Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

قوموں کے ليے موت ہے مرکز سے جدائی

 

قوموں کے ليے موت ہے مرکز سے جدائي
ہو صاحب مرکز تو خودي کيا ہے ، خدائي
جو فقر ہوا تلخي دوراں کا گلہ مند
اس فقر ميں باقي ہے ابھي بوئے گدائي
اس دور ميں بھي مرد خدا کو ہے ميسر
جو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے رائي
در معرکہ بے سوز تو ذوقے نتواں يافت
اے بندئہ مومن تو کجائي ، تو کجائي

خورشيد ! سرا پردئہ مشرق سے نکل کر
پہنا مرے کہسار کو ملبوس حنائي

IIS Logo

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP