Menu

A+ A A-

سیرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

سیرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

 

 

 

تو ہے پرتو ِ رُخِ لم یزل تو جمال ِ یار کا عکس ہے

 

جو کسی کی بات پہ ہے یقیں، ترے اعتبار کا عکس ہے

 

 

 

جناب  صدرِ عالیجا!  جلیس ِ مہرباں! رفیق ِ معظم ! معزز مہمانانِ گرامی اور میرے ہم مکتب ساتھیو!

 

مجھے کہا گیا ہے کہ سیرتِ سردارِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم بیان کروں۔ میں اُن کی سیرت کیا بیان کرونگا جن کے بارے میں قدرت خود کہہ رہی ہے کہ ترے افکار میں مشیت ڈھلتی ہے، ترے کردار کے ساتھ مری رضا چلتی ہے، ترے رخسار میں شمعِ وحدت جلتی ہے، میری تحریر کے ساتھ تیری تقریرہے، میرے قران کے ساتھ تیری تفسیر ہےتُو مجھ سے الگ نہیں ، میں تجھ سے جدا نہیں ، تو سب کچھ ہے مگر خدا نہیں۔ تو نہ ہوتا تو بہاروں کی شمیمِ جانفزا نہ ہوتی، نہ کلیوں کا تبسم ، نہ غنچوں کی چٹخ، نہ پھولوں کی مہک، نہ ہواؤں کی دلافروزی، نہ سمندروں کا طلاتم، نہ لہروں کا تموج، نہ شاخوں کا جھکاؤ، نہ دریاؤں کا بہاؤ، نہ تخلیق کا حسن،نہ صنعت کی خوبی، نہ تصویر کی دلکشی ، نہ جھرنوں کا ترنم نہ آبشاروں کی موسیقی ، کچھ بھی نہ ہوتا ۔ تو نہ ہوتا تو خدائی کا راز آشکارا نہ ہوتا، مصور ہوتا ، شہکار نہ ہوتا، حسن ہوتا تو پرستار نہ ہوتا اور یوسف ہوتا تو خریدار نہ ہوتا۔ تم آگئے تو انسانیت کو قرار آگیا ، رحمت کو گناہوں پہ پیار آگیا۔

 

چنانچہ

 

خطرہ ہے بہت سخت یہاں بے ادبی کا

 

لے سانس بھی آہستہ کہ دربار ِ نبی ہے

 

عزیزان ِ من!

 

ان کی سیرت بیان کرنا ایک انسان کے بس کا کام نہیں جن کی سیرت نگاری میں خداوند تعالیٰ نے پورا قران لکھ دیا۔ وہ جن کی زلفوں میں دلیل کی رعنائی، جن کے بالوں میں کرامت کی زیبائی، جو چہرے پہ زلفیں ڈالیں تو کائنات پہ حریت کی شب ِ تاریک چھا جائے، زلفیں ہٹائیں تو کائنات روزِ روشن کی طرح دمک اُٹھے۔آنکھ مبارک وہ کہ بصیرت کا کعبہ ، بصارت کا قبلہ انگشت مبارک وہ کہ اشارہ کریں تو چاند کا دل چیر کے رکھ دیں، قوت ِ سماع وہ کہ عالم ِ لاھوت میں چلتے ہوئے قلم کی سُریرتک سن لیں۔دندان مبارک وہ کہ اندھیرے میں مسکرائیں تو سوئی مل جائے۔ خدیجہؓ دیکھے تو یکسوئی مل جائے۔ پیر مبارک وہ کہ کبھی کونین مین کبھی قوسین میں۔

 

سچ کہا پیر نصیرالدین سیالوی نے،

 

تیری عظمت کی جھلک دیکھ کے معراج کی رات

 

ہے یہ جبریل کی خواہش کہ بشر ہوجائے

 

صدر ِ عالیجا!

 

وہ سیدالانبیا محمد ِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ............ جن کی سیرت ہمارے لیے مشعل ِ راہ ہے، عظیم راہنما ہے، قندیل ِ محراب ِ انسانی ، نورِ فیض ِ ربانی ہے، ناموس ِ ذرات و نجوم ہے، ناموس ِ آیات و علوم ہے، دانائے اسباب ِ علل ہے، فاتح ِ اروح ِ اجل ہے، حاکم ِ دشت و جبل ہے۔

 

لیکن حیران ہوتا ہوں کہ جب بھی یہ ناقص زبان ، محبوب خدا کے لیے رطب اللّساں ہوتی ہے، تو کتنی اکملیت آجاتی ہے اِس میں، کہ بام ودر انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ کوہ و دمن لرزہ براندام اور دشت و بیاباں ، حیران و پریشاں ہوجاتے ہیں۔ نوری میرے سامنے جھُک جھُک جاتے ہیں اور کہتے ہیں، ............ حیدر علی!!...........خدا کی قسم تمہاری زبان سے مدحت ِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر ہمارے کلیجے میں ٹھنڈ پڑجاتی ہے۔ شجر جھومنے لگتے ہیں۔ حجر قدم چومنے لگتے ہیں۔ ارض و سموات پر وجد طاری ہوجاتا ہے اور ہر طرف سے ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے۔ 

 

الھم صلی علی سیّدنا ومولانا محمدٍ وعلیٰ اٰل ِ سید نا ومولانا محمدٍ وبارک وسلم علیہ

 

دوستو! دوستو! 

 

کیا کروں؟ مجبورہوں۔ اُس کملی والے کی سیرت بیان نہ کروں تو کس کی مثال دوں؟ کون ہے جس نے دُنیا کو بھانت بھانت  کے خداؤں سے نجات دلائی؟ کون ہے جس نے انسانیت کو غلامی سے آزاد کیا؟ کون ہے جس نے سارے انسانوں کو ایک ساتھ پکارا.......... یاایھاالناس!..... ۔ کون ہے جس نے یتیموں کے حقوق کے لیے سب سے پہلے آواز اُٹھائی۔

 

 یہ دنیا تو تاریک تھی۔ ہر طرف ظلم و ناانصافی کا دور دورہ تھا۔انسان بات بات پر لڑتے تھے۔ عورتوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ خانہ کعبہ تین سو ساٹھ بُت رکھے ہوئے تھے، کوئی سونے کا تھا، کوئی چاندی کا تھا، کوئی پتھر کا تھا۔ غلامی تھی، بدامنی تھی، ظلم تھا ناانصافی تھی، قتل تھے، لڑائی تھی، فساد تھا۔ خدا کی زمین پر شیطان راج کررہا تھا ....... اُس وقت آقائے نامدار، دوعالم کے تاجدار، ختم الرسل ، مولائے کُل، سرورِ کائنات، فخر ِ موجودات، ساقی ئِ کوثر، شافعیِ محشرمحمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔

 

صدرِ عالیجا!اور حاضرین ِ محفل!

 

آج پوری ملت ِ اسلامیہ مایوس ہے۔ سب مایوس ہیں کہ مسلمان ذلت اور پستی کی زندگی گزار رہے ہیں۔لیکن اگر مسلمانوں کی فلاح یا بقاء کسی بات میں ہے ...... تو وہ سیرتِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ ہم آج جس حال میں ہیں۔ عیسائی دنیا آج سے چند صدیاں پہلے تک اِس حال کا شکار تھی۔ یورپ میں اسے ’’سیاہ دور ‘‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

 

 جب شہنشاہ فریڈرک کو پھانسی دے دی گئی تو فہرست الزامات میں یہ بھی درج تھا کہ وہ  مسلمانوں کی طرح روز غسل کرتا ہے۔ شاہ فلپ فرانس کو سزائے موت دی گئی  تو فہرست ِ الزامات میں یہ بھی درج تھا کہ وہ مسلمانوں کی طرح کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتا ہے۔کنٹربری کا لاٹ پادری جب چرچ سے نکلتا تو اُس کی قبا پر سینکڑوں جوئیں چلتی پھرتی نظرآتیں۔دَس سو تیس عیسوی تک لندن کے بازاروں میں انسانی گوشت بکتا تھا۔

 

جناب ِ صدر!

 

 یہ حال تھا اہل ِ مغرب کا جب اندلس میں مسلمان پہنچے اور انہوں نے سیاہ یورپ کو روز ِ روشن کی طرح اُجلا اور سفید کردیا۔اہل ِ یورپ نے مسلمانوں والے طور اطوار اختیار کرلیے تو ان کو وہی انعامات ملنے لگ گئے جن کا وعدہ خدا نے دین ِ محمدی کے ماننے والوں کے ساتھ کیا تھا۔چنانچہ اگر آج بھی ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنے لیے مشعل ِ راہ بنا لیں تو خدا کی  قسم ایک صدی کے اندر اندر ہم پورے گلوب پر سب سے زیادہ باعزت  ، پڑھی لکھی  اور سر بلند قوم ہونگے۔ 

 

یہ سچ ہے اپنے دامن میں وہ مال و زر نہیں رکھتا

 

مگر عاشق محمد کا کسی کا ڈر نہیں رکھتا

 

بنام ِ مصطفی ہر شخص کو اپنا سمجھتا ہوں

 

میں دل سینے میں رکھتا ہوں، اگرچہ گھر نہیں رکھتا

 

خدایا عشق ِ احمد نے مجھے اتنی انا بخشی

 

سوا تیرے کسی دہلیز پر میں سر نہیں رکھتا

 

صدرِ عالیجا!

 

اس زمین سے جہالت کاخاتمہ کرکے اسے مہذب انسانوں کی آماجگاہ بنانے کا سہرا کملی والے کے سرہے۔آج اگر انسانی اخلاقیات کی عمارت آسمان کی سرحدوں کو چھورہی ہے تو اس کی تشکیل سیرتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔ آج اگر انسان نے کائناتی قوتوں کو تسخیر کرنا سیکھ لیا ہے تو اس کا حکم آمنہ کے لال نے دیا تھا۔ آج اگر دنیا میں کوئی بھی امن کی بات کرتا ہے تو یہ بات اُس نے میرے سرکار سے سیکھی ہے۔ آج اگر کوئی سلامتی کی بات کرتا ہے تو اس نے یہ بات میرے مولا سے سیکھی ہے۔وہ امین، وہ منیر، وہ بشیر، وہ حلیم، وہ کلیم ، وہ سلیم ، وہ مثال ، وہ کمال ، وہ بشاشتِ رب ِ ذوالجلال............ ہائے ہائے ! اس دِل کا کیاکروں؟

 

مرحبا! سیدی! مکی! مدنی ُ العربی!

 

دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی!

 

 

 

٭٭٭٭٭٭