Menu

A+ A A-

میرا بستہ

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

میرا بستہ

(پرائمری لیول)

 

؎مری بستی کے بچوں کی یہی  پہچان کافی ہے

نہ اُن کے پاس تختی ہے نہ اُن کے پاس بستے ہیں

 

جنابِ صد ر، گرامی قدر، اور میرے مہربان دوستو!…

آج میری تقریر کا موضوع ہے میرا بستہ:۔

 

جی تو چاہتا ہے کہ میں’’میرابستہ ‘‘ کی بجائے میری قوم کے بچے کا بستہ کے موضوع پر تقریر کروں مگر مجبوری ہے عنوان ہے میرا بستہ۔

میرا بستہ جسے میں ہر روز سکول لے کر جاتی ہوں، عمرو عیّار کی زنبیل سے کم نہیں کیونکہ روٹی کا ٹفن ملا کر اُس میں کل سازوسامان کا وزن میرے اپنے وزن سے چند ہی پاؤنڈ کم ہوتا ہے۔ یہاں مجھے تقریری مقابلے کے لیے بلایا گیا حالانکہ حق تو یہ تھا کہ مجھے وزن اُٹھانے کے مقابلے میں بلایا جاتا۔

جنابِ صدر!…

پرانی کہاوت ہے کہ’’ گدھے پر جتنی بھی کتابیں لاد دو وہ اٹھا لے گا‘‘ لیکن اِس طرح وہ عالم نہیں بن جائے گا۔ آج ہم نہ صرف گدھوں کی طرح بھاری بھرکم کتابوں کے بستے اٹھاتی ہیں بلکہ صبح ناشتہ کرنے سے لے کر رات سونے تک تعلیم کا وزن بھی کسی گدھے کی طرح ہی اٹھاتی ہیں۔

کہتے ہیں اونچی دکان پھیکا پکوان، میں کہتی ہوں بھاری بستہ، پکا رٹّہ اور کچھ سمجھ بوجھ کا پوچھو تو ٹائیں ٹائیں فِش۔

 

جنابِ والا!…

میرے اِس ظریفانہ انداز کو مائنڈ نہ کیجیے گا!… میرا جی چاہ رہا ہے کہ اکبر الٰہ آبادی کے شعر کو اِس طرح سے پڑھوں:۔

؎یوں قتل میں بچوں کے وہ بد نام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو بستوں کی نہ سوجھی

بہرحال، پھر بھی میرا بستہ مجھے بہت پیارا ہے۔ کیونکہ اِس دنیا میں وہی اکیلا میرا ساتھی ہے جس کے ساتھ میں کچھ دکھ سکھ کی باتیں کرسکتی ہوں کیونکہ میرے والدین کے پاس تو فرصت ہی نہیں اور نہ میرے اساتذہ کو میری اُس ننھی سی تنہائی کا کچھ خیال ہے جو ٹی وی پر کارٹون سے دیکھ لینے سے دور نہیں ہو سکتی بلکہ اور بڑھ جاتی ہے۔بقول شاعر:۔

؎مجھ سے مرے بچے نے کہا آنکھ چرا کر

اَبو! میرا ساتھی ہے یہ بے جان کھلونا

جنابِ والا!

میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لینا چاہتی۔ اپنے بستے کے بارے میں بس اتنا عرض کرتی ہوں کہ میرا یہ ساتھی میرے ساتھ اس وقت سے ہے جب سے میں نے کچھ ہوش سنبھالا اور مجھے اس کا ساتھ بہت پسند ہے۔ جو کچھ مجھے اِس دنیا کے بارے میں پتہ چلا وہ سب کچھ بہر حال اِسی زنبیل سے نکل کر آیا تھا۔آج اگر میں یہاں کھڑی یوں بول رہی ہوں تو یقین جانیے یہ اِسی بے زبان دوست کی سکھائی قوتِ گویائی کا کمال ہے۔

میں ان اشعار کے ساتھ اجازت چاہونگی:۔

؎مرا بستہ مرا ننھا سا گھر ہے

یہی میرا پرانا ہم سفر ہے

کتابیں ، کاپیاں اِس میں ہیں میری

یہی کچھ بس مرا زادِ سفر ہے

مجھے علم و ہنر اِس  نے سکھایا

اِسی نے دی مجھے جو بھی خبر ہے

 

والسلام

٭٭٭٭٭٭