Menu

A+ A A-

با نگ درا - حصہ سوم - ظریفانہ

Display # 
شام کي سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم يزل
مسجد تو بنا دی شب بھر ميں ايماں کی حرارت والوں نے
سنا ہے ميں نے، کل يہ گفتگو تھي کارخانے ميں
کارخانےکا ہے مالک مردک ناکردہ کار
اٹھا کر پھينک دو باہر گلی ميں
تکرارتھي مزارع و مالک ميں ايک روز
محنت و سرمايہ دنيا ميں صف آرا ہو گئے
جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست
يہ آيہ نو ، جيل سے نازل ہوئي مجھ پر
رات مچھر نے کہہ ديا مجھ سے
گائےاک روز ہوئی اونٹ سے يوں گرم سخن
ديکھیے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک
فرما رہے تھے شيخ طريق عمل پہ وعظ
دليل مہر و وفا اس سے بڑھ کے کيا ہوگی
ممبری امپيريل کونسل کی کچھ مشکل نہيں
ناداں تھے اس قدر کہ نہ جاني عرب کي قدر
وہ مس بولي ارادہ خودکشي کا جب کيا ميں نے
ہاتھوں سے اپنے دامن دنيا نکل گيا
اصل شہود و شاہد و مشہود ايک ہے
ہم مشرق کے مسکينوں کا دل مغرب ميں جا اٹکا ہے
انتہا بھي اس کي ہے آخر خريديں کب تلک؟
تہذيب کے مريض کو گولی سے فائدہ
کچھ غم نہيں جو حضرت واعظ ہيں تنگدست
تعليم مغربی ہے بہت جرات آفريں
يہ کوئي دن کي بات ہے اے مرد ہوش مند
شيخ صاحب بھي تو پردے کے کوئي حامي نہيں
لڑکياں پڑھ رہي ہيں انگريزي
مشرق ميں اصول دين بن جاتے ہيں

IIS Logo

Dervish Designs Online

IQBAL DEMYSTIFIED - Andriod and iOS