Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

ہم نشینی جو ہو کتاب سے ہو

 

کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا

مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

 

ہم نشینی جو ہو کتاب سے ہو

 

عہدِ حاضر کا تقاضا ہے کہ افراد کے پاس

دولتِ علم تو ہو ، علم کی تفہیم بھی ہو

آشنا ہو وہ کتابوں کی نئی شکل کے ساتھ

ہم نشینی ہو کتابوں کی تو تعلیم بھی ہو

دورِ حاضر نے بدل ڈالے پرانے نقشے

اب نئے علم کی تشکیل بھی ، تقسیم بھی ہو

جس کے سینے میں محبت ہے کتابوں کی اْسے

آگ میں جلنے کا پھر ذوقِ براہیم بھی ہو

 

جنابِ صدر! گرامی قدر! اور میرے مہربان دوستو!…

ہم نشینی جو ہو کتاب سے ہو، بظاہر ایک مصرعہ ہے لیکن کوئی حافظِ شیراز سے پوچھے تو پتہ چلے کہ دنیا کے ہر عشق سے زیادہ دیوانہ کردینے والا عشق کتاب کا ہوتا ہے۔حافظ کی حسرت اورتمنّا تو دیکھیے!حافظِ شیراز فرماتے ہیں،

دوزیرک ودانا یار ہوں۔ فراغت ہو، کتاب  ہو اور چمن کا گوشہ ہو۔

دویارِ زیرک و بادہ کہن از دومنے

فراغتے و کتابے و گوشہءچمنے

آج دنیا کے زیادہ تر ممالک کتابیں چھاپنے میں تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے علم سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ جی ہاں! علم کی رفتار ،طالب ِ علم کی رفتار سے بہت زیادہ آگے نکل چکی ہے۔ مثلاً! کمپیوٹر پہلے آیا، چھا گیا لیکن ہماری حکومت نے کئی سال بعد اِس کی تعلیم کا جراء کیا۔ مثلاً کوانٹم نظریہ پُرانی فزکس کو کھا گیا مگر ہمارے نصابوں میں ابھی اِس نئے علمی انکشاف کا اشارہ تک ٹھیک سے موجود نہیں۔مثلاً کلوننگ کے علم نے یورپ کے علماء کو’’ یومَ یبعثون‘‘ کی خبر دے دی مگر ہمارے ہاں ابھی تک عذابِ قبر کے موضوع پر گولیاں چل رہی ہیں۔

علامہ اقبالؒ کے محسوسات بڑے تیز تھے، پہلے ہی فرما دیا:۔

؎عشق اب پیروء عقلِ خداداد کرے

آبرو کوچہء جاناں میں  نہ برباد کرے

کہنہ پیکر میں نئی روح کو آباد کرے

یا کہن روح کو تقلید سے آزاد کرے

 

جنابِ صدر! گرامی قدر! اور میرے مہربان دوستو!…

وہ علم ، علم کہلانے کے لائق نہیں جس میں ارتقاء کا عنصر نہیں۔ آج کی دنیا میں علم کا ارتقاء روشنی کی رفتار سے جاری ہے۔ میں اپنی بات کو ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

ایک زمانہ تھا جب لوگ زمین کو گول نہیں چپٹا سمجھتے تھے۔ پھر’’ گیلیو‘‘ کی آنکھ نے علمی دنیا میں انقلاب برپا کردیا محض یہ کہہ کرکہ :۔

’’زمین ایک سیارہ ہے جو کائنات کی دھول میں ایک ذرے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا‘‘۔

آج ساری دُنیا اِس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے۔اب اگر کوئی شخص موجودہ دور میں اِس بات پر اصرار کرے کہ نہیں زمین ایک سیارہ نہیںبلکہ اب بھی چپٹی ہے تو ہم کیا کہیں گے…؟ ہم یہی کہیں گے ناں کہ یہ جاہل ہے۔ اب ذرا غور کیجیے !دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے ارتقائے علم پر اور پھر غور کیجئے !اپنے نصاب ہائے علوم پر…اور پھر ایمان سے بتائیے کہ’’ کیا ہم نے علم و کتاب کو اپنا دوست رکھا…؟ کیا ہم نے اُس تحریر کو پڑھا جو نوشتہء دیوار بن کر ہمارے مستقبل کو خاک میں ملانے والی تھی…؟  نہیں ہم نے نہیں پڑھا۔ ہم نے کتاب کو نظر انداز کیا اور رسوا ہوائے۔

جنابِ والا!

کتابیں جذب و مستی کا  مدینہ

کتابیں دولتِ دل کا خزینہ

کتابیں آدمیت کا  تکلّم

کتابیں علمِ حق کا آبگینہ

کتابیں راستی، منزل، تمنّا، جستجو،  حکمت

کتابیں روشنی، ساحل، مناظر، آرزو، عزت

کتابیں دوست ہوتی ہیں تو انسانوں کے ہاتھوں سے جہاں تعمیر ہوتا ہے

کتابیں دوست ہوتی ہیں تو عرشوں کی بلندی پر مکاں تعمیر ہوتا ہے

کتابِ زندگی، مکتوبِ حکمت ، حرف ِ یزدانی

صحیفے، آسمانی  لفظ، آیت، روحِ قرآنی

بغیر اِن کے بہیمت ہی بہیمت ہے

بغیر اِن کے حزیمت ہی حزیمت ہے

صدرِ عالی مقام!

کیا ہمارے پرائیویٹ سکولوں نے جن کو چلانے والے ماہرینِ تعلیم ہونے کی بجائے ماہرینِ تجارت ہوتے ہیں کبھی ہمارے بچوں کو وہ نصاب پڑھایا ہے جو ہمیں ایک،ہم آواز اور ہم آہنگ قوم بنا سکتا؟ اسی دن کے لیے شاید حکیم الامت نے یہ شعر کہا تھا:۔

؎گلہ تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا

کہاں سے آئے صدا لاالہ الاللہ؟

اگر آپ لوگ ، جو ہمارے بڑے ہیں سچے دل سے چاہیں اور ہمیں صحیح نظام ِ تعلیم کے ساتھ ساتھ درست نصاب ِ تعلیم بھی فراہم کریں تو ہمارا طالب علم آنے والے کل میں قومی ترقی کے اوج ِ سماوات کو چھُو سکتا ہے۔سنگلاخ پہاڑوں کو سونا اگلنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ چٹیل میدانوں کو فردوسِ بریں بنا سکتا ہے، بنجر زمینوں کو گل و گلزار کر سکتا ہے، منہ زور دریاؤں کو دستِ اطاعت دراز کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ کانٹوں کو پھول، مٹی کو سونا،  دلدل کو کھلیان، پتھر کو موم، ریت کو شیشہ، طوفان کو نسیم بہار،  بادِ صموم کو شمیم ِ جانفزا،  زہر سے تریاق، خاک سے فولادِ ناب بنا سکتاہے۔

آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجیے! …دو پل کے لیے نظر کیجیے اُن پچھلے تیس سالوں پہ جن میں ہماری قوم کی کئی نسلوں کی فصلیں مغربی طرز کے لا تعداد نظام ہائے تعلیم میں پک کر تیار ہوئی ہیں۔ذرا نظر کیجیے! اُن نصاب ہائے تعلیم پر جو غیر قومی سکولوں نے فراہم کیا ہے اور پھر دیکھیے! اپنے آس پاس، جناب ِ والا !… آپ کو دو پل میں پتہ چل جائے گا کہ ہماری قوم کے آج کے معمار گزرے ہوئے کل میں ہمارے طالب علم تھے جنہوں نے قومی وفاق کی نہ صرف دھجیاں اْڑا دی ہیں بلکہ دور دور تک امید کی کوئی کرن بھی باقی نہیں رہنے دی۔

صدرعالیجا!

مشہور بات ہے کہ کتاب تنہائی کی ساتھی ہوتی ہے۔ مگر اِس بات کا آج تک کسی نے جائزہ ہی نہیں لیا۔ آج میں لیتا ہوں۔ دیکھیے! اگر خواندہ ہیں تو صرف ایک کتاب ہاتھ میں لے کر خطہ منجمد شمالی سے خطہ منجمد جنوبی تک تن تنہا سفر کرسکتے ہیں۔ آپ کو راستے بھر کسی ہمدم، کسی ہم سفر کی ضرورت پیش نہیںآئیگی۔ شیخ الّرئیس ’’بو علی سینا‘‘ نے ساری زندگی شادی نہیں کی، مجرّد رہے مگر جب اُن سے پوچھا جاتا کہ شادی کیوں نہیں کرتے۔ تو وہ فرماتے:۔

’’آدم ؑکی تنہائی کو دور کرنے کے لے عورت کو اُس کے ساتھی کے طور پر پیدا کیا گیا۔ میری تنہائی کا ساتھی کتاب ہے تو میں اسی کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہوں۔ کیونکہ مجھے تنہائی کا کبھی احساس نہیں ہوتا‘‘۔

 

جناب ِ صدر!

اگر ہمارا احساس زندہ ہے تو پھر علم و حکمت میں آئے روز رونما ہونے والے انکشافات کے ساتھ بھی ہمیں دل لگانا ہوگا۔ دُنیا تیزی سے بدل رہی ہے مگر ہمارے یونیورسٹیز نے آج تک کوئی ایسا علم کا دیوانہ پیدا نہیں کیا کہ’’ جس کوکب کی تابناکی سے سارا جہان روشن‘‘ ہو جائے۔ ہم میں آج غزالی تلقین نہیں، رومی کا جنون نہیں، رازی کا جذب نہیں، بو علی سینا کا ذوقِ کتاب نہیں، ابنِ خلدون کی سُراغ رسانی نہیں، ابنِ رشد کی نکتہ دانی نہیں، الفارابی کا فلسفہ نہیں ابنِ مسکویہ کا ارتقاء نہیں۔ ہم نے علم کے راستے کو چھوڑا تو دُنیا میں رسوا ہو کر رہ گئے۔ حالانکہ یہی مغرب جو آج ہمارا اُستاد بنا پھرتا ہے کل ہمارے تلوے چاٹتا تھا۔’’ڈاکٹر ڈریپر‘‘ اور’’ ڈاکٹر بریفالٹ‘‘ نے لکھا ہے کہ 1030 عیسوی تک لندن کے بازاروں میں انسانی گوشت بکتا تھا۔ فرانس کے بادشاہ کو اُس وقت کے پوپ نےجب موت کی سزا سنائی تو فہرستِ الزامات میں یہ بھی درج تھا کہ یہ مسلمانوں کی طرح روزانہ غسل کرتا ہے۔ آپ کو میری باتوں پر یقین نہیں آرہا تو’’ ڈاکٹر غلام جیلانی برق ‘‘کی کتاب ’’اسلام کے یورپ پر احسانات‘‘ اُٹھا کر دیکھیے ! آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔

 

جناب صدر!

آخر میں اِن الفاظ کے ساتھ اجازت چاہونگا کہ،

ہر بچہ ، ہر روز بڑا ہو جاتا ہے

اس طرح ،ہر روز وہ مستقبل کی جانب

دھیرے دھیرے بڑھتا ہے

اْس کی چال سنور جائے تو

علم سے  سینہ بھر جائے تو

قوم کا بیڑا تَر جاتا ہے

قوم عمارت کے جیسے ہے

جسکا گارا، مٹی ، پانی، اینٹیں، پتھر، سریے، بجری

سب چیزیں موجود بھی ہوں تو

بِلڈنگ بننا، نا ممکن ہے

جب تک کوئی ہاتھ ، بنانے والا نہ ہو

ہر بچہ معمار ہے گویا

جو اْس کی تربیت ہوگی

ویسی ہی تعمیر بنے گی۔

 

٭٭٭٭٭٭

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP