Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

نظم و ضبط

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

نظم و ضبط

(پرائمری لیول)

 

خود کو فطرت کا ہار جانتے ہیں

سب پرندے قطارجانتے ہیں

جنابِ صدر!…

نظم وضبط کسی معاشرے کے قیام کی پہلی شرط ہے۔ بانی ء پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کا مشہور قول ہے:۔

’’اتحاد، یقین اور تنظیم‘‘

یہی تنظیم ، نظم و ضبط ہے۔ نظم و ضبط فطری تقاضا ہے۔ فطرت میں نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ ایک ایٹم میں الیکٹران ، سورج کے گرد سیّارے، خانہ کعبہ کے گرد انسان…ذرّہء واحد سے لے کر عظیم سورج تک ہر چیز ٹھیک ٹھیک اور نظم و ضبط کے ساتھ جاری وساری ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:۔

’’کُل’‘ فی فَلَکٍ یَسبَحُون‘‘

’’تمام اجرام ِ فلکی اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں‘‘۔

 فطرت میں پائے جانے والے اِسی نظم و ضبط کو علامہ اقبالؒ یوں بیان فرماتے ہیں:۔

؎لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّے کا دِل چیریں

اِسی طرح ہم پرندوں ، مچھلیوں، چوپائیوں، جنگلی جانورں کو جب قطاروں، ریوڑوں اور غولوں کی صورت میں دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ فطرت کی جیتی جاگتی شکل میں بھی کتنا نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔

؎فرد قائم ربطِ ملّت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

جنابِ والا!…

فرد کی زندگی معاشرے کے ساتھ جُڑی ہوتی ہے۔ کوئی انسان معاشرتی قوانین کو اپنائے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا۔ ہر قوم ، ہر معاشرے، ہر ثقافت، ہر کلچر ، ہر تہذیب کے کچھ نہ کچھ قوانین ہوتے ہیں۔ کچھ رسمیں، کچھ رواج، کچھ اُصول، کچھ ضوابط، کچھ قاعدے ، کچھ طریقے۔ الغرض کسی فرد کے لیے ممکن نہیں کہ وہ لوگوں کے درمیان تو رہے لیکن معاشرتی قدروں کی پاسداری نہ کرے۔ اسی کو نظم و ضبط کہتے ہیں۔ اسی کو ربطِ ملّت کہتے ہیں۔

تربیت یافتہ قومیں ہنگامی حالات میں نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتی اور حالات کو سنبھال لیتی ہیں۔ غیر تربیت یافتہ قومیں ایک بھیڑ یا ہجوم کی طرح ہوتی ہیں جن کا معاشرتی ارتقاء رُک جاتا ہے اور وہ زوال کی جانب بڑھتے بڑھتے ، حتّٰی کہ ایک دن فنا ہوجاتی ہیں۔

فطرت میں تو نظم و ضبط پایا جاتا ہے لیکن انسانی معاشرے میں نظم و ضبط کا فقدان دیکھا گیا ہے۔ دراصل انسان صاحبِ اختیار ہستی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اِسے اچھا کام کرنے اور بُرا کام کرنے…گویا دونوں طرح کا اختیار دیا ہے۔ چنانچہ وہ لوگ جو اچھی طرح سے تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔ معاشرے کے نظم وضبط کو درہم برہم کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جرائم پیشہ لوگ کہا جاتا ہے۔

عزیزانِ من!…

نماز با جماعت کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اسلامی معاشرے کے ہر ہر فردکو نظم وضبط کی تربیت دی جائے۔ مسجد میں مسلمان پانچ وقت بلا ناغہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں جس سے اُن میں قطار بنانے اور بوقت ِ ضرورت صفوں کی صورت میں آناً فاناً کھڑے ہوجانے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح خانہء کعبہ میں طواف کا منظر بھی پوری زمین کے انسانوں کے لیے ایک عظیم مثال ہے، جہاں لاکھوں انسان ایک ہی وقت میں نہایت اعلیٰ درجے کے نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دُنیا کے کسی مذہب یا قوم میں اِس کی مثال موجود نہیں۔

الغرض نظم و ضبط فرد اور معاشرے کی زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے بہت ضروری ہے جو گاہے بہ گاہے نظم و ضبط کو توڑ بیٹھتے ہیں۔ اُنہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔کیونکہ:۔

؎ملّت کے ساتھ رابطہ اُستوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے اْمیدِ بہار رکھ

 

٭٭٭٭٭

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP