Menu

A+ A A-

جہالت ترقی کی دشمن ہے


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

جہالت ترقی کی دشمن ہے

 

؎  جہالت ِظلمت ِشب سے بھی بدتر ہے کہ جاہل کا

کوئی رستہ نہیں ہوتا ، کوئی منزل نہیں ہوتی

جہالت جانی دشمن ہے ، تمدن کی ترقی کی

کہ اس بدبخت کے ہوتے بقا، حاصل نہیں ہوتی

 

جنابِ صدر اور میرے مہربان دوستو!…

حضرت علی کرم اللہ وجہ کا فرمان ہے:۔

’’الروث شئی والجھل لیس بشئی‘‘

’’گوبر بھی کوئی چیز ہوتی ہے،لیکن جہالت کچھ بھی نہیں‘‘۔

 اور قرآنِ پاک میں مؤمنین کی صفات گنواتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ، جب جہلا ان سے بات کرتے ہیں تو وہ یعنی مؤمن سلامتی چاہتے ہیں۔

اِذَا خَاطَبَھُمُ الْجَاھِلُوْنَ قَالُو سَلَامَا

جناب ِ صدر!…

جب اچھے برے کا فرق ، عقلِ فرقان کی بجائےتوہّم و اوہام کے ساتھ کیا جانے لگے۔ جب سکولوں کے بچے محنت کی بجائے نوافل اور وردو وظائف کے ذریعے بورڈ میں پوزیشنز لینا چاہیں ۔ جب بڑے، بزرگ ، کرسی اور عہدے کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے لگیں اور بچوں سے بھی بد تر انداز میں لڑیں بھڑیں۔ جب قوم کے حقیقی دانشوروں ، سچے خیر خواہوں ، اور ایماندار لوگوں کو ’’کھڈے لین‘‘ لگادیا جائے ۔ جب اجتماعی قومی مفاد ، آئین ، دستور اور قوانین کو نظر انداز کرکے قوم کے راہنما ، اپنی ذاتی جائدادوں کے لیے ماردھاڑ اور قتل و غارت کرنے لگیں ۔ تو اس وقت افرادِ قوم کے اذہان صراحی کے پیندے کی طرح تاریک ہوجاتے ہیں۔ وہ جہالت میں سرتاسر غرق ہوکر صفحہ فناکے پہلے پنے بننے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔

ایسے عالم میں ترقی کا خواب دیکھنا حماقت ِمحض کے سوا کچھ نہیں۔ جب تک جہالت کی ظلمت دور نہیں ہوتی ، کسی قوم کے لیے ترقی کا خواب محض ایک خیالی پلائو ہے اور کسی بھی  قسم کا خیالی پلائو پکانے میں کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا۔ چاہیں تو دیسی گھی اور مرغابی کے گوشت میں پکالیں۔ ہاں اگر ہم ترقی چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں بڑے پیمانے پر Awareness Programsکرنا ہونگے۔ افرادِ ملت کو آگاہ کرنا ہوگا۔ اپنے تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہونگی۔ اپنے خیالات اور وژن کو بدلنا ہوگا۔ میں تو کہتی ہوں کہ ہر شہر میں ’’سائنس سٹڈی بریک‘ ‘ کے ادارے کھولے جائیں۔ جہاں عام لوگوں کو دنیا میں ہونے والے جدید انکشافات سے آگاہ کیا جائے۔ عام لوگوں کی آنکھیں کھولی جائیں۔ انہیں ان کے حقوق بتائے جائیں۔ جمہوریت اور ووٹ کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ لوگوں کو شعور دیا جائے۔ قومی دستاویزات کی نقول تک ،ہر شہری کی رسائی ہو۔ بڑے پیمانے پر سیمینار ز منعقد کیے جائیں، جن میں سکولوں کے اساتذہ اور معلمات کو تربیت دی جائے تاکہ وہ اپنے سٹوڈنٹس سے کہ سکیں:

؎  کھول آنکھ زمیں دیکھ ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو زرا دیکھ

عزیزانِ من!

 

فارسی کا یک شعر نہ جانے کیوں مجھے بار بار یاد آرہا ہے۔ شاعر کہتا ہے:۔

؎  آدمیت نہ بہ نطق ونہ بہ ریش ونہ نہ جاں

طوطیاں نطق ، بزاں ریش ، خران جاں دارد

یعنی آدمیت ، نہ تو زیادہ بولنے کا نام ہے، نہ ہی خوبصورت داڑھی رکھ لینے کا اور نہ ہی زیادہ طاقت ور بن جانے کا۔ کیونکہ بول تو طوطے بھی لیتے ہیں۔ داڑھی تو بکروں کی بھی ہوتی ہے اور طاقت تو گدھے کے پاس بھی ہے۔ اصل چیز ہے۔’’ آگہی‘‘… یعنی آگاہی… ’’جاننا‘‘۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور فرشتوں کے درمیان فرق واضح کرنے کے لیے جو الفاظ چنے ہیں وہ ہیں:۔

’’وَعَلَّمَ آدَمَ الْاَسْمَائَ کُلَّھَا‘‘

یعنی اَسمائے ، اشیائے دنیا کا علم… دوسرے الفاظ میں آگاہی ۔ سچ کہا قرآن پاک نے ۔ آگاہی متضاد ہے جہالت کے… قرآن کے الفاظ میں ، اندھے اور آنکھوں والے برابر نہیں سکتے ، روشنی اور اندھیرا برابر نہیں ہوسکتے ، دھوپ اور سایہ برابر نہیں ہوسکتے اور یہ بالکل ایسا ہے جیسے زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوسکتے ۔ قرآن کے یہ الفاظ ثبوت ہیں اس بات کاکہ جہالت مردہ قوموں کا شیوہ ہے۔

جنابِ صدر !

 اگر ہم جاہل ہیں تو پھر ہم مردہ قوم ہیں۔ ہم زندہ نہیں ہیں۔

 

؎  اوہام کا رباب قدامت کا ارغنوں

فرسودگی کا سحر روایات کا فسوں

اقوال کا مراق حکایات کا جنوں

رسم و رواج و صحبت میراث و نسل و خوں

افسوس یہ وہ حلقہء دامِ خیال ہے

جس سے بڑے بڑوں کا نکلنا محال ہے

آج ہم جس حال کا شکا ر ہیں۔ اس کا صرف اور صرف ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے جہالت…… ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ کچھ بھی تو نہیں جانتے۔ ہمیں اتنا تک تو پتہ نہیں کہ ہر بار انتخابات میں ہم جو ووٹ کاسٹ کرتے ہیں، اس کی وجہ سے ہمارے اوپر ہمارے حکمران مسلط ہوتے ہیں۔ اگر ہم پولنگ بوتھ میں کھڑے ہوکر دومنٹ بھی نئے سرے سے سوچ لیا کریں کہ ہمارے ملک کے لیے کون ساآدمی زیادہ بہتر ہوسکتا ہے تو خدا کی قسم ہم ان حکمران گِدھوں سے بچ سکیں۔ یہ گدھ جو ہمارے مردوں کے تن سے کفن اتار کر بیچنے سے بھی باز نہیں آتے۔

جنابِ صدر اور میرے مہربان دوستو!…

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمیشہ بلند پایہ اور ترقی یافتہ قومیں ، اپنے وقت کے جدید ترین علوم سے آراستہ اور پیراستہ رہی ہیں۔ یہ یونان کے سکندرِ اعظم کا زمانہ ہو یا بغداد کے’’ عباسی خلفا‘‘ کا دورِ عظمت ، یہ ہندو ستان کے مغلِ اعظم ’’اکبر بادشاہ‘‘ کا زمانہ ہو یا آج کے ترقی یافتہ امریکہ اور یورپ کا زمانہ……جس کسی قوم نے جہالت کے کوہ پیکر بت کوپاش پاش کیا ، اس نے بجاطور پر ترقی پائی۔ وہ قوم دنیا کی حکمران بنی۔ لیکن اس کے برعکس جو جہالت ، توہم پرستی ، غیبت، ضمیر فروشی ، بددیانتی اور مکروفریب میں مبتلا رہے وہ اس دنیا میں بھی اندھے ہوکر مرے اور اگلے جہان میں بھی اندھے ہی اٹھائے جائیں گے۔

جہالت ایسا دشمن ہے

 کہ شیطان سے بھی بڑھ کر

جہالت زہر قاتل ہے

جہالت عہد ِ تاریکی

 جہالت ذلتِ دائم

 جہالت جرم و رسوائی

جہالت مرگِ انسانی

 جہالت لعنت و اغماضِ ربانی

کوئی آگاہ ِ عالم قوم، جگ میں مر نہیں سکتی

مگر کوئی جہالت میں ترقی کر نہیں سکتی

 

عزیزانِ من!

جہالت ہو تو کیا ہوتا ہے؟… افرادِ قوم کے دامن ،علم و ہنر کی دولت سے خالی ہوجاتے ہیں۔ قحط الرّجال چھا جاتا ہے۔ بچے، بوڑھے ، جوان…سب کے سب بے خبر ہوتے ہیں۔ سب بیگانگیٔ ذات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پھر افرادِ قوم کی حالت بھیڑ بکریوں کے گلے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ عوام ایک ہجوم بن جاتی ہے۔ نہ زندگی کی رمق ، نہ روشنی کی جستجو ،نہ مستقبل کی امید، نہ حال کی خبر، نہ دل ، نہ دھڑکن ، نہ تپش ، نہ حرارت ، نہ رنگ ، نہ آہنگ ، نہ ترنگ، نہ ولولہ ، نہ جوش ، نہ ہمت، نہ جرأت ، نہ استقامت ، نہ استقلال ، نہ امید ، نہ ذوق، نہ کرن، نہ جستجو ، کچھ بھی تو نہیں رہتا۔

 

جنابِ صدر!!

اس سے پہلے کہ میں اپنی قوم کی جہالت کے غم میں بیہوش ہوکر گرپڑوں  ، مجھے اجازت دیجیے!… شاید میں مزید تقریر جاری نہ رکھ سکوں۔

 

والسلام

 

٭٭٭٭٭٭٭