Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

مسجد تو بنا دی شب بھر ميں ايماں کی حرارت والوں نے

 

مسجد تو بنا دي شب بھر ميں ايماں کي حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپي ہے، برسوں ميں نمازي بن نہ سکا

کيا خوب امير فيصل کو سنوسي نے پيغام ديا
تو نام و نسب کا حجازي ہے پر دل کا حجازي بن نہ سکا

تر آنکھيں تو ہو جاتي ہيں، پر کيا لذت اس رونے ميں
جب خون جگر کي آميزش سے اشک پيازي بن نہ سکا

اقبال بڑا اپديشک ہے من باتوں ميں موہ ليتا ہے
گفتارکا يہ غازي تو بنا ،کردار کا غازي بن نہ سکا

IIS Logo

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP