Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

معاشرتی بگاڑ ، ذمہ دار کون؟

 

کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا

مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

معاشرتی بگاڑ ، ذمہ دار کون؟

 

اب تو اپنا تنگدستی سے ہی رشتہ ہو گیا

بس یہی اپنے مقد ر کا نوِشتہ ہو گیا

ہم نے مٹی سے وفا کی اور مجرم بن گئے

جس نے اِس کا خون چُوسا وہ فرِ شتہ ہو گیا

 

جنابِ صدر ، گرامی قدر، اور میرے مہربان دوستو!

میری معروضات کا عنوان ہے ، معاشرتی بگاڑ ، ذمہ دار کون؟

سچی بات کہنا بھی مشکل ہوتی ہے اور سننا بھی ،کیونکہ کڑوی ہوتی ہے۔ جھوٹ بڑا میٹھا ہوتا ہے، لیکن کیا کیا جائے آج تو میرا موضوع ہی ایسا ہے کہ سچ کہے بنا بات نہیں بنتی۔

کون ہے ذمہ دار، ہمارے معاشرتی بگاڑ کا؟اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے کسی گہری بصیرت کی ضرورت نہیں۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ بقولِ شاعر:

سب سے پہلا اور آخری،  ذمہ دار ہے وہ ابلیسی نظام جسے ہم نے اپنا مسیحا مان رکھا ہے۔ہم نے اسلام کے نام پر یہ سرزمین مانگی تھی، جب ہم نے وعدہ وفا نہ کیا تو تقدیر کیسے اپنا وعدہ وفا کر سکتی تھی…؟ ہم نے آئین میں وعدہ کیا تھا کہ ہم اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں مگر عملاً ہم یہ کردکھایا کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے اقتدارِ اعلیٰ کانمائندہ ،نسل ہا نسل سے مسلط وڈیروں اور لٹیروں کو ہی تسلیم کرلیا۔

اس کے بعد اْس ابلیسی نظام کے بطن سے پیدا ہونے والا تعلیمی نظام کا بچہ جمورہ جو گزشتہ تیس سال سے ہمارے قومی تعلیمی نظام کو ایک دیمک کی طرح سے چاٹ گیا ہے، اور جس نے ہماری تمام نسلوں کی فصلیں بدیسی فکر کے پانی سے پروان چڑھائیں اور ہمیں ایک قوم کی بجائے ایک بھیڑ بنا دیا۔سچ کہا شاعر نے:۔

؎جہاں معصوم بچے ہوٹلوں پر کام کرتے ہوں

جہاں پر مفلسوں کے واسطے تعلیم مشکل ہو

جہاں علم وہنر کے نام پر اونچی دکانوں میں

بدیسی فکر بکتی ہو، پرایا مال ملتا ہو

وہاں کے نونہالانِ وطن معمار کیا ہونگے؟

کَل اْن کے ہاتھ میں اِس قوم کے پتوار کیا ہونگے؟

 

جنابِ صدر!…

چنانچہ ہمارے معاشرتی بگاڑ کا ذمہ دار ہے ہمارا تعلیمی نظام۔ اس وقت ہمارے ملک میں تین نظام ہائے تعلیم ایک  ساتھ چل رہے ہیں۔ قومی نظام، پرائیویٹ نظام اور دینی نظامِ تعلیم۔ قومی نظام کا حال اْس فقیر کی طرح سے ہے جسے در در سے خیرات کے ساتھ جوتے بھی پڑتے ہوں۔ پرائیویٹ تعلیمی نظام ماں باپ سے محروم بے چارہ، کبھی بیکن،کبھی فالکن، کبھی آسٹریلین، کبھی امریکن۔اور مذہبی تعلیمی نظام اتنا قدیم کہ شاید اب بھی کچھ ملا یہ تسلیم نہیں کرتے کہ زمین گول ہےاور سورج زمین کے گرد گردش کرتاہے۔

 

حضورِوالا شان!…

سوچنے کی بات ہے!… تین دہائیوں میں ہی سب کچھ بدل گیا۔ کیوں؟ کس نے بدلا…؟ نہ کوئی ادارہ مخلص بچا نہ کوئی فرد، نہ کوئی جماعت، نہ کوئی تنظیم۔ بگڑتا چلا گیا، بگڑتا چلا گیا، بگڑتا چلا گیا سب کچھ۔اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ عوام جنگلی جانوروں سے بھی زیادہ گنوار ہوگئی۔ سیالکوٹ میں دو معصوم بچوں کو سرِ عام ڈنڈے مار مار کر ہلا ک کر دیا گیا اور پولیس سمیت سب وہاں کھڑے تماشادیکھتے رہ گئے۔ دورِ یزید لوٹ آیا۔ ہائے،

 

؎مِرا حسینؓ ابھی کربلا نہیں پہنچا

میں حْر ہوں اور ابھی لشکرِ یزید میں ہوں

 

٭٭٭٭٭٭

 

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP