Menu

A+ A A-

ہمارا نظامِ معیشت

 

کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

 

ہمارا نظامِ معیشت

تدبّر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا

جہاں میں جس تمدّن کی بناء سرمایہ داری ہو

 

جنابِ صدر!…اساتذہ اکرام اور میرے عزیز ہم مکتب ساتھیو!

میری خواہش ہے کہ میں قرآ ن کے نظامِ معیشت کا اُجالا اربابِ فکرو نظر تک پہنچانے کی سعادت حاصل کروں ۔ ارتقائے آدم سے لے کر آج تک انسانیت جس کرب سے گزر رہی ہے اس پر مرہم کا’’ پھوہا ‘‘صرف کتابِ ربانی نے رکھا۔ لیکن بد قسمتی سے بنو اُمیہ اور بنو عَباس کے سلاطین نے اقلیم الرّوح کی اس غذا کا رسیلا ذائقہ کڑوا کر دیا ۔ جہاں سقراط ، ارسطو ، افلا طون، مہاتما بدھ ، کرشن جی، کارل مارکس اور رُوسو جیسے مفکرین نے انسانیت کے دکھتے جوڑوں کو سہلانے کی کوشش کی۔ معاشرے کے لیے ضابطہ ہائے اخلاق مرتب کیے وہاں مسجود ملائک مرکز ارض و سماء یعنی انسان کے حصے میں خالق کائنات کا مرتب کردہ ضابطہء حیات بھی آیا لیکن افسوس صد افسوس کہ بدقسمتی نے اس عظیم قانون کو سات اُوطاقوں میں چھپا دیا گیا۔

حضراتِ گرمی!…

 میں الفاظ کی سرکس کا قائل نہیں ہوں ۔ سیدھے سادھے انداز میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ مسلمان تارکِ قرآن ہو کر صرف خود ہی جہنمی نہیں ہوئے بلکہ زمین پر بسنے والی ہر قوم کے مجرم ہیں۔ قرآن کا نظامِ معیشت عہدِ جدیدکا وہ چشمہء آب حیات ہے جس کے سوتے قیامت کے دن تک تشنہ انسانیت کو سیراب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کارل مارکس نے کہا تھا سب انسان برابر ہیں۔ زمین کی دولت سب میں برابر بانٹ دو! ۔ لیکن قرآن نے اس سے بارہ سوسال پہلے کوہِ صفا کی چوٹی سے یہ اعلان بلند کیا :۔

وَنُریدُ اَنّ نمُنَّ عَلَی الذین النتستضعفو فی الارضِ ونجعلھم ائمۃ ونجعلھم الوارثین۔

ترجمہ: اور ہم نے ارادہ کرلیا ہے کہ ہم احسان کریں گے ان لوگوں پر جن کو زمین میں ضعیف بنا دیا گیا ہے۔ ہم انہیں زمین کا اِمام بنادیں گے ۔ ہم انہیں زمین کا وارث بنادیں گے ۔ ‘‘

اربابِ دانش ذرا غور کیجیے ! اشتراکی روس کے جھنڈے پہ ہتھوڑے اور درانتی کا نشان قرآن کی اس آیۃ جلیلہ سے نہیں چرایا گیا ؟۔ میں مزید واضح الفاظ میں بات کرتا ہوں۔اشتراکیوں کا نعرہ ہے کہ زمین پر کوئی امیر نہ رہے اور قرآن کا اعلان ہے کہ زمین پر کوئی مفلس نہیں رہے گا ۔ اسلام کا نظامِ معیشت پہاڑوں کو سونا اگلنے پر مجبور کردے گا ۔ زمین کو بنی آدم کے لیے فراغ کردے گا ۔ تاریک گھروندوں کے دیے جل اٹھے گے ۔ انسان فکر ِ معاش سے آزاد ہو کر امن کا علمبردار بن جائے گا ۔ فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنونکا نقشہ ہوگا اور رب العالمین ملائکہ سے اپنی ذوالجلا ل والکرام شان کے ساتھ یوں مخاطب ہونگے……دیکھا ! دیکھا !

جس آدم کی تخلیق پر تم نے اعتراض کیا تھا آج کائنات اس کی تعمیری صلاحیتوں سے کس قدر مستفیض ہو رہی ہے ۔

 

صدرِعالیجا!

لیکن یہ نوبت کب آئیگی زمین فردوسِ بریں کیسے بنے گی ۔ انصاف کا پرچم کیونکر بلند ہوگا ۔ عدل کا ترازو کیسے متوازن کیا جائیگا ۔ سرمایہ پرستی کا سفینہ کب ڈوبے گا ۔ انسان مسجودِ ملائک ہونے کا ثبوت کب دیگا ۔ ارشادِ ربانی ہے۔

’’فمن اعرض عن ذکری فان لہُ معیشتً ضنکا ونحشرہُ  یوم القیمۃ اعمٰی ‘‘

ترجمہ :۔ جس نے ہمارے ذکر سے اعراض برتا ہم اس کی معیشت کو تنگ کردیں گے۔ اور قیامت کے دن اسے اندھا اٹھائیں گے ۔

یہ ہے وہ غیر متبدل قانون الٰہی جس نے اپنی مضبوط گرفت میں پچھلے تیرہ سو سال سے ملتِ اسلامیہ کو جکڑ رکھا ہے۔ اسی موقع پر علامہ اقبالؒ تڑپ اٹھے تھے۔

کیوں مسلمانوں مین ہے دولتِ دنیا نایاب

تیری قدرت تو وہ ہے جسکی نہ حد ہے نہ حساب

تو جو چاہے تو اٹھے سینہء صحرا سے حباب

راہ روِ دشت ہو سیلی زدئہ موجِ سراب

طعنِ اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہے

کیا تیرے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے

حضراتِ گرامی!

قرآن کا نظامِ معیشت مختصر الفاظ میں یو ں بیان کیا جاسکتا ہے :۔

’’ہر فردِ معاشرہ اپنی استعداد کے مطابق کمائے اور اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کرے ‘‘ ضرورت سے زیادہ جمع کرنے والوں کے لیے :۔

’’ویل الکلِ ھمزۃ  المزتنِ الذی جمع مالً وعددہ

 یعنی بہت بڑی جہنم بنا دی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو مال جمع کرتے اور اسے گنتے رہتے ہیں‘‘۔

 اربابِ فکر و دانش !میں آپ سے مخاطب ہوں قرآن حکیم اٹھا کر دیکھیے! آپ کو ذاتی ملکیت کی تصور کہیں نظر نہیں آئیگا ۔قران پاک کے الفاظ واضح ہیں،’’ للہ الملکــ‘‘۔ زمین اللہ کی ہے۔ اسلامی عقائد کی رُو سے تو انسان اپنی جان کا بھی مالک نہیں تو کوئی فرد کسی چیز کا مالک کیسے ہوسکتا ہے ۔ زمین میں برپا مفاداتِ عاجلہ کی یہ جنگ جو گذشتہ پندرہ ہزار برس سے جاری ہے اسی دن شروع ہوئی تھی جس دن کسی شخص نے پہلی مرتبہ کسی چیز پر ذاتی ملکیت کا دعویٰ کیا تھا قرآن کا نظامِ معیشت بنی آدم کو مقامِ عبدیّت پر فائز کرتا ہے ۔ یہ وہی عبدیّت یا بندگی ہے جو اقبالؒ کے الفاظ میں ’’مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خدا وندی‘‘ انسان عبد تو ہوسکتا ہے مالک نہیں ۔عبد کا مطلب ہے’’ بندہ‘‘ دوسرے الفاظ میں اللہ کی ہرشئے کا امین۔بندگی امانتِ اموالِ خداوندی کا دوسرا نام ہے۔ جیسے ایک غلام اپنے آقا کی ہر شئے کا امین ہوتاہے۔

 میں سمجھتا ہوں کہ میں اپنی بات سمجھا چکا ہوں ۔ یعنی اسلام کا نظامِ معیشت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی چیز کا مالک نہیں اور ہر شخص اپنی ضرورت سے زیادہ مال دوسرے کی ضرورت کے لیے چھوڑ دے گا ۔قران کے الفاظ ہیں،

قل العفو

ضرورت سے زیادہ مال خرچ کردو!

 تصور کیجیے !وہ معاشرہ جسکی بنیاد قرآنی اقتصادیات پر قائم ہو ۔ یہ وہی معاشرہ ہے جس میں دودھ کی نہریں بہتی ہیں۔یہ وہی معاشرہ ہے جس میں محمود اویاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوجایا کرتے ہیں ۔ یہ وہی معاشرہ ہے جس میںفکر ِ معاش ارتقائے حیات کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنتی۔ یہی وہ معاشرہ ہے جس میں دریائے دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھی عدم تحفظ کا شکار نہیں ہوتا۔

جنابِ صدر!

ٖٓافسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم قرآن کے ذی شان سائے تلے ہوتے ہوئے بھی اس کی ٹھنڈی چھائوں سے محروم ہیں۔ ہم آج کم از کم پندرہ ہزار سال کے تلخ تجربات سے استفادہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں۔ اب ہمیں جان جانا چاہیے کہ انسانیت کے دکھوں کا مداوا صرف قرآنِ حکیم میں ہے ۔ ہمارا ملک پاکستان جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا ۔ ایک ایسے سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت میں جکڑا ہوا ہے جسکے خون خوار نوکیلے دانت ہرشہری کی شاہ رَگ سے قطرہ قطرہ لہو نچوڑ رہے ہیں۔ پوری کی پوری قوم اہلِ یورپ کی مقروض ہے۔ ملت کا بچہ بچہ قرضے کے سود میں قُرقی کر دیا گیا ہے۔ بھوک ، ننگ ، افلاس ، غربت ، فاقے، بیمار، معذوری ، بے روزگاری عدم تحفظ یہاں تک کہ دہشت گردی جیسے جرائم نے بھی اسی منحوس نظام سے جنم لیا ہے۔

جنابِ صدر!

ہمیں ہوش میں آنا پڑیگا اب ہمیں آنکھیں کھولنا ہونگی ، بیدار اور ہوشیار بننا پڑیگا۔ اب ہمیں اقبالؒ کی بات ماننا پڑیگی جو اصل میں قرآن ہی کی بات ہے۔

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگادو

کاخِ امراء کے درو دیوار ہلا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلادو

                                                          بہت مہربانی!

 

٭٭٭٭٭٭٭٭