Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

کمپیوٹر نے استاد کی جگہ لے لی

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

کمپیوٹر نے استاد کی جگہ لے لی

 

 

عزیزانِ مَن !

 آج کمپیوٹر نے استاد کی جگہ لے لی ہے۔ زمانہ یکسر بدل گیا ہے ، حضورِ والا!…

وہ زمانے گئے جب خلیل میاں فاختہ اْڑایا کرتے تھے۔ یہ اکیسویں صدی ہے۔یہ سٹرنگ تھیوری اور کوانٹم کا زمانہ ہے۔ دنیا میں کوئی ایک بھی استاد ایسا نہیں پایا جاتا جو دورِ حاضر میں اپنی رفتارِتدریس کو جدید ٹیکنالوجی کے ہم قدم چلا سکے۔ ناممکن… قطعاً ناممکن۔ مجھے اس بات سے مطلقاً انکار نہیں کہ مونٹی سوری کے بچوں کو پڑھانے کے لیے ہمیشہ ممتا جیسے جذبات کی حامل نرسوں کی ضرورت رہیگی لیکن میں یہ ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں کہ اکیسویں صدی کے اس برق رفتار رُبع میں کوئی مسٹر چپس اپنی پرانی تعلیم اور گھِسے َپٹے طریقہ ء تدریس سے ہمارے آج کے بچوں کو وقت کی زمامِِ کار تھما سکے گا۔

؎ضرورتیں بدل گئیں تو راستے بدل گئے

نئی صدی  کےساتھ ساتھ واسطے بدل گئے

وہ کیا سکھائے گا جو ربط میں نہیںہے حال سے؟

وہ کس طرح نکال پائے گا قدیم جال سے؟

گزشگاں میں اور ہم میں اِک صدی کا فرق ہے

یہ اک صدی کا فرق ، ساری زندگی کا فرق ہے

 

جنابِ صدرِ عالیجا!

 معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں۔ کمپیوٹر، تدریس کے لیے نہ صرف ناگزیر ہوچکا ہے بلکہ دور ِ حاضر کے طالب علم کو اْس وقت تک طالبعلم کہنا ہی، نادرست ہوگا جب تک وہ اس نئے استادیعنی کمپیوٹر کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہ کرے۔

عزیزانِ من!

 اس میں کس کافر کو شبہ ہے کہ استاد کا احترام ایک طالب علم کیلیے دولت ِ کبریٰ ہے۔ لیکن بصد معذرت کہنا چاہونگا کہ بڑوں کا احترام سکھانے کے لیے الگ سے اخلاقیات کے معلمین مقرر کیے جاسکتے ہیں ، مگر وہ بھی محض نگران کہلائیں گے۔ میں پوچھتا ہوں استاد کہاں سے لاؤگے؟

غم زدہ ہوں کہ استاد کی جگہ کمپیوٹر کے حق میں بول رہا ہوں، مگر مجبور ہوں کہ گراؤنڈ رئیلٹیز سے نظریں نہیں چْرا سکتا۔

آئیے !… میں آپ کو بتاتا ہوں!…اس وقت دنیا میں تیس لاکھ سے زیادہ ویب سائیٹس ایسی ہیں جو صرف تعلیم وتدریس فراہم کرتی ہیں۔ ایک ایک سبق کو ویڈیوز کی مدد سے سمجھایا جاتا ہے۔ تھری ڈی گرافکس کے ذریعے ایسی ایسی اینی میشنز بنائی جاتی ہیں کہ ایک زندہ خلیہِ حیات کے ایک ایک مالیکیول کی بتمام حجت تشریحات آج کا طالب علم اپنی آنکھوں کے ساتھ ملاحظہ کرلیتا ہے۔ جغرافیہ کا مضمون ہو یا ہسٹری، بیالوجی ہو یا کیمسٹری، نفسیات ہو یا فلسفہ، جیالوجی ہو یا فلکیات، معاشرتی علوم ہوں یا ریاضی اور اکنامکس ، یہ صرف کمپیوٹر ہی ہے جس نے اپنے سافٹ وئر کے ذریعے ان مشکل ترین اسباق کو ایک شفیق استاد سے بھی ہزار ہا گنا سہل کرکے اپنے سٹوڈینٹس تک پہنچا دیا ہےجن کو سمجھتے سمجھتے سرٹیڑھا ہوجایا کرتا تھا۔

جناب ِ صدر!…

 میرے موضوع کے مخالفین ، مجھے محض ایک سوال کا جواب دے دیں ، میں سمجھونگا کہ میں ہار گیا۔ سوال یہ ہے کہ… ’’انہوں نے آج تک، اپنے اساتذہ سے زیادہ سیکھا ہے یا اپنے دور کی جدید ٹیکنالوجی ، یعنی کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل سے؟‘‘ اگر میرے دوست ایمانداری سے جواب دیں تو انہیں صاف نظر آئے گا کہ سکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کی آمدو رفت دورِ حاضر میں ایک بالکل اضافی عمل اور اضافی خرچہ بن چکی ہے۔

میں عرض کرتا ہوں…کلاسز میں ملٹی میڈیا لگوائیں اور انٹرنیٹ کی مدد سے دنیا کی جدید ترین یونیورسٹیوں کے لیکچرز براہِ راست آن لائن دیکھیں! جدید طریقہ ہائے تدریس کے مطابق اپنے بچوں کے وژن کو وسیع کریں اور پھر رزلٹ دیکھیں۔ جنابِ والا!… یہ پرانا نظام ِ تعلیم اب نہیں چلنے والا۔ مسٹر چپس صاحب کب کے انگلینڈ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ جی ہاں سر! میری بات کا یقین کیجیے! ہمیں اپنی قوم کے لیے وژن بلڈنگ کی ضرورت ہے۔ ہمیں نئی ٹیکنالوجی کافی ہے۔ ہمیں اب مزید اْس بوڑھی اور غیر درست سائنس کو نہیں پڑھنا جس میں سوائے رٹہ لگاکر پاس ہونے کے… اب ہمارے پاس کوئی آپشن بچا ہی نہیں ہے۔ ہمیں کمپیوٹر سے پڑھنے دیں کیونکہ کمپیوٹر اپنے پرائیویٹ کوچنگ سنٹر نہیں کھولتا، کیونکہ کمپیوٹر ہمیں اپنے ذاتی عقائد و نظریات سے آلودہ نہیں کرتا، کیونکہ کمپیوٹر ہماری عزتِ نفس کو مجروح نہیں کرتا، کیونکہ کمپیوٹر سے ہم ہر سوال پوچھ سکتے ہیں، کیونکہ کمپیوٹر پر ہم باریک سے باریک نقطہ اْٹھا سکتے ہیں۔

ہائے کس کم بخت وقت میں مجھے حضرتِ علامہ اقبالؒ کے اشعار یاد آئے،

؎عشق ، اب پیرویِ عقلِ خداداد کرے

آبرو کوچہء جاناں میں نہ برباد کرے

کہنہ پیکر میں نئی روح کو آباد کرے

یا کہن روح کو تقلید سے آزاد کرے

صدرِذی وقار!…

 آج مغرب کی تمام یونیورسٹیوں میں کمپیوٹر استاد ہے۔ ناسا جیسے عظیم ادارے کا تمام تر انحصار کمپیوٹر پر ہے۔ اگر مجھے کسی طرف سے فتوے کا تیر نہ مارا جائے تومیں کہونگا کہ دور ِ حاضر میں کمپیوٹر صرف طالب علموں کا ہی استاد نہیں، بلکہ معلم اکبرہے۔ جی ہاں ! …معلم ِ اکبر۔آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی کہ ابھی چند ہی دن پہلے سیارہ مریخ پر ہم انسانوں کا بھیجا ہوا پہلا ذہین ترین کمپیوٹر ’’رووَر‘‘  نہایت کامیابی کے ساتھ پہنچ چکا ہے۔ اْس نے مریخ کی زمین پر قدم رکھتے ہی اپنے فرائض سرانجام دینا شروع کردیے۔اب وہ پوری انسانیت کو پڑھا رہا ہے کہ مریخ کیسا ہے اور مریخ پر کیا ہے…؟

بولیے ! ہوا کہ نہیں معلمِ اکبر؟

اگر علوم چاہییں تو صرف اور صرف کمپیوٹر پر بھروسہ کرنا ہوگا کیونکہ کمپیوٹر نہ تو کبھی غلط معلومات دیتا ہے اور نہ کبھی اپنے فرائض سے کوتاہی کرتا ہے، وہ تھکتا نہیں، وہ سوتا نہیں، وہ ٹیوشن فیس نہیں مانگتا، وہ ڈانٹتا نہیں ، وہ بات بے بات بگڑتا نہیں، وہ’’کل پڑھ کر آؤنگا‘‘نہیں کہتا، وہ مارکنگ کے وقت کبھی اقربا پروری نہیں کرتا ، کیونکہ وہ ایک مشین ہے۔ اس کے پاس انسانی دماغ سے بڑا دماغ ہے عالیجا! بہت بڑا، بہت ہی بڑا۔

جنابِ صدر!

؎ہمیں معجز نمائی کی اجازت ہی نہیں ورنہ

ترے دربار کے یہ جادوگر اونچے نہیں ہوتے

عزیزانِ من !…

 اِسے محض ایک مشین نہ سمجھیے گا!  کمپیوٹراور انٹر نیٹ اب ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ آپ بھی دیکھ رہے ہیں اور میں بھی دیکھ رہا ہوں کہ آج پاکستان ، بجلی، پانی، معیشت اور نہ جانے کس کس بحران کا شکار ہے، لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ، لیکن غریب سے غریب آدمی کی جیب میں ایک عدد کمپیوٹر ہے۔ جی ہاں! میں اْس چھوٹے سے پاکٹ سائز استاد کی بات کررہا ہوں جسے ہم ہر وقت جیب میں لیے پھرتے رہے ہیں۔ عزیزان ِ من !… یہ موبائل فون بھی ایک چھوٹا سا کمپیوٹر ہوتا ہے جو ہمیں ہر وقت سکھاتا رہتا ہے۔ کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوتا جب یہ اْستاد اپنا فرض نہ نبھا رہا ہو۔ نماز کا وقت بتانے سے لیکر حساب کتاب تک، علم و حکمت بھرے پیغامات سے لے کر دنیا بھر کی ہر نئی خبر کے ساتھ اگر ہمیں کسی نے جوڑا ہو ا ہے تو اِس نے۔(نوٹ: مقررموبائل دکھاتے ہوئے کہتاہے)۔  یہ ہمارا ایک معصوم ساٹیچر ہے۔

عزیزان ِ محفل!… آج اگر آپ میری باتوں پر یقین کرلیتے ہیں تو یقین جانیے ! کل آپ بھی جدید، تہذیب یافتہ اقوام کی طرح اپنے پاؤں کی ایک ٹھوکر سے اس زمین کو سونا اگلنے پر مجبور کردینگے، آپ کے سامنے یہ منہ زور دریا دست ِ اطاعت دراز کردینگے۔ یہ عظیم الشان پہاڑی چوٹیاں آپ کے حضور سرتسلیم ِ خم کردینگی، آپ سب سے بلندی پر ہونگے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک نے فرمایا ہے،

وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤمِنِیْن۔

 اگرتم مؤمن ہو تو تم ہی بلندی پر ہوگے۔

؎زمانہ آنے والا ہے کہ جب تفہیم ہوجائے

ہراِک شاگرد کو اَزبر سبھی تعلیم ہوجائے

کوئی شاکی رہے باقی، نہ اِک ذرہ جہالت کا

خرد ، سارے جہاں میں خودبخود تقسیم ہوجائے

یہ اِک چھوٹا سا پرزہ ، دور کا استاد ہے لوگو!

بشر کا معجزہ ہے،  وقت کی ایجاد ہے لوگو!

 

٭٭٭٭٭

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP