Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

ہمیں تلاش ہے جس کی یہ وہ سحر تو نہیں

 

 


کتاب: اٹھو کہ وقت قیام آیا
مصنف: جناب ادریس آزاد

 

 

ہمیں تلاش ہے جس کی یہ وہ سحر تو نہیں

 

نہ آفتاب اُفق پر کہیں نظر آیا

نہ کُہر اُتری شبستان سے چنبیلی پر

نہ گُل کے چہرے پہ شبنم، نہ صحنِ گُل پہ سحاب

نہ قمریوں کی صدا اورنہ عندلیب کا گیت

کہیں نہ چڑیوں کی چہکار ہے نہ بادِ صبا

مرے رفیق ! میرے یار ایسا لگتا ہے

ہمیں تلاش ہے جس کی یہ وہ سحر تو نہیں

 

صدرِ مکرم اور عزیزانِ گرامی!

یہ کون سا دن طلوع ہوا ہے؟ دن ہے کہ رات؟…آنکھوں کو کچھ دکھائی کیوں نہیں دے رہا؟……چاروں طرف اندھیرا کیوں ہے؟…… ظلم کا اندھیرا ، نفرت کا اندھیرا ، قتل وغارت گری کا بازار گرم کیوں ہے؟ …کیا سورج نے نکلنا چھوڑ دیا؟ …کیا ستارے اب نہیں چمکتے ؟… کیا ہماری دھرتی خون کی پیاسی ہوگئی ہے؟… کیوں بازاروں میں بم پھٹ رہے ہیں؟… افلاس زدہ زرد ، مایوس چہرے، دھنسی ہوئی آنکھیں، عدم تحفظ کی سان چڑھے احساسات ، اُجڑتے گھر ، بلکتے بچے، سسکتی زندگی ۔ یہ سب کیا ہے؟.…

 ؎  وہ دیکھو تو

بھوکے زرد گداگر بچے

پیپ بھری آنکھیں سہلاتے

کار کے پیچھے بھاگ رہے ہیں

ایسی کون سی آفت آئی ہے جنابِ والا!…… ایسا کون سا کفر ٹوٹا ہے کہ ہم اپنی صبحِ اُمید کھو بیٹھے…ہم تو چلے تھے ایک آزاد پاکستان بنانے۔ جہاں ہمیں اسلامی اصولوں کے تجربات کرنے کی لیباٹری میسر آئے گی۔ ہم تو چلے تھے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک گوشہء پناہ  فراہم کرنے۔ یہ ہم کہاں آکر ٹھہر گئے؟……

؎  ہمیں تلاش ہے جس کی یہ وہ سحر تو نہیں

 

میرے مہربان دوستو!

          ہمیں کون سی سحر کی تلاش تھی؟…… ’’فَلاخَوف’‘عَلَیھِم وَلَا ھُم یَحزَنُون‘‘… وہ جگہ جہاں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی حزن‘‘…… ہم کس صبح اُمید کے سہارے ، ایک لمبی کالی رات میں خاک اور خون کی ندیاں پار کرکے آئے تھے؟

؎  وہ کیا گردوں تھا تو جس کاہے اِک ٹوٹا ہوا تارا؟

ہائے ہائے……میں اپنی کوتاہیوں کا ماتم کروں یا اپنی تمنائوں کا سر پیٹوں؟……

؎ وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

اور کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

نہیں نہیں……یہ وہ سحر نہیں، جس کی اُمید میں ہم نے ظلم کی شبِ دیجور کاٹی تھی۔ ہم پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ ہم اپنے مستقبل سے مایوس ہیں۔ اسی لیے چیونٹیوں کی طرح آنے والے کل کے خطرے سے مال جمع کرتے ہیں۔ ہم ڈرے ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو بچانا ہے۔ ہمارے اندر نفرت اور غصے کے لاوے ابل رہے ہیں لیکن ہم نے اُنہیں خوف سے دبارکھا ہے۔ ہم جتنا دباتے ہیں وہ اتنا اُبھر تے ہیں۔

میرے ہم وطن!… جماعت بندی بھول چکے ہیں۔ گلیوں ، بازاروں میں بلوے ، اپنی املاک کا نقصان ۔ سرعام شقاوتِ قلبی کے مظاہرے……

ہائے میں کیا بتائوں میرے دوستو!…

20اگست 2010کی صبح سیالکوٹ کے بازار میں ہزاروں کے مجمع کے سامنے ، پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں دو معصوم نوعمر لڑکوں کو بلاوجہ ڈنڈے مار مار کر شہید کردیا گیا ۔ پھر ان کے پیروں میں رسیاں باندھ کر ان کی لاشوں کو بجلی کے کھمبوں کے ساتھ الٹا لٹکادیا گیا اور……میں آپ کو بتائوں ؟؟؟؟……وہاں کھڑے تماشائی کیا کررہے تھے؟…وہ اپنے موبائل کیمروں سے اس کربلا کی وڈیوز بنارہے تھے۔ میں پوچھتی ہوں، یہ زمین پھٹ کیوں نہ گئی؟؟؟؟؟ ……میں پوچھتی ہوں یہ آسمان گر کیوں نہ پڑا؟؟؟؟……نہیں نہیں ۔

؎ ہمیں تلاش ہے جس کی یہ وہ سحر تو نہیں

 

جنابِ والا!…

ہمیں ہزاروں میل دور مغرب میں موجود ایک نہایت احمق، اَن پڑھ، مجرم ، گھٹیا اور غلیظ القلب انسان سے جس نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم پر گستاخانہ فلم بنائی اپنی نفرت کا اظہار کرنا ہوتا ہے توہم اپنے ہی شہروں میں آگ لگادیتے ہیں۔

کراچی کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ آخر گیارہ ستمبر کے دن ہی کیوں فیکٹری کو آگ لگتی ہے؟…اور تین سو سے زائد عام شہری شہید ہوجاتے ہیں؟…… آپ کو یاد ہوگا ۔ پچھلے سال ایک سترہ سال کے بےگناہ  لڑکے کو محض شک میں رینجرز نے ٹانگ اور کلائی میں گولی ماردی۔ وہ وہاں پڑا چلّاتا رہا کہ اب مجھے ہسپتال تولے جائو!!!! ……ہزاروں لوگ وہاں کھڑے ویڈیوز بناتے رہے۔ اور سب ’’کو فیوں‘‘ کے سامنے اس بچے نے جان دے دی…سچ کہا کسی شاعر نے کراچی کے حالات کے بارے میں :۔

 بھاگتے کتے نے رک کر ، ایک کتے سے کہا

 بھاگ ورنہ آدمی کی موت مارا جائیگا

صدرِ محترم!

ہم پاکستان کی بات کرینگے ۔ ہمارا وفاق ہی ہمارا سب کچھ ہے۔ صرف اسی ایک وفاق کی سلامتی کے لیے ہم دن رات محنت کرکے اپنےہر ایک روپے میں سے ستر فیصد دفاع ٹیکس دیتے ہیں۔ اسی وفاق کا نام اسلامی جمہور یہ پاکستان ہے۔ ہمیں اپنا بھلایا ہوا خواب دوبارہ سے یاد کرنا ہوگا۔اس دھرتی کی سوندھی مٹی کو پھر سے سونا اگلنے پر مجبور کرنا ہوگا۔ اسی صبح کو آواز دینا ہوگی جس کی نوید ہمیں نجم سحر ، علامہ اقبالؒ نے دی تھی۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ۔ ہمارے ملاّح آج بھی لہروں کے پالے ہوئے ہیں۔ ہمارے مزدور آج بھی پسینوں کے ڈھالے ہوئے ہیں۔ ہمارے جرّی جواں آج بھی عظمتوں کے نشاں ہیں۔

؎  ذرانم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

یہ سحر نہیں ، یہ کالی رات ہے۔ اور ایسی سیاہ رات ہم نے کبھی تلاش نہیں کی تھی۔ یہ شبِ دیجور ہمارے مقدر میں کس نے لکھی؟……ہم نے خود ۔ اورکیسے لکھی؟…باہر کی ترقی کرتی ہوئی دنیا سے بے خبر رہ کر۔

 

جنابِ والا!

لیکن اب بھی میرے پاس اس ساری قنوطیت سے ہٹ کر ایک رجعت پسنددانہ راستہ  ہے۔ جب رات زیادہ تاریک ہوجاتی ہے… تو صبح کے آثار زیادہ پیدا ہوجاتے ہیں۔

؎ رات بھر کا ہے مہماں اندھیرا

کس کے روکے رکا ہے سویرا؟

رات جتنی بھی تاریک ہوگی

صبح اُتنی ہی نزدیک ہوگی

بیشک یہ وہ سحر نہیں، جس کی ہم نے تلاش کی تھی۔ لیکن ابھی سحر آئی ہی کہاں ہے؟… یاد رکھیے!…میری سرکار!…… کسی نے کہاتھاکہ’’ہر کہانی کااختتام ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ اگر تم دیکھو کہ تمہاری کہانی کا اختتام اچھا نہیں ہورہا تو سمجھ جائو کہ ابھی کہانی ختم نہیں ہوئی‘‘۔ تو یہ کہانی ابھی کیسے ختم ہوسکتی ہے؟… ابھی اصلی سحر آئی ہی نہیں۔بس ضرورت ہے تو اس کام کی کہ ہم اپنے آپ کے ساتھ کس قدر دیانتداری کرتے ہیں۔ یعنی اپنے گھر ، اپنے معاشرے اور اپنے وطن کے ساتھ کس قدر وفا کرتے ہیں۔

؎ بجا کہ یہ وہ سحر ہی نہیں جو چاہیے تھی

بجا کہ ہم نہیں قابل تھے اس عنایت کے

مگر یہ سچ ہے کہ اب بھی اُمید باقی ہے

ابھی تو صومِ تمازت ہے عید باقی ہے

                   والسلام ٭٭٭٭٭٭٭٭

 

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP