Menu

A+ A A-

صفائی کی اہمیت

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

صفائی کی اہمیت

(پرائمری لیول)

؎صفائی ہے حسن و لطافت کی بات

صفائی حقیقت میں ہے چاند رات

صفائی ہے انسان کی عظمت کا نور

صفائی سے پیدا ہو دل میں سرور

صفائی کشش کا سبب ہے عزیز

صفائی سے بڑھ کر نہیں کوئی چیز

 

صدرِ محفل ارباب علم و دانش اور عزیز ساتھیوں !

 آج میرا موضوع سخن ہے، ’’صفائی کی اہمیت‘‘۔

اسلام صفائی پسند مذہب ہے۔ جو انسان کو پیدائش سے لر کر موت تک صاف ستھرا رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اس میں انسانی جسم کی صفائی سے لے کر سوسائٹی ، گلی ، محلہ اور پوری قوم تک کے لیے صفائی کے احکامات موجود ہیں۔ حتٰی کہ انسان کی جملہ عبادات کے لیے وضو کا مشروط ہونا صفائی کی اہمیت کو ہی اجاگر کرتاہے۔

صدرِ ذی وقار!

صفائی اللہ کا حکم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل سنت ہے۔ صفائی روحانیت کی غذا ہے۔ صفائی محبت و پیار کی کہانی ہے، صفائی انسانی کشش کا سبب ہے۔ جہاں صفائی ہوگی وہاں صحت ، خوشی ، روشنی اور مسکراہٹیں ہوں ہوگی۔ جیسے سورج نکلنے سے اندھیرا بھاگ جاتا ہے اسی طرح صفائی کے آنے سے بیماریاں ، غم تاریکیاں ، نحوستیں رخصت ہوجایا کرتی ہیں۔

عزیزانِ من!…

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے اپنی کتاب ’’اسلام کے یورپ پراحسانات ‘‘میں لکھا ہے کہ یورپ کے لوگ نشاۃِ ثانیہ سے پہلے گندگی کے ڈھیروں میں رہتے تھے۔ لندن سے گنداشہر کوئی نہیں تھا۔ لوگ اپنے گھروں کے سامنے پاخانہ کردیا کرتے تھے۔ مکانات بے ترتیب تھے اور کنٹربری کا لاٹ پادری جب اپنے چرچ سے نکلتاتو اس کی قبا پر جوئیں چلتی پھرتی نظرآتی تھیں۔

جنابِ والا!

کونین کے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:۔

 ’’الطہور شطر الایمان‘‘

’’صفائی ایمان کا حصہ ہے‘‘

مگر صدرِ ذی وقار ! بڑے دکھی دل کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ،

؎قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں

عزیزانِ من!

ایمان کی تکمیل کے لیے صفائی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اور مجھے مزید کہنے دیجیے کہ …صفائی انسان میں فرشتوں کی معصومیت ، شبنم کی شادابی ، پھولوں کا تبسم، چاند کا حسن ، عقاب کی نظر ، شاہین کی پرواز ، چیتے کا جگر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریما نہ کی جھلک پیدا کرتی ہے۔

صفائی کا یہ جوہر اگر کسی قوم کے افراد میں پیدا ہوجائے تو اس قوم کے افراد علمی لحاظ سے افضل اور سرگرم ہوجاتے ہیں۔ اخلاقی لحاظ سے بلند مرتبت اور محنت و مشقت کے عادی بن جاتے ہیں۔ جوش کردار سے ان کے سینے معمور ہوجاتے ہیں اوربالآخر صفائی انسان کو پستی سے اٹھاکر عروج و اقبال کے تخت پر جلوہ گر کرتی ہے۔

جنابِ محفل!…

ظاہری صفائی کے ساتھ ساتھ باطنی صفائی زیادہ ضروری ہے ۔ اگر دل میں نفرت کا لاواپک رہا ہو، تعصب کا دھواں اور دشمنی کی آگ سلگ رہی ہو تو ظاہری صفائی کے باوجود دنیا جہنم بن جائے ۔ جی ہاں جناب! آپ دیکھ رہے ہیں کہ مغربی اقوام کس قدر حسین ہیں۔ لیکن یہی چہرے دنیا کا امن و سکون تباہ کر رہے ہیں، لاکھوں انسانوں کو غلام بنایا جارہا ہے۔ کروڑوں انسانوں کو موٹ کے گھاٹ اتارنا ، بستیوں اور گھروں کو آگ لگانا ، معصوم بچوں اور عورتوں پر ظلم ڈھانا ان بے ایمان اور غلیظ لوگوں کا شیوہ ہے۔ یہ انسانی شکل میں خونخوار بھیڑیے ہیں جو انسانوں کا گوشت پوست اور ہڈیاں تک چبارہے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی ہمارے لیڈر اور حکمران بھی اس وبائی غلاظت کا شکار ہورہے ہیں۔

؎آپ ہی اپنی ادائوں پہ زرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

 

٭٭٭٭٭٭٭