Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا

 

کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا

 

 

 

اُٹھو! رکوع و سجود والو!

 

اب اپنے اپنے علَم سنبھالو!

 

خدا کے بندو! اُٹھو کہ و قتِ قیام آیا

 

قیام کرلو!

 

طویل سجدوں کے داغ ، محراب ہوچکے ہیں

 

مصَلے تالاب ہوچکے ہیں

 

کہو ! شمال و جنوب ! تم پر سلامتی ہو!

 

قیام کا اہتمام کرلو!

 

خدا کے بندو!

 

اُٹھو ! کہ و قت ِ قیام آیا۔ قیام کرلو!

 

 

 

صدرِ ذی وقار! اورعزیزانِ من !آداب! تسلیمات!

 

ہاں…… کیا کہہ رہے تھے ہم؟؟

 

’’یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت ِ قیام آیا‘‘

 

جب کوئی انسان احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجائے تو دنیا میں رہنے کے قابل نہیں رہتا۔ بطور انسان اسے جس قدر آزادی درکار ہے وہ اس سے محرورم ہوجاتاہے۔ بطورانسان اسے جس قسم کی زندگی چاہیے وہ بھی اُسے نہیں مل پاتی۔ وہ اوہام کا شکارہوکر خودکو تباہ کرلیتاہے۔اورایسے ایسے عقائد اختیار کرلیتاہے جن کی نہ کوئی بنیاد ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی سر پیر۔ بقول جوش ملیح آبادی،

 

 اوہام کارباب ، قدامت کا ارغنوں

 

 فرسودگی کا سحر، روایات کا فسوں

 

اقوال کا مراق ، حکایات کا جنوں

 

 رسم و رواج ، صحبت و میراث و نسل و خوں

 

افسوس یہ وہ حلقۂ دام خیال ہے

 

جس سے بڑے بڑوں کا نکلنا محال ہے

 

اس شیطانی چکر میں پھنس کر وہ اتنا اپاہج ہوجاتا ہے کہ اُس میں کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔کاہلی اُ س کے رگ و پئے میں سرایت کرجاتی ہے۔ وہ ہڈحرام ہوجاتا ہے ۔ اُسے سامنے کھڑی منزل بھی کوسوں کے فاصلے پر دکھائی دیتی ہے۔ او رجب بے عملی اس کی شریانوں میں لہو کے ساتھ گردش کرنے لگ جائے تو وہ ہر کام کے لیے آسمان کی طرف دیکھتا ہے ۔ اُ س وقت اگر اس کے سر پر دشمن کی فوج بھی سوار ہوجائے تب بھی وہ سجدے میں گر کر خدا سے غیبی امداد کا طلبگار ہوتا ہے۔

 

 

 

صدرِ مکرم!

 

ہاتھ گنگن کو آرسی کیا ؟……آپ آج ہی ملاحظہ کریں۔ ہماری قومی حالت آپ کے سامنے ہے اور ہماری مسجدوں کے سپیکر وں سے کس طرح کی دعائیں بلند ہوتی ہیں۔ ذراملاحظہ کیجیے گا ……

 

پڑیں کفار کی توپوں میں کیڑے

 

گرادے آسماں سے ان پہ پتھر

 

میں کوئی کام کر سکتا نہیں ہوں

 

مرے مولا !مرے سب کام توُ کر!

 

 

 

یہ ہے ہمارے واعظِ قوم کا حال۔ سچ کہا تھا حضرتِ اقبالؒ نے :۔

 

واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی

 

برقِ طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی

 

رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی ؓ نہ رہی

 

فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی ؒ نہ رہی

 

عزیزانِ من!

 

اگر سجدوں کے زور پر معجزات رونما ہوا کرتے تو امامِ کربلا کی طرف بڑھنے والا شِمر لعین کا تیر اپنا رُخ بدل لیتا ۔ نبی ِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین… عمل … کے قائل تھے ۔وہ ہماری طرح زربفتِ قالینوں والی ، ائرکنڈیشنڈ مساجد میں ’’فی دارھم جاثمین‘‘ نہیں تھے ۔ وہ تو …اَشِداُء عَلَی الکُفار رُحماَ ٔ بَینَھُم… کی مثال تھے۔

 

جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم

 

دریائوں کے دِل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

 

 

 

حضورِ والا شان!

 

 ہمارا موضوع واضح ہے۔ یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب قتِ قیام آیا سے مراد یہ ہے کہ جب قوم کو اپنے سپوتوں کے توانا دست و بازو کی ضرورت پڑی تو ملت کے مقدر کے ستارے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مساجد کی طرف دوڑ پڑے۔ یہاں سجدے سے مراد … ’’سجدئہ نماز ‘‘ اور قیام سے مراد…’قیامِ صلاۃ‘‘ ہے۔ یعنی سلامتی کے نظام کا قیام ہے۔ بالفاظِ دیگر ہمیں اس عنوان کے ذریعے حضرتِ اقبالؒ کی روح چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے :۔

 

مصلح بیچ کر خنجر خرید اے بے خبر صوفی!

 

کہ ٹکرانے کو ہے تیری فقیری سے شہنشاہی

 

فی الحقیقت یہ بات ہے …عمل اور بے عملی میں فرق کی ۔ ہمیں یاد رکھنا پڑے گا کہ کرکٹ چوکے اور چھکے لگانے سے جیتی جاتی ہے ، سٹیڈیم میں باجماعت سجدے کرنے سے نہیں۔ ہمیں یاد رکھنا پڑیگا کہ جنگیں بہادر افواج کے ذریعے فتح کی جاتی ہیں ، معبدوں کے تاریک محرابوں میں بیٹھ کر مالا ئیں جپنے سے نہیں۔ ملتِ ابراہیمی کو زندہ کرنا ہے تو قربانیاں جان کی دینا پڑینگی ، بکروں اور دنبوں کی نہیں۔ اگر ہمیں اپنا کھویا ہوا وقار واپس چاہیے تو سر اُٹھا کر جینا ہوگا ، سر جھکا کر نہیں۔ اگر ہمیں بطور قوم باقی رہنا ہے تو قیام کے وقت قیام کرنا ہوگا سجود نہیں۔

 

تیرا اِمام بے حضور! تیری نماز بے سرور

 

ایسی نماز سے گزر ، ایسے امام سے گزر

 

تو ابھی رہگزر میں ہے قید ِ مقام سے گزر

 

مصرو حجاز سے گزر ، پارس و شام سے گزر

 

صدرِ ذی وقار !

 

 ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ آئے ۔ کہنے لگے:۔

 

’’ہمیں اپنے گائوں کے لیے سردار کی تلاش ہے۔ ایک شخص بہت زیادہ نمازیں پڑھتا ہے اور اس کا سارا وقت مسجد میں گزرتا ہے۔ کیا اس کو سردار بنادیں؟…‘‘

 

آپ نے دریافت فرمایا:۔

 

’’لوگوں کے ساتھ اس کے معاملات کیسے ہیں؟‘‘

 

وفد نے جواب دیا :۔

 

’’کچھ خاص نہیں ‘‘

 

آپ ؓ نے قدرے برہم لہجے میں فرمایا :۔

 

’’تم نے ایک شخص کو مسجد میں اُٹھک بیٹھک کرتے دیکھا اور اپنا سردار بنانے کا سوچ لیا ؟‘‘

 

اللہ اللہ … قیامِ معاشرت کی کوششوں کے بغیر پڑھی گئی نمازیں ، لپیٹ کر اُن کے پڑھنے والوں کے منہ پر ماردی جاتی ہیں۔ ’’فویل اللمصلین الذین ھم عن صلاتھم ساھون… اور جہنم ہے اُن نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں کو بھلا بیٹھے ۔ مطلب ، اُ ن کی روح بھلا بیٹھے۔

 

نماز و روزہ و قربانی و حج

 

یہ سب باقی ہیں تُو باقی نہیں ہے

 

 

 

         

 

والسلام … شکریہ

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

 

 

 

 

 

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP