Menu

A+ A A-

کیا اسلام اور سائنس آپس میں دشمن ہیں؟

 

 

کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا

مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

 

کیا اسلام اور سائنس آپس میں دشمن ہیں؟

 

صدرِ محترم! اور معزز سامعین!

آج جب مجھے بات کرنے کے لیے موضوع دیا گیاتو وہ بڑا عجیب و غریب سا تھا،

  " سائنس،  دین اسلام کی ماں ہے" .......

 مجھے یوں لگا جیسے کسی نے مجھے ماں کی گا لی دے دی ہو۔یہ کیا جاہلانہ عنوان ہے اور کون ہے جو ایسے عنوانات پر ہمارے طلبہ کے درمیان تقریری مقابلے کرواتا رہتاہے۔ پنجاب یوتھ فیسٹول کے تحت ہونے والے یہ تقریری مقابلے شہباز شریف کا کارنامہ ہیں لیکن میں وزیراعلیٰ سے خصوصی درخواست کرونگا کہ وہ اِن تقریری مقابلوں کے موضوعات کے لیے کچھ پڑھے لکھے لوگوں کی ڈیوٹی لگائیں۔ پچھلے سال بھی ایسا ہوا تھا، حکیم الاْمت، شاعرِ مشرق، مصورِ پاکستان ، علامہ اقبالؒ کامصرعہ بگاڑ کر تقریر کا موضو ع بنایا گیا۔

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں حالات

استغفراللہ تعالیٰ .......اقبال زندہ ہوتے تو یہ شعر سن کر رو پڑتے بخدا! صوبائی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ذمہ داران کے معیارِ تعلیم کا اندازہ کیجیے! کہ وہ اقبال کے بنیادی اور مشہور ترین اشعارسے بھی ناواقف ہیں۔ افسوس صدافسوس!

حالانکہ حضرتِ علامہ کا شعر ہے،

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

احساس ِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

جنابِ صدر! صرف اتنا ہی نہیں۔ جب میرے والد محترم نے اقبال کا غلط مصرع دیکھا تو سمجھے کہ پروف ریڈر کی غلطی ہوگی۔ انہوں نے سیکریٹری تعلیم پنجاب سے رابطہ کیا اور اقبال کے شعر کو درست کرکے تقریری مقابلے کا موضوع بنانے کی درخواست کی تو متعلقہ افراد نے جواب دیا کہ، نہیں، ہم نے خود اس شعر کو بدل دیا ہے تاکہ حالات کے مطابق ہوجائے۔

ہرشاخ پہ اُلّو بیٹھا ہےانجام ِ گلستاں کیا ہوگا؟

 اس سال بھی کئی موضوعات جاہلانہ اور غلط تھے۔ مثلاًحصہ مڈل ڈسٹرکٹ لیول پر ایک موضوع ، مشہور انڈین فلم’’چاندنی‘‘کے ایک گانے کے مصرعہ پر تھا، جسے ’’  سْریش واڈکر‘‘ نے گایا۔

’’لگی آج ساون کی پھر وہ جھڑی ہے‘‘

چنانچہ میں نے اور میرے والد محترم نے اس مرتبہ فیصلہ کیا کہ ہم ’’سائنس ، دین اسلام کی ماں ہے‘‘ کے عنوان پر تقریر تیار نہیں کرینگے کیونکہ یہ ایک کفریہ جملہ ہے۔ فلہذ میں آپ کے سامنے جس عنوان کے تحت اپنی معروضات پیش کرنےوالا ہوں وہ مقابلے کا عنوان تو نہیں لیکن مقابلے کا مقصد ضرور پورا کرتاہے۔

معزز منصفین حضرات!

اس تقریری مقابلے کے لیے میرا عنوان یہ ہوگا،

’’کیا سائنس اور اسلام آپس میں دشمن ہیں؟‘‘

جہاں تک اسلام اور سائنس کے تعلق کو واضح کرنے کی بات ہے تو بلاشبہ اسلام دینِ فطرت ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ سائنسی حقائق اور اسلام میں کبھی کوئی تضاد نظر آئے۔

سرسید احمد خان نے ایک نہایت شاندار منطقی مقدمہ قائم کیا ہے۔ لکھا:۔

’’قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا قول ہے

 اور یہ کائنات اللہ تعالیٰ کا فعل‘‘۔

 چونکہ اللہ تعالیٰ کے قول و فعل میں تضاد ممکن نہیں۔

 چنانچہ اِس کائنات اور قرآنِ پاک میں بھی کوئی تضاد ممکن نہیں۔

سرسید احمد خان نے نہایت مضبوط استخراج کے ذریعے ثابت کیاکہ قران اور علومِ کائنات میں مطلقاً کچھ فرق نہیں۔ایک محقق کی رائے میں قران ِ پاک کا ایک بٹہ آٹھ حصہ سائنس کے مضامین پر مشتمل ہے۔ اور باقی ماندہ حصہ بھی استخراجی اُصولوں کے منافی نہیں۔ قران خود کہتاہے،

سنریھم آیاتنا فی الآفاقِ وفی انفسھم

 ہم نے اپنی نشانیاں، آفاق اور انفس میں بیان کردی ہیں۔آفاق سے کیا مراد ہے۔ آفاق، اُفق کی جمع ہے یعنی کائنات اور بایں ہمہ سائنس کے علم کی بات ہے۔ایک حدیثِ مبارکہ کے یہ الفاظ ہیں،

العلم علمان علم الادیان وعلم الابدان

علم دو قسم کا ہے۔ ادیان یعنی مذاہب کا علم اور ابدان یعنی ظواہر یا معروضی کائنات کا علم۔ صرف اتنا ہی نہیں ، اسلام کا رویّہ بحیثیت ِ مجموعی استقرائی رہا ہے۔ علامہ اقبال نے تو یہاں تک کہا ہے کہ استقرائی عقل کا عملی آغاز اسلام کے ساتھ ہوا۔ رسول ِ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے قبل ِ نبوت،

الھم ارنی حقائق الاشیا ءِ کماھی

اے اللہ مجھے اشیا ء کی حقیقت ویسی دِکھا جیسی وہ ہے۔

یہ کیوریاسٹی خالصتاً سائنٹفک ہے۔ رسول ِ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ معروضی علوم کو سراہا اور ظاہری کائنات کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے کی تلقین کی۔ ظاہری کائنات جسے یونانی فلسفہ و فکر نے محض یہ کہہ کر نظرانداز کردیا تھا کہ حواس کے ذریعے حاصل ہونے والا علم، قطعی نہیں ہوسکتا۔ لیکن قران نے اس کے صریحاً برعکس نظریہ اختیار کیا اور کہا،

ماخلقت ھذا باطلا

یہ کائنات باطل تخلیق نہیں کی گئی۔

 

چنانچہ اسلام ہی تو ہے جس نے فطرت کے مطالعے کی عادت کو رواج دیا۔ اگر اسلام دنیا میں نہ آیا ہوتا تو فکریونان کے زیر اثر دنیا آج بھی صرف خیالی علوم کے گرد گھوم رہی ہوتی۔ اسلام نے انسانی حواس پر انسان کا اعتبار اور اعتماد بحال کیا۔ اور قران نے سماعت اور بصارت کو جابجا آگہی اور شعور کی فعالیت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

سائنس اور اسلام کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ زمینی حقائق کی قدروقیمت اوّلین دور کےمسلمانوں کے لیے کیا تھی، اس بات کا اندازہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ایک واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتاہے۔ایک مرتبہ آپ کسی لشکر کے ساتھ تھے۔ راستے میں خبر ملی کہ آگے جس طاعون پھیلا ہوا ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ راستہ بدل دیا جائے۔ کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے اعتراض کیا اور کہا کہ اے امیرالمؤمنین آپ کی خدا کی تقدیر سے فرار ہونا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب حضرت عمرؓ نے یہ دیا کہ ہاں میں اللہ کی ایک تقدیر سے فرار ہوکر دوسری تقدیر کی طرف جانا چاہتاہوں۔

صدرعالی مقام!

اس حقیقت سے دنیا کے تمام محققین بخوبی آگاہ ہیں کہ اسلام نے ہی دنیا کو سائنس دی۔ اسلام کو دین ِ فطرت اسی لیے تو کہا جاتاہے کہ اسلام فطرت کے اصولوں کے مطالعہ کی تلقین کرتا اور ان کے مطابق انسانی معاشرے اور عمومی حیاتِ انسانی کو ڈھالنے کی تبلیغ کرتاہے۔

اگر ہم قران ِ پاک کا بنظر غائر مطالعہ کریں تو ہمیں اندازہ ہوتاہےکہ قران، جب قسم کھاتاہے تو کسی نہ کسی سائنسی حقیقت کی قسم کھاتاہے۔ مثال کے طور پر،

فلااقسم بمواقع النجوم وانّہُ لقسم لو تعلمون عظیم

قسم ہے ستاروں کے محل وقوع کی۔ اگر تم اِسے جان لو! تو (بے اختیارپکاراُٹھو!کہ) یہ عظیم قسم ہے۔اس طرح کی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ اسلام سے پہلے کی دنیا بالکل مختلف تھی۔ یونانی فکروفلسفہ سے بہت پہلے ہندوستانی دیومالا اور پرشِیَن اساطیرکے علاوہ بدھ مت کے بھکشوؤں نے دنیا کو دارالعذاب کے طور پر انسانیت کے سامنے نہایت کامیابی کے ساتھ پیش کررکھا تھا ، جس سے نجات کی صورت دنیا کو تیاگ دینا تھا یا خود کو اذیتیں دے دے کر مُکت کرلینا۔ افلاطونی فلسفہ نے شہرت پائی تو دنیا اور بھی ’’خیالی ‘‘ ہوگئی۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے انسان کو معروضی علوم کی طرف متوجہ کیا۔ سائنس کی حقانیت کی طرف توجہ دلائی اور انسان کو یہ حوصلہ بھی دیا کہ وہ چاہے توآسمان و زمین کو مسخر کرسکتاہے۔

وسخرلکم مافی السمٰوٰتِ والارض

اور ہم نے تمہارے لیے آسمان اور زمین کو مسخر کردیا۔

عزیزانِ من! مختصراً عرض کرونگا کہ اسلام ہی وہ عہد ہے جب دنیا میں علوم ِ فطرت نے اپنی جگہ پائی اور سائنس کا باقاعدہ آغاز ہوا اور اسلام ہی وہ مذہب ہے جو پہلی بار سائنسی علوم کی طرف انسانیت کو مائل کرکے اِسے حقیقتِ مطلقہ کے جزواً جزواً دیدار تک لے جانا چاہتاہے۔چنانچہ یہ کہنا سرے سے غلط ہے کہ اسلام اور سائنس آپس میں دشمن ہیں۔

 

والسلام

 

*********