Menu

A+ A A-

اسلام امن کا پیغام

کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

اسلام امن کا پیغام

 

تونے دیکھا ہی نہیں فطرتِ اسلام کا رنگ

 ہم نفس ! دین محمدؐ ہے محبت کا نظام

ایک دستور کہ آدم ہے عظیم

ایک قانون کہ انسان ہے اخلاق کا نام

امن، اخلاق ، محبت ، رہِ تسلیم و رضا

دین اسلام نے آدم کو یہ پیغام دیا

 

جناب صدر! اور ہم نفسانِ مکتب!

جیسا کہ لفظ اسلام کے لغوی معانی سے ظاہر ہے کہ اسلام کہتے ہیں …’’سلامتی‘‘ کو۔ ایسی سلامتی جس میں آپ کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ ہوں۔یہ محض ایک مذہب یا عبادات کا نظام نہیں بلکہ اسلام نام ہے آشتی کا، فتنہ و فساد سے نجات اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کا ۔ اسلام نام ہے رواداری کا ، برداشت اور بردباری کا، اسلام نام ہے عدل و مساوات کا، حسنِ خیالات کا ، احترامِ جذبات کا اور تحفظِ ذات کا۔

 

 

جنابِ صدر!

اسلام نام ہے سیارئہ زمین کے توازن کی ذمہ داری کا ۔ انسان سے انسان کی محبت تو درکنار ، کرئہ ارض پر موجود حیات اور ماحولیات کے تحفظ کا ذمہ دار بھی اسلام ہے۔ حدیث ِ پاک میں سبز شاخ کو جلانے سے منع کیا گیا ہے۔ جب تک لکڑی خشک نہ ہو جائے جلانے کی اجازت نہیں۔ عزیزانِ من!…سبز شاخ میں ’’پروٹو پلازم‘‘ یعنی زندگی کی اساس باقی ہوتی ہے۔ جب اسلام نے اس عمل سے منع کیا تھا اس وقت کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سبز شاخ میں زندگی کی اساس یعنی پروٹو پلازم پایا جاتا ہے۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اسلام نظام کی روح تحفظ و تقدسِ حیات ہے۔

؎  درد دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو

     ورنہ طاعت کے لیے کم نہ تھے کرّو بیاں

 

جناب صدر!

وہ لوگ جو اسلام کے نام پر تشدد کے قائل ہیںوہ  رَحْمَتُ الِّلْعٰلَمِیْن کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ شیاطین کے راستے پر چل رہے ہیں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے رَحْمَتُ الِّلْعٰلَمِیْن کے لقب سے نوازا ہے۔ چنانچہ امن و سلامتی احساس تحفظ اسلام کے بنیادی عناصر ہیں۔ یہ وہ نظامِ حیات ہے جس نے اپنے عہد ِ عروج میں ثابت کیا ہے کہ اس نظام کے اطلاق سے دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اسلامی سلطنت ، ساڑھے بائیس لاکھ مربع کلو میٹر تک پھیل چکی تھی۔ لیکن نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کی خاک تک ہر کہیں انسان کو احساسِ تحفظ حاصل تھا ۔ اور ’’فَلَا خَوْف’‘ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْن‘‘ …کے ماحول میں ساری انسانی آبادی نہایت اطمینان اور امن و آشتی کے ساتھ زندگی بسر کررہی تھی۔

ہماری تہذیب کے مظاہرجمیل بھی تھے جلیل بھی تھے

اگر تھے ابرِ بہار اپنے قلم تو تیغِ اصیل بھی تھے

مگر بتدریج اپنی عظمت کے ان منازل سے ہٹ گئے ہم

خود اپنے اوہام اور اباطیل کے گروہوں میں بٹ گئے ہم

 

عزیزانِ من!

آج پوری دنیا میں جنگ کا عالم ہے۔ تیل کی تلاش میں نکلی کولمبس کی اولاد کسی دجال کی طرح پوری دنیا کے امن کو برباد کیے ہوئے ہے۔ مشرق وسطیٰ میں خون کی ندیا ں بہہ رہی ہیں۔پاکستان ، افغانستان اور ہندوستان بھی بدامنی کے اس ریلے سے محفوظ نہیں۔ اس قیامت خیز قتل و غارت کی تمام تر وجہ انسانی معاشرے میں نافذ نظام ہائے حیات و حکومت کا ناقص ہونا ہے۔

 حضور والا!……انسانی معاشرہ اللہ تعالیٰ کی باشعور مخلوق کا ایک اجتما ع ہے ۔ کیا کسی مخلوق کے لیے مخلوق کا بنایا ہوا نظام کارگر ہوسکتا ہے؟ کبھی نہیں !…ہم جس خالق کی تخلیق ہیں، ہمارے لیے امن وسلامتی کے ساتھ جینے کا شیڈول بھی اسی نے دیا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا راشاد ہے:۔

’’اِنَّ دِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلام

اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے‘‘

دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک نظامِ حیات صرف سلامتی پر مبنی ہوسکتا ہے اوروہ اسلام ہی ہے۔

جناب ِ صدر!

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلام تلوار سے پھیلا اور اس لیے یہ امن کا نظام نہیں بلکہ جنگ کا نظام ہے۔ لیکن میں پوچھتی ہوں کہ دنیا کے سب سے بڑے مسلم آبادی کے ملک انڈونیشیا میں کون سا لشکر گیا تھا ۔ ملائیشیا کے لوگ مسلمان کیوں ہیں۔ مشرق بعید کے دیگر مسلم ممالک اور جزائر مسلمان کیوں ہیں…؟ وہاں کونسی تلوار پہنچی تھی۔

          حضورِ والا!…اسلام تلوار کے ذریعے نہیں ، اخلاق کے ذریعے پھیلا ہے۔ آج اگر دنیا میں انسانیت کی کچھ تکریم ہے تو اسلام کی بدولت ہے۔ صرف اور صرف اسلام کی بدولت ۔ اور ہاں!…اگر کل کلاں دنیا میں دوبارہ امن نافظ ہوا تو وہ صرف اور صرف سلامتی کے دین کی بدولت ہی ممکن ہوسکے گا۔

جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں

روئی کی طرح اڑجائیں گے

ہم محکوموں کے پائوں تلے

یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی

او ر اہلِ حکم کے سر اوپر

جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

ہم دیکھیں گے!

جب عرضِ خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہلِ صفاء مردودِ حرم

مسند پر بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

ہم دیکھیں گے!

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے حاضر بھی

جو منظر بھی ہے ناظر بھی

اٹھے کا انا الحق کا نعرہ

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

اور راج کرے گی خلقِ خدا

جو میں بھی ہو اور تم بھی ہو

ہم دیکھیں گے !

 

٭٭٭٭٭٭