Menu

A+ A A-

آج کا طالب علم ، کل کا معمار

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

  

آج کا طالب علم ،  کل کا معمار

 

؎ جہاں معصوم بچے ہوٹلوں پر کام کرتے ہوں

جہاں پر مفلسوں کے واسطے تعلیم مشکل ہو

جہاں علم وہنر کے نام پر اونچی دکانوں میں

بدیسی فکر بکتی ہو ، پرایا مال ملتا ہو

وہاں کے نونہالانِ وطن معمار کیا ہونگے؟

کَل اْن کے ہاتھ میں اِس قوم کے پتوار کیا ہونگے؟

 

وقارِ محفل !جناب ِ صدر! اور میری مہربان دوستو!…

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے:۔

’’کُلُّ مُوْلُوْدٍ یُوْلِدُ عَلیٰ   فِطْرَتہ

یعنی ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرتِ سلیم لے کر پیدا ہوتا ہے‘‘۔

 اس حدیث ِ پاک سے صاف ظاہر ہے کہ ہر بچے کی ذہنی تختی فطرتاً صاف ہوتی ہے۔ علامہ اقبالؒ کے بقول:۔

 

؎ تُو اپنی سرنوشت اب اپنے قلم سے لکھ

خالی رکھی ہے خامہء حق نے تری جبیں

مگر جب وہ بچہ بڑا ہونے لگتا ہے تو اْس کے والدین اور اساتذہ اْس کے ذہن کی تختی پر اپنی مرضی کی تحریریں لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔حدیث کے الفاظ میں اُس کے والدین اُسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ یہ ہے وہ حقیقت جس سے دنیا کے کسی بھی اہلِ علم کو انکار نہیں۔ آج اگر ہم اپنے پاک وطن میں قحط الرّجال جیسی بھیانک قدرتی آفت کا شکارہیں تو اِس کی وجہ کیا ہے…؟

کیا ہمارے پرائیویٹ سکولوں نے جن کو چلانے والے ماہرینِ تعلیم ہونے کی بجائے ماہرینِ تجارت ہوتے ہیں کبھی ہمارے بچوں کو وہ نصاب پڑھایا ہے جو ہمیں ایک،ہم آواز اور ہم آہنگ قوم بنا سکتا…؟ اسی دن کے لیے شاید حکیم الامت نے یہ شعر کہا تھا:۔

؎ گلہ تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا

    کہاں سے آئے صدا لاالہ الاللہ؟

مجھے بات کرنے کے لیے جو موضوع دیا گیا ہے ، وہ ہے’’ آج کا طالب ِ علم ، کل کا معمار‘‘سچی بات تو یہ ہے کہ:۔

؎ وہ قوم نہیں لائقِ ہنگامہء فردا

جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے

 

جنابِ صدرِ عالی جا!…

آج کا طالب علم …آنے والے کل میں کیا کرسکتا ہے ، اگر اِس بات کا اندازہ ہمارے اساتذہ اور والدین کو ہوجائے تو خدا کی قسم وہ مارے حیرت کے انگشت بدندان رہ جائیں۔ آئیے !…میرے ساتھ میں آپ کو بتاتی ہوں کہ آج کا طالب علم ، کل کا معمار کیسے ہوسکتا ہے۔

اگر آپ لوگ ، جو ہمارے بڑے ہیں سچے دل سے چاہیں اور ہمیں صحیح نظامِ تعلیم کے ساتھ ساتھ درست نصاب ِ تعلیم بھی فراہم کریں تو ہمارا آج کا طالب علم آنے والے کل میں قومی ترقی کے اوجِ سماوات کو چھُوسکتا ہے۔سنگلاخ پہاڑوں کو سونا اگلنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ چٹیل میدانوں کو فردوسِ بریں بنا سکتا ہے، بنجر زمینوں کو گل و گلزار کر سکتا ہے، منہ زور دریاؤں کو دستِ اطاعت دراز کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ کانٹوں کو پھول، مٹی کو سونا، دلدل کو کھلیان، پتھر کو موم، ریت کو شیشہ، طوفان کو نسیم بہار، باد مسموم کو شمیمِ جانفزا، زہر سے تریاق، خاک سے فولادِ ناب بنا سکتاہے۔

جی ہاں!… کیونکہ بقول حضرت علامہ اقبالؒ:۔

؎  فطرت نہیں اگرچہ بے ذوق

جو اْس سے نہ ہوسکا وہ تُو کر

 

صدرِ عالیجا!…

اِس میں کچھ کلام نہیں کہ آج کا طالب علم ، کل کا معمار ہے بشرطیکہ اْس کی آنکھوں سے اُمید کا دیا بجھنے نہ دیا جائے۔ بشرطیکہ اُسے قومی سوچ سے مالا مال کر دیا جائے۔

ہر بچہ ، ہر روز بڑا ہو جاتا ہے

اس طرح ،ہر روز وہ مستقبل کی جانب

دھیرے دھیرے بڑھتا ہے

اْس کی چال سنور جائے تو

علم سے سینہ بھر جائے تو

قوم کا بیڑا تَر جاتا ہے

قوم عمارت کے جیسے ہے

جسکا گارا، مٹی ، پانی، اینٹیں، پتھر، سریے، بجری

سب چیزیں موجود بھی ہوں تو

بِلڈنگ بننا، نا ممکن ہے

جب تک کوئی ہاتھ ، بنانے والا نہ ہو

ہر بچہ معمار ہے گویا

جو اْس کی تربیت ہوگی

ویسی ہی تعمیر بنے گی

آج کا طالب علم اگر کاہل، بے روح، بے صلاحیت، کم ہمّت، کوتاہ نظر، سْست، ناکارہ اور ناہنجار ہوگا تو کل قوم کی عمارت بھی ایسی ہی بنے گی۔

 

جنابِ والا!…

آپ اپنی انکھوں سے دیکھ لیجیے! …دو پل کے لیے نظر کیجیے!  اْن پچھلے تیس سالوں پہ جن میں ہماری قوم کی کئی نسلوں کی فصلیں مغربی طرز کے لا تعداد نظام ہائے تعلیم میں پک کر تیار ہوئی ہیں۔ذرا نظر کیجیے! اُن نصاب ہائے تعلیم پر جو غیر قومی سکولوں نے فراہم کیا ہے اور پھر دیکھیے!… اپنے آس پاس، جناب ِ والا ! آپ کو دو پل میں پتہ چل جائے گا کہ ہماری قوم کے آج کے معما ر گزرے ہوئے کل میں ہمارے طالب علم تھے جنہوں نے قومی وفاق کی نہ صرف دھجیاں اْڑا دی ہیں بلکہ دور دور تک اُمید کی کوئی کرن بھی باقی نہیں رہنے دی۔

بخدا !… میری اِس معصوم سی تقریر کو ایک پیغام کے طور پر دیکھیے!  اور وقتی طور پر اپنے ذہن سے تقریری مقابلہ کا خیال نکال کر سنیے! کیا میں نے غلط کہا…؟

کیا1980ء میں سکول کا جو طالب علم تھا آج ہمارا ملک اْسی کے ہاتھ میں نہیں…؟

دور نہ جائیے!… اپنے ہی ضلع کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ہی دیکھ لیجیے !اور پھر فیصلہ کیجیے !کہ ہم نے اپنے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی جانب سے کون سی غفلت برتی جس کا آج ہم ایک بکھرتے ہوئے پاکستان کی صورت نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔ آپ سچے دل سے حالات کا تجزیہ کریں تو بے اختیار…الامان ، الحفیظ پکار اْٹھیں گے۔

اسی کے ساتھ ہی اجازت چاہتی ہوں۔

 

٭٭٭٭٭٭٭