Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

وقت کا بہترین استعمال

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

 

وقت کا بہترین استعمال

 

صبح آتی ہے

رات جاتی ہے

یونہی

وقت چلتاہی رہتاہے رُکتا نہیں

ایک پل میں یہ آگے نکل جاتا ہے

آدمی ٹھیک سے دیکھ پاتا نہیں

اور آنکھوں سے منظر بدل جاتا ہے

زندگی کے سفر میں گزر جاتے ہیں جو مقام

وہ پھر نہیں آتے

وہ پھر نہیں آتے

جناب ِ صدر اور مہربان ساتھیو!

انسان کے پاس سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ کیونکہ اس دنیا کی زندگی میں انسان کو بہت ہی مختصر مدت کے لیے بھیجا گیا ہے، بقول علامہ اقبالؒ:۔

 

؎کیا عشق ایک زندگیء مستعار کا؟

کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا؟

وہ عشق، جس کی شمع بجھادے اجل کی پھونک

اس میں مزہ نہیں تپش و انتظار کا

کر پہلے مجھ کو زندگی ِجاوداں عطا

پھر ذوق ،شوق دیکھ دلِ بے قرار کا

چنانچہ وقت کے بہترین استعمال کا سوال ، سب سے اہم ترین سوال کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے۔

 

عزیزانِ من!

وقت کا بہترین استعمال دو طرح سے ہوسکتا ہے:۔

’’دنیاوی زندگی کے کاموں میں وقت کا بہترین استعمال ‘‘

یا

’’اُخروی زندگی کے کاموں میں وقت کا بہترین استعمال‘‘

لیکن چونکہ خوش قسمتی سے ہم مسلمان ہیں اس لیے ہمارے دین نے ، دنیاوی کاموں کو اُخروی کاموں سے الگ نہیں بتایا ، ارشاد ہے:۔

ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنہ

اے ہمارے رب ہماری دنیا بھی حسین بنادے اور ہماری آخرت بھی۔

چنانچہ اس دنیا میں رہتے ہوئے اور دنیاوی زندگی کے لیے تگ و دو کرتے ہوئے بھی ہم اپنے وقت کو ایسے مصرف میں لاسکتے ہیں جسے ہر دو طرح سے کارآمد کہا جائے ، یعنی دنیاوی اور اُخروی ۔ خود رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس عمل کی زندہ مثال ہے۔ آپ نے بھرپور دنیاوی زندگی گزاری ، کاروبار کیا ، شادیاں کیں، گھر بسایا ، دوست بنائے ، الغرض آپ تارکِ دنیا نہ ہوئے۔

 

جنابِ والا!

ان سب تصریحات سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت کا بہترین استعمال کرنے کے لیے کسی مسجد کے کونے میں جاکر اللہ اللہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسی معاشرے میں چلتے پھرتے، اور کام کرتے ہوئے ہم اپنے وقت کو اللہ والوں کے وقت جیسا گزار سکتے ہیں۔ بس شرط صرف یہ ہے:۔

’’جو بھی وقت گزرے اللہ کے لیے گزرے‘‘

’’جو بھی کام کیا جائے اخلاص ِ نیت سے کیا جائے‘‘

ہر وہ کام جو دنیاوی زندگی سے جڑا ہوا ہے، اللہ کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے۔ اصل میں کوئی کام دنیاوی یا اُخروی نہیں ہوتا بلکہ اس کام کے پیچھے موجود نیت اصل چیز ہوتی ہے۔ حدیث پاک کی رو سے:۔

’’اِنَّمَا الْاَ عْمَالُ بِاالنِّیٰات‘‘

’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘

اور پھر اس حدیث کے بارے میں اسلاف علماء کا قول ہے کہ:۔

’’وھو مدار الاسلام‘‘

’’یعنی اسلام کا دارومدار اسی حدیث پر ہے‘‘

 

جناب صدر !

ثابت ہوا کہ آپ کچھ بھی ہیں، دکاندار ، تاجر ، وکیل، استاد، سیاستدان، طالب علم وغیرہ۔ آپ کے اعمال کا دارومدار آپ کی نیت پر ہے نہ کہ عمل پر ۔ شریعت ِاسلامی میں وقت ضائع کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔ محض اس لیے کہ وقت قیمتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکی گئی نعمت ہے۔

؎گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

سدا عیش، و عشرت دکھاتا نہیں

اس لیے لازمی ہے کہ ہم ابھی سے اپنی زندگی کے تمام اوقات کو پھر سے مرتب کرتے ہوئے اپنے ظاہری اعمال کے پسِ پشت موجود اپنی نیت کو درست کرلیں۔

 

جناب صدر !

انسان یہ سوچے کہ آج جو وقت ہے یہ کہ کل نہیں ہوگا۔ نہ یہ کیفیت ہوگی، نہ یہ جذبات اور وسائل ہونگے۔ چنانچہ آج موجود وقت کی قدر و قیمت آنے والے یا گزرے ہوئے وقت سے کہیں زیادہ ہے۔

 

؎یہ صدیوں کی کہانی درحقیقت جھوٹ ہے ساری

فقط حاضر میں جو موجود ہے پل بات کرتا ہے

 

جنابِ والا!

بچپن میں وقت کی قیمت کا اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہےلیکن بچپن میں احساسِ زیاں بھی تو نہیں ہوتا۔ تکلیف دہ وقت تو بڑھاپا ہے۔ جب گھڑی کی ٹک ٹک آہستہ ہوجاتی ہے۔ وقت گزرتاہی نہیں۔اس عذاب سے بچنے کا ایک ہی حل ہے کہ بچپن سے ہی وقت کی قدروقیمت کا اندازہ کرلیا جائے۔

وقت سے آدمی دو ہاتھ اُدھر جائے تو گم

وقت کی گو د میں سویا ہوا مرجائے تو گم

 

٭٭٭٭٭٭

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP