Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

 

کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

 

جنابِ صدر اور شرکائے محفل!

؎  فطرت افراد سے اغمازبھی کرلیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

عزیزانِ من! ……آج مسلم اُمہ ، قعرمذلّت میں گری ہوئی ہے۔ مسلمانوں کو ’’پرسونا ڈیگراٹا ‘‘ یعنی ناپسندیدہ قوم قرار دیا جاچکا ہے۔ آج ہماری آواز نقار خانے میں طوطی کی صدائے بے گوش بن چکی ہے۔ ہمیں غاروں اور پتھر کے زمانے کے لوگ کہا جاتا ہے۔ جہالت ، ظلمت ، ذلت، عذلت، نفرت، عداوت ، شقاوت ، غلاظت ، گراوٹ، تھکاوٹ ، ندامت ، خجالت اور احساس کمتری کی دولت سے مالا مال دورِ حاضر کے مسلمان کسی معجزے کے منتظر ہیں۔ ہم منتظر ہیں کہ کوئی مہدیٔ برحق یا عیسیٰ ہی اب آئیگا تو اس قوم کو نشاۃ ثانیہ نصیب ہوگی۔ آج مغرب میں موجود ہمارے ہم وطن اپنے نام کے ساتھ ’’احمد‘‘ اور ’’محمد‘‘ لکھتے ہوئے گھبراتے ہیں ۔ کیونکہ اس نام کے ساتھ ہماری وابستگی کو حقارت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ ہم ، بشمول اپنے مال و متاع اور غیرت و غرور کے بے دام کے غلام بنالیے گئے ہیں۔ ہم مفتوح و مغلوب قوم ہیں۔ آج ہمارا آخری مرکز خلافت ترکی عملاً اہل مغرب کا ہے۔ مصر ان کا ہے ، عراق ان کا ہے ، شام ان کا ہے، لبنان ان کا ہے، فلسطین ان کا ہے، اردن ، لیبیا ، قطر، عمان، مسقط ، دوبئی ، ابوظہبی ، بحرین ، سوڈان ، افغانستان ، پاکستان……سبھی انہی کے ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارا مرکزِ ملت سعودی عرب بھی اب دو صدیوں سے ان کا ہے ۔

جنابِ والا!

؎ ملت کو اقتدا کی نہ تلقین کیجیے!

شیخِ حرم کے سر پہ فرنگی کاراج ہے

کتنی حیرت کی بات ہے کہ علامہ اقبالؒ جیسے عظیم فلسفی اور مدبّر انسان نے ’’ضعیف ‘‘ ہونے کو جرم قرار دیا ہے؟ ......ضعیفی، کمزوری ، بے طاقتی.........یہ بھوک سے بلکتے ، سسکتے لوگ؟ ...........کیا یہ مجرم ہیں؟

ذرا سوچیںتو !!!!…

’’ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات‘‘ آخر علامہ اقبالؒ نے ضعیفی کو جرم کیوں کہا؟...........

جنابِ والا……!

1860عیسوی میں چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقاء شائع ہوا تو پوری دنیا کی فکری تحریکوں کا رخ تمکن فی الارض اور سروائیول آف دی فٹسٹ کی طرف مڑ گیا ۔ چارلس ڈارون کا نظریہ، یہ تھا… ’’دنیا میں رہنے کا حق صرف اسی کو ہے جو طاقت ور ہے ۔ جو قدرتی انتخاب کی چھلنی سے چھن چھن کر نکلا ہے۔ ایسی انواع جو نت نئے بدلتے حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتیں وہ فنا ہوجاتی ہیں۔‘‘

علامہ اقبالؒ بھی اس نظریہ کے حامیوں میں سے ہیں۔ لیکن آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ… …نظریہ ء ارتقاء چارلس ڈارون کا کارنامہ نہیں بلکہ قرآن پاک سے ماخوذ ہے اور مسلم فلسفیوں کی محنتوں کا ثمر ہے۔ علامہ اقبالؒ  نے قرانِ پاک کو اس نظریہ کا خالق تسلیم کیا ہے اور ابن مسکویہ کو اس نظریہ کا پہلا مسلمان شارح قرار دیا ہے۔  مو  لا نا جلال الدین رومی بھی ارتقاء کے مبلغ ہیں،جمال الدین افغانی ؒ، شاہ ولی اللہؒ ، سرسید احمد خانؒ ، علامہ عنایت اللہ المشرقیؒ، اور خود علامہ اقبالؒ سمیت تمام تر جدید مسلم مفکرین ، مسلمانوں میں قوت و جبروت کے ماننے والے تھے بقول علامہ اقبالؒ:۔

؎  قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

چنانچہ’’ شیخ ابو العلا معریؒ  ‘‘کے… نظریہ تمکن فی الارض کی تشریح بیان کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ  فرماتے ہیں:۔

؎  کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معریؔ

پھل ، پھول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقات

اِک دوست نے بھونا ہوا تیتر اسے بھیجا

شاید کہ وہ شاطر اسی ترکیب سے ہو مات

یہ خوانِ تروتازہ معرؔی نے جو دیکھا

کہنے لگا وہ صاحبِ غفرؔان و لزوماتؔ

اے مرغکِ بیچارہ ذرا یہ تو بتا تُو!

تیرا وہ گنہ کیا تھا ہے یہ جس کی مکافات

افسوس ! صد افسوس! کہ شاہیں نہ بنا تو

دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اِشارات

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

جنابِ صدر!

 یہ ہے اصل کہانی جو میں نے آپ کے سامنے بیان کی ۔ جتنا کوئی زمین کے قریب ہوگا اسی قدر پستی میں ہوگا۔ جس قدر کوئی آسمان کے نزدیک ہوگا اسی قدر بلندی میں ہوگا۔ آپ دیکھ لیں، حشرات الارض زمین میں دھنس کررہتے ہیںاور ہمیشہ پیروں تلے پامال ہوتے ہیں۔ ان کے برعکس پرندے فضائوں میں بلند پرواز ہیں اور ہم سب کے سروں پر اُڑتے ہیں۔ آپ دیکھ لیں، کجھور کا درخت بلند ہے تو اس کا پھل توانائی میں سب سے بڑھ کر ہے اور گاجر مولی زمین کے اندر دھنس کر اُگتے ہیں تو ان میں توانائی  بھی کم ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل نے آسمانوں سے اترے ہوئے من و سلویٰ کو ٹھکرا کر آلو پیاز اور ککڑیاں طلب کیں تو اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا،

’’قالَ  اَتَسْتَبْدِلُوْ نَ الَّذِی  ھُوَ اَدْنٰی    بِا لَّذِی ھُوَ خَیْر‘‘

          ’’اے موسیٰ! ان سے کہو!……کہ کیا تم اس کی طلب کرتے ہو جو ادنیٰ ہے ، اُس کے مقابلے میں جو اعلیٰ ہے؟‘‘ …اسے کہتے ہیں ارتھ روٹڈنیس ۔ یا علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں زمینی پیوستگی کا نظریہ ،وہ جو زمین میں دھنس گئے ، وہ پامال ہوگئے ، فنا ہوگئے، ختم ہوگئے، نابود ہوگئے، معدوم ہوگئے، مفقود ہوگئے اور یہی ہوتی ہے ……مرگِ مفاجات۔

          رینگو! ……رینگو!……زمین کی خاک پر رینگنے والے کیڑو! اسی طرح رینگتے رہو!۔ ایک چیونٹی جو اپنے پیٹ کے لیے صرف مال جمع کرنے پر تفویض ہوتی ہے، آخر کو کہلاتی تو چیونٹی ہی ہے نا۔ اقبال کی شاعری میں ایک مرتبہ ایک چیونٹی نے عقاب سے سوال کیا :۔

؎  میں پائمال و خوار و زبوں حال و درد مند

تیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند

تو عقاب نے جواب میں کہا،

 

؎  تو رزق اپنا ڈھونڈتی ہے خاکِ راہ میں

میں نو سپہر کو نہیں لاتا نگاہ میں

صدرِ عالیجا! اقبال نے یہ ہماری قوم کے لیے ہی فرمایا تھا،

؎  جاں لاغر و تن فربہ و ملبوس بدن زیب

دلِ نزع کی حالت میں خرد پختہ و چالاک

علم میں ضعیف ، حلم میں ضعیف، اخلاق میں ضعیف ، اوصاف میں ضعیف، حکومت میں ضعیف ، دولت میں ضعیف ، عزت میں ضعیف ، شہرت میں ضعیف ، ہم مرگِ مفاجات کا اگلا شکار ہیںعزیزانِ من!…لیکن… اس مرگِ ناگہانی کے اسباب پر غور کریں تو سو باتوں کی ایک ہی بات ……

؎ اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر

ہائے ہائے ہائے……کتنی سچی بات کہا کرتے تھے مولانا ابو الکلام آزادؒ……!!!

’’ہمیں وہ اسلام نہیںچاہیے ، جو شادی کے وقت خطبہ نکاح اور موت کے وقت یٰسین پڑھنے کے کام آئے اور باقی تمام معاملاتِ زندگی میں یورپ کے دسترخوان کی چچوڑی ہوئی ہڈیوں پر گزارا کرے۔‘‘

ہم نے مغرب کے دسترخوان کی چچوڑی ہوئی ہڈیوں کو چبانا اپنا فیشن بنالیا ہے۔ ہمارا کشکول والا ہاتھ ہمیشہ ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف کی طرف اٹھتا ہے۔ بھکاریوں سے بدتر، فقیروں سے کم تر، مغربی ممالک کے ائیر پورٹوں پر ہمارے جوتے تک اتروالیے جاتے ہیں۔ ہمارے قیدیوں کو وہاں ننگا کر کے لے جایا جاتا ہے۔ آپ میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ ’’سبز پاسپورٹ‘‘ آج کی دنیا میں ایک لعنت سمجھا جاتا ہے۔ ایک لعنت ........میری سرکار۔ ایک لعنت.............اففففف۔

ایسی قوموں کے لیے قرآن کہتا ہے :۔

فَخَسَفْنَا……اور ہم نے انہیں زمین میں دھنسا دیا۔

صدرِ مکرم !
اس سے پہلے کہ ہم بھی زمین میں دھنس جائیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہمیں اپنی کھوئی ہوئی طاقت واپس حاصل کرنا ہوگی۔ وہی طنطنہ ، وہی جوش، وہی ولولہ، وہی طاقت ، وہی بصیرت ، وہی حکمت، وہی توانائی……وہی سب کچھ واپس لانا ہوگا۔ سب کا سب۔غالباً مولانا ظفرعلی خان نے کہا تھا،

؎  مسلماں آج بھی گر عامل قرآن ہوجائے

اگر بیدار اس کا جذبہ ایمان ہوجائے

تو ہر مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجائے

یہ ہندوستان کیا، کل دنیا پاکستان ہوجائے

 

والسلام

 

٭٭٭٭٭٭٭

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP