Menu

A+ A A-

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

 

 کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

 

صدرِ محترم!

علامہ اقبالؒ رحمتہ اللہ علیہ ایک ایک اور شعر بھی اس موضوع پر روشنی ڈالتاہے۔

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

اگر ہم میں یگانگت ہوتی ، ہم آہنگی ہوتی ، امپورٹڈ نظامِ تعلیم کی وجہ سے ہمارے بچوں کو قومی سوچ سے محروم نہ کیا گیا ہوتا تو ہم آج چین کی طرح ترقی کے بامِ عروج کو چھو رہے ہوتے کیونکہ چین ہم سے صرف دوسال پہلے آزاد ہوا اور ہم سے بڑا ملک تھا مگر انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا اور قوم کے ہر فرد کو اپنی ملت کے مقدر کا ستارہ سمجھ کر تربیت دی۔ کیا ہم کوئی اور مخلوق ہیں جنہیں بحیثیت ایک قوم کے تربیت نہیں دی جاسکتی ؟…نہیں ہم میں چینیوں سے بھی زیادہ ہمت ہے، کیونکہ ہم مسلمان بھی ہیں۔

عزیزانِ من!

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا

آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

یہ تو ایک پیغام تھا جو میں میڈیا کے ذریعے حکومتِ پنجاب کے گوش گزار کرنا چاہتا تھا ۔ اور میری درخواست ہے کہ آئندہ تقاریر اور مضامین کے موضوعات طے کرتے وقت احتیاط کی جائے۔ کیونکہ علمی ادبی مقابلہ جات کا یہ خوبصورت سلسلہ تب ہی مفید ہوسکتا ہے جب ان سے، ہمارا مقصد قوم کے لیے قیادت کی تلاش ہو۔ تاکہ وطنِ عزیز قیادت کی پیداوار میں خود کفیل ہوجائے۔

 

صدرِ محترم!

ایک فرد پورے معاشرے کا عکاس ہوتا ہے۔ وہ تہذیب کی عمارت کا بلڈنگ بلاک ہے۔ فرد کی خامی پوری قوم کی خامی سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ ضروری ہوجاتا ہے کہ کسی بھی قوم کے فرد کا قبلہ و کعبہ درست ہو۔ یعنی اس قوم کی کوئی منزل ہو، کوئی نظریہ ہو، کوئی نصب العین ہو، کوئی مقصدِ حیات ہو۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو وہ قوم، قوم نہیں ۔ ایک ہجوم ہوگی ، ایک بھیڑ ، ایک ایسی بھیڑ جو جانوروں کے جھنڈ ،ر یوڑ اور غول سے بھی بد تر ہوگی کیونکہ جانوروں میں بھی ایک حد تک نظم و ضبط ہوتا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکیم الا مت کی نصیحت پر کسی نے عمل نہ کی اور ہمارا پیارا دیس پاکستان آج ایک ہجوم یا بھیڑ کی شکل اختیار کر گیا ۔

 

عزیزانِ گرامی!

آج بحیثیت قوم ہمیں اہلِ مغرب گنوار اور جاہل سمجھتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ابھی تک غاروں کے زمانہ میں جی رہے ہیں۔ وہ ایسا کیوں نہ کہیں۔ ہماری تہذیب کے مظاہر کتنے جمیل اور کس قدر جلیل تھے مگر ہم بتدریج اپنی عظمت کے ان منازل سے ہٹ گئے ہیں۔ آج ہمارے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ ہماری یونیورسٹیوں نے پاکستان بننے سے لے کر آج تک ایک بھی ایسا ڈاکٹر پیدا نہیں کیا جس کی تحقیقات اور ایجادات دنیا کو ہمارا دوست بناسکتیں۔ ہم نے تو اُلٹا اپنی جہالت کی وجہ سے اپنے دشمنوں میں اضافہ کرلیا۔ آج پوری دنیا ہمیں جاہل سمجھتی اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے۔ آخر کیوں؟…آخر کیوں آج ہم میں نہ زندگی کی رمق ہے، نہ روشنی کی جستجو، نہ مستقبل کی امید ، نہ حال کی خبر ، نہ رنگ ، نہ ڈھنگ ، نہ اُمنگ ، نہ ترنگ ، نہ شوخی ، نہ ولولہ نہ علم کا شوق ، نہ ادب کا ذوق ، نہ دل ، نہ ڈھڑکن ، نہ تپش ، نہ حرارت ، آخر کیوں؟ آخرکیا ہوگیا ہے ہمیں؟  اب تو بے اختیار دل پُکار اٹھتا ہے کہ:۔

صبح ہونی چاہیے اور رات ڈھلنی چاہیے

لیکن اس کے واسطے تحریک چلنی چاہیے

          جس قوم کے افراد خود کو اپنی ملت کی ایک اکائی سمجھتے ہیں وہ آگ اور خون کے دریا پار کر سکتے ہیں، پہاڑوں کی برفانی چوٹیوں کو عبور کرسکتے ہیں ، طلاتم خیز موجوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوجاتے ہیں ، بڑے بڑے صدمات او رمصائب سہ کر بھی اُنکے پائے استقلال میں لغزش تک نہیں آتی ، یزیدِ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق کی صدا بلند کرتے ہیں۔ موت کو سامنے دیکھ کر اُنکے چہرے خوشی سے کھِل اٹھتے ہیں ، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ موت بھی اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔

 

٭٭٭٭٭٭