Menu

A+ A A-

استاد کا احترام اور حقوق

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

 

استاد کا احترام اور حقوق

 

صاحبِ صدر ! معزز سامعین ! اور عزیز ساتھیو!…السلام علیکم

آج کی تقریر کا موضوع ہے ۔’’استاد کا احترام اور حقوق‘‘۔

؎شیخِ مکتب ہے اک عمارت گر

جس کی صنعت ہے روحِ انسانی

جنابِ صدر !

انسان جس سے بھی کچھ سیکھے اس کا احترام فرض ہے۔ اگر سیکھنے والا ، سکھانے والے کا احترام نہیں کرتا تو وہ علم محض ’’رٹا‘‘ ہے۔ حفظ بے معرفت گفتار ہے،اس میں اعمال کا حسن نہیں ، گویا وہ علم جو عمل سے بیگانہ ہووہ ایک بے معنی لفظ ہے ۔ علم کسی بھی نوعیت کا ہو ۔اس کا عطا کرنے والا بہر حال قابلِ عزت ہے اور جب تک ادب و احترام کا جذبہ دل کی گہرائیوں سے نہیں اٹھے گا  تب تک نہ علم کا گلزار مہک سکے گا اور نہ ہی علم ، طالب علم کے قلب و نظر کو نورانی بنا سکے گا ۔ باقی تمام چیزیں انسان خود بناتا ہے مگرانسان کو کون بناتاہے۔میری مراد انسان کی تخلیق نہیں انسان کا بشریت سےآدمیت کی طرف سفر ہے۔انسان کو بنانے والے فنکار کا نام ہے، ’’معلم‘‘۔ اسی لیے اس کا کام دنیا کے تمام کاموں سے زیادہ مشکل ، اہم اور قابلِ قدر ہے ۔ استاد اور شاگرد کا رشتہ روحانی رشتہ ہے یہ تعلق دل کے گرد گھومتا ہے۔ اور دل کی دنیا محبت ، ارادت کی کہکشاں سے بکھرتی ہے۔

؎ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

 

صاحبِ صدر !

رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو معلم کہا۔ آپ ؐ کے شاگرد یعنی آپ ؐ کےصحابہ ؓ آپ ؐ کا کتنا احترام کرتےتھے ۔ دنیا کی تاریخ ایسی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دوستو! احترامِ استاد ایک عظیم جذبہ ہے۔ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ:۔

’’جس شخص سے میں نے ایک لفظ بھی پڑھا میں اس کا غلام ہوں۔ چاہے وہ مجھے بیچ دے یا آزاد کردے‘‘

 خلیفہ وقت ’’ہارون الرشید ‘‘نے معلم وقت امام مالک سے درخواست کی کہ وہ انہیں حدیث پڑھا دیا کریں۔ امام مالک نے فرمایا :۔

’’علم کے پاس لوگ آتے ہیں ۔ علم لوگوں کے پاس نہیں جایا کرتا ۔ تم کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو میرے حلقہ درس میں آسکتے ہو‘‘ ۔

 خلیفہ آیا اور حلقہء درس میں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔ عظیم معلم نے ڈانٹ پلائی اورفرمایا:۔

 خدا کی تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان اور اہل علم کا احترام کیا جائے ۔ یہ سنتے ہیں خلیفہ شاگردانہ انداز میں کھڑا ہوگیا ۔

دوستو!…

ارشادِ گرامی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ :۔

’’استاد کی حیثیت روحانی باپ کی سی ہے ‘‘۔

 اس کا حق اپنے شاگردوں پر اتنا ہی ہے جتنا باپ کا اولاد پر۔ ہر عظیم انسان کے دل میں اپنے اساتذہ کے احترام کے لیے بے پایاں جذبات ہوتے ہیں یہی اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ ہمارے سامنے یوں تو بے شمار مثالیں اس سلسلے میں موجود ہیں ۔ لیکن یہاں صرف سکندرِ اعظم کی مثال پیش کرنے لگاہوں ۔سکندر استاد کا بے حد احترام کرتا تھا ۔ کسی نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو سکندر نے جواب دیا :۔

          ’’میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا ۔ جبکہ میرا استا د ’’ارسطو‘‘ مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا ۔ میرا باپ باعث حیات ِ فانی ہے اور استاد موجب حیات جاوداں ۔ میر ا باپ میرے جسم کی پرورش کرتا ہے اور استاد میری روح کی‘‘۔

اسی لیے تو کہتے ہیں کہ …باادب بانصیب ۔ بے ادب بے نصیب …اور یہی زندگی کا ماحصل ہے۔

 

والسلام

 

٭٭٭٭٭٭