور برند‘‘۲

۲ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)

خ
ایک مکالمہ
اتّحادی :
دین و مذہب سے نہیں اپنی سیاست کو غرض
سارے پنجاب کی بہبود ہے اپنا مقصود
کفر و دیں اگلے زمانے کی سخن سازی ہے
ہیں سبھی ایک کہ ہے سب کا فرنگی معبود
خ
راجہ نرندر ناتھ:
وہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ، وہی محرابِ کہن
وہی دیرینہ امام اور وہی ذوقِ سجود
وہی چھوٹو کے چھٹّیے ، وہی سر فضل حسین
’اندریں چشمہ ہماں آبِ رواں ہست کہ بود‘ ۱
۱ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)

خ
احرار اور اتّحادِ ملّت
ذرا سن لو بزرگانِ بہم آویز کے قصّے
بڑے لوگوں کے اشغالِ عداوت بیز کے قصّے
ادھر ناگفتنی ، احرار کی مسجد سے بیزاری
ادھر اک عقدئہ مشکل ہیں دستاویز کے قصّے
ادھر ہیں خالصہ جی کی رضا جوئی کے افسانے
ادھر ایمائے فتنہ خواہیِ انگریز کے قصّے
یہ کہتے ہیں غلط ہے آپ کا دعوائے فرہادی
سناتے ہیں ادھر وہ حیلۂ پرویز کے قصّے
یہ کہتے ہیں مسلمانوں کو مسجد مل نہیں سکتی
عبث ہیں سب یہ تحریکِ جنوں آمیز کے قصّے
یہ کہتے ہیں تمہاری عافیت کوشی ہے غدّاری
ڈراتے ہیں تمہیں سکّھوں کی تیغِ تیز کے قصّے
مریضِ قوم کو یہ ڈاکٹر نسخہ نہیں دیتے
انڈیلے جا رہے ہیں کان میں پرہیز کے قصیّ۱
۱ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)
خ
سوراج کا خوف
کہتا ہے یہ اڑ جائے گی ہندو کی ثقافت
ڈرتا ہے وہ لُٹ جائے گی مسلم کی شرافت
اندیشہ اسے یہ ہے کہ مٹ جائے گی ہندی
اردو پہ ، اسے فکر ہے ، آ جائے گی آفت
یہ ٹام کی ٹوپی کو کہے رام کی چھتری
انگریز کے سائے میںبنائے وہ خلافت
چنتا ہے ’’مسیتا‘‘ بھی اسی خوان کے ریزے
جس خوان پہ کھاتا ہے ’’تُلارام‘‘ ضیافت
ایمائے فرنگی ہو تو مسکین ہیں دونوں
آپس کا جو قصّہ ہو تو کچھ رحم نہ رافت
قوموں کو لڑانے میں ہے لیڈر کی ترقی
پیشہ ہے جو پرچار تو بیوپار صحافت
ایوانِ تمسخر ہے مسلماں کا تدبّر
ہندو کی سیاست ہے کہ ُدکّانِ ظرافت۱
۱ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)
خ
اتّحادی حکومت کی مثلث
ادھر یونین نے سکندر نکالا
ادھر ہندووں نے نرندر سنبھالا
وہاں خالصہ جی کی محفل تو دیکھو
جگندر کی لو نے کیا ہے اجالا
توقع دلاتی ہے تجنیسِ خطّی
مثلّت یہ بن جائے گی لا محالا
کہا میں نے اے نکتہ رس اتّحادی
دوارا ہو ، مکتب ہو یا پاٹھ شالا
کھلے گا اگر تو گورنر کے ہاتھوں
پڑا ہے غلامی کا ان سب پہ تالا
گلے میں اٹک جائے گا بن کے کانٹا
وزارت کا عہدہ نہیں تر نوالا۱
۱ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)

خ

دیوتا سروپ بھائی پرمانند جی
ڈرتے نہیں ہیں استری جاتی کے قہر سے
دیوی پروف بن گئے ہیں دیوتا سروپ
ہندو کی رگ میں خونِ شجاعت ہے موجزن
گویا وہ دال چھوڑ کے پینے لگا ہے ُسوپ
بھائی جی ہو گئے کسی آسیب کا شکار
سلگائیں آ کے مالوی ہندو سبھا کی دھوپ۱
۱ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)
خ
اتّحاد پارٹی اور منصب وزارت
چودھری سر شہاب الدین جو پہلے اسپیکر تھے انہیں وزیر تعلیم بنا دیا گیا-
پنجاب میں ہوتی ہے مناصب کی تجارت
لو آج صدارت ہوئی قربانِ وزارت
وہ ’’تین ہزاری‘‘ تھا یہ ہے ’’پانچ ہزاری‘‘
دی چوہدری صاحب کو سکندر نے بشارت
عہدوں کے لیے لڑتے ہیں سرفضل کے پیرو
محنت کہیں مرحوم کی جائے نہ اکارت
جس طرح سے ممکن ہو جماعت کو بچائو
سودا وہ کرو جس میں نہ ہو بیمِ خسارت
کس ڈھونگ پہ نازاں ہو تم اے یونینسٹو
اک جھونکے میں اڑ جائے گی کاغذ کی عمارت

ہے ملک سے اور قوم سے کیا تم کو سروکار
جب تم کو نچاتی ہے فرنگی کی اشارت
پنجاب کی تقدیر کے مالک ہیں وہ جن کو
نے دیں کی بصیرت ہے نہ دنیا کی بصارت۱
۱ - احسان اخبار ،بحوالہ ڈائری میاں عبدالرشید (مرحوم)

خ

 


نظموں کے جزوی متروکات (بالِ جبریل)

 

لینن خدا کے حضور
سرمایہ پرستی نے کیا خوار جہاں کو
یہ چیز ہے قوموں کے لیے مرگِ مفاجات
کابینہ پریشاں ، متزلزل ہے کرنسی
تو قادر و عادل ہے تو لا دورِ مکافات۱
۱ - بیاض پنجم، ص ۱۱
خ
فرشتوں کا گیت
چرخ ہے کج خرام ابھی اور ستارہ خام ابھی
ہے یہ طلسم آب و گِل ، پیکرِ ناتمام ابھی۲
۲ - ایضاً ،ص ۲۰
ذوق و شوق
بند اوّل
شوقِ یگانہ رو مرا ، ہم سفروں سے بے نیاز
آپ ہی کارواں ہوں میں، آپ ہی میرِ کارواں
منزلِ یار سامنے اور یہ کیفیت مری
خونِ دل و جگر میں ہے ڈوبی ہوئی مری فغاں
از غمِ دل حکایتے است از غمِ دیں حکایتے است
آہِ جگر گداز من ، سوزِ درونِ ملّتے است

خ
بند دوم
قوم یہی ضمیر کا چارئہ کار کچھ نہیں
اس کی نگاہ نابصیر ، اس کی حیات بے ثبات
عشق کے ہاتھ سے گیا سلسلۂ تجلّیات
رہزنِ دینِ غزنوی مغربیوں کے سومنات
حلقہ ذوق و شوق میں آج وہ دیدہ ور کہاں
جن کی نظر میں تھے کبھی پردگیانِ کائنات

ملتِ بے نظام ہے آج وہ ملتِ نجیب
جس کی نماز تھی کبھی عکسِ نظام کائنات
عشق نہ ہو تو عقل سے راہبری کی کیا امید
عشق کی آگ کے بغیر مردہ تمام کلّیات
خ
بند سوم
دیر و مغاں سے اٹھ گئے رند جو تھے کہن سبو
خانقہوں میں رہ گئی اہل ہوس کی ہائے و ہو
وارثِ علم انبیاء لیتے ہیں دہریوں سے درس
اب ہے خدا کے ہاتھ میں اہلِ حرم کی آبرو
اس کا گناہ گار ہوں ، تجھ سے بھی شرمسار ہوں
صاحبِ اختیار ہے ، میرے معاملے میں تو
گرچہ نوائے شوق بھی رخصتِ شب کی ہے دلیل
صبحِ الم کی ہے شفق ، مردِ شہید کا لہو
تو ہے تجلّیِ وجود ، تو ہے تجلّیِ شہود
راز و نیاز ’’مارمیت‘‘ ، سوز و گدازِ عبدہ،

خ

بند چہارم
علم و ہنر کی جدّتیں ، پا برکاب ہیں تمام
ذکر ہے سوز سے تہی ، فکر سفینہ در سراب
فیضِ نظر کہاں کہ جو نقشِ کہن ابھار دے
محو دلوں سے ہو گیا ، حرف جو تھا درونہ تاب
حلقۂ بزمِ راز میں گرمیِ ہاے و ہو نہیں
میرے سوا یہاں کوئی رندِ کہن سبو نہیں

خ
بند پنجم
اعجمیانِ بے زباں ، عشق کے فیض سے کلیم
ترک و تتار کو دیا اس نے درونۂ عرب
عشقِ غیور اگر اسے ذوقِ خودی عطا کرے
سنگِ گراں کو توڑ دے ریزۂ شیشۂ حَلَب
غفلتِ یک نفس خطا ، دوریِ جاوداں سزا
میرے گناہ بھی عجب ، میرے عذاب بھی عجب

خ

بند ششم
علم کے زخم خوردہ کو علم سے بے نیاز کر
عقل کو مے گسار کر ، عشق کو نے نواز کر
صورتِ ریگِ بادیہ ، میرے غموں کا کیا حساب
درد کی داستاں نہ پوچھ ، دست کرم دراز کر
پیرِ حرم خدا فروش ، مفتیِ دیں حرم فروش
رندِ دہن دریدہ کو محرمِ حرفِ راز کر
ارض و سما کی طاقتیں ، تیرے جنود ہیں تمام
میرِ عساکرِ امم ! اپنی سپاہ ساز کر
طبعِ زمانہ تازہ کر جلوئہ بے حجاب سے
شب کو سبک رکاب کر ، روز کو دیر باز کر
اپنی سپاہ ساز کر ، ایک بھی شہرِ دل نہ چھوڑ
ایک بھی شہرِ دل نہ چھوڑ ، سینوں میں ترک تاز کر
تجھ کو خبر بھی ہے کہ ہے ربطِ دل و نظر میں کیا
یا لبِ بام اٹھا نقاب ، یا درِ بستہ باز کر
جامِ جہاں نما بھی دے ، دستِ جہاں کشا بھی دے
صدق بھی دے ، صفا بھی دے ، وحدتِ مدّعا بھی دے

بند ہفتم
مشرقیوں کو پھر وہی جذبِ قلندرانہ دے
جذبِ قلندرانہ دے ، زورِ غضنفرانہ دے
معجزئہ نگاہ سے پست کو پھر بلند کر
طفلک خیمہ دوز کو ہیبت نادرانہ دے
چوبِ کلیم کر عطا ، سحرِ فرنگیانہ توڑ
سوزِ دروں زیادہ کر ، قوّتِ قاہرانہ دے
غرب میں فتنۂ یہود ، شرق میں جنبشِ ہنود
مومنِ پاک باز کو ، عزمِ پیمبرانہ دے
ہیں جو فسونیِ فرنگ ، ان سے نگہ نہ رکھ دریغ
اور فقیہِ شہر کو شیوئہ دلبرانہ دے
فقر سے ننگ و عار کچھ مردِ غیور کو نہیں
نانِ جویں قبول ہے ، ضربتِ حیدرانہ دے
آب و ہوائے شہر سے شعلۂ زندگی ضعیف
خوگرِ کوہ و دشت کو طبعِ غضنفرانہ دے

چشمِ کرشمہ ساز کھول ، معجزئہ نگاہ دیکھ
بزم میں ایک بار پھر گرمیِ لاالٰہ دیکھ۱
۱ - ایضاً ،ص ۲۴
خ
جاوید کے نام
بلند ہے تری ہمّت تو فکرِ روزی کیا
نہیں ہے لقمۂ شاہیں نصیبِ کر گس و زاغ۲
۲ - بیاض پنجم، ص ۱۹
خ

ایک نوجوان کے نام
کھلی ہیں میری آنکھیں ، تن بدن بیدار ہے میرا
مگر سینے میں دل بے لذتِ کردار ہے میرا۳
۳ - ایضاً ،ص ۳
خ

 

 

ساقی نامہ
بند اوّل
صبا فرشِ نسریں بچھانے لگی
زمیں سے ستارے اگانے لگی
نسیمِ سحر گل کھلانے لگی
چٹانوں پہ مخمل بچھانے لگی
زمیں ، یاسمن سے ہے مہتاب خیز
پہاڑوں کے چشمے ہیں سیماب خیز
یہ کہتا ہے دل سے پرندوں کا گیت
محبت میں ہارے ہوئے کی ہے جیت
وہ پانی چمکتا دمکتا ہوا
اٹکتا ، لچکتا ، سرکتا ہوا
لپٹتا ، اچٹتا ، سمٹتا ہوا
بڑے چھوٹے نالوں میں بٹتا ہوا
اچھلتا ، پھسلتا ، سنبھلتا ہوا
بڑے پیچ کھا کر نکلتا ہوا
خ
بند دوم
چمک ایشیا کے گلوں میں نہیں
لہو ان پرانی رگوں میں نہیں
ادب اس کا مے خانۂ بے خروش
نہیں جس میں باقی میٔ تند جوش
خ
بند سوم
قلم مجھ کو مانندِ شمشیر دے
زباں وہ کہ پتھّر کا دل چیر دے
تمنّا کو سینوں میں بیدار کر
نگاہوں کو دانائے اسرار کر
خ
بند چہارم
’’ حیات ‘‘
یہ شمشیر ، شمشیر ہے جان بھی
یہ جوہر ترا تن بھی ہے ، جان بھی
یہ ذوقِ نمو سے شجر بن گئی
گرہ کھا کے تخم و ثمر بن گئی
اجالا جو سمٹا تو اختر بنا
ذرا اور سمٹا تو گوہر بنا
الجھتی ہے پیچاکِ ایّام میں
خوش اپنے بنائے ہوئے دام میں
رہی خاک کی مورتوں میں اسیر
مگر ہر کہیں ایک اور بے نظیر
لہکتی ، مہکتی ، چہکتی ہے یہ
جھپٹتی ، لپٹتی ، کڑکتی ہے یہ
جو تیری تمنّا ہے ، میری نہیں
جو میری نظر ہے ، وہ تیری نہیں
خ
بند ششم
تماشائے بیداری و خواب دیکھ
سمندر میں پیچاکِ گرداب دیکھ
خودی کی ہوئی بے خودی سے نمود
یہ ہے حاصلِ کارِ بود و نبود
یہ معمارِ زندانِ نزدیک و دور
اسی کی چمک سے فروغِ شعور
خرد اس کے گھر کی پرانی کنیز
خودی کی غلامی سے ناچیز ، چیز
یہ کار آزما ہے ، بڑی سخت کوش
نفس اس کے امروز و فردا و دوش
سرودِ جہاں کی بم و زیر یہ
بجاتی ہے طنبورِ تقدیر یہ
خ
بند ہفتم
یہ عالم ، حجابِ نگاہِ خودی
یہ انبارِ گِل ، سنگِ راہِ خودی۱
۱ - بیاض پنجم ،ص ۵ ، بیاض چہارم، ص ۳
خ
زمانہ
حکیم ناداں کی خود فریبی ، رصد نشینی ، ستارہ بینی
ضمیر میرا وہ جانتا ہے ، نگاہ ہے جس کی عارفانہ۲
۲ - بیاض پنجم ،ص ۲۱
خ

روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے
نالاں ہے ترے عود کا ہر تار ، تری خیر
اے جنسِ محبت کے خریدار ، تری خیر
اے پیرِ صنم خانۂ اسرار ! تری خیر
- - - - - - - - - -
اے تاج خلافت کے سزاوار ! تری خیر
اس جنّتِ ارضی کی ہے تعمیر تجھی سے
مٹی کی پلٹ جائے گی تقدیر تجھی سے
ہے عقلِ فرو مایہ ، جہانگیر تجھی سے
تقدیر ہے زنجیریٔ تدبیر تجھی سے
محنت کش و خوں ریز و کم آزار! تری خیر۱
۱ - ایضاً ،ص ۴

خ

پیر و مرید
مرید ہندی:
یا کہ ہے کوئی مقامِ پر خطر
جس میں کھو جاتی ہے سالک کی نظر
پیر رومی:
مار را مانندِ کوراں می زنیم
لاجرم قندیل ہا را بشکنیم۱

۱ - مسودہ بال جبریل، ص ۱۴۶
خ


نظموں کے جزوی متروکات (ضربِ کلیم)


ملائے حرم
گہن کا خوف نہ بیمِ غروب ہے جس کو
ترے جہاں میں وہی آفتاب ہے لبِ بام ۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۴
خ
جہاد
میں تو بہاؔ کی نکتہ رسی کا ہوں معترف
جس نے کہا فرنگ سے ترکِ جہاد کر۲
۲ - ایضاً ،ص ۱۲
خ
ہندی اسلام
اقبال کی یا رب یہ نوائے سحری ہے
یا پنجۂ شہباز میں نخچیر کی فریاد۳
۳ - ایضاً ،ص ۴
مردانِ خدا
نہ غم سے ہے نہ خوشی سے نمود ہے جس کی
نگاہِ حر میں وہ آنسو ہے دُرِّ شہواری۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۵
خ
فقر و راہبی
نگاہِ فقر میں تیری خودی کا ہے یہ عیار
جہاں نہیں ہے فقط رنگ و بو کی طغیانی۲
۲ - ایضاً ،ص ۹
خ
پنجابی مسلماں
بیگانہ نہیں ذوقِ شہادت سے ولیکن
مرنے کی ملے فیس تو مرتا ہے بہت جلد۳
۳ - ایضاً ،ص ۷
خ
اشاعتِ اسلام فرنگستاں میں
فرنگیوں میں اشاعت زمانہ سازی ہے
یہ شاطرانِ سیاست کی مہرہ بازی ہے۴
۴ - ایضاً ،ص ۷
قم باذن اللہ
طلسمِ موت کو جو پاش پاش کرتی ہے
وہ چیز نالۂ موزوں ہے ’’قم باذن اللہ‘‘
بدن کی قبر میں دل جس سے زندہ و روشن
کسی کا نالۂ موزوں ہے ’’قم باذن اللہ‘‘
صہیلِ اشہبِ توراں کا منتظر کب سے
سکوتِ وادیِ جیحوں ہے ’’قم باذن اللہ‘‘۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۳
خ
مدرسہ
تیرے استاد کہ ہیں قلب و نظر سے محروم
خاک کے ڈھیر میں کرتے ہیں ثریّا کی تلاش
قوّتِ مرد ہے خوابیدہ حریفوں کے بغیر
زندگی موت ہے ، کھو دیتی ہے جب ذوقِ خراش
تو ہراساں ہے حریفوں کی فراوانی سے
اور رہتی ہے مجھے تازہ حریفوں کی تلاش۲
۲ - ایضاً ،ص ۱۷

خلوت
اس دور میں مانند پرِ کاہ ہے انساں
جس کے لیے ہر ----(مصرع نامکمل)۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۵
خ

مسجدِ قوتِ اسلام
عرق آلود تری قوّت و سنگینی سے
وہ مسلماں کہ عدم سے ہے بتر جس کا وجود۲
۲ - ایضاً ،ص ۸
خ

کارل مارکس کی آواز
فرنگ کا علم و فن ہے خونی ، تجھے بھی خونی بنا رہا ہے
کہ تیری عقلِ بہانہ جو ُ سے گناہ اپنے چھپا رہا ہے۳
۳ - ایضاً ،ص ۱۱
خ

سیاستِ افرنگ
خدائے کون و مکاں تجھ سے بڑھ گیا انگریز
کہ اس کی ’’کُن‘‘ سے ہیں پیدا فقط امیر و رئیس۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۳
خ
اسرارِ غلامی
محرم اس راز کے شاید حکما میں بھی نہیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں بندہ ہے بندے کا غلام
دورِ حاضر میں بھی حاکم وہی سجادہ و تخت
میرے نزدیک نہیں اس میں تعجّب کا مقام۲
۲ - ایضاً ،ص ۱۸
خ
ابی سینا
جب سے ہوا ہے دین و سیاست میں افتراق
غارت گری جہاں میں ہے، اقوام کی معاش
کرتا ہے تازہ قافلے ، ہر راہزن تلاش۳
۳ - ایضاً ،ص ۲۱
خ

سلطانیِ جاوید
چالاک ہیں یورپ کے حکیمانِ سیاست
ان شعبدہ بازوں کے طریقے ہیں دلآویز
دستورِ نوی کیا ہے ؟ یہی نکتۂ باریک
فرہاد ، نگہبانِ ملوکّیتِ پرویز۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۲۰
خ
مسولینی
جس جنوں نے تم سے چھنوائی ہے افریقہ کی خاک
ہے وہی آزار میرا ، ہے وہی تیرا علاج۲
۲ - ایضاً ،ص ۲۲
خ
گلہ
شہروں کی شبِ تار میں تہذیب کاُ الّو
پوچھو تو اسے تیرا نشیمن بھی کہیں ہے ؟۳
۳ - ایضاً ،ص ۱۶
خ


شام و فلسطین
دنیا میں اگر ہے حقِ دیرینہ کوئی چیز
انگلیس سے شکوہ ہے بجا اہلِ عرب کا۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۱۷
خ

محراب گل افغان کے افکار
بند۔ ۵
تہذیبِ فرنگی سے خدا تجھ کو بچائے
شام اس کی ہے روشن نہ سحر صاحبِ پر تو

خ
بند۔ ۷
(ب)
جس مٹّی نے اپنے اندر پایا اپنا آپ
چاند ستارے اس مٹی کے ذرّوں پر قربان
اپنی خودی پہچان
او غافل افغان
(ج)
جس ملّت پر فاش ہوئے ہیں وحدت کے اسرار
اس ملّت کے فرزندوں نے مارا ہر میدان
اپنی خودی پہچان
او غافل افغان
خ
بند۔ ۱۲
دل ہاتھ نہیں آتا بے صحبتِ اہلِ دل
یہ لالۂ خود رو ہے ، اگتا ہے کنارِ جو
زور اس کا ’ید اللہیٰ‘ ، حق اس کا شہنشاہی
جو مردِ خدا توڑے بت خانۂ رنگ و بو
خ
بند۔ ۲۰
آتا نہیں راس ان کو نظّارئہ سرو و گل
پلتے نہیں گلشن میں شیران نیستانی۱
۱ - بیاض ہفتم ،۲۳ ، ۲۵ ، مسودہ ضرب کلیم : آخری صفحات
خ

 


نظموں کے جزوی متروکات ارمغانِ حجاز (اردو)


ابلیس کی مجلس شوریٰ
پانچواں مشیر
عالمِ افکار میں مثلِ سرافیل اس کا صور
عالمِ کردار میں یزداں فریب ، آدم شکار
خ
ابلیس اپنے مشیروں سے
تربیت جس کی کرے میری نگاہِ تند و تیز
کون کر سکتا ہے اس تہذیب کو بے آبرو۱
۱ - بیاض ہشتم ،ص ۱۹

خ

مسعود مرحوم
حکایتِ غمِ فرقت بیاں کروں کیوں کر
نوا فزوں ست نہ اندازئہ بریشم عود
خودی ہے زندہ تو باقی ہے تو ، جہاں فانی
خودی ہے مردہ تو باقی یہ قید و بندِ جہات۱
۱ - بیاض ہشتم ،ص ۵۱
خ
آوازِ غیب
پیدا تو کیا ہم نے تجھے خاک سے لیکن
ہیں تیرے مقابل میں فرشتے بھی عرقناک۲
۲ - ایضاً ،ص۵۳
خ


غزلوں کے جزوی متروکات (بال جبریل)

غزل۔ ۵
وہ نغمہ دے کہ میری لحد میں ہو جس کا شور
خواہاں نہیں میں نغمۂ مرغِ بہار کا۱
۱ - بیاض پنجم، ص ۵
خ
غزل۔ ۶
نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا
یہ برقِ بے محابا پھر مرا حاصل نہ بن جائے
وہ دل ، لاہوتیوں نے درسِ استغنا دیا جس کو
کسی معشوقِ بے پروا کا پھر محمل نہ بن جائے
فضا اک اور ہی عالم کی ہو گی سامنے میرے
مگر ڈر ہے کہ یہ بھی پردئہ محمل نہ بن جائے۲
۲ - ایضاً ،ص ۱۳
خ
غزل۔ ۱۰
تسلّی دوں تو دل کی نا امیدی اور بڑھتی ہے
عتاب آمیز تھی خلوت میں بھی تیری شکر خندی۱
۱ - بیاض پنجم،ص ۹

خ
غزل ۔۱۴
ٹھوکریں کھا کر خرد بھی پا گئی اپنی مراد
تھی وہ بیداری جسے خوابِ گراں سمجھا تھا میں۲
۲ - ایضاً ،ص ۲

خ
غزل۔ ۱۵
تیرے بھی صنم خانے ، میرے بھی صنم خانے
یاں تیرے بتوں میں ہے اک جلوئہ یزدانی۳
۳ - ایضاً ،ص ۷

خ

حصہ دوم
غزل۔ ۱
نظر آئی نہ مجھ کو بو علی سینا کے دفتر میں
وہ حکمت جو کبوتر کو کرے شاہیں سے بے پروا
بدن کو اصلِ جاں سمجھا حکیمانِ فرنگی نے
حکیمِ غزنوی کہتا ہے ’ آں دون است و ایں والا ‘
خ
غلاموں کے لیے دستور جمہوری ! معاذ اللہ
غرض یہ ہے غلام اپنی غلامی سے ہو بے پروا
خودی کو گرچہ قدرت نے چھپا رکھا ہے پردوں میں
کسی مردِ خدا میں ہو بھی جاتی ہے کبھی پیدا۱
۱ - مسودہ بال جبریل، ص ۲۲
خ
غزل۔ ۳
مہ و ستارہ پہ ناداں کمند ڈال اپنی
کہ تیری خاکِ پریشاں کی زد میں ہے گردوں۲
۲ - ایضاً ،ص ۲۹
خ
غزل۔ ۴
کس کی نمود کے لیے شام و سحر ہیں سخت کوش
مرکبِ روز گار پر بارِ گراں ہے تو کہ میں۱
۱ - بیاض پنجم، ص ۱۹
خ
غزل۔ ۷
من کی دنیا میں ہوائیں خوشگوار و بے غبار
اور اس مٹّی کی دنیا میں نہ شہر اچھّا نہ بن۲
۲ - مسودہ بال جبریل، ص ۲۹
خ
غزل۔ ۸
کبھی رہ جائے گی افرنگ کی فولاد کاری بھی
کہ ہر ملّت پہ آتا ہے زمانہ شیشہ سازی کا ۳
۳ - بیاض پنجم ،ص ۱۰
خ
غزل۔ ۱۱
اگرچہ میری جبیں پر نہیں نشانِ سجود
ہزار شکر کہ یاروں کو مل گئی توفیق۴
۴ - ایضاً ،ص ۷
غزل۔ ۱۳
ابو تراب ہے خیبر کشا و مرحب کش
کہاں وہ حوصلہ تجھ میں کہ تو ہے ابنِ تراب۱
۱ - بیاض پنجم،ص ۱۴
خ
غزل۔ ۱۷
عجب کیا ہے کرے آب و ہوائے جرمنی پیدا
کوئی رومی کہ افرنگی سے کہہ دے حرفِ تبریزی۲
۲ - ایضاً ،ص۷ ، مسودہ بال جبریل، ص ۳۹
خ
غزل۔ ۲۰
ہے یہ منزل ہی دل پذیر ایسی
اے مسافر ترا قصور نہیں۳
۳ - بیاض پنجم، ص ۲۰
خ
غزل۔ ۲۵
نگہ بلند ، ادا دل نواز ، جاں پر سوز
یہی ہے ، اور جوانوں کی دلبری کیا ہے۴
۴ - ایضاً ،ص ۱۹
غزل۔ ۲۶
مری نوا نے کیا مجھ کو آشکار ایسا
رہی نہ بات کوئی میرے راز داں کے لیے
اگرچہ موج ہے تو سیلِ تند رو بن جا
ذرا گراں بھی تو ہو ، بحرِ بیکراں کے لیے۱
۱ - بیاض پنجم،ص ۱۹ ، مسودہ، ص ۴۸

خ
غزل۔ ۲۹
تہذیب کے پردے میں تعلیمِ ہوس ناکی
نازل ہوا مغرب پر فطرت کا عذاب آخر۲
۲ - ایضاً ،ص ۱۹

خ
غزل۔ ۳۱
تیرا کوئی راہبر نہ میرا
ہوگا کوئی ہم سفر نہ میرا۳
۳ - ایضاً ،ص ۱۷

خ
غزل ۔۳۲
اقبال ، مدرسوں نے دانش تو عام کر دی
نایاب ہو گیا ہے جذبِ قلندرانہ
ملّائے کم نظر نے امّت میں پھوٹ ڈالی
تسبیحِ مصطفیؐ ہے صدیوں سے دانہ دانہ۱
۱ - بیاض پنجم، ص ۱۴
خ
غزل ۔۳۴
اس پیکرِ خاکی میں بنتی ہے خودی جس دم
نخچیرِ زبوں اس کا ، دنیا کی شہنشاہی۲
۲ - ایضاً ،ص ۱۲
غزل۔ ۳۵
دلوں میں کچھ حرارت سی مجھے معلوم ہوتی ہے
کوئی پھر لے کے شاید وعدئہ دیدارِ عام آیا۳
۳ - ایضاً ،ص ۱۲
خ
غزل۔ ۳۶
وہی جامِ رحیق اب تک ، وہی اہل طریق اب تک
وہی تریاق ہے لیکن نہیں تاثیرِ تریاقی
جدا تہذیبِ حاضر سے ہے اندازِ مسلمانی
وہ ہے گفتار آفاقی ، یہ ہے کردار آفاقی۱
۱ - بیاض پنجم،ص ۱۲
خ
غزل ۳۸ :-
وطن کے سومناتی کو بتوں کا کام دیتے ہیں
کہیں اخبارِ ’ فرعونی ‘ کہیں آثارِ ’شاپوری‘۲
۲ - ایضاً ،ص ۱۱
خ
غزل۔ ۴۰
جہاں اس سے خوشتر ابھی اور بھی ہیں
ابھی اے مسافر سفر اور بھی ہیں
گزر اس صنم خانۂ رنگ و بو سے
محبت کے مندر ابھی اور بھی ہیں۳
۳ - ایضاً ،ص ۱۰
خ
غزل۔ ۴۲
علی کے علم پہ حجّت تھی ذوالفقارِ علی
غرض کہ دعویِ صوفی ہے بے قیاس و دلیل۴
۴ - ایضاً ،ص ۹ ، مسودہ، ص ۶۱
غزل ۔۴۴
اشک جو سیلِ حوادث کو دگر گوں کر دے
ابھی گردیدہ کسی دیدئہ نمناک میں ہے۱
۱ - بیاض پنجم ،ص ۸
خ
غزل۔ ۴۶
اگر رفیقِ خرد ہو نگاہِ قلبِ سلیم
تو ڈوب کر ابھر آتی ہے کشتیِ ادراک
مری نوا میں ہے ناداں ، مغوں کے پاس نہیں
وہ سرخوشی کہ میّسر ہو بے عصارئہ تاک
غمیں نہ ہو کہ جہاں کے ہیں آخری وارث
طفیلیانِ سرِ خوانِ خواجۂ لولاک۲
۲ - ایضاً ،ص ۷
غزل۔ ۴۷
یا عقل کی محرومی یا دل کی جہاں گیری
یا حیلۂ روباہی یا حملۂ شیرانہ
یا شیوئہ درویشی ، یا ہمّتِ سلطانی
یا سطوتِ سلطانی یا طبعِ فقیرانہ۳
۳ - ایضاً ،ص ۸
غزل ۔۵۴
اگرچہ پائوں میں اک تار رہ گیا باقی
بچا گئی مجھے صیّاد کی کہن دامی۱
۱ - بیاض پنجم،ص ۸
خ
غزل۔ ۵۵
خدا سے روٹھ گیا میں کہ قاسمانِ ازل
مجھے بھی دیتے تھے فرِّقباد و کیخسرو۲
۲ - مسودہ بال جبریل، ص ۷۷
خ
غزل ۔۵۶
ہے کوئی اور جگہ منزلِ ہنگامۂ شوق
خانقاہیں بھی ہیں خاموش ، مساجد بھی خموش۳
۳ - ایضاً ،ص ۷۷
غزل۔ ۵۷
میں مروّت سے رفیقِ رہِ جبریل رہا
وہ یہ سمجھا ، مری پرواز میں ہے کوتاہی۴
۴ - ایضاً ،ص ۷۷
خ
غزل۔ ۵۹
رہروِ جاںباز کی غیرتِ مردانہ دیکھ
کر نہیں سکتا قبول راحلہ و زادِ راہ۱
۱ - مسودہ بال جبریل، ص ۷۹
خ

 


غزلوں کے جزوی متروکات (ضربِ کلیم)

غزل ؎
تیری متاعِ حیات ، علم و ہنر کا سرور
معجزئہ اہل فکر ، حجّت و برہاں کا کھیل
معجزئہ اہل ذکر ، حجّت و برہاں سے دور۱
۱ - بیاض ہفتم ،ص ۱۲
خ
غزل ؎
دریا میں موتی ! اے موجِ بے باک
اہلِ صفا کی صحبت ہے اکسیر
ہوتے ہیں اس سے عقل و نظر پاک
تلخی ہے شاید میرے ثمر میں
اس کے زہر میں ہے تاثیرِ تریاک۲
۲ - ایضاً ،ص ۱۱
خ

متروکہ رباعیات
ارمغانِ حجاز (اردو)

رباعیات
بیابانوں میں سیل بے کراں دیکھ
فرنگی کارواں در کارواں دیکھ
بڑی ہے تیری شانِ بے نیازی
مسلمانوں کی بے پروائیاں دیکھ۱
۱ - بیاض ہشتم ،ص ۲۵
خ
کرے میری نگاہِ نکتہ بیں کیا
کھلیں اسرارِ ایمان و یقیں کیا
مسلّم کج روی میری ولیکن
یہ تیرا آسماں کج رو نہیں کیا۲
۲ - ایضاً، ص ۲۵
خ
رہ و رسمِ مقامِ دلبری سیکھ
خدائی چھوڑ کر پیغمبری سیکھ

تو اے کافر نواز و مومن آزار
محمدؐ سے مسلماں پروری سیکھ۱
۱ - بیاض ہشتم ،ص ۲۵
خ
سکوں سے کس قدر بیگانہ ہے موج
شکوہِ بحر کا پیمانہ ہے موج
نگہ رکھ مجھ کو اے بحرِ پر آشوب
کہ دریا کا متاعِ خانہ ہے موج۲
۲ - ایضاً،ص ۲۵
خ
نہ وہ ذوقِ رحیلِ صبحگاہی
نہ وہ رہبر نہ وہ منزل نہ راہی
زیاں کس کا ہے؟ تیرا یا کہ میرا؟
نہ میں باقی نہ تیری پادشاہی۳
۳ - ایضاً،ص ۲۵
خ
تری تقدیر کا صیدِ زبوں میں
عجب مشکل ہے میری ، کیا کہوں میں
کروں تسلیم اک تقصیر اپنی
گواہِ عصمتِ ابلیس ہوں میں۴
۴ - ایضاً،ص ۲۵
مجھے فقرِ یداللّٰہی عطا کر
نواہائے سحر گاہی عطا کر
مرے مولا فقیرانِ حرم کو
فقیری میں شہنشاہی عطا کر۱
۱ - بیاض ہشتم ،ص ۲۵
خ
عطا کر طاقتِ آہ و فغاں اور
نہ کر اس ناتواں کا امتحاں اور
فرنگی سے کروں دریوزئہ رزق
خدا مومن کا تو ، روزی رساں اور؟۲
۲ - ایضاً،ص ۲۵
خ
سراپا بندئہ تقلید و ظن تھا
پرستارِ اساطیرِ کہن تھا
طبیعت میں ہے شیخ اب تک برہمن
حرم جب دیر تھا ، یہ برہمن تھا۳
۳ - ایضاً،ص ۲۵
خ
کہوں میں کیا ، تجھے سب کچھ خبر ہے
عرب ہو یا عجم ، خونیں جگر ہے
بہت ( ) ہیں شام و فلسطیں
مسلماں ہند کا بے چارہ تر ہے۱
۱ - بیاض ہشتم ،ص ۲۵
خ
حدیثِ وحدتِ وصل و جدائی
بہت برتر ہے ادراک و نظر سے
گہر دریا کی گہرائی میں ہے گم
جدا ہے آب بھی تابِ گہر سے۲
۲ - ایضاً،ص ۲۵
خ
بنا خیرالامم تیرے کرم سے
ہوا خوار و زبوں کس کے ستم سے
وہ صوفی جس کے خونِ گرم کی بوند
فزوں قیمت میں ہے ، تیرے حرم سے۳
۳ - ایضاً،ص ۲۵
خ
حرم سے ہیں مسلماں ناامید آج
کلیسا مست ہیں پیر و مرید آج
نہ چھیڑ افسانۂ سر مستیٔ دوش
نہ کر ذکرِ جنید و بایزید آج۴
۴ - ایضاً،ص ۲۴
حوادث سے ہوں گو خونیں جگر میں
ابھی رکھتا ہوں تابِ یک نظر میں
غلامِ پیر ہوں اس میں حذر کیا
اگر بیٹھا رہوں ، بیرونِ در میں۱
۱ - بیاض ہشتم ،ص ۲۴
خ
فروغِ طلعتِ روح الامیں بخش
شکوہِ فقر و سلطانِ مبیں بخش
مرے مولا ! مسلماں کو پھر اک بار
مقامِ ’’لا اُحبّ الآ فلیں‘‘ بخش۲
۲ - ایضاً،ص ۲۴
خ
ترے ہندی مسلماں کی کہانی
یہ کافر کیا کہے اپنی زبانی
غلامی ، بے یقینی ، خود فروشی
مبارک باد ، مرگِ ناگہانی۳
۳ - ایضاً،ص ۲۷
خ
یہ کیسا آسماں ، کسی زمیں ہے
جہاں مومن فقیرِ رہ نشیں ہے

چمن کے خار و خس سر سبز و سیراب
نصیبِ لالہ ، شبنم بھی نہیں ہے۱
۱ - بیاض ہشتم ،ص ۲۷
خ
عجب ہے زندگی کا کارخانہ
حقیقت آج کی کل کا فسانہ
نہایت شب کی ہے صبحِ جہانتاب
غنیمت ہے تگا پوئے زمانہ۲
۲ - ایضاً،ص ۲۷
خ
کہوں کیوں کر امیرِ کارواں سے
کدھر ۱ جاتا ہوں ، آیا ہوں کہاں سے
وہ راز آخر مدینے میں ہوا فاش
چھپایا تھا جسے سارے جہاں سے۳
۳ - ایضاً،ص ۲۷
خ
ہوا میں جانبِ یثرب روانہ
یہ پیری ، یہ سرودِ عاشقانہ
مثالِ مرغکِ صحرا سرِ شام
اڑا جاتا ہوں سوئے آشیانہ۴
۴ - ایضاً،ص ۲۷

 

متروکہ قطعات ؍ رباعیات (بالِ جبریل)


قطعہ
مسلم کی نبض دیکھ کے کہنے لگا طبیب
تیرا مرض ہے قلّتِ سرمایۂ حیات
رخصت ہوئی ہے زندگیِ سادئہ عرب
کچھ رہ گیا اگر تو عجم کے تکلّفات۱
۱ - صوفی، اگست ۱۹۲۶ء
قطعہ
روح الذہّب
ہے دو روحوں کا نشیمن پیکرِ خاکی مرا
رکھتا ہے بیتاب دونوں کو مرا ذوقِ طلب
ایک جو اللہ نے بخشی مجھے صبحِ ازل
دوسری ہے آپ کی بخشی ہوئی ’’روح الذّہب‘‘۲
۲ - سرود رفتہ، ص ۲۰۴
قطعہ
برتر ہے مہر و ماہ و ثریّا سے شانِ مرد
یہ آب و گلِ کا کھیل نہیں ہے ، جہانِ مرد
مرنے سے خوف کیا کہ ہے ارشادِ مصطفیؐ
دنیا میں موت مرد کی ہے پاسبانِ مرد۱
۱ - بیاض، ص ۵
قطعہ
غافل مری نوائے پریشاں میں ڈوب جا
میں نے دیا ہے تیری خودی کا تجھے سراغ
دل تیرا کر دیا متزلزل فرنگ نے
لرزا ہوا ہے تو صفتِ شعلۂ چراغ۲
۲ - ایضاً ،ص ۲۱
رباعی
مِرے سینے میں تھا سویا ہوا دل
اسے کھویا تو یوں گویا ہوا دل
محبت صبحِ روشن ، زندگی رات
فقط بیدار ہے کھویا ہوا دل۳
۳ - ایضاً، ص۱۸
خ


متفرقات

 


(۱)
تاریخیںاور مادہ ہائے تاریخ

(۲)
بدیہہ گوئی؍فردیات

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

(۱)
تاریخیںاور مادہ ہائے تاریخ


’’مختصر العروض‘‘ کی تاریخ (۱۸۹۶ئ)
مصنّف جب کہ ایسا ہو ، رسالہ کیوں نہ ہو ایسا
گہر باری تقاضا ہے مزاجِ ابرِ نیساں کا
گہر باری دکھائی کلکِ گوہر بار نے ایسی
رسالہ آپ کا سلکِ جواہر بن گیا گویا
یہ چھوٹا سا رسالہ کانِ معنی ، جانِ معنی ہے
نوا سنجانِ گلشن کی زباں پر اس کا چرچا ہے
تجلی طور کی ہے روشنائی اس کے حرفوں کی
بیاضِ صفحہ سے ظاہر ہے اعجازِ یدِ بیضا
صدائے نالۂ دل غیرتِ نظمِ فغانی ہے
مگر شورِ فغاں بلبل نے موزوں کر لیا اپنا
مصنف کا قلم یوں صفحۂ کاغذ کو کہتا ہے
کسی کا دل خزینہ ہے گہرہائے معانی کا
حسیں بیٹھے جو اپنا مصرعِ گیسو بنانے کو
رسالہ آپ کا آئینہ بن کر سامنے آیا
مصنّف اس کا جب اسکندرِ ملکِ معانی ہو
اسے کہیے جو آئینہ تو ہر صورت سے ہے زیبا
پئے سالِ اشاعت غور کی اقبال نے جس دم
زبانِ ہاتفِ غیبی ہوئی اس طور سے گویا
دکھا کر یہ کتابِ بے بہا ، دل چھین لیتا ہوں
فصاحت کا ،بلاغت کا ، لیاقت کا ، ذہانت کا
ادب کے ساتھ سال طبع پھر یوں عرض کرتا ہوں
جزاک اللہ لکھا ہے ، رسالہ مختصر کیسا۱
۱۸۸۵ + ۴ + ۷ = ۱۸۹۶ء
۱ - زندہ رود جلد اول، ص ۶۱
خ
(الف) سر سید احمد خان کی تاریخ وفات ۱۳۱۵ھ/۱۸۹۸ء
اِنّیِ مُتَوفّیکَ وَ رَا فِعُکَ اِلّی و مطھِرُّکَ۲
۱۳۱۵ھ
۲ - ہمایوں اپریل ۱۹۵۳ء
خ

(ب) ایضاً
کانّہ‘ مسیح’‘ لِکُلٍ مراضٍ۱
۱۳۱۵ء
۱ - سرودِ رفتہ ص ۲۱۷
خ
امیر مینائی کی وفات ۱۳۱۸ھ/۱۹۰۰ء
لِسانَ صِدقٍ فی الاّٰخِرِینَ۲
۱۳۱۸ھ
۲ - سرودِ رفتہ ص ۲۱۷
خ
’’مثنوی عقدِ گوہر‘‘ یا موتیوں کا ہار ۱۳۱۷ھ/ ۱۳۱۸ھ / ۱۹۰۰ء ، ۱۹۰۱ء
(الف)
مرحبا اے ترجمانِ مثنویِ معنوی
ہست ہر شعرِ تو منظورِ نگاہِ انتخاب
از پیٔ نظّارئہ گلدستۂ اشعارِ تو
حسنِ گویائی ز روئے خویش بردارد نقاب
بہرِ سالِ طبعِ قرآنِ زبانِ پہلوی
بلبل دل می سراید ’’تِلک آیات الکتاب‘‘
۱۳۱۷ھ
(ب)
کتابِ مولویِ معنوی را
شفیقِ ما چو در اردو رقم کرد
زباں را نقش کرد از تیرِ غفلت[کذا]
مصون چوں طائرِ بامِ حرم کرد
سروشِ دل رقم زد بہرِ تاریخ
خیابانے ز بستانے عجم کرد
۱۳۱۷ھ
(ج)
بزمِ سخن میں اہلِ بصیرت کا شور ہے
یہ نظم ہے کہ چشمِ فصاحت کا نور ہے
میں نے کہا یہ دل سے کہ اے مایۂ ہنر
تاریخِ سالِ طبع کا لکھنا ضرور ہے
ہاتف نے دی صدا سرِ اعدا کو کاٹ کر
حَقّا یہ نظم موجِ شراب طہور ہے
۱۹۰۱ - ۱ = ۱۹۰۰ء
خ

(د)
میرے مخدوم و مکرّم نے لکھی ایسی کتاب
شاہدِ لیلائے عرفاں کا جسے محمل کہیں
ہے مصنّف نخلِ بندِ گلشنِ معنی اگر
مزرعِ کشتِ تمنّا کا اسے حاصل کہیں
از پٔے تاریخ ، ہاتف نے کہا اقبال کو
زیب دیتا ہے اگر ’مرغوبِ اہلِ دل کہیں‘
۱۳۱۸ھ
(ہ)
روح فردوس میں رومی کی دعا دیتی ہے
آپ نے خوب کیا ، خوب کہا ، خوب لکھا
درد مندان محبت نے اسے پڑھ کے کہا
نقشِ تسخیر پیٔ طالبِ مطلوب لکھا
ہاتفِ غیب کی امداد سے ہم نے اقبال
بہرِ تاریخِ اشاعت ’’سخنِ خوب‘‘ لکھا
۱۳۱۸ھ
خ


(و)
غیرتِ نظمِ ثریّا ہے یہ نظمِ دلکش
خوبیِ قول اسی نظم کی شیدائی ہے
فکرِ تاریخ میں ‘ میں سر بگریباں جو ہوا
کہہ دیا دل نے ’’یہ خضرِ رہِ دانائی ہے ‘‘۱
۱۹۰۱ء
۱ - باقیات اقبال ص ۴۸۰
خ
کتاب ’’شالامار باغ کی سیر‘‘ (۱۹۰۱ئ)
حسنِ سعیِ فوق را صد مرحبا
ہست ہر سطرِ کتابش دل ربا
از ’’سرِ نازش‘‘ پیٔ تاریخ او
می سزد ’’تصویرِ باغِ جاں فزا‘‘۲
۱۸۵۱ + ۵۰ = ۱۹۰۱ء
۲ - باقیات اقبال ص ۴۸۴
خ
محمد محبوب خان حامد کی وفات پر (۱۹۰۳ئ)
چوں چراغِ خانداں محبوب خان
گشت از دنیا سوئے جنت رواں
گفت اقبالِ حزیں سالِ رحیل
راہِ عقبے یافتہ با عزّ و شاں
۱۳۲۱ھ
۱ - اقبال ریویو، جولائی ۱۹۸۳ء ص ۱۲۷
خ
ضمیمہ وطن اخبار
جو اخبار معیارِ تہذیب ہے
تو یورپ ہے پنجاب کی سرزمیں
نمود اس کی ہر روز ہونے لگی
وطن بھی تو خورشید سے کم نہیں
ہوئی سالِ تاریخ کی جب تلاش
ندا آئی ’’اخبار نصرت قریں‘‘۲
۱۹۰۴ء
۲ - وطن اخبار، ۲۶ فروری ۱۹۰۴ء
خ
نقرئی تمغۂ لیاقت برائے مولوی انشاء اللہ خان :مدیر وطن
منجانب سلطان عبدالحمیدخان ثانی
۱ -
مرے یارِ مشفق ، مدیرِ وطن
ہوا خواہیِ قوم میں ناصبور
زباں ان کی سرمایۂ حسنِ نثر
قلم ان کا سر چشمۂ جوئے نور
دیا بابِ عالی نے تمغا انہیں
وہ تمغا کہ ہے جس پہ زیبا غرور
یہ احساں رسولِؐ حجازی کا ہے
یہ ہے خدمتِ قوم کا سب ظہور
ملا ہے جو سلطاں سے یہ امتیاز
کہی میں نے تاریخ ’’فیضِ حضور‘‘۱
۱۹۰۴ء
۱ - وطن اخبار، ۲۶ فروری ۱۹۰۴ء
خ
ایضاً

نمبر ۲ -دوسرا مادہ تاریخ :
’’نعمت بیکراں امیرالمومنین۲
۱۳۲۱ھ
۲ - وطن اخبار، ۲۶ فروری ۱۹۰۴ء
خ
داغ دہلوی کی وفات (۱۹۰۵ئ)
’’نواب میرزا داغ‘‘۱
۱۳۲۲ھ
۱ - باقیاتِ اقبال، ص ۴۸۳
خ
سلطان اسماعیل جان کی وفات (۱۹۰۷ئ)
از جہاں شہزادہ اسماعیل رفت
آن امیر ابن امیر ابن امیر
از فلک آمد بگوشِ من ندا
سالِ آں مغفور از ’’مغفور‘‘ گیر۲
۱۳۲۶ھ
۲ - ایضاً ،ص ۴۸۷
خ

کلامِ فوق (۱۹۰۹ئ)
جب چھپ گیا مطبع میں یہ مجموعۂ اشعار
معلوم ہوا مجھ کو بھی حالِ نضرِ فوق
شستہ ہے زباں ، جملہ مضامین ہیں عالی
تعریف کے قابل ہے خیالِ نضرِ فوق
تاریخ کی مجھ کو جو تمنا ہوئی اقبال
ہاتف نے کہا لکھ دے ’’ کمالِ نضرِ فوق‘‘۱
۱۳۲۷ھ
خ
۱ - ایضا ،ص ۴۸۵
میاں شاہ نواز کی رسمِ نکاح پر
رونقِ بزمِ احبّا شہ نواز
کاخِ جاہِ او فلک بنیاد باد
زینتِ گیتی بماند تا ابد
شمعِ عمرش از ہوا آزاد باد
دشمناں را خارِ پہلو عیشِ او
بر لبِ ما ’شاد باد آباد باد‘
قمریِ دولت تہِ دام آورد
بلبل اقبال را صیّاد باد
بہر سالِ عقدِ او آمد ندا
’خانۂ فرخندہ اش آباد باد‘۲
۱۹۱۱ء
خ
۲ - وطن اخبار، ۲۶ فروری ۱۹۰۴ء

وفات ظہیر دہلوی (۱۹۱۱ئ)
’’زبدئہ عالم ظہیرِ دہلوی‘‘۱
۱۳۲۹ھ
۱ - سرودِ رفتہ ،ص ۲۱۸
خ
قطعہ تاریخِ وفات شیخ عبدالحق مرحوم (۱۹۱۳ئ)
چوں میٔ جامِ شہادت شیخ عبدالحق چشید
بادِ برخاکِ مزارش رحمتِ پروردگار
باعزیزاں داغِ فرقت داد در عینِ شباب
آستین ہا از دُرِ اشکِ غمش سرمایہ دار
بندئہ حق بود و ہم خدمت گزارِ قومِ خویش
سالِ تاریخِ وفاتِ او ز ’’غفران‘‘ آشکار۲
۱۳۳۱ھ
۲ - ایضاً ،ص ۲۲۱
خ
تاریخِ وفات شبلی نعمانی (۱۹۱۴ئ)
’’امام الہند والا نثراد شبلی طاب ثراہ‘‘۳
۱۳۳۲ھ
۳ - باقیاتِ اقبال، ص ۴۹۵
تاریخی نامِ فرزندِ کشن پرشاد (۱۹۱۴ئ)
’’عالم پناہ مہاراجہ عالمگیر پرشاد‘‘۱
۱۳۳۴ھ
۱ - باقیاتِ اقبال،ص ۴۹۶
خ
کوتوالی لاہور کی تعمیر کی تاریخ (۱۹۱۵ئ)
’’عمارتِ فرّخ فرجام‘‘۲
۱۹۱۵ء
۲ - صحیفہ ،مارچ؍ اپریل ۱۹۷۸ء
خ
وفاتِ نواب وقار الملک ۱۹۱۷ء
نواب وقار الملک و ملت
افشاند سوئے جناں رکابش
بر لوحِ مزارِ او نوشتم
انجام بخیر - باخطابش
’’وقار الملک انجام بخیر‘‘(۲ ) ۱۳۳۵ء
۳ - سرودِ رفتہ ،ص ۲۲۲
خ

(الف) جسٹس میاں محمد شاہ دین ہمایوں کی وفات پر (۱۹۱۸ئ)
در گلستانِ دہر ہمایونِ نکتہ سنج
آمد مثالِ شبنم و چوں بوئے گل رسید
می جست ’’عندلیبِ خوش آہنگ سالِ فوت
۱۳۳۶ھ
’’علامہ فصیح‘‘ ز ہر چار سو شنید۱
۳۳۴ × ۴ = ۱۳۳۶ھ
۱ - ایضاً، ص ۲۱۶ ، باقیات اقبال، ص ۴۸۸
خ
(ب) ایضاً (۱۹۱۸ئ)
چو سالِ فوتِ ہمایوں دلِ حزیں می جست
ز ہشت خلد ندایم رسید ’’المومن‘‘۲
۱۶۷ × ۸ = ۱۳۳۶ھ
۲ - ایضاً ،ص ۲۱۸
خ
قطعہ تاریخِ وفاتِ سید نادر حسین تحصیلدار بھیرہ (۱۹۱۹ئ)
سیّد والا نسب نادر حسین
در رہِ صدق و صفا جولانگرے
چو جدِ خود از جہاں مظلوم رفت
آں گروہِ صادقاں را سرورے
گفت ہاتف مصرعِ سالِ رحیل
’’کُشّت سیّد را یزیدے کافرے‘‘۱
۱۳۳۷ھ
۱ - باقیاتِ اقبال ،ص ۴۸۹
خ
ذوالفقار گنج لدھیانہ (۱۹۲۱ئ)
بانیِ ایں خوش بنا سر ذوالفقار
سالِ تعمیرش ز ہاتف خواستند
از فلک تاریخ چوں شبنم چکید
’’بر زمیں خلدِ بریں آراستند‘‘۲
۱۹۲۱ء
۲ - ایضاً ،ص ۴۹۰
خ
تاریخِ مسجد داتا گنج بخش (۱۹۲۱ئ)
سالِ بنائے حرمِ مومناں
خواہ ز جبریل و ز ہاتف مجو

چشم بہ ’’المسجد الاقصیٰ‘‘ فگن
’’الذّی بارکہ‘‘ ھم بگو۱
۱۳۴۰ھ
۱ - باقیاتِ اقبال ،ص ۴۹۰
خ
تاریخِ شکست ِیونان (۱۹۲۲ئ)
’’خاتمۂ خسروی‘‘
۱۹۲۲ء
۲ - چودھری محمد حسین (ڈائری)
خ
تاریخِ آزادیِ ترکستان (۱۹۲۲ئ)
غیب بینیِ انور۳
۱۳۴۱ھ
۳ - ایضاً
خ
تاریخِ فتحِ سمرنا (۱۹۲۲ئ)
شاخِ ابراہیم را نم مصطفیٰؐ
سالِ فتحش ’’اسم اعظم مصطفیٰ‘‘۴
۱۳۴۲ھ
۴ - مکاتیبِ گرامی، ص ۲۲۱
خ
قطعہ وفاتِ پیر سید حیدر شاہ(۱۹۲۲ئ)
ہر کہ برخاکِ مزارِ پیر حیدر شاہ رفت
تربتِ او را زمینِ جلوہ ہائے طور گفت
ہاتف از گردوں رسید و خاکِ او را بوسہ داد
گفتمش سالِ وفاتِ او بگو ’’مغفور‘‘ گفت۱
۱۳۲۶ھ
۱ - سرودِ رفتہ ،ص ۲۴۶
خ
مہاراجا کشن پرشاد کے صدر اعظم ہونے پر (اکتوبر ۱۹۲۲ئ)
صدرِ اعظم گشت شادِ نکتہ سنج
ناوکِ او دشمناں را سینہ سفت
سالِ ایں معنی سروشِ غیب داں
’’جانِ سلطاں سرکشن پرشاد‘‘ گفت۲
۱۳۴۱ھ
۲ - ایضاً ،ص ۲۲۰
خ
تاریخ وفات بیگم میاں احمد یار دولتانہ (۱۹۲۴ئ)
رختِ سفر چو مادرِ ممتاز بست و رفت
زیں کارواں سرائے سوئے منزلِ دوام
پرُسیدم از سروش ز سالِ رحیلِ او
گفتۂ بگو کہ ’’تربتِ او آسماں مقام‘‘۱
۱۳۴۲ھ
۱ - باقیات اقبال، ص ۴۹۱
خ
تاریخِ وفات مختار بیگم (۱۹۲۴ئ)
اے دریغا ز مرگِ ہم سفرے
دلِ من در فراقِ او ہمہ درد
ہاتف از غیب داد تسکینم
سخنِ پاکِ مصطفی آورد
بہر سالِ رحیلِ او فرمود
’’بشہادت رسید و منزل کرد‘‘۲
۱۳۴۳ھ
۲ - ایضاً:ص ۴۹۲

خ

تاریخِ وفات پروفیسر ای - جی برائون (۱۹۲۶ئ)
نازشِ اہلِ کمال ، ای جی برون
فیضِ او در مغرب و مشرق عمیم
مغرب اندر ماتمِ او سینہ چاک
از فراقِ او دلِ مشرق دو نیم
تا بہ فردوسِ بریں ، ماوٰی گرفت
گفت ہاتف ’’ذالک الفوز العظیم‘‘۱
۱۹۲۶ء
۱ - باقیات اقبال ،ص ۴۹۳
خ
تاریخِ وفات مولوی میر حسن (۱۹۲۹ئ)
’’ما ارسلنٰک اِلّا رحمتہ لّلعالمین‘‘۲
۱۳۴۸ھ
۲ - ذکرِ اقبال ،ص ۲۸۹
خ
والدِ ماجد کے انتقال پر (۱۹۳۰ئ)
پدر و مرشدِ اقبال ازیں عالم رفت
ما ھمہ راہرواں ، منزلِ ما ملکِ ابد
ہاتف از حضرتِ حق خواست دو تاریخ رحیل
آمد آواز ’’ اثر رحمت‘‘ و ’’آغوشِ لحد‘‘۳
۱۳۴۹ھ ۱۳۴۹ھ
۳ - باقیاتِ اقبال، ص ۴۹۳
خ
وفات منشی محبوب عالم پیسہ اخبار (۱۹۳۳ئ)
سحر گاہاں بہ گورستاں رسیدم
در آں گورے پُر از انوار دیدم
ز ہاتف سالِ تاریخش شنیدم
’’معلّیٰ تربتِ محبوبِ عالم‘‘۱
۱۳۵۱ھ
۱ - باقیاتِ اقبال ،ص۴۹۴
خ
وفات لیڈی شہاب الدین (۱۹۳۵ئ)
چو رختِ سفر بست سردار بیگم
ازیں دارِ فانی سوئے باغِ جنّت
بہ پس ماندگاں تلخ شد زندگانی
’’ہجومِ غم و رنج‘‘ شد سالِ رحلت
سنِ عیسوی خواستم چوں ز ہاتف
بگفتا ’’بریں تربتِ پاک رحمت‘‘۲
۱۹۳۵ء
۲ - ایضاً ،ص۴۹۴
خ

تاریخِ وفات سردار بیگم : والدہ جاوید اقبال ۱۹۳۵ء
راہی سوئے فردوس ہوئی مادرِ جاوید
لالے کا خیاباں ہے مرا سینۂ پرُ داغ
ہے موت سے مومن کی نگہ روشن و بیدار
اقبال نے تاریخ کہی ’’سرمۂ ما زاغ‘‘۱
۱۳۵۴ھ
۱ - باقیاتِ اقبال ،ص۴۹۴
خ
نادرہ مسعود کی پیدائش پر (۱۹۳۷ئ)
راس مسعودِ جلیل القدر کو
جو کہ اصل و نسل میں مجدود ہے
یاد گارِ سیّدِ والا گہر
نورِ چشمِ سیّدِ محمود ہے
راحتِ جان و جگر دختر ملی
شکرِ خالق ، منّتِ معبود ہے
خانداں میں ایک لڑکی کا وجود
باعثِ برکاتِ لا محدود ہے

کس قدر برجستہ ہے تاریخ بھی
’’باسعادت دخترِ مسعود ہے‘‘(۱)
۱۹۳۷ء
۱ - باقیاتِ اقبال ،ص ۴۹۶
خ

 

 

 

 

 


(۲)
بدیہہ گوئی؍فردیات


اس کی برداشت بھی دشواری ہے (میر حسن)
۔۔۔۔۔۔۔ترا احسان بہت بھاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (اقبال۱)
۱ - زندہ رود ،جلد اوّل، ص ۶۱
خ
دل میں آئی جو تقی کے تو کبوتر پالے
جمع لا لا کے کیے ، لال ، ہرے مٹیالے
ان میں ایسے ہیں جو ہیں پہروں کو اڑنے والے
- - - - - - - - - -
اب یہ ہے حال کہ آنکھیں ہیں کہیں ، پائوں کہیں
پائوں کے نیچے نہ معلوم زمیں ہے کہ نہیں۲
۲ - ہمایوں ،اپریل ۱۹۵۳ء
خ
مشہور زمانے میں ہے نامِ حالی
معمور میٔ حق سے ہے جامِ حالی
میں کشورِ شعر کا نبی ہوں گویا
نازل ہے مرے لب پہ کلامِ حالی۱
۱ - سرود رفتہ ،ص ۲۰۱
خ
اس کے عارض پر سنہری بال ہیں
ہو طلائی استرا اس کے لیے۲
۲ - اقبال از عطیہ بیگم، ترجمہ: ضیاء الدین، ص ۲۹
خ
غنیمت ہے نوّاب صاحب کی محفل
گھڑی بھر میں اس جا نہ ہم ہیں ، نہ تم ہو۳
۳ - روایات ِاقبال، ص ۱۵۶
خ
چھوٹے میاں نے گوند نکالی درخت سے
اور ہو گی ان کی شادی کسی نیک بخت سے۴
۴ - ذکر ِاقبال ،ص ۲۶۶
خ

ہر چیز تو ہے منع ہمیں اے طبیبِ عشق
کیا ضعف ہو زیادہ تو غش بھی نہ کھائیں ہم۱
۱ - جنگ، ۲۴ اپریل ۱۹۶۷
پنجاب کی کشتی کو دیا اس نے سہارا
تابندہ ہمیشہ رہے ہیلی کا ستارہ۲
۲ - باقیاتِ اقبال ،ص ۵۰۲
خ
یہ بھی ترا کرم ہے کہ نقرس دیا مجھے
صحّت میں گو فقیر ، مرض میں امیر ہوں۳
۳ - مکاتیب بنام گرامی، ص ۲۴
خ
شور اتنا ہے کہ قصّابوں کی ہو جیسے برات
آئیے لاہور کے لوگوں کا جلسہ دیکھیے۴
۴ - مظلوم اقبال ،ص ۱۲۵
خ
ہے میری زباں پر یہ دعا چور ہو ایسا
اکبر کی دکاں پر نہ کوئی شور نظر آئے۵
۵ - روایات ِاقبال ،ص ۱۸۲
خ
وہ ایسی پارسا ہے ہر قدم سجدے میں رہتی ہے
زباں خاموش رکھتی ہے مگر ہر بات کہتی ہے۱
۱ - اقبال درونِ خانہ ،ص ۷۳
اثر یہ تیرے اعجازِ مسیحائی کا ہے اکبر
الہ آباد سے لنگڑا چلا ، لاہور تک پہنچا۲
۲ - صحیفہ، اقبال نمبر ۱۹۷۸، ص ۱۹۷
خ
نکالا ہے فقیرا خاں نے اخبار
کرے گا منکشف اسرارِ سرحد۳
۳ - روایت - م - ش (راقم الحروف)
خ
مشترکہ شعر
غیر سے ہے بس کہ اس کی رسم و راہ (ظفر علی خان)
بے حیا موٹر ہے محسن شاہ کی(اقبال)۴
۴ - چمنستان از ظفر علی خان، ص ۱۳۵
خ
چلبلی ، شوخ ، طرحدار ، نرالی مل جائے
نوجواں مرتے ہیں جس پر وہی ’بالی‘ مل جائے۵
۵ - روز گارِ فقیر، جلد اوّل، ص ۱۰۱
خ
نگاہ ہے پردہ سوز میری ، نقاب کیسا ، حجاب کیسا
تمہاری ان پردہ بندیوں کا ، ملا ہے تم کو جواب کیسا۱
۱ - اقبال اور بھوپال، ص ۷۶
عالمِ جوشِ جنوں میں ہے روا کیا کیا کچھ
کہیے کیا حکم ہے ؟ دیوانہ بنوں یا نہ بنوں۲
۲ - اقبال از عطیہ بیگم
خ
کیا خوب یہ عالم ہے ، ادھر مد ہے ادھر جذر
اک ہاتھ میں دستور ہے اک ہاتھ میں ہے نذر۳
۳ - سالنامہ احسان، لاہور ۱۹۳۷ء
خ
یہ مکتب ، یہ اسکول ، یہ پاٹھ شالے
یہ تکیے ، یہ مندر ، یہ گرجے ، شوالے
یہ پنڈت ، یہ بنیئے ، یہ ملّا ، یہ لالے
یہ سب پیٹ ہیں اور ہم تر نوالے
خ
غریبوں کا دنیا میں اللہ والی
وطن کیا ہے اک نوع سرمایہ داری
بڑے سیٹھ ہیں قوم کے یہ بھکاری
وہ دیکھو چلی آ رہی ہے سواری
نئے جال لائے پرانے شکاری
غریبوں کا دنیا میں اللہ والی۱
۱ - اوراقِ گم گشتہ، ص ۵۳
تماشا تو دیکھو کہ دوزخ کی آتش
لگائے خدا اور بجھائے محمدؐ
تعجب تو یہ ہے کہ فردوسِ اعلیٰ
بنائے خدا اور بسائے محمدؐ۲
۲ - نوادرِ اقبال ،ص ۲۵

خ
نہیں ہے بہرِ اظہارِ وغا لازم نمود اصلا
کہ بحرِ شعر میں پانی نہیں مطلق مگر رَو ہے
حصولِ جاہ و عزّت جس وفاداری کا مقصد ہو
وہ جنسِ ناروا گندم نہیں، گندم نما جو ہے
ملے گی تشنۂ عزّت کو کب اعزاز کی قفلی
مہینہ جون کا ہے اور یہ سرگرمِ تگ و دو ہے
نہیں ہوتے ہیں لیڈر ان میں پیدا قابلیّت سے
مسلمانوں میں یہ مخلوق مثلِ سبزہ خود رو ہے
خوشامد نے جلا ڈالا ہے خود داری کے خرمن کو
ذرا سی شمع ہے کم بخت اور کتنی بڑی لو ہے
پرانی روشنی میں دیکھ لو ، ہے پختگی کیسی
کہ پہلے دن سے مہر و ماہ میں قائم وہی ضو ہے۱
۱ - مہک ، اقبال نمبر ۷۵-۱۹۷۴ء ،ص ۲۷
خ
پختگی جس کا نتیجہ ہو وہ خامی اچھی
اپنا مدّاح ہو سلطاں تو غلامی اچھی۲
۲ - بیاضِ اعجاز ،ص ۱۲۲
خ
عرصۂ محشر میں میری خوب رسوائی ہوئی
داورِ محشر کو اپنا راز داں سمجھا تھا میں۳
۳- ملفوظاتِ اقبال، ص ۲۴۸
خ
دوزخ کے کسی طاق میں افسردہ پڑی ہے
خاکسترِ اسکندر و چنگیز و ہلاکو۴
۴ - تفہیمِ اقبال ،ص ۲۰۱
خ
جنابِ فوق نے چھپوا دیا کلام اپنا
عروج پر ہوئی اب شان و شوکتِ اردو۵
۵ - نغمۂ گلزار : فوق ،ص ۱۲
لوگ کہتے ہیں مجھے راگ کو چھوڑو اقبال
راگ ہے دین مرا ، راگ ہے ایماں میرا۱
۱ - دانائے راز، از: سید نذیر نیازی، ص ۵۰
کہہ دو یہ کوہکن سے کہ مرنا نہیں کمال
مر مر کے ہجرِ یار میں جینا کمال ہے۲
۲ - ماہ نو ، اقبال نمبر ۱۹۷۷ء ص ۳۵۵
خ
گر اے شبِ سیہ تجھے حسرت ہے نام کی
کچھ قرض مانگ لے مرے بختِ سیاہ سے۳
۳ - سرودِ رفتہ ،ص ۲۴۶
خ
دورِ گردوں میں نمونے سیکڑوں تہذیب کے
پل کے نکلے مادرِ ایّام کی آغوش میں۴
۴ - نوادرِ اقبال ،ص ۲۹۹
خ
اے عدم کے رہنے والو تم جو یوں خاموش ہو
مے وہ کیسی ہے ، نشے میں جس کے تم بے ہوش ہو۵
۵ - ایضاً
خ
کیسی حجّت خیز ہے ظلمت فروشی کی یہ رات
دن کے ہنگاموں کا ہے مدفن، خموشی کی یہ رات۱
۱ - ایضاً
خ
پروانہ سوئے شمع نہ قسمت کو رو کے آئے
ذوقِ تپش سے بزم میں آزاد ہو کے آئے۲
۲ - نوادرِ اقبال ،ص ۲۹۹
خ
بناوٹ کی بے اعتنائی کے صدقے
بڑے کام آیا مجھے دور رہنا - - - -۳
۳ - اقبال کی شگفتہ مزاجی، ص ۵۵
خ
اقبال میرے نام کی تاثیر دیکھیے
میں جس کے ساتھ ہوں اسے ممکن نہیں شکست۴
۴ - سرودِ رفتہ ،ص ۲۱۱
خ
رومال کے لباس میں ابر آ کے بارہا
پانی پیا کیا مری چشمِ زلال سے ---۵
۵ - باقیاتِ اقبال طبع سوم، ص ۵۰۱
خ
یہ مانا قصّۂ غم سے تمہارا جی بہلتا ہے
سنائیں تم کو اپنے دردِ دل کی داستاں کب تک۱
۱ - علمِ مجلسی حصہ سوم ،ص ۶۱
نمود تیری نمود اس کی ، نمود اس کی نمود تیری
خدا کو تو بے حجاب کر دے ، خدا تجھے بے حجاب کر دے۲
۲ - رسالہ، کارواں، سالنامہ ۱۹۳۴ء
خ
اک پائوں عدم کو کیوں نہ جاتا اقبال
تھا اہلِ فنا کو اشتیاقِ پابوس - - - - -۳
۳ - شاہکار ، تاجور نمبر، ص ۲۳۴
خ
کہسار کی رفعت سے اترتی ہوئی ندّی
دھو دھو کے چٹانوں کو گزرتی ہوئی ندّی۴
۴ - بیاضِ اوّل
خ
روز منبر پر سنا کرتے تھے کعبے کی صفت
جاکے جب دیکھا تو اک اجڑا ہوا بت خانہ تھا۵
۵ - بیاضِ اعجاز ،ص ۱۷
خ
حق میں آزادوں کے ہے قیدِ تعلق کیمیا
بن گئی گوہر جو موجِ آب ، زندانی ہوئی۱
۱ - روز گارِ فقیر، جلد دوم ، ص ۳۰۵
خ
حریفِ بادہ کشانِ فرنگ کیا ہوگا
فقیہِ شہر کہ صوفی سے کھا گیا ہے شکست۲
۲ - بیاضِ پنجم
خ
خرد میں نور ترا ، دل میں ہے سرور ترا
وہاں حضور ہے تیرا ، یہاں حضور ترا۳
۳ - بیاضِ پنجم
خ
غزالانِ حرم تجھ کو مبارک
مجھے شیرِ حرم کی جستجو ہے۴
۴ - بیاضِ ہشتم
خ

 

 


ضمیمہ جات

 

 


(الف) نو دریافت کلامِ اقبال
(ب) تحقیق طلب : کلام اقبال
(ج) اقبال کا الحاقی کلام

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ؑضمیمہ الف

نو دریافت کلامِ اقبال

راقم الحروف کی تحقیق ۱۹۹۰ء میں مکمل ہوئی ہے ۔ اس کام کی تکمیل کے بعد جو کلام منظرِ عام پر آیا ہے اُسے اس حصہ میں شامل کیا جا رہا ہے۔

(۱): ہمت
آ ہمت مردانہ جگر میں تری جا ہے
مت آنکھ چُرا مجھ سے اگر شرطِ وفا ہے
تو ہو مرے ہمراہ تو پروا مجھے کیا ہے؟
سایہ ترے شہپر کا بہ از بالِ ہما ہے
تو فضل الٰہی کی نشانی ہے جہاں میں
ہر بزم میں چرچا ہے ترا کون و مکاں میں
احباب اٹھو ہمتِ مردانہ وہ آئی
ہمراہ لیے شوکت شاہانہ وہ آئی
اب پھینک دو کچکول گدایانہ وہ آئی
کس ٹھاٹھ سے آتی ہے عروسانہ وہ آئی
مردوں سے تو ملنے میں اُسے عار نہیں ہے
نامرد سے البتہ سروکار نہیں ہے
ہم مردِ توانا ہیں کوئی ھیز نہیں ہیں
دنیا میں گئی گذری ہوئی چیز نہیں ہیں
آزاد ہیں پابستۂ دہلیز نہیں ہیں
سلِ بٹے سے پِس جائیں وہ گشنیز نہیں ہیں
کیوں بحرِ حمیّت نہ بہت جوش میں آئے
جب ہمتِ مردانہ خود آغوش میں آئے
اب کام جو کرنا ہے وہ مردانہ کریں گے
ہر حال میں برتائو شجاعانہ کریں گے
محنت سے علاجِ دل دیوانہ کریں گے
اندوہ کی تکلیف کی پروا نہ کریں گے
رہتا نہیں اندوہ جہاں حسنِ عمل ہے
مردوں کی بلا دور یہ مشہور مِثل ہے
ہم مرد ہیں غیروں کا سہارا نہیں لیتے
پیراک ہیں دریا کا کنارا نہیں لیتے
جو شیر ہیں صید اور کا مارا نہیں لیتے
ہو آہوئے مشکیں کہ چکارا نہیں لیتے
لالچ کی نگاہوں سے نظر تک نہیں کرتے
اس راہِ دنائت سے گذر تک نہیں کرتے
ہم مرد ہیں محنت سے کبھی جی نہ چرائیں
اوقاتِ معین میں ہر اک کام پہ آئیں
بیکار نہ بیٹھیں کبھی بے کار نہ جائیں
ہمت یہ رہے دوسروں کا ہاتھ بٹائیں
مفلس ہوں تو کچھ غم نہیں ہمت رہے عالی
بلّور سے بہتر ہے مرا جام سفالی
ہے نانِ جویں مرغ و مزعفر سے زیادہ
کمبل ہے مرا خلعت پر زر سے زیادہ
ٹوپی ہے مری تاج سکندر سے زیادہ
وسعت مرے گھر کی مجھے کشور سے زیادہ
ہے دولتِ جاوید پیسنے کی کمائی
آئینے سے اعلیٰ ہے مرے دل کی صفائی
ہم دولتِ قاروں کے لیے جھوٹ نہ بولیں
اور ملک فریدوں کے لیے جھوٹ نہ بولیں
عشقِ لبِ میگوں کے لیے جھوٹ نہ بولیں
یاد قد موزوں کے لیے جھوٹ نہ بولیں
اندوختہ عنبر کو چھونے سے غرض کیا
مردوں کے لیے خواہش بے جا کا مرض کیا
اک دانہ میّسر ہو تو ، ہم بانٹ کے کھائیں
افسردہ لئیموں کی طرح منہ نہ بنائیں
محسن ہیں پر احسان کسی کا نہ اٹھائیں
لینی ہمیں بس ہیں تو ضعیفوں کی دعائیں
عمر یست دلِ ناز کہ ایں ولولہ دارد
نامردی و مردی قدمے فاصلہ دارد

رسالہ مجلسِ کشمیری مسلمانان ، لاہور : اکتوبر ۱۸۹۶، دریافت افضل حق قرشی مشمولہ : اقبالیات ، جولائی ۔ ستمبر ۱۹۹۶ء ص ۱۳۶

(۲): غزل
دلدادئہ ہوائے فصلِ بہار ہوں میں
ہمہ اشتیاق ہوں میں ہمہ انتظار ہوں میں
کچھ اس ادا سے اڑ کر میں سوئے دام آیا
صیّاد کہہ رہا ہے تیرا شکار ہوں میں
نازک مزاجیاں تو میرے جنوں کی دیکھو
زنجیر جوئے موجِ باد بہار ہوں میں
کیا کام لے رہا ہوں اے خضر ! زندگی سے
جاں در ہوائے ذوقِ خوابِ مزار ہوں میں
گلگیر کے ستم کا کھٹکا نہیں ہے مجھ کو
اے بزمِ زندگانی ! شمع مزار ہوں میں
واماندگی کرشمہ اپنا اُسے نہ سمجھے
لذت چشِ خراش ہر نوک خار ہوں میں
اے اشک چشم پرخوں یہ ربط چھٹ نہ جائے
میری بہار تو ہے تیری بہار ہوں میں
زادعمل نہیں ہے محشر کا سامنا ہے
ہاں اے لبِ شفاعت امیدوار ہوں میں
زاہد نہیں جو مجھ کو جنت کی آرزو ہو
اے خاکِ پاک یثرب تیرا غبار ہوں میں
صدقے ہوں جس پہ گلشن نکلا وہ پھول تجھ سے
اے گلستانِ یثرب تیرے نثار ہوں میں
اقبال عشق کی یہ ساری کرامتیں ہیں
صدقے ہوں سو(۱۰۰) تبسّم جب اشکبار ہوں میں
اودھ پنج ، ۷ اپریل ۱۹۰۴ء ص ۶ : بحوالہ
کلام اقبال (نادر و نایاب رسالوں کے آئینے میں از ڈاکٹر اکبر حیدری ، ص ۴۵۱
اقبال کا ایک نو دریافت شعر
علامہ درد گردہ کے علاج کے لیے جب دہلی گئے تو وہاں یہ شعر نازل ہوا
عجیب ہیں مغفرت کی راہیں کہ اُس نے روز حساب مجھ سے
کوئی نہ ایسا سوال پوچھا کہ جو مجھے لا جواب کر دے

غیر مطبوعہ رسالہ الکوثر : جلد ۳ نمبر ۱ ، ص ۲۸ مخزونہ محمود فیضانی لائبریری ایبٹ آباد
ایک نو دریافت شدہ نظم
’’تاج محل‘‘
چشم بینا ! روضہ ٔ ممتاز کی تعمیر دیکھ
سنگِ مرمر میں کبھی تخیل کی تصویر دیکھ
دیکھ نور افشانیٔ گنبد شبِ مہتاب میں
ہے لب جمنا پہ گویا مہر روشن خواب میں
خ
اللہ اللہ ! کس قدر عجیب سا منظر ہے یہ
واقعی صنائع انسانی سے بالاتر ہے یہ
بن کے جمنا کے کنارے اک مزارِ بے نظیر
کر رہا ہے آج تک چشم جہاں کو مستیز
مٹ نہ جائے دیکھنا اے گردشِ لیل و نہار
ایک شوہر کی محبت کی مجسم یادگار
یہ مزار اس عشق شاہانہ کی اک تصویر ہے
ذرّہ ذرّہ جس کا اخلاص و وفا تنویر ہے
ماخذ (اقبالیات ۔ جنوری ۲۰۰۰ئ)
چشمۂ فیض تشنہ لب کے لیے
مرکزِ رشد بہر اہل صفا
کوئی سمجھے تو ہے مقام قدس
آستانہ جناب قدسی کا
[ماخذ : ماہ نو اقبال نمبر : نومبر ۲۰۰۲ئ]
یہ اشعار اسعد الرحمن قدسی (بھوپال) کے ضمن میں لکھے گئے ، جن کا آستانہ بھوپال سے چار میل کے فاصلے پر دامنِ کہسار میں واقع ہے۔

 

 

 

 

 

 


ضمیمہ (ب)

تحقیق طلب : کلام اقبال

اس ضمیمہ میں اقبال کا وہ کلام شامل ہے جس کی اسناد کمزور ہیں : جب تک کوئی ٹھوس شہادت فراہم نہیں ہو جاتی اسے باقیات شعرِ اقبال کا لازمی حصہ نہیں بنایا جا سکتا ۔


(۱) ۔ نظم
’’ مرغِ اسیر کی نصیحت‘‘
یہ نظم اردو کی چھٹی کتاب مرتبہ لالہ سورج نرائن صاحب مہر ۱۹۰۴ئ، ص ۸۶ میں شائع ہوئی ۔ نظم پر اقبال کا نام درج ہے۔ اس کتاب میں اقبال کی دیگر نظمیں ان کے نام کے بغیر چھپی ہیں۔ مثلاً بلبل کی فریاد ، دعا ، چاند اور شاعر وغیرہ۔ نظم کا ڈکشن اقبال کا ہی معلوم ہوتا ہے، کتاب پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی پنجاب نے تیرتھ اینڈ سنز سے شائع کی ۔ یہ پانچویں جماعت کے لیے مرتب کی گئی تھی۔ ’’واضح ہو کہ کتاب میں شامل نظم پر اقبال کا نام درج نہیں ہے‘‘۔
اک مرغ ہوا اسیر صیّاد

دانا تھا وہ طائرِ چمن زاد
بولا جب اُس نے باندھے بازو

کھلتا نہیں کس طمع میں ہے تو
بیچا تو ٹکے کا جانور ہوں

گر ذبح کیا تو مشتِ پر ہوں
پالا تو مفارقت ہے انجام

دانا ہے تو مجھ سے لے مِرے دام
بازو میں نہ تو مرے گرہ باندھ

سمجھائوں جو پند اُسے گرہ باندھ
سُن کوئی ہزار کچھ سنائے

کیجئے وہی جو سمجھ میں آئے
قابو ہو تو کیجیے نہ غفلت

عاجز ہو تو ہاریے نہ ہمت
آتا ہو تو ہاتھ سے نہ دیجیے

جاتا ہو تو اُس کا غم نہ کیجیے
طائر کا یہ سن کلام صیاد

بِن داموں ہوا غلام صیّاد
بازو کے جو بند کھول ڈالے

طائر نے تڑپ کے پر نکالے
اک شاخ پہ جا چہک کے بولا

کیوں پر مرا کیا سمجھ کے کھولا
قسمت نے مری مجھے اڑایا

غفلت نے تری مجھے چھڑایا
دولت نہ نصیب میں تھی تیرے

تھا لعل نہاں شکم میں میرے
دے کے صیّاد نے دلاسا

چاہا پھر کچھ لگائے لاسا
بولا وہ کہ دیکھ کر کیا جعل

طائر بھی نگلتے ہیں کہیں لعل
ارباب غرض کی بات سُن کر
کرلیجیے یک بیک نہ باور
خ
نظمِ معریٰ
یوں وقت گذرتا ہے

فرقت کی تمنّا میں
جس طرح کوئی پتا

بہتا ہوا دریا میں
ساحل کے قریب آ کر

چاہے کہ ٹھہر جائوں
اور سیر ذرا کر لوں

اس عکسِ شجر کی (میں)
جو دامنِ دریا پر
زیبائشِ دریا ہے
یا باد کا وہ جھونکا

جو وقفِ روانی ہے
میں چاہتا ہوں دل سے

کچھ کسبِ ہنر کر لوں
گل ہائے مضامیں سے

دامانِ سخن بھر لوں
ہے وقت مگر واژوں

فرصت ہی نہیں ملتی
فرصت کو کہاں ڈھونڈوں
فرصت ہی کا رونا ہے
پھر جی میں یہ آئی ہے

کچھ عیش بھی حاصل ہو
دولت ہی ملے مجھ کو

وہ کام کوئی سوچوں
پھر سوچتا یہ بھی ہوں

یہ سوچنے کا دھندا
فرصت میں ہی ہوتا ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فرصت ہی نہیں دیتے
افکار معیشت کے
ماخذ
ضمیمہ اودھ پنج لکھنؤ جلد ۱۹ نمبر ۴۶ بسلسلہ منتخبات جلد ۸ ، ۱۹۲۳ئ،ص ۹۱
مشمولہ ۔کلام اقبال (نادر ونایاب رسالوں کے آئینے میں : ڈاکٹر اکبر حیدری،ص ۴۵۵

 

 

 

 

 

 

 


ضمیمہ (ج)

اقبال کا الحاقی کلام

اس عنوان کے تحت اقبال کے اُس کلام کی نشان دہی کی جاتی ہے جو اقبال سے غلط طور پر منسوب ہے : لہٰذا اسے باقیات شعر اقبال سے خارج سمجھنا چاہیے:


(۱): ’’شمع ہستی‘‘
گیان چند نے اس نظم کو اپنے مجموعے ’’ابتدائی کلام اقبال‘‘ میں شامل کیا ہے اور اس امر پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اسے باقیات کے کسی مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا ۔ (ص ۳۵۴)
گیان چند کے بقول یہ نظم رسالہ معارف اعظم گڑھ (مدیر مولوی وحید الدین سلیم) کے رسالہ ستمبر ۱۹۰۰ء میں شائع ہوئی ۔ یہاں سے لے کر اسے لطف اللہ بدوی نے اقبال ریویو کراچی ، جنوری ۱۹۶۵ء میں شائع کیا۔ بشیر احمد ڈار نے غالباً اسی کو ماخذ بنا کر انوارِ اقبال طبع دوم ۱۹۷۷ء میں شامل کیا ۔
ہماری تحقیق کے مطابق یہ نظم علامہ کی زندگی میں اخبار ’’قوم‘‘ دہلی کے ایڈیٹر قاری عباس حسین نے علامہ کے نام سے شائع کی جہاں سے ایڈیٹر ظل السلطان محمود الحسن صدیقی نے اخذ کر کے اپنے رسالے میں شائع کیا۔ اس غلط نسبت پر ایڈیٹر انقلاب نے محمود الحسن صدیقی صاحب کو مطعون کیا۔[ انقلاب ۱۵ ؍نومبر ۱۹۲۸]۔ جس پر ایڈیٹر موصوف نے معذرت کر لی [دیکھیے انقلاب ۲۳؍نومبر ۱۹۲۸ئ]
زیر بحث نظم دراصل اسماعیل میرٹھی کی ہے جو ان کے مجموعے کلام بعنوان حیات و کلیات اسماعیل کے ص ۲۶ پر شائع ہو چکی ہے۔ اس کے ثبوت میں مخزن کا شمارہ مخزن جولائی ۱۹۰۴ء بھی پیش کیا جا سکتا ہے جہاں یہ نظم اسماعیل میرٹھی کے نام ہی سے شائع ہوئی۔
(۲) مدینے کے کبوتر کی یاد
سب سے پہلے یہ نظم کلیات اقبال حیدر آباد میں شائع ہوئی جہاں سے عبدالواحد معینی نے اپنے مجموعے باقیات اقبال(طبع اوّل) میں شامل کیا۔ تائیدمیں شمس العلماء میر حسن کے صاحبزادے محمد ذکی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ نظم ظفر علی خان کے مجموعہ کلام میں شامل ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق اوّلاً یہ نظم ۲۴ نومبر ۱۹۱۷ء کے ستارہ صبح میں شائع ہوئی ۔ رسالہ صوفی نے فروری ۱۹۲۳ء میں اسے اقبال کے نام سے شائع کر دیا۔ جہاں سے کلیات اقبال (حیدرآباد) نے اخذ کر کے اپنے مجموعے میں شامل کر لیا: نوادرِ اقبال مرتبہ عبدالغفار شکیل سے بھی اس غلطی کو دہرایا گیا ہے۔ شیخ اعجاز احمد کی بیاض میں بھی اسے اقبال سے منسوب کیا گیا ہے۔
(۳) ’’بے سلطنت قوم یا جسم بے روح ‘‘
یہ نظم باقیات اقبال کے ایک مجموعے تبرکات اقبال (۱۹۵۶ئ)کے ص ۳۶ پر شائع ہوئی۔ مؤلف کے مطابق یہ نظم زمانہ کان پور میں جولائی ۱۹۲۰ء میں شائع ہوئی۔ باقیات اقبال طبع دوم میں بھی اسے اقبال سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ نظم ظفر علی خان کی ہے اور ان کے مجموعہ ’’کلیات اکبر‘‘ ص۲۰۳ پر شائع ہو چکی ہے۔
(۴) غزل کے تین اشعار
روز گار فقیر جلد دوم میں اقبال سے منسوب غزل کے درج ذیل تین اشعار شائع ہوئے ہیں ۔ جو اقبال کے نہیں ہیں۔
حشر کو مانتا ہوں بن دیکھے
ہائے ہنگامہ اس کی محفل کا
سدّرہ گرچہ تھی صعوبت راہ
لے اڑا اشتیاق منزل کا
تھی غضب طرزِ پرسشِ ہمدرد
لب پہ آیا ہے مدعا دل کا
یہ تینوں اشعار اوّلاً شیخ اعجاز احمد کی بیاض میں درج ہوئے: وہاں سے روز گار فقیر کے مرتب فقیر وحید الدین نے انہیں اپنے مجموعے میں شامل کر لیا۔
اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ اقبال بعض اوقات مخزن میں اپنا پسندیدہ کلام اشاعت کی غرض سے بجھواتے تھے ۔ اس طرح کے اشعار کچکول کے عنوان سے شائع ہوا کرتے تھے ۔ کچکول میں بھیجے جانے والے اشعار میں بھیجنے والے کا نام دائیں طرف شائع ہوتا تھا جبکہ شاعر کا نام بائیں طرف شائع ہوتا تھا ۔ مخزن دسمبر ۱۹۰۱ء کے اُس شمارے میں جہاں یہ کلام پہلی بار چھپا علامہ کا نام دائیں طرف درج ہے۔ جبکہ شاعر کا نام بائیں طرف درج ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشعار دراصل امرائو مرزا انور دہلوی کے تھے جو علامہ کو پسند آئے ۔ گیان چند نے اپنے مجموعے ابتدائی کلام اقبال (ص ۲۰۷) پر اسی غلطی کو دہرایا ہے۔
(۵) رختِ سفر کے تصرفات
رختِ سفر طبع دوم (ص ۱۷۷) میں دریائے نبسن کے عنوان سے تین ایسے اشعار شائع ہوئے ہیں جو علامہ کے نہیں بلکہ لمعہ حیدر آبادی نے اقبال کو بغرضِ اصلاح بھیجے تھے ۔ علامہ نے اس نظم میں دو اشعار پر اصلاح بھی دی تھی۔ ملاحظہ کیجیے ’’اقبال نامہ‘‘ جلد اوّل ، ص ۲۹۲۔
اسی طرح اسی مجموعے میں غالب کا یہ شعر ؎
از مہر تابہ ذرہ دل و دل ہے آئینہ
طوطی کو شش جہت سے مقابل ہے آئینہ
اقبال سے منسوب کر دیا گیا ہے جو درست نہیں۔ ملاحظہ کیجیے رخت سفر طبع دوم، ص ۱۷۱ نظم ’’شمع‘‘ ۔
(۶) اقبال سے منسوب ایک اور شعر
یہ شعر بھی اقبال سے غلط طور پر منسوب ہے۔