Menu

A+ A A-

نظریہء پاکستان اور نسلِ نو

 

 

 

کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

نظریہء پاکستان اور نسلِ نو

 

؎ عقیدت ، ولولہ ، جذبہ ، اخوت کچھ نہ دے پائے

 محبت ، اجتماعیت ، شرافت کچھ نہ دے پائے

 خدا وندا ! ہمیں تو نے دیا یہ ملک پاکستان

 مگر اس ملک کو ہم بے مروت کچھ نہ دے پائے

 

جناب ِ صدر!

نظریہء پاکستان اور نسل نو ایک ایسا موضوع ہے جس پر بات کرتے ہوئے آج سینے سے درد کی ہوک اٹھتی ہے۔ بخدا ! …ہماری نئی نسل کو نظریہء پاکستان کی بابت کچھ علم نہیں۔ وہ دن گئے جب خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔  وہ دن بھی گئے جب ’’پاک سر زمین شاد باد‘‘ والے بچے سکولوں سے محب وطن پاکستانی بن کر نکلا کرتے تھے ۔ آج پرائیویٹ سکول سسٹم کا دور دورہ ہے۔ آج ہمارے بچوں کی نصابی کتب کی پشت پر قومی ترانے کی بجائے یونانی دیوتا ہر کولیس کی تصویریں بنی ہوتی ہیں۔ تو پھر…تو پھر کیوں نہ کہوں کہ نسلِ نو کو نظریہء پاکستان سے کچھ بھی واقفیت نہیں۔

 

جناب ِ صدر!

نظریہء پاکستان ، دو قومی نظریے کے بطن سے نمودار ہونے والے خطے کاواحد سچ تھا ۔ نظریہء پاکستان 1947ء میں بننے والے اسرائیل کے مقابل واحد دیوار تھا، نظریہء پاکستان روئے زمین کے مسلمانوں کی آخری امید تھا۔ لیکن آج ہم بھول چکے ہیں۔ ہم بھول چکے ہیں کہ ہم نے کبھی ایک ایسے وطن کا خواب دیکھا تھا جو مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز پر قائم کیا جائے گا۔ جس میں میثاق مدینہ کی طرح سب پاکستانی رواداری اوراخوت کے ساتھ رہیں گے۔ جہاں اسلام کے سنہرے اصولوں کے تجربات کیے جائیں گے ۔جہاں گورے کو کالے پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں ہوگی۔جہاں انصاف کا بول بالا ہوگا اور کفر کا منہ کالا ہوگا۔

          ہم بھول چکے ہیں، جب یہ قسم ہم نے کھائی تھی تو نیشلزم کے عروج کا زمانہ تھا ۔ وطنی قومیت کا دیو استبداد پوری دنیا کو نگل چکا تھا ۔ حتیٰ کہ سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کی تمام عرب ریاستیں اور ترکی بھی نیشنلسٹ ہوچکے تھے۔ اس وقت علامہ اقبالؒ نے محسوس کرلیا ۔ آپ نے محسوس کرلیا کہ اسرائیل کا قیام ناگزیر ہے۔ اور اگر عظیم تر اسرائیل بننے کا یہودی خواب پورا ہوگیا تو ایک دن مسلم اُمّہ کے لیے بہت مشکل پیدا ہوجائے گی۔ حرمین شریفین تک کو خطرات لاحق ہوجائیں گے ۔ اور آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ کہ اسلام کو دنیا کا سب سے ناپسندیدہ مذہب قرار دے کر اہلِ مغرب ہمیں صفحہء ہستی سے مٹادینا چاہتے ہیں۔اسی خطرے سے نمٹنے کے لیے حضرت علامہ اقبالؒ نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا ۔اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے شاعرکہتاہے،

پاکستان بنانے والے

ہندوستان میں رہتے تھے

اور

ایرانی، افغانی ،شامی

ترکی اور عراقی سارے

قومیت کی میٹھی گولی کھاکر

اپنے اپنے گھر میں

بےخبری کی نیند میں گم تھے

اس عالم میں اپنی کوکھ سے بچھڑے

ہندوستانی مسلم

ایک وطن بس ایک وطن کو ترس رہے تھے

ایک وطن جو گھر ہواپنا

ہوجس میں پورا ہرسپنا

لیکن ہماری نئی نسل ناواقف ہے اس خواب سے ۔ ہماری نئی نسل نظریہ ء پاکستان کی اہمیت کو نہیں سمجھتی اور اس بناء پر مسلم اُ مّہ کے سوا دِ اعظم کو بھی نہیں سمجھتی ۔ ہمارا نوجوان ذہن، بیسویں صدی کے عرب نوجوانوں کی طرح نیشنلسٹ ہوچکا ہے۔ ’’سب سے پہلے پاکستان…پاکستان ہماری جان‘‘کا نعرہ لگا کر وطنی قومیت کو زندہ اور نظریہء پاکستان کو مردہ کرنے والی، وطن عزیز کی نسلِ نو…اپنی انہی ادائوں کے طفیل 1971ء میں آدھا ملک کھو چکی ہے۔

 

جنابِ صدر!

اگر ہم آج بھی ہوش میں نہ آئے تو بہت نقصان ہوجائے گا۔ کیونکہ فی زمانہ اسلام کو’’ناپسندیدہ مذہب ‘‘قرار دیا جاچکا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی اسلام کو پس پشت ڈالے رکھا تو پھر مجبوری ہوجائے گی کہ صوبوں کو تقسیم ہوکر الگ الگ ممالک بننے دیں۔ اس دن صرف پاکستان اور پاکستانیوں کا نقصان ہی نہیں ہوگا بلکہ فی الحقیقت ساری ملتِ اسلامیہ کا دائمی اور ناقابل تلافی نقصان ہوجائے گا۔

 

عزیزانِ من!

ایسی صورتحال میں ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو نظریہء پاکستان سے آگاہ کریں تاکہ وہ اس عظیم و کریم نظریہء کے تحفظ کے لیے تیار ہوکر پوری ملتِ اسلامیہ کو اسرائیل کے قہر سے بچا سکیں۔ کیونکہ نظریہء پاکستان ہے تو پاکستان ہے اور نظریہء پاکستان نہیں تو پھر کا ہے کا پاکستان…؟

 

٭٭٭٭٭