Menu

A+ A A-

علم دوستی ، جہاں دوستی

 

 

 

کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

علم دوستی ، جہاں دوستی

 

؎  خدا بھی علم والوں کو ہمیشہ دوست رکھتا ہے

نہ ہو علم و ہنر تو آدمی خود اپنا دشمن ہے

جسے اوروں کی الفت چاہیے وہ علم کو چاہے

یہ سچ ہے علم کا درشن فقط اللہ کا درشن ہے

 

جنابِ صدر،گرامی قدر، عالی نظر منصفینِ محفل اور میرے مہربان دوستو!…

علم کی دوستی ، جہان کی دوستی کیونکر نہ ہوگی جب پروردگارِ عالم نے اِس کائنات کی ہر شئے کو محض علم کی بدولت ہمارے لیے مسخر کردیاہے۔ علم ہی کے سہارے ہم آگ اور خون کے دریا پارکر سکتے ہیں، پہاڑوں کی برفانی چوٹیوں کو عبور کرسکتے ہیں، طلاتم خیز موجوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوجاتے ہیں، بڑے بڑے صدمات اور مصائب سہ کر بھی ہمارے پائے استقلال میں لغزش تک نہیں آتی، یزیدِ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق کی سدا بلند کرتے ہیں۔ موت کو سامنے دیکھ کراہلِ علم کے  چہرے خوشی سے کھِل اُٹھتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ موت بھی اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اہلِ علم اپنے پاؤں کی ایک ٹھوکر سے پہاڑوں کو سونا اُگلنے پر مجبور کرسکتے ہیں، اہلِ علم اپنے آنکھ کے اشارے سے دشت و جبل کے سینے چیر کے رکھ دیتے ہیں، اہلِ علم منہ پھیر لیں تو روزِ روشن ،شبِ تاریک میں بدل جائے، اہلِ علم آنکھیں کھول دیں تو کائنات کا گوشہ گوشہ روشن ہو جائے۔

جنابِ صدر!…

کیا یہ وہی علم نہیں جس کی بنیاد پر انسان کو اشرفْ المخلوقات کہا گیا…؟’’ وَعَلَّمَ َ آدَمَ الْاَسْمَائَ کُلَّھَا‘‘ تو پھر کیونکر یہ علم انسان کو جہاں دوست نہ بنائے گا؟

؎ علم کا نور ، نورِ خدا کا صبو

علم کا رنگ ، رنگ شفق ، سرخرو

علم تسکینِ دل، علم زادِ سفر

علم بادِ سحر ، علم نورِ نظر

علم سے سارے عالم کو تسخیر کر

صیدہو یہ جہاں علم صیاد ہو

لوٹ لے علم سے دولتِ جامِ جم

بانٹ لے علم سے دل فگاروں کے غم

علم کی دوستی ہے جہاں دوستی

سارے عالم سے ہے بے زباں دوستی

علم سے دوستی بازباں دوستی

عزیزانِ من!…

اس کے علاوہ قرآنِ پاک میں ہر جگہ علم والوں کو اللہ تعالیٰ نے حد سے زیادہ پسند کیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے ، ’’ وہ زمین اور آسمان کی بلندیوں اور پستیوں پر غور کرتے ہیں ‘‘…تو دوسری جگہ ارشاد ہے ،’’ وہی تو کہتے ہیں’ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا ‘کہ ہم ایمان لے آئے‘‘… ایک اور جگہ ارشاد ہے۔ ’’اَلسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْن‘‘  یعنی( علم میں) آگے بڑھنے والوں کے کیاکہنے، وہ تو ہیں ہی آگے بڑھنے والے‘‘۔

 

جنابِ والا!…

سرکار ِدوعالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر جہاں دوست کون ہوسکتا ہے جبکہ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ نے ازخود یہ دعا تجویز فرمائی:۔

’’قُلْ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمَا‘‘

’’کہہ دو کہ اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘

 

صدرِ عالیجا! …جاہل انسان کی بھی کوئی زندگی ہے۔ ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے جس میں انسان دوسرے انسانوں کے سہارے کا حیلہ کرے۔

؎  اپاہج اور بھی کر د یں گی یہ بیساکھیاں تجھ کو

سہارے آدمی سے استقامت چھین لیتے ہیں

 

جناب صدر و حاضرین محفل!…

آج بحیثیت قوم ہمیں اہلِ مغرب گنوار اور جاہل سمجھتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہم ابھی تک غاروں کے زمانہ میں جی رہے ہیں۔ وہ ایسا کیوں نہ کہیں۔ ہماری تہذہب کے مظاہر کتنے جمیل اور کس قدر جلیل تھے مگر ہم بتدریج اپنی عظمت کے اُن منازل سے ہٹ گئے ہیں۔ آج ہمارے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ ہماری یونیورسٹیوں نے پاکستان بننے سے لے کر آج تک ایک بھی ایسا ڈاکٹر پیدا نہیں کیا جس کی تحقیقات اور ایجادات دنیا کو ہمارا دوست بنا سکتیں۔ ہم نے تو اُلٹا اپنی جہالت کی وجہ سے اپنے دشمنوں میں اضافہ کر لیا۔ آج پوری دنیا ہمیں جاہل سمجھتی اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے۔ آخر کیوں …؟ آخر کیوں آج ہم میں نہ زندگی کی رمق  ہے، نہ روشنی کی جستجو ، نہ مستقبل کی امید ، نہ حال کی خبر …آخر کیوں۔ آخر کیا ہوگیاہے ہمیں…؟ اور اسی حالت پر بے اختیار دِل پُکار اْٹھتا ہے کہ:۔

؎  صبح ہونی چاہیے اور رات ڈھلنی چاہیے

لیکن اس کے واسطے تحریک چلنی چاہیے

 

جنابِ صدر!

آج پوری دنیا ہم سے ناراض ہے۔ عالم کفر ہم پر خندہ زن ہے مگر ہمیں ذرا سا بھی احساس نہیں۔

آہ… بڑے دُکھے ہوئے دل کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ:۔

 

؎  واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی

برقِ طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی

رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی  نہ رہے

جنابِ صدر !…

 ہم اگر چاہتے ہیں کہ دنیا کی توپوں کے رُخ ہماری طرف سے ہٹ جائیں ، ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہمیں جہانوںمیں عزت اور محبت کی نظر سے دیکھا جائے ، ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہمیں سارے عالم کی دوستی نصیب ہو، تو پھر بلا مبالغہ ہمیں علم سے دوستی کرنی ہوگی۔ ہمیں اللہ نے پاکستان دیا، ہم آزاد تھے، چاہتے تو پوری دنیا کو اپنے اسلامی علوم کے سرچشموں سے ورَطہء حیرت میں ڈال دیتے مگر ہم نے تو جہالت کی آخری حدود کو چھو لیا اور اُسی شاخ کو کاٹنے بیٹھ گئے جس پر ہمارا پیارا سا نشیمن تھا۔

؎  وائے ناکامی متاع ِ کارواں جاتا رہا

اور کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

 

٭٭٭٭٭