Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

باادب با نصیب

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

باادب با نصیب

 

؎صدرِ عالیجا جناب ِ عزتِ من السّلام

اے جلیس ِ مہرباں اے رشکِ گلشن السّلام

اور میرے ہمنوا  ہم مکتبو جیتے رہو!

یونہی جامِ انبساطِ زندگی پیتے رہو!

آج میری معروضات کا عنوان  ہے باادب بانصیب۔ بظاہر یہ ایک بہت پرانا مقولہ ہے لیکن فی الحقیقت یہ وہ گراونڈ رئلٹی ہے جس سے چشم پوشی ممکن نہیں۔

جنابِ صدر!…

 ذرا غور کیجیے! بظاہر انسان اور جانور میں کیا فرق ہے۔ تمام کے تمام حیاتی تقاضوںسے ہٹ کر بھی دیکھیں تب بھی کیا فرق ہے…؟

آدمیت نہ بہ نطق و نہ بہ ریش و نہ بہ جاں

طوطیاں نطق بزاں ریش،خراں جاں دارد

جی ہاں! انسان اور جانور میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ ہے ادب۔  یہ وہ تحفہء آسمانی ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو بطورِ خاص عطا فرمایا۔یہ یونان کے لائسیم ہوں یا سکندریہ کی رصدگاہیں، یہ ہندوستان کے آشرم ہوں یا ایران کے معبد، یہ بصرہ و بغداد کے مدارس ہوں یادلی و لکھنو کی محافل ادب و علم و حکمت۔ ہر کہیں صرف وہی نام نمایاں ہیں جنہوں نے اپنے اساتذہ کے حضور زانوئے تلمذ طے کیا اور با نصیب ٹھہرے۔

خموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

 

جناب صدرِ ذی وقار!…

دنیا میں بانصیب کون ہے…؟ سرمایہ دار؟ دھن دولت والے؟ حکمران؟ بادشاہ اور وزیرو مشیرانِ سلطنت؟ بڑے بڑے افسران؟ کون… ؟

بانصیب وہ ہیں ، جن کے نام ہائے نامی ، اسمائے گرامی اوراقِ تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کرکے اْنہیں اْن کے ادب نے امر کردیا۔ اس فضائے نیلگوں میں پھیلے سنہرے اجالے کی طرح وہ صفحہ ء دہر کے رگ و ریشے میں یوں پھیل گئے کہ آج ان کی ایجادات ، تعلیمات، ملفوظات اور تخلیقات کے بغیر یہ دنیا ادھوری ہی نہیں بے ذائقہ اور بے مقصد ہوکر رہ جاتی ہے۔

جنابِ صدر!…

ادب کی مثالوں میں مشہور ترین مثال حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ہے جنہوں نے اپنے والد حضرت ابراہیم کے حکم پر اپنی جان کا تحفہ موت کی طشتری میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا۔ بقولِ شاعر:۔

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

عزیزانِ گرامی!…

ہاں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھوک اور مفلسی انسان کی نفیس حسوں کی قاتل ہے۔’’ ساحر لدھیانوی‘‘ نے کیا خوب کہا تھا:۔

؎مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے

بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

چنانچہ اگر کوئی قوم دنیا میں عزت پانا چاہتی ہے تو پہلے وہ اپنے لیے بانصیب افراد ڈھونڈ کے لائے۔ اگر بانصیب لوگ چاہییں تو پہلے باادب لوگ لاؤ !  اگر باادب لوگ چاہییں تو پہلے قوم سے بھوک ، افلاس اور غربت کو دور کرو۔

صدرِ عالیجا!…

آج اگر ہم قعرِ مذلت میں گرے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم ادب کرنا بھول گئے ہیں۔ 

والسلام

٭٭٭٭٭



www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP