Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا

 

 

 

؎جب فلک دوش ستاروں سے اْلجھتا ہے کوئی

 

جب زمیں بھر کے شراروں سے اْلجھتا ہے کوئی

 

بحرِظلمات کے دھاروں سے اْلجھتا ہے کوئی

 

ظلم کے راج دُلاروں سے اْلجھتا ہے کوئی

 

ایسے جی دار کو ہمّت کا نشاں کہتے ہیں

 

سربکف مرد، جگردار، جواں کہتے ہیں

 

 

 

جناب صدرِذی وقار، مہمانانِ گرامی اور میرے باہمّت ساتھیو!…

 

اِس سے پہلے کہ میں مزید ہمّت کروں میں چاہتاہوں کہ آپ کو ایک شریف آدمی کا ایک نہایت عمدہ مقولہ سناؤں، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر آج کے موضوع کو اِس نکتہ ء نگاہ سے دیکھا جائے تو وہ حاضرینِ محفل کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوگا۔

 

جب کبھی ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا ذکر ہو تو میرے والدِ محترم اکثر کہا کرتے ہیں:۔

 

’’بے روزگاری صرف کاہلوں کے لیے ہوتی ہے۔ با ہمّت لوگ کبھی بے روزگار نہیں رہ سکتے‘‘

 

پیارے حاضرینِ محفل ، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے گا، کیا یہ بات بالکل حقیقت نہیں…؟

 

خیر! آگے بڑھتا ہوں۔

 

جنابِ والا!…

 

موضوع ہے ’’ ہمّت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا‘‘۔ شاید حاضرینِ محفل میں سے کسی نے’’ نیپولین بونا پارٹ‘‘ کا یہ مشہور قول سن رکھا ہو کہ،

 

’’نا ممکن کا لفظ میری ڈکشنری میں نہیں‘‘

 

جی ہاں ! …ہمّت والوں کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ آگ اور خون کے دریا پارکر سکتے ہیں، پہاڑوں کی برفانی چوٹیوں کو عبور کرسکتے ہیں۔ طلاتم خیز موجوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بڑے بڑے صدمات اور مصائب سہ کر بھی اْن کے پائے استقلال میں لغزش تک نہیں آتی۔ یزیدِ وقت کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر حق کی صدا بلند کرتے ہیں۔ موت کو سامنے دیکھ کر اْن کے چہرے خوشی سے کھِل اْٹھتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ موت بھی اْن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ کیا ہی خوب فرمایا حکیم الاْمّت نے:

 

؎زندگانی ہے صدف قطرہء نیساں ہے خودی

 

وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گْہرکر نہ کرسکے

 

ہو اگر خود نگر و خود گر و خود گیر خودی

 

یہ بھی ممکن ہے کہ تْو موت سے بھی مر نہ سکے

 

صدرِ عالیجا! …مشہور کہاوت ہے کہ ’’ ہمّتِ مرداں مددِ خد‘‘۔ یہ صرف ایک کہاوت ہی نہیں بلکہ قرانِ کریم کا ارشاد ِ پاک بھی ہے:۔

 

          ’’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُ مَا بِاَنْفُسِہِمْ‘‘

 

اور اِس آیتِ کریمہ کا ترجمہ علّامہ اقبال رحمہ اللہ علیہ نے یوں فرمایا:۔

 

؎خدا نے آج تک اْس قوم کی حالت نہیں بدلی

 

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

 

اس کے علاوہ بھی قرآن ِ پاک میں ہر جگہ ہمّت والوں کو اللہ تعالیٰ نے حد سے زیادہ پسند کیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے ، جو ہمّت والے ہیں اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑتے، اْن پر اللہ تعالیٰ کے ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔ تَتَنَزَّلُ عَلَیہِمُ الْمَلَائِکَہ۔

 

ایک اور جگہ ارشاد ہے۔ السّابِقْون السّابقون، یعنی آگے بڑھنے والوں کے کیا کہنے، وہ تو ہیں ہی آگے بڑھنے والے۔

 

صدرِ عالیجا!…

 

کم ہمّت انسان کی بھی کوئی زندگی ہے۔ ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے جس میں انسان دوسرے انسانوں کے سہارے کا حیلہ کرے۔

 

؎اپاہج اور بھی کر دینگی یہ بیساکھیاں تجھ کو

 

سہارے آدمی سے استقامت چھین لیتے ہیں

 

 آج ہماری قوم میں جس چیز کی کمی ہے ، وہ یہی ہمّت ہے۔ ہماری قوم کے نوجوانوں میں وہ پہلے دور کی سی لپک جھپک، اور جھپٹ پلٹ کیوں نہیں۔ آہ شاید میرے مْرشد علامہ اقبالؒ نے بھی یہ کمی محسوس کر لی تھی، فرمایا:۔

 

؎ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے

 

خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے

 

عبث ہے شکوہء تقدیرِ یزداں

 

تْو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے

 

 

 

جنابِ صدر !…

 

 آج مجھ سمیت ، میرے دیس کے نوجوانوں کا یہ حال ہے کہ:۔

 

؎نہ خنجر اْٹھے گا نہ تلوار اِن سے

 

یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں

 

کتنی سچی ہے یہ بات کہ ’’ ہمّت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا‘‘۔ زمانہ گواہ ہے کہ انسان ہزاروں سال سے ہمت کرتا آیا ہے۔ آج انسانی تہذیب کی اتنی عظیم الشان عمارت اِسی ہمت نے ہی کھڑی کی ہے۔ انسان تو وہ جس کی ہمّت کا ذکر کرتے ہوئے قرآن عظیم تھکتا نہیں:۔

 

          ’’وَحَمَلَہَا الْاِنْسَان‘‘

 

جی ہاں حضورِ گرامی! وحملہا الانسان…یہ الفاظ وہ لقب ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ نے بذاتِ خود عطا فرمایا، جب خالقِ عالم نے اپنی امانت یعنی خلافت و نیابت ملائکہ کے سپرد کرنا چاہی تو انہوں نے اس ذمہ داری کو اْٹھانے سے انکار کردیا اور وہ انسان ہی تھا جس نے یہ ذمہ داری اْٹھالی۔

 

عزیزانِ گرامی!…

 

 علامہ اقبالؒ  کو تو وہ جہنم بھی پسند نہیں جس کے شعلوں میں تابناکی نہ ہو۔ فرمایا:

 

؎مجھے سزا کے لیے بھی نہیں قبول وہ آگ

 

کہ جس کا شعلہ نہیں تْند و سرکش و بیباک

 

جناب صدر و حاضرین ِ محفل!…

 

سچ صرف یہ ہے کہ،

 

؎یاد کرتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو

 

روک لیتے ہیں جو بڑھتے ہوئے طوفانوں کو

 

٭٭٭٭٭

 

 

 

حضورِ پاکﷺبحیثیت معلّم

 

 

 

؎وہ علم و تزکیہ تقسیم کرنے کے لیے آئے

 

بغیر اْن کی اطاعت کے تْو کامل ہو نہیں سکتا

 

محمد مصطفیٰ ایسے معلّم تھے  زمانے میں

 

جو سیکھے آپ سے وہ راہِ عظمت کھو نہیں سکتا

 

جنابِ صدر! گرامی قدر اور میرے  مہربان دوستو!…

 

میرا موضوع ہے ’’ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ ِ وسلم بحیثیت معلّم‘‘ اور میں خوش ہوں کہ مجھے آج اِس موضوع پر بات کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی بات کو آگے بڑھاؤں، جی چاہتا ہے کہ آپکو یہ شعر سناکر آپ کی اور اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان کروں۔

 

؎تیری عظمت کی جھلک دیکھ کے معراج کی رات

 

ہے یہ جبریل کی خواہش کہ بشر ہو جائے

 

جناب ِ صدر!…

 

نبی کا کوئی اْستاد نہیں ہوتا بلکہ یوں کہنا زیادہ بہترہے کہ نبی کا اْستاد خود خْدا ہوتا ہے۔ اِسی لیے نبی اپنی پوری اْمّت کا اْستاد ہوتا ہے۔ نبی کی پاک سیرت اْمت کے لیے مشعلِ راہ ہوتی ہے، عظیم راہ نما ہوتی ہے ، قندیلِ محراب ِ انسانی ہوتی ہے، نورِ فیضِ ربّانی ہوتی ہے، شرح ِ لامکانی ہوتی ہے، ناموسِ ذرّات و نجوم ہوتی ہے، ناموسِ آیات و علوم ہوتی ہے، دانائے اسباب ِ علل ہوتی ہے، فاتح ِ ارواح ِ اجل ہوتی ہے، حاکم ِ دشت و جبل ہوتی ہے۔

 

قران پاک میں نبی کی آمد کا ایک ہی مقصد بار بار بیان کیا گیا ہے، جگہ جگہ ارشاد ہے:۔

 

’’یَتلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَہ‘‘

 

’’یعنی وہ لوگوںکو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تلاوت کرتا ہے، اور اُنہیں پاک کرتا اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘‘۔

 

میرے معزز سامعین!…

 

چلیے میں آپ کو ایک حیران کُن اور ناقابلِ تردید دلیل پیش کرتی ہوں:۔ 

 

سْنیے!…

 

قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:َ

 

’’مَن یُّوئت الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرً کَثِیْرا‘‘

 

’’جس کو حکمت عطا کی گئی اُس کو خیرِ کثیر عطا کی گئی‘‘

 

پھر دوسری جگہ ارشاد فرمایا:۔

 

’’اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَر‘‘

 

’’بے شک ہم نے تمہیں خیرِ کثیر عطا کردی‘‘

 

اب اگر آپ اِن دونوں آیات کا ترجمہ پہلی آیت کے ساتھ ملا کر دیکھیں جس میں نبی کا  کام کتاب و حکمت کی تعلیم دینا ہے اور غور کریں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خیرِ کثیر دے دی گئی تو آپ کے سامنے ساری حقیقت واضح ہو جائے گی۔

 

جناب صدرِ ذی وقار!…

 

چنانچہ بحیثیت معلّم جب آپ کی سیرتِ پاک کا تذکرہ آتا ہے تو حبشہ کا بادشاہ ’’نجّاشی‘‘ہو یا آج کا موسٹ ماڈرن امیریکن پروفیسر، سب کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ علم و حکمت کو سمجھانے والا میرے مولا سرکار سے بڑھ کر نہ کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ کوئی پیدا ہو سکتا ہے۔

 

جناب ِ صدر!

 

صُفہ کے چبوترے پر چارسو کے قریب صحابہء کرام رضوانُ اللہ علیھم اجمعین ہر وقت درسِ رسول میں شریک رہتے تھے۔بابِ علم مولا علیؓ  بھی اُن میں شامل تھے۔

 

مسجدِ نبوی یہ تو بتا!  وہ منظر کیسا پیارا ہوگا

 

صحن میں آقا بیٹھے ہونگے گرد اصحاب کا حلقہ ہوگا

 

٭٭٭٭٭

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP