Menu

A+ A A-

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

 

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

 

منفعت ایک ہے اِس قوم کی نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک

حرمِ پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

صدر ذی وقار! عزیزانِ گرامی اور معززمہمانانِ کرام!

 میرا موضوع ہے، ’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘‘۔ یہ بنیادی طور پر قرانِ پاک کی آیت، واعتصموا بحبل اللہ ِ جمعیاولاتفرقوا……کا عملی ترجمہ ہے۔ کیونکہ فی زمانہ ہم مسلمان جس قدر فتنہ و تفرقہ بازی کا شکار ہیں…… اس سے قبل نہیں رہے۔

 

صدرِمکرم!

دورِ حاضر اپنی جدید ٹیکنالوجیوں کی وجہ سے تفرقے کے جن کو تباہ کن حد تک خوفناک بنا چکاہے۔ ہم ٹکڑے ٹکڑے مسلمان، بکھری بکھری اُمّت، کٹی پھٹی قوم،اُجڑی پُجری جمعیت……تنکا تنکا ہوکر طوفانِ حوادث کاشکارہوچکے ہیں۔

ہماری تہذیب کے مظاہر جمیل بھی تھے جلیل بھی تھے

اگر تھے ابرِ بہار اپنے قلم تو تیغِ اصیل بھی تھے

مگر بتدریج اپنی عظمت کے ان منازل سے ہٹ گئے ہم

بہت سے اوہام اور اباطیل کے گروہوں میں بَٹ گئے  ہم

 

صدرِ ذی وقار!

  علامہ اقبالؒ کے اِ س مصرع کا پورا شعر یوں ہے،

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاکِ کاشغر

اس شعر میں حرم کی پاسبانی سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ مسلمان خانہ ء کعبہ کو کفار کے غلبہ سے چھڑانے کے لیے ایک ہوجائیں۔ کیونکہ بیت اللہ…… وہ خانہء مقدس ہے جس کی حفاظت اُس گھر کے مالک کی اپنی ذمہ داری جیسے اُس نے ابرہہ کے لشکر سے اپنے گھر کو محفوظ رکھا تھا۔سو اگر اس شعر کے حقیقی مفہوم تک پہنچنا ہے تو ہمیں مسلم اُمہ کی ترکیب کو سمجھنا ہوگا۔ اقبالؒنے ہی کہا تھا،

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عزت ہمیں واپس مل جائے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ مسلم نشاۃِ ثانیہ کا اقبالی خواب پورا ہوجائے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم بروزِ حشر کالی کملی والے کی نگاہوں میں سُرخرو ہوجائیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ  انسانیت کے اُمتِ واحدہ ہونے کی تمنائے ربانی کبھی پوری ہوجائے،اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ سموات اور یہ سیارے انسان کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ عالم ِ بشریت عالم ملوکیت کے سامنے سُرخرو ہوجائے،  اگر ہم چاہتے ہیں بطور پاکستانی دنیا میں ہمارا سر فخر سے بلند ہو نہ کہ شرم سے جھکے ، اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان سنور جائے، سدھر جائے، ہم سب سنور جائیں، سدھر جائیں، زندگی میں چین آئے، بہار آئے، غنچے کھلیں، پھول مہکیں، بہاریں ناچیں، فضائیں مسکرائیں، شانتی ہو، امن ہو، انصاف کا پرچم بلند ہو، تعلیم ہو ، صحت ہو، ایمانداری ہو، خلوص ہو، ایمان ہو، جذبہ ہو…… اگرہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کردیں تو خدا کی قسم صرف اور صرف تفرقہ بازی سے بچ کر ہی ہم ان تمام خصائص و خصائل اور خوبیوں سے مالامال ہوسکتے ہیں وگرنہ نہیں۔اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر ہی ہم ان گہری کھائیوں میں گرنے سے بچ سکتے ہیں۔جو مغربی تہذیب کی شکل میں ہمارے تمام تر اثاثوں کو چاٹتی جارہی ہے۔

جناب ِ صدر!

قرانِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:۔

’’کان الناس اُمۃ واحدہ‘‘

تمام انسان ایک اُمت ہیں۔عزیزانِ من!   ملتِ اسلامیہ کی نشاۃِ ثانیہ سے حقیقی مراد انسانی عظمت اور سربلندی  کے آفتاب کا طلوع دائمی ہے۔ملّتِ اسلامیہ کا مقصود ہی یہی ہے۔

بقول اقبالؒ:۔

تفریقِ ملل حکمتِ افرنگ کا مقصود

اسلام کا مقصود فقط ملّتِ آدم

مکے نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغام

جمعیتِ اقوام کہ جمعیتِ آدم؟

جنابِ صدر!

 اسلام کا مقصود ہی جب ملتِ انسانیہ کا قیام ہے تو پھر کیا مسلمان اور کیا غیر مسلم۔ سوال ہے تو صرف اتنا کہ انسانیت کا جو حصہ قرآن و حدیث کے ساتھ جڑا ہوا ہے یعنی مسلم اُمہ،  وہ نہایت خستہ حالی کا شکار ہے۔ اور ضرورت ہے تو اس امر کی تمام مسلمان آپس کے اختلافات کو ترک کرکے ایک قوم کی حیثیت سے دنیا کے سامنے اپنے اخلاقِ حسنہ کا مظاہرہ کریں او ر یک مرتبہ پھر دنیا کی رہنمائی کا اپنا بھولا ہوا سبق یاد کریں۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا، شجاعت کا ، امانت کا

لیا جائیگا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

 

٭٭٭٭٭٭