Menu

A+ A A-

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

 

کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

 

قدم پہ برکتیں، نفس نفس پہ رحمتیں

جہاں جہاں سے وہ شفیع ِ عاصیاں گزر گیا

جہاں نظر نہیں پڑی وہاں ہے رات آج تک

وہیں وہیں سحر ہوئی جہاں جہاں گزر گیا

 

جنابِ صدر، گرامی قدر، جلیس ِ مہرباں، رفیق ِ معظم اور سامعین ِ عظام!

رسولِ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ِ طیبہ کا ذکر ہو تو زبان گنگ ہوجاتی ہے کہ کہیں اُس ذات ِ اقدس و اطہر و اکمل کے حق میں کوئی ایسے الفاظ دہن’ِ خاکم بدہن‘ سے نہ نکل جائیں جن سے کائنات کے اُس مہمانِ خصوصی کی شانِ اکملیت میں کچھ کمی رہ جائے۔ وہ ذاتِ اکمل جو اس روزافزوں کائنات میں کاملیت کی واحد و یکتا مثال ہے، ایسی مثالِ لازوال جسے قرانِ پاک نے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ ایسی نظیرِ بے بدل کہ جس طرح خدائے واحد اپنی وحدانیت میں لاشریک اور وحدہْ ہے بعینہٖ اُسی طرح محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رحمت و رسالت میں وحدہٗ لاشریک اور لاثانی ہیں۔ چنانچہ مدحتِ سرکارِ دوعالم کرتے ہوئے ہمیشہ دِل کو یہ خدشہ لاحق رہتا ہے جس کا میں نے ذکر کیا اور شاعر کے بقول:۔

خطرہ ہے بہت سخت یہاں بے ادبی کا

لے سانس بھی آہستہ کہ دربار ِ نبی ہے

جنابِ صدر!

جن کا لعابِ اطہر بیماروں کے لیے شفا اور اکسیرِاعظم ہے۔جن کے چہرۂ اقدس کا ایک نظارہ مقدرکے تمام ستاروں کو روشن کردیتاہے۔ جن کے لب و لہجے میں پروردگارکی رحمانیت اور رحیمیت کالطف ہے۔ جن کی ایک ایک بات کلمہ صدق اور حقیقت ِ لازوال کی مثال ہے۔جن کی انگلیوں کی خامہ فرسائی پر کاتبِ تقدیر کو رشک آئے اور کون و مکاں دست بستہ ، کان پکڑے عدم سے شہود بننے کے لیے بے چین اور بے قرار کھڑے ہوں۔ اُن کی سیرت کا بیان کسی انسان کے بَس کی بات کیونکر ہوسکتی ہے؟سچ کہا شاعر نے کہ:۔

لایُمکن الثنائِ کما کان حقہٗ

بعد ازخدا برزگ تُوئی قصہ مختصر

عزیزانِ من!

 رسول ِ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے دنیا کی حالت ِ زار ناقابلِ بیان حدتک دگرگُوں تھی۔ملائکہ اِس شرم سے منہ چھپاتے پھرتے تھے کہ آخر انہوں نے اِنسان کے حضور سجدہ کیوں کیا؟ شیطان بغلیں بجاتا اور ہر کسی سے یہ کہتا پھرتا تھا کہ’’میں نہ کہتا تھا ، میں نہ کہتا تھا کہ انسان مٹی سے بنا ہے اور خطا و نسیان کا پُتلا ہے؟‘‘۔ عرب کی حالت کا بیان مولانا الطاف حسین کے الفاظ میں کچھ یوں تھا:۔

عرب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا

جہاں سے الگ اِک جزیرہ نما تھا

زمانے سے پیوند جس کا جُدا تھا

نہ کشور ستاں تھا نہ کشور کُشا تھا

تمدن کا واں پر پڑا تھا نہ سایہ

ترقی کا تھا واں قدم تک نہ آیا

وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے

درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے

کبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑا

کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا

یونہی ہوتی رہتی تھی تکرار اُن میں

یونہی چلتی رہتی تھی تلوار اُن میں

لیکن پھر اہلِ زمین کی آہ ِ حسرت انگیز کی صدا آسمانوں کے پار جاپہنچی۔ پانچ سو اکہتر عیسوی کا ایک دن ایسا طلوع ہوا جب کسریٰ کے محلات تھرّا اُٹھے۔ فاران کی پہاڑی پر ایک ابرِ رحمت برسا اور دریائے رحمت ِ ایزدی جوش میں آگیا۔ظلم کی کہانی ختم ہونے کے دن آپہنچے تھے۔ دورِ غلامی کو خیر باد کہنے کا وقت آگیا۔ مکّے کا وہ دُرِّ یتیم مہرِ منیر کی طرح آسمانِ انسانیت پر چمکا اور وہی ابنِ آدم جسے اپنے وجود سے گھن آیا کرتی تھی اپنے ہونے پر ناز کرنے لگا۔ وہی بشر جو اسفل سافلین کے مقام تک گر چکا تھا ، خود کو مقام ِ  انسانیت پر محسوس کرنے لگا۔

وہ دانائے سُبُل، ختم الرّسُل، مولائے کل، جس نے

غبارِ راہ کو بخشا فروغ ِ وادیِ سینا

 

صدرِ عالیجا!

 مجھ سے کسی نے پوچھا کہ قولِ رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یعنی حدیثِ پاک کے صحیح یا ضعیف ہونے کا معیار کیا ہے تو بے ساختہ میرے منہ سے نکلا۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر ابوجہل بھی مجھے کوئی بات بتائے گا تو میں یقین کرلونگی، کیونکہ یہ سردارِ عشاقِ رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا شیوہ تھا۔ سچ کہا اقبالؒنے:۔

پروانے کو ہے شمع تو بلبل کو پھول بس

صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس

آج زمانہ بدل گیا ہے۔ لوگ بدل گئے ہیں۔ اقدار بدل گئی ہیں۔ کہتے ہیں جدید دور ہے۔ اکیسویں صدی ہے۔ مسلمانوں کو اُن کے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر شرمندہ کیا جاتا ہے۔ میرے آقا کے خاکے بنائے جاتے ہیں؟ توہین آمیز فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ خدا کی قسم ! ہاں ہاں خدائے بزرگ و برتر کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ یہ دنیا اگر قائم ہے تو صرف اور صرف اُس ہستیِ نامدار کے اسمائے حسنیٰ کے سہارے جسے خود خدائے پاک نے رحمت اللعٰلمین کہہ کر پکارا اور ارشاد فرمایا:۔

وما ارسلناک الا رحمۃ اللعٰلمین

سرورِ کائنات، فخرِ موجودات، ساقیِ کوثر، شافعی ِ محشر، محمد مصطفیٰ ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ نے اپنے بعد آنے والی ساری انسانیت کو اپنی رحمت کی چادر میں نہ صرف پناہ دے رکھی ہے بلکہ آج کی تمام تر ، سو کالڈ (So called)  ماڈرن دنیا اور اس کی تمام تہذیبی ترقی اورتمدن محض عکس ہے، جی ہاں عکس ہے اُس استقرائی عقل کا جس کا آغاز خود رسولِ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہوا۔ اس سے پہلے کی دنیا  ’’یا ایھالقوم‘‘ہوا کرتی تھی اور میرے آقا کے بعد کی دنیا’’یاایھالناس‘‘ بن گئی۔

تجھ میں حور و قصور رہتے ہیں

میں نے مانا ضرور رہتے ہیں

میرے دل کا طواف کرجنت

میرے دل میں حضور رہتے ہیں

٭٭٭٭٭