Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

تعمیر خودی - ۱

تعمیر خودی(۱)

مدثر رشید

قدیم زمانے کی بات ہے کہ بہت سی بھیڑ بکریاں کسی چراگاہ میں رہتی تھیں ۔ ایک دن چند شیر کسی جنگل سے یہاں آنکلے اور انہوں نے بھیڑوں پر حملہ کر دیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے چراگاہ بھیڑوں کے خون سے سرخ ہو گئی۔ اس دوران کہ شیر بھیڑوں کی چیر پھاڑ میں مصروف تھے ، ان میں سے ایک دانا، سمجھ دار اور ادھیڑ عمر بھیڑ نے شیروں  کو مخاطب کر کے واعظ شروع کیا ۔ اس نے ان سے کہا کہ دیکھو میں خدا کی طرف سے خاص روحانی قو ت سے مالا مال ہوں۔ میں تمہیں یہ نصیحت کرتی ہوں کہ اپنے برے کاموں سے توبہ کرو ، جو بھی غصیلہ اور طاقت کے نشے میں چور ہے وہ بد بخت ہے ۔ دانتوں کی تیزی تمہیں رسوا کر رہی ہے ۔ شان و شوکت اور ہیبت اور دبدبے کی خواہش تو نرا فساد ہے۔تم جو بھیڑ بکری کو مار کر فخر کرتے ہو، اگر بلندی کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے آپ کو مارو۔ جو گوشت کھانا چھوڑ دے وہ خدا کا مقبول بن جاتا ہے۔ اور نیک روحیں گھاس پات کھا کر ہی گزارا کرتی ہیں۔ شیر جو پہلے ہی لگا تا ر جدوجہد اور محنت اور مشقت سے تھک چکے تھے ، ان کو جدوجہد سے بے گانہ کر دینے والی یہ نصیحت پسند آگئی ۔ چنانچہ انہوں نے جو کبھی بھیڑوں کا شکار کیا کارتے تھے خود بھیڑوں کی سی خصلت اپنا لی۔ بس پھر کیا تھا کہ رفتہ رفتہ شیروں کوجو گوشت کے عادی تھے گھاس مزہ دینے لگی ۔ پھر کافی عرصہ گھاس کھانے کی وجہ سے دانتوں کے وہ پہلی سی کاٹ بھی جاتی رہی۔ شعلہ بکھیرنے والی آنکھوں کی وہ پہلی سی ہیبت بھی نہ رہی۔ دل سے جرائت اور دلیری بھی ٓاہستہ آہستہ رخصت ہوگئی۔ فولادی مضبوط پنجوں میں کمزوری آگئی اور جسموں کی قوت و طاقت بھی گھٹ گئی۔ جان کا خوف بڑھ گیا اور اس کے نتیجے میں ہمت اور دلیری بھی ختم ہو گئی۔ غرضیکہ شیر اب دیکھنے میں تو شیر تھے لیکن حقیقتاً وہ بھیڑ بن چکے تھے ۔ یا دوسرے معنوں میں وہ اب اپنی اصل سے غافل ہو چکے تھے ۔ یہ قصہ علامہ اقبال نے اپنی مشہور مثنوی ’ اسرار خودی ‘ میں بیان کیا ہے، جو ان کے تصور خودی کی ایسی سادہ اور آسان تشریحا ت سے بھری پڑی ہے۔ علامہ کے نزدیک ہر چیز کی ایک اصل ہے جب تک وہ اس پر قائم رہتی ہے اس کا وجود برقرار رہتا ہے اور جیسے ہی وہ اس سے غافل ہوتی ہے اپنا وجود بھی کھو دیتی ہے ۔ چنانچہ وجود در حقیقت اسی جوہر خودی کی نمود ہے۔ چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں:

تری نگاہ میں ثابت نہیں خدا کا وجود           تو مری نگاہ میں ثابت نہیں وجود ترا
وجود کیا ہے فقط جوہر خودی کی نمو د      کر اپنی فکر کے جوہر ہے بے نمود ترا

اس حقیقت خودی کو انہوں نے مثنویِ اسرار خودی میں مختلف انداز میں واضح کیا ہے ۔ فرماتے ہیں:

کوہ چوں از خود رود، صحرا شود  شکوہ سنجِ جوششِ دریا شود
[پہاڑ جب اپنی ذات یا خودی سے غافل ہو جاتا ہے تو وہ بکھر کر صحراکی صورت اختیار کر جاتا ہے اور سمندر کے طوفان کی شکایت کرنے لگتا ہے]
موج تا موج است در آغوش بحر     می کند خود را سوار دوش بحر
(موج جب تک آغوش بحر میں موج کی صورت ہے سمندر کے اندر ہے (یعنی وہ اپنی خودی سے باخبر ہے)، وہ اپنے آپ کو سمندر کے کندھوں پر سوار رکھتی ہے]

خودی کی یہ شائد سب سے آسان تشریح ہے جو علامہ نے اس مثنوی میں خود بیان کی ہے۔ گو پہاڑ ہو یا موج ، دریا ہو یا سمندر غرضیکہ اس کائینا ت میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ہر کسی کی ایک اصل، ایک خودی ہے ، اورجب تک ہر مخلوق  اس خودی سے آشنا رہتی ہے اور اس آشنائی کی وجہ سے خودی  کی نمود میں محو رہتی ہے موجود رہتی ہےورنہ فنا اس کا مقدر ہے۔ اب یہیں سے ایک اور سادہ سا سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر انسان کی وہ اصل کیا ہے جس کی نمود پراس کا وجود منحصر ہے؟ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو اسرار خودی کو آشکارا کرنے کے لیے ایک کلید کی حیثیت رکھتا ہے ۔ انسان کی اصل کیا ہے اس پر تو شائد ہی کوئی دور ایسا گزرا ہو جس میں وقت کے اہل علم و بصیرت نے غور کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا ذکر کسی نہ کسی صورت میں مشرق و مغرب کے ہر دور کے لٹریچر میں مل جاتا ہے۔ لیکن جو چیز اقبال کے تصورخودی کو ان دیگر تصورات سے ممیز کرتی ہے وہ ان کا انسان مطلوب یعنی مردمؤمن کا تصور ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ رامائن ومہا بھارت اور اسلامی تصوف کا’مرد کامل‘ ، کارلائل(Carlyle) کا’ہیرو(Hero)‘، شوپن ہائر(Schopenhauer) کا’ جینئس(Genius)‘، نیٹشے(Nietzsche) کا’فوق البشر(Superman) ‘، گوئٹے(Goethe) کاتصور انسان (جو  ایکرمین(Eckermann)کے توسط سے سامنے آتا ہے) اور ان جیسے دیگر تصورات انسانی خودی کی ہی دیگر  تشریحات  ہیں ۔ جب ہم انسان کی ہما گیر شخصیت اور اسکی بے پناہ صلاحیتوں ،جن کی حامل کائنات  کی کوئی اور مخلوق نہیں، کو دیکھتے ہیں توہمیں اس امر کا اندازہ  بھی بآسانی ہو جاتا ہے کہ انسان کی حقیقت یا اس کی خودی کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ۔ بنی نوع انسان نے آج تک جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں وہ سب اس خودی کی صلاحیتوں کی نمود ہے، اور جن جن نے یہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں وہ انسان مطلوب قرار پائے جا نے کے مستحق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم اٹیلا ، چنگیز، نپولین ، ہٹلر وغیرہ کی شخصیات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان میں نیٹشے کا فوق لبشر دکھائی دیتا ہے، جب ہم ارسطو، افلاطون، آئنسٹائن ، نیوٹن وغیرہ کودیکھتے ہیں تو ہمیں شوپن ہائر کا جینئس دکھائی دیتا ہے اور جب ہم عبد القادر جیلانیؒ ، بایزید بسطامیؒ اور جنید بغْدادیؒ وغیرہم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انسان کامل نظر آتا ہے۔ غرضیکہ ہر کسی نے ایسے رجال العظام میں سے کسی کو اپنا مطلوب سمجھا اور اسی پر اپنے نظریہ خودی کو استوار کر دیا۔

 اس لحاظ سے دیکھا جائے تو علامہ اقبال نے جس ہستی کو انسان مطلوب قرار دیا اسکی جھلک انبیاءو رسل علیہم السلام اور ان کے سچے متبعین کی شخصیات میں ملتی ہے اور جس کا کامل اور اکمل مجسمہ حضور ﷺ کی ذات اقدس ہے جو دراصل تمام اوصاف حسنہ کا جامع ہیں۔ وہ ایسے فاتح اور حاکم تھے جنہوں نے ایک عظیم حکومت اور تہذیب کی بنیا د ڈالی، ان کا مجموعہ حدیث علم و حکمت کے موتیوں سے بھرا پڑا ہے اور ان کی خدا خوفی، للہیت،اور انسان دوستی کا کوئی ثانی پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتا۔ یہ ان  صفات  کی جامعیت ہی تھی کہ جس بناء پر رسول اکرم ﷺ    کی عظمت کا اعتراف غیر مسلم بھی کرنے پر مجبور ہیں۔

 اقبال کے انسان مطلوب کی اس جامیعت ہی  کا مظہر تھا کہ ان کا فلسفہ خودی ایک جامع فلسفے کے طور پر تشکیل پایا۔ اور جیسا کہ شروع میں بیان ہوا یہی وہ کلیدی نکتہ تھا جو قرآن میں تدبر سے ان پر منکشف ہوا۔ اصل میں یہ وہ حقیقت ہے جس تک انسان اپنی عقل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا ۔ اس کے لیے وہ ایک خاص قسم کے علم یعنی علم وحی کا محتاج ہے ، جو اس کائینات کے خالق اور ر ب نے اپنے مخصوص بندوں کے ذریعے بنی نوع انسان تک پہنچایا۔ علامہ اقبال خود مسلما ن تھے اور قرآن وحی کی کامل صورت میں ان کے پاس موجود تھا۔ پھر ان کا اس سے والحانہ لگاؤ اور اللہ کی طرف سے عطاء کی ہوئی روحانی بصیرت وہ سب عوامل تھے جنہوں نے ان کے لیے اس بنیادی مسئلہ کا حل آسان بنا دیا۔ چنانچہ شارحین اقبال اس پر متفق ہیں کہ علامہ اقبال کے نزدیک انسان کی اصل یعنی خودی بندہ مؤمن ہے، جس کی معراج محمد عربی ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ گو کہ علامہ اقبال سے پہلے شیخ احمد سرہندیؒ ، مولانا روم ؒ اور شا ہ ولی اللہ دہلویؒ جیسے عظیم مسلمان مجددین کرام نے بھی اس حقیقت کو آشکار کیا ۔لیکن علامہ اقبال کو کیونکہ ایسا دور ملا تھا جب مغرب میں احیاءالعلوم کی تحریک زور و شور سے جاری تھی اور کائنات ، خدا اور انسان کے بارے میں نت نئے تصورات اور فلسفے وجود میں آرہے تھے اور قدیم پیچیدہ مسائل ٹھوس علمی حقائق کی روشنی میں حل ہوتے جا رہے تھے، ان کو اپنے اس صحیح اسلامی تصور کوجس کاماخذ  وحی الٰہی تھا اس دور کی اعلیٰ علمی سطح پر ٹھوس عقلی دلائل کے ساتھ پیش کرنے کا موقع مل گیا۔ پھر شاعری کے خوبصورت اور دلکش انداز بیان نے اس کو وسیع حلقے میں متعارف کرانے میں بے حد مدد دی۔ چنانچہ اقبال کا تصور خودی کوئی نیا تصور نہیں ہے بلکہ اس ضمن میں پہلے سے موجود تصورات کی اسلامی نکتہ نگاہ سے ایک مفصل اور مدلل تشریح ہے ۔ لیکن ایک بات جو ان کے کلام سے روز روشن کی طرح واضح ہے وہ یہ کہ ان کے اصل ماخذ جن سے انہوں نے اپنے افکاراخذ کیے قرآن و سنت  تھے  نہ کہ مغربی فلاسفہ کے افکار و نظریات ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے کلام میں وہ کہیں بھی ان مغربی حکماء سے متاثر نظر نہیں آتے  جیسا کہ بعض معترضین الزام لگاتے ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس وہ  ان کے نظریات کے غلط پہلووں پر تنقید کرتے ہی نظر آتے ہیں۔ مثلا فرماتے ہیں:

   انجام خرد ہے بے حضوری                                  ہے فلسفہ زندگی سے دوری

تو اپنی خودی اگرنہ کھوتا             زنارئِ برگساں نہ ہوتا
ہیگل کا صدف گہر سے خالی        ہے اس کا تلسم سب خیالی

ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی[1] اس زمانے میں             تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے

یہاں ایک اور وضاحت بھی ضروری ہے کہ جب تحریر کے آغاز میں خودی کی سادہ اور آسان تشریح کی بات کی گئی تھی تو اس سے مراد تصور خودی کی تشریح تھی نہ کہ فلسفہ خودی کی۔ فلسفہ خودی در اصل وہ جامع فلسفہ ہے جس کی بنیادیں علامہ اقبال نے اپنے تصور خودی پر استوار کیں۔فلسفہ خودی کو  سمجھنا  یقیناًاتنا آسان نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی آسان تشریح ہو سکتی ہے۔  اس  فلسفے کا بنیادی تصور  کیونکہ اللہ رب العزت کے عطا کردہ علم وحی پر ہونے کی وجہ سے صحیح ہے ،ا س کی تشکیل بھی صحیح طرز پر ہو سکتی ہے ، جو اسے ان تمام فلسفوں پر فوقیت دے سکتی ہے جو تمام تر علمی و عقلی دلائل سے مرصع ہونے کے باوجود غلط تصورات پر استوار ہونے کی وجہ سے غلط قرار پائے جا چکے ہیں یا پانے جا رہے ہیں۔شارحین اقبال کے نزدیک یہ واحد فلسفہ ہے جو کائنات خدا اور انسان کو ایک مربوط انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اثرات فلسفۂ انسان و کائینات، فلسفۂ سیاست ، فلسفۂ قانون، فلسفۂ تعلیم، فلسفۂ  اخلاق، فلسفۂ اقتصادیات، فلسفۂ تاریخ ، فلسفۂ ہنر، فلسفۂ نفسیات وغیرہم سب پر کسی نہ کسی صورت میں پڑتے ہیں۔ ڈاکٹر رفیع الدین مرحوم جو اقبال کے ایک مستند شارح ہیں اپنی کتاب ’حکمت اقبال ‘ کے دیباچے میں تصور خودی اور فلسفہ خودی کے درمیان اس فرق کو یوں واضح کرتے ہیں:

’عرصہ دراز تک اقبال کا مطالعہ کرنے کے بعدمیں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اقبال کے تصورات  علمی اور عقلی اعتبار سے نہایت برجستہ، زوردار،  درست اور ناقابل تردید ہیں اور اگر چہ یہ تصورات اس کی نظم اور نثر کی کتابوں میں  جا بجا بکھرے ہوئے ہیں تاہم ان میں ایک عقلی اور  ایک علمی ربط موجود ہے۔اور اس کی جہ یہ ہے کہ وہ سب کے سب صرف ایک تصور سےماخوذ ہیں جسے اقبال خودی کا تصور کہتا ہے۔لحاظہ اقبال کی  تشریح کا یہ مقصدہونا چاہیئے کہ خودی کے مرکزی تصور کے ساتھ  اس کے دوسرے تمام تصورات کے  علمی اور عقلی ربط کو واضح کی جائے اور اگر ایساکرنے کے بغیر ا س کی کوئی تشریح کی جائے گی تو وہ مسلمانوں کے لیے بالعموم اور غیر مسلموں کے لیے بالخصوص  پوری طرح سے قابل فہم اور تسلی بخش نہیں ہو سکے گی۔دراصل اس وقت بھی اقبال کےخیالات کے متعلق جس قدر غلط فہمیاں مسلمانوں اور غیر مسلموں  میں  پائی جاتی ہیں اس کا سبب یہی ہے کہ اقبال کے خیالات کی علمی اور عقلی ترتیب اور  تنظیم مہیا نہیں کی گئی ۔ دوسرے الفاظ میں میرا نتیجہ یہ تھا کہ  اقبال کا فلسفہ  دنیا کے اور بڑے فلسفوں  کی طرح بالقوہ انسان اور کائنات کا ایک مکمل  اور مسلسل فلسفہ ہے جس کا امتیازی وصف یہ ہوتا ہے کہ  اس کے تصورات میں ایک عقلی  یا منتقی ترتیب  موجود ہوتی ہے  جو اسے موثر اور یقین  فروز بناتی ہے ۔اور اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ  اقبال کے تصورات کی مخفی  عقلی ترتیب اور تنظیم  کو ٓاشکار کرکے اس کے فکر کو ایک  مکمل نظام حکمت  (Philosophical System)   کی شکل دی جائےتا کہ وہ نا صرف پاکستا ن کے اندر پوری طرح قابل فہم بن جائے  بلکہ دنیا کے آخری باطل شکن  عالمگیر فلسفے کی حیثیت سے  دنیا کے علمی حلقوں میں اپنا مقام  حاصل کر سکے۔‘   

 جہاں تک فلسفہ خودی کی بات ہے تو وہ آگے چل کر  اس کو مستقبل کا فلسفہ اور یہاں تک کے کائینات کا آخری فلسفہ قرار دیتے ہیں [2]:

’ حکمت اقبال کی یہی وہ خصوصیات ہیں جو اسے کائینات کو وہ آخری فلسفہ بنا دیتی ہیں جو ہر دور کے باطل فلسفوں کا مسکت اور تصلی بخش جواب ہو۔شاہ ولی اللہ اور محی لدین ابن عربی کے زمانے میں اس قسم کے فلسفہ کا وجود میں آنا ممکن نہیں تھا۔آج اگر مسلمان یا کوئی اورقوم جدلی مادیت (Dialectical Materialism) کا معقول علمی جواب دینا چاہے جسے دور حاضر کا انسان سمجھ سکے تو وہ صرف اقبال کے نظام حکمت سے ہی پیدا کیا جاسکتا ہے۔ کسی اور فلسفہ سے پیدا نہیں کیا جا سکتا ۔انسان اور کائینات کی سچی حقیقت کو سجھنے کے لیے جس قسم کی ذہنی رکاوٹیں کسی زمانے میں پیدا ہوتی ہیں قدرت ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے علاج بھی ویسا ہی کرتی ہے۔ اقبال کا فلسفہ خودی اپنے مزاج کے لحاظ سے اپنے دور کے فلسفوں کی تمام ظاہری خصوصیات سے حصہ لیتا ہے تا کہ ان کا تصلی بخش جواب بن سکے۔‘

چنانچہ فلسفہ خودی پر انہوں نے ایک شہرہ آفاق تصنیف ’آئڈیالوجی آف دی فیوچر (Ideology of the Future)‘ لکھی  جس کو بہت پزیرائی حاصل ہوئی  ۔لیکن اس  پر ابھی بہت کام کرنا باقی ہے اور ابھی تک جو کام بھی ہوا ہے اس کی حیثیت ابتدائی نوعیت کی ہے۔ بہر حال  اس تحریر کا مقصد فلسفہ خودی کو تفصیلاً پیش  کرنا نہیں ہے  جس پر  انشاء اللہ پھر کبھی بات ہو گی۔بلکہ اسکا مقصد تصور خودی کے اس پہلو کو واضح کرنا ہے جو عملی بھی ہے اور انقلابی بھی ۔جسے اقبال تعمیرخودی سے تعبیر کرتے ہیں  ۔ اسکے لیے علامہ نے تربیت خودی اور استحکام خودی کے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔سادہ الفاظ میں یہ وہ انقلابی تصور ہے جس کا مقصد ان شیروں کو پھر سے اپنی خودی حاصل کرنے کا طریقہ بتانا ہے جو بھیڑ کی نصیحت پرعمل پیرا ہو کر اسے کھو بیٹھے ہیں۔ علامہ کے نزد یک یقین، عمل پیہم، عشق، فقر، خودداری ،حق گوئی و بےباکی وغیرہ وہ صفات ہیں جن کوا پنانے سے خودی مستحکم ہوتی ہے ۔ جہاں تک اس سلوک کا تعلق ہے جس کے ذریعے انسان اپنی خودی کی تربیت کر سکتا ہے علامہ نے مربوط شکل میں صرف چند مقامات پر ہی بیان کیا ہے۔ جیسا کہ ’ اسرار خودی‘ میں ایک مقام پر علامہ تربیت خودی کے تین مراحل بیان کرتے ہیں، اطاعت، ضبط نفس اور پھر نیابت الہی۔ لیکن اگر ان کےکل کلام پر غور کیا جائے تو ، اس سلوک کو انہوں نے بہت وضاحت سے پیش کیا ہے جس میں ان مراحل کے علاوہ اور مراحل کا ذکر بھی ملتا ہےگو کہ کہ وہ مربوط شکل میں موجود  نہیں ہیں۔ اس کی وجہ جیسا کہ پہلے بیان ہوئی یہی ہے کہ علامہ نے اپنے افکار  کا اظہار شاعری کے ذریعے سے کیا ہے، جس میں ربط قائم  رکھنا ممکن نہیں ہوتا ، کیونکہ ایسا کرنے سے شاعر ی کا حسن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عظیم شعراء کے شارحین ہوتے ہیں جو ان کے افکار کو ایک نظم اور ترتیب کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تاہم ان شارحین میں وہی شاعر کے تصورات کو واضح کر پاتے ہیں جواس کے طبیعی میلانات اور ماخذات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ ورنہ ایسا ہوتا ہے کہ شارحین شعراء کے کلام میں موجود اجمال سے فائدہ اٹھا کر تشریح کی آڑ میں اپنے نظریات پیش کردیتے ہیں۔ چنانچہ اس تحریر کا  مقصد غیر جانبدار ہو کر علامہ اقبال کے کلام کی روشنی میں تعمیر خودی کے سلوک کو ایک مربوط شکل میں پیش کرنا  ہے تاکہ اس انقلابی تصور کے ذریعے موجودہ دور کے لیے عملی راہنمائی حاصل کی جا سکے ۔

تعمیر خودی کے اس سلوک کے ضمن میں علامہ نے صرف مراحل ہی بیان نہیں کیے بلکہ ان ذرائع  کی نشاندبھی کی ہے   جن کے ذریعے انسان ان مراحل کو عبور کر سکتا ہے اور یہی ان کے کلام کاا امتیاز ہے۔ یقین، عمل پیہم، عشق، فقر، خودداری ،حق گوئی و بےباکی وغیرہ جن صفات کو اپنانے کی تلقین اقبال کرتے ہیں ، یہ تو ہمیشہ سے معلوم ہیں۔ لیکن ان صفات کو کیسے اپنایا جا سکتا ہے اس پر شائد اس تفصیل سے بات کسی کے ہاں نہیں ملتی۔  

 

۱۔سلوک تعمیر خودی:

اقبال کے نزدیک کائنات کی ہر شے اپنی خودی سے آشنا اور اس  کی نمود میں محو ہےا ور اسی وجہ سے وہ موجود ہے۔ایک انسان ہی ہے جو اپنی خودی سے  نا آشنا   ہو کر معدوم ہو رہا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ علامہ اقبال کا مقصدِ زندگی یہی تھا کہ انسان کی خودی سے آشنائی کروائی جائے  تا کہ وہ اس کی نمود کے قابل ہو کر اپنا وجو د برقرار رکھ سکے۔ ان کے نزدیک  ذوق نمود کے بغیرزندگی موت ہے اورخدا کی ہرمخلوق اور بالخصوص اشرف المخلوقات  کی بقاء کا دارومدار اسی پر ہے کہ وہ تعمیر خودی  کی کوشش کرتی رہے ۔بال جبریل میں علامہ اس حقیقت کو نہایت خوبصورتی کے سا تھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

ہر چيز ہے محو خود نمائی             ہر ذرہ شہيد کبريائی

بے ذوق نمود زندگی، موت تعمير ِخودي ميں ہے خدائی

تعمیر خودی  بلاشبہ علامہ کی شاعری کا  خاص موضوع ہے ۔ ذیل میں  ان کے پیش کردہ  سلوک ِتعمیر خودی کو تفصیلاً پیشکیا جا رہا ہے:

 

پہلا مرحلہ:بلندمقصد کا تعین:

علامہ اقبال کے نزدیک وہ شخص جس کا مقصد صرف ضروریات زندگی کا حصول ،نفس پرستی اور شہوت رانی ہی  ہے تو ایسا شخص اپنی خودی کی تعمیر نہیں کر سکتا ۔ بلکہ اس کی حیثیت جانور سے زیادہ نہیں کیونکہ ان کا مقصد بھی  نفس پرستی  اور شہوت رانی ہے۔

مثل حیواں خوردن ٓاسودن چہ سود؟            گر بخود محکم نۂِ بودن چہ سود؟
[حیوانوں کی مانند محض کھانے اور آرام کر لینے کا کیا فائدہ ؟ اور اگر تو اپنے آپ میں توانا نہیں تو زندگی کا کیا فائدہ؟]

 جو شخص اپنی ذات سے بلند ہو کر کسی اعلیٰ مقصد کو پانے کی کوشش کرتا ہے تو یہیں سے اس کی خودی کی تعمیر شروع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ علامہ اقبال کے نزدیک سلوک تعمیرخودی کا سب سے پہلا مرحلہ ایک بلند مقصد کا تعین ہے۔ یہ دراصل انسان کی فطرت ہے کہ اگر وہ کوئی بھی کام سرانجام دینا چاہتا ہے توپہلے اس کو اپنا مقصد بناتا ہے۔ اگر اس کام کی تکمیل اس کا مقصدنہ ہو تو وہ کبھی بھی اس کے لیے عمل پیرا نہیں ہو پاتا.علامہ کا انسان مطلوب کیونکہ قرآن کا بند ہ مؤمن ہے ، چنانچہ وہ مقصد کا تعین بھی قرآن کی روشنی میں ہی کرتے ہیں ۔ خود اسلامی لٹریچر میں جہاں کہیں انسان مطلوب حضور ﷺ کو ہی سمجھا گیا ہے وہاں بھی مقصد کے صحیح تعین میں غلطی ہوئی ہے۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ انسان کی اس حقیقت تک رسائی علم وحی کے بغیرممکن نہیں ۔ اس مقصد کے صحیح تعین میں سب سے بڑی رکاوٹ خودانسان کی اپنی ماہیت ہے۔ آسمانی کتابوں کی تعلیمات کے مطابق انسان روح و بد ن کا مرکب ہے۔ لیکن مغربی فکر میں اس کو محض بدن تک محدود کرد یا گیا۔اس گمراہی کی وجہ وہ بدترین پاپائیت  (Theocracy) تھی جس کی وجہ سے وہ ایک طویل عرصے تک دور جاہلیت میں رہے۔ چنانچہ مغرب  میں اس کے رد عمل میں جو تحریک احیا ء العلوم شروع ہوئی ، اس میں دین سے  بیزاری کا عنصر غالب تھا ۔ چنانچہ اس کے بعد جوبھی نظریات اور فلسفے سامنے آئے، ان میں انسان کے بدن کو ہی اصل اہمیت حاصل رہی ،جبکہ روح جو مذہبی تعلیمات  کا اصل محور ہے کو سراسر فراموش کر دیا گیا۔ چانچہ نیٹشےجس کا تصور فوق البشر اقبال کے تصور مرد مومن کے کافی قریب تر ہے ، روح کا ہی نہیں ، خدا کا بھی انکاری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا فوق البشر ایک ایسی سفاک ہستی ہے جو کسی اخلاقیات کا پابند نہیں ہے، وہ حق و باطل طے کرنے میں خود مختار ہے اور کسی کو جواب دہ نہیں ہے۔ اس کامقصد صرف طاقت حاصل کرنا ہے اور اس راہ میں حائل ہر رکاوٹ کوبزور طاقت ہٹا دینا ہے۔

 اس کے برعکس ہم جب روایتی اسلامی تصوف [3]کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاںہمیں ترک دنیا کا سبق ملتا ہے جہاں زیادہ اہمیت انسان کی روح کی ہے اور بدن کو یا دنیا کو کافی حد تک فراموش کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی تصوف کا بلند ترین مقام فنا فی اللہ ہے جہاں سالک دنیا سے بیزار ہو کر اللہ کی یاد میں خلوت گزیں ہوجاتا ہے۔ اور پھر سلوک کی ان منازل کو طے کرنے کے بعد اس کا مقصد اب دوسروں کو بھی اسی سلوک پر چلا کر اس منزل تک پہنچانا ہوتا ہے۔ یہ دونوں انتہائیں انسان کی ماہیت کو کلی طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہیں۔ علامہ اقبال نے اس کے برعکس اس حقیقیت کو واضح کیا کہ انسان روح و بدن کا مجموعہ ہے اس کو کسی صورت بھی علحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا ۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں[4]:

’’مغرب نے مادے اور روح کی ثنویت کا عقیدہ’ مانویت‘ کے زیر اثر قبول کر لیا ہے۔اس کے برعکس اسلام کے نزدیک ذات انسانی بجائے خود ایک وحدت ہے وہ مادے اور روح کی کسی ناقابل اتحادثنویت کی قائل نہیں۔ اسلام کی رو سے خدا اور کائنات ، روح اور مادہ ایک ہی کل کے مختلف اجزاء ہیں۔انسان کسی ناپاک دنیا کا باشندہ نہیں جس کو اسے ایک روحانی دنیا کی خاطر ترک کر دینا چاہیے۔ اسلام کے نزدیک مادہ روح کی اس شکل کا نام ہے جس کا اظہار قید زمانی و مکانی میں ہوتا ہے۔‘‘

پھراسی ضمن میں یہ فرماتے ہیں:

اگر نہ ہو تجھے الجھن تو کھول کر کہہ دوں                        وجود حضرت انساں، نہ روح ہے، نہ بدن

اس سے یہ براہ راست نتیجہ نکلتا ہے کہ اب تعمیر خودی کے لیے جو بھی مقصد تعین ہونا چاہیے وہ بیک وقت دنیوی بھی ہونا چاہیے اور اخروی بھی۔ تبھی انسان کی صحیح نہج پر تربیت ہو سکتی ہے اور وہ اپنا اصل مقام پاسکتا ہے۔ چنانچہ اقبال’اسرار خودی‘ میں اس مقصد کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے پر زور انداز میں اس کو اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں:

اے ز ِرازے زندگی بیگانہ خیز

از شراب مقصد ے مستانہ خیز

[اے کہ رازِ زندگی سے بے خبر ہے ہمت سے اٹھ اور کسی مقصد کی شراب سے مستانہ ہو کر اٹھ]

مقصدے مثل ِسحر تابندۂ

ماسواء را آتشِ سو زندۂِ

[ایسا مقصد جو نور سحر کی مانند روشن ہواور غیر اللہ کو آگ کی طرح جلا کر راکھ کر دے ]

مقصدے از آسماں بالاترے

دلربا ئے، دلستانے، دلبرے

[ایسا مقصد جو آسمان سے بھی بلند تر ہو، وہ دلربا بھی ہو دلستاں بھی اور دلکش بھی]

باطل ِدیرینہ را غارَت گرے

فتنہ در جیبے، سراپا محشرے

[وہ مقصد جو پرانے نظام باطل کو برباد کرنے والا ہو، اس کی جیب میں فتنے ہوں اور وہ خود سراپا محشر ہو]

مازِ تخلیقِ مقاصد زندہ ایم

از شعاعِ آرزو تابندہ ایم!

[ہم تو صرف تخلیق مقاصد ہی سے زندہ ہیں اور ہمیشہ آرزو کی شعاع ہی سے روشن ہیں]

اس مقصد کی خصوصیات اور پھر علامہ کا انسان مطلوب کو رسول ﷺ کی ذات میں دیکھنا اور ان کا قرآن مجید سے والہانہ لگاؤ، ان سب حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو علامہ کی نظر میں یہ مقصد اللہ کی رضا کی خاطر ’اقامت دین‘، اظہار دین‘ یا ’اعلاے کلمۃ اللہ ‘کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔یہ سچ ہے کہ علامہ اقبال نے اس مقصد کو بلخصوص  اس نام سے تفصیلاً پیش نہیں کیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کسی تصور کو عرف عام میں پیش کیا جاتا ہے تو اس میں کبھی بھی اس تصور کو پیش کرنے والا مخصوص اصطلاحات استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے ،کیونکہ ایسا کرنے سے اس تصور کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود جو اس کے طبیعی میلانات کو جانتا ہے وہ اس کے تصور میں ان کی جھلک ضرور دیکھ لیتا ہے۔ بہر حال ’اسرار خودی‘ میں ایک ایسا مقام ضرور ہے جس کے عنوان میں علامہ نے اس مقصد کا صریحاً ذکر کیا ہے۔ یہ عنوان اور اس نظم کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:

در بیاں ایں کہ مقصد ِحیاتِ مسلم اعلاے کلمتہ اللہ است و جہاد اگر محرک ِاُو جوع الارض باشد در مذہبِ اسلام حرام است
(اس موضوع کے بارے میں کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد کلمتہ اللہ کا بلند کرنا ہے اور ایسا جہاد جس کا محرک تسخیر ممالک ہو ، اسلام کی روسے حرام ہے)
صلح شرگردَد چو مقصود است غیر            گر خدا باشد غرض، جنگ است خیر
[اگر خدا کے سوا کچھ اور مقصد ہو گا تو صلح بھی جو بظاہر نیک کام ہے سراسر برائی بن جائے گی اور اگر غرض حق ہو تو جنگ میں بھی جو بظاہر برا کام ہے بلاشبہ خیر کا پہلو ہوتا ہے]
گر نہ گردد حق زِتیغ مابلند                        جنگ باشد قوم را نا ارجمند
[اگر ہماری تلوار سے کلمہ حق سر بلند نہ ہو تو اس قسم کی جنگ ملت کے لیے بے کار اور بے وقعت ہو گی]

پھر علامہ کے بیشمار اشعار ہیں جن سے اس نتیجے کی تائد ہوتی ہے:

  وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے            نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے!
            نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری                 کہ فقرخانقاہی ہے فقط اندوہ ودلگیری
               تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوا ر                لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

ان اشعار اور اسی طرح اقبال کے سارے کلام پر غور کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ علامہ کے نزدیک وہ بلند ترین مقصد جس پر انسان کی خودی کی تعمیر ہو سکتی ہے ، اعلائے کلمتہ اللہ ہی ہے۔ اقبال کے ماخذ یعنی قرآن سے تویہ حقیقیت مزید واضح ہو جاتی ہے ۔سور ۃ صف کی مندرجہ ذیل آیت میں تو اللہ رب العزت خود رسولﷺ کی زندگی کا مقصد متعین فرماتے ہیں:

ھُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ ۔ [ سورۃ صف،۹]
’وہی (اللہ)ہے جس نے بھیجا اپنے رسول ﷺکو ہدایت دے کر اور سچا دین دے کر تاکہ اسے غالب کردے کل دین پر چاہے مشرکوں کو کتنا ہی برا لگے۔‘

گویا کہ اظہار دین ایسا مقصد اور نصب العین ہے جو تعمیر خودی کے سلوک کو واضح کرنے کے لیے خود اللہ تعالٰی نے رسول اکرمﷺ کے لیے مقرر کیا۔ یقیناًحضور ﷺ کو اس تعمیر کی ضرور ت نہ تھی ، لیکن ا للہ تعالیٰ نے چونکہ ان کی سیرت کو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے اسوہ بنانا تھا ان کو بھی تعمیر خودی کے اس سلوک پر چلنا پڑا۔ عقلی اور منطقی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو اس سے بلند تر مقصد کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ بیک وقت مادی اور روحانی  دونوں اعتبار ات سے اعلی ترین مقصد ہے۔ مادی و دنیوی لحاظ سے دیکھا جائے تو سب سے بلندمقصد طاقت اور حکومت کا حصول ہی مانا جاتا ہے کیونکہ باقی تمام مقاصد اسی کے تابع ہیں۔شہرت اور مال و دولت حاصل کرنے کے بعد بھی انسان میں طاقت کے حصول کی طلب باقی رہتی ہے ۔ ہاں اگر طاقت حاصل ہو جائے تو پھر ایسا شخص اس کو  برقرار رکھنے کی کوشش کرتاہے۔    اس کے برعکس روحانی لحاظ سے دیکھا جائے تو سب سے بلند مقصد دنیا سے بے نیازی ہے  ،جسے عام طور پر فقر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جس نے بھی اس طرف کچھ پیش رفت کی وہ عظیم آدمی کہلایا۔اب اگر ان دونوں مقاصد کو ملا دیا جائے تو مقصد کچھ اس طرح طے پائے گا کہ طاقت حاصل کرنا اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے نہیں بلکہ اس سے بھی بلند تر مقصد کے لیے  اور یہ اقامت دین ہی ہو سکتا ہے جس کا تقاضہ  اللہ تعالٰی کی رضا کی خاطر اس کے دین کی سربندی کے لیے طاقت حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا  ہے ۔ اور اقبال کے نزدیک  یہی سچا فقر  ہے کہ دنیا کی سب سے محبوب ترین شے یعنی طاقت موجود ہو (یا اس کے لیے کوشش ہو)اور پھر بھی  اس سے بے نیاز  رہا جائے (یا رہنے کا عزم ہو) ۔کسی کے پاس دنیاوی لحاظ سے بلند ترین مرتبہ نہ ہوتو اس کے بغیر اس کا دعوائےفقر ایک جھوٹا دعویٰ  ہی گردانا جائے گا۔علامہ کا تصور فقر اس روائیتی تصورِ فقر سے کس قدر مختلف ہے اسے انہوں نے  یوں بیان فرمایا ہے: ۔

اک فقر سکھاتاہے صیاد کو نخچیری!

اک فقر سے کھلتے ہیں اسرار جہانگیری

اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری!

اک فقر سے مٹی میں بھی خاصیت اکسیری!

اک فقر ہے شبیّری(حسینؓ)اس فقر میں ہے میری

میراثِ مسلمانی سرمایہِ شبیری ؓ!

بہر حال جس قسم کا مقصد چنا جائے گا تعمیر بھی اسی نہج پر ہوگی۔ اگر نیٹشے کے مطابق مقصد صرف طاقت حاصل کرنا ہے تو پھر ہٹلر، نیپولین، سکندر جیسی شخصیات ہی تشکیل پائیں  گی اور اگر مقصد صرف دنیا سے بے نیاز ہو کر یاد باری تعالیٰ میں محو ہو جانا ہے تو پھر روائتی صوفیا ء جیسی ہستیاں ہی تشکیل پائیں  گی۔ جبکہ اقبال کا انسان مطلوب یعنی انسان کی اصل یا خودی بندۂ مؤمن ہے اور جس کی معراج حضور ﷺ کی ذات اقدس ہے ، یہ’ حلقہ یاراں‘ ہو تو ریشم کی طرح نرم ہوتا ہے لیکن’ رزم حق و باطل‘ ہو تو فولادبن جاتا ہے، اس کے دل میں دنیا کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود یہ’ جہانگیر‘،’جہاں دار‘، ’جہاں بان‘ اور’ جہاں آرا‘ ہوتا ہے۔ اور یہ انسان مطلوب جس مقصد کے لیے جدوجہد کے نتیجے میں تشکیل پا سکتا ہے وہ مقصد آپﷺ کے مقصد کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا جو خود اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مقرر فرمایا۔

 

دوسرا مرحلہ: آرزو:

مقصد کے تعین کے بعدتعمیر خودی میں اقبال کے نزدیک دوسرا مرحلہ آرزو کا ہے۔ یعنی اس مقصد کو پا لینے کی آرزو۔ جس مقصد کو پالینے کی آرزو ہی  دل میں نہ ہو تو اس کے حصول کے لیے کوشش کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ’اسرارخودی‘ کےمندرجہ ذیل اشعار میں اقبال مقصد ،آرزو  اور جستجو کے باہم تعلق کو یوں بیان کرتے ہیں:

زندگانی را بقا از مُدّعا ست                       کروانش رادرا از مدعاست
[زندگی کی بقاء کسی نہ کسی مقصدسے ہے ، اور اس قافلے کے لیے بانگ جرس مقصد ہی ہے]
زندگی در جستجو پوشیدہ است       اصل اُو در آرزو پوشیدہ است
[مستقل قوت زندگی جستجو میں پوشیدہ ہے اور اس کی بنیاد آرزو پر رکھی گئی ہے۔]
آرزو را در دلِ خود زندہ دار                     تا نہ گردَد مشتِ خاکِ تو مزار
[آرزو کو اپنے دل میں زندہ اور بیدار رکھ ، تا کہ تری مشت خاک مزار نہ بن جائے۔]
آرزو جانِ جہانے رنگ و بو ست    فطرت ِہر شے امینِ آرزوست
[جہان رنگ و بو کی روح آرزو ہے اور ہر چیز کی فطرت آرزو کی امانت دار ہے]
از تمنا رقصِ دل در سینہ ہا                       سینہ ہا ا زتاب او آئینہ ہا
[سینوں میں دل تمنا ہی سے رقص کرتے ہیں اور تمنّا کی روشنی سے سینے مثل آئینہ مجلی ہیں]
طاقت ِپرواز بَخشَد خاک را                        خِضر باشد مو سئیٰ ادراک را
[آرزو خاک کو بھی طاقت پرواز عطا کرتی ہے اور وہ کلیمِ عقل کے لیے مانند خضر رہنمائی کرتی ہے]
دل زِ سوزِ آرزو گیرد حیات           غیر ِحق میرد چو  اُوگیرد حیات
[دل سوزِ آرزو ہی سے زندگی حاصل کرتا ہے جب آرزو دل میں زندہ ہو تی ہے تو غیراللہ فنا ہو جاتا ہے ]
چوں ز ِتخلیقِ تمنا باز ماند                         شہپرش بشکست و از پرواز ماند
[جب دل تخلیق مقاصد سے محروم ہو جائے ، تو سمجھ کہ اس کا شہپر(بازو) ٹوٹ گیا اور وہ محرومِ پرواز ہو گیا]
آرزو ہنگامہ آرائے خودی             موج ِبیتابے زِدریائے خودی
[آرزوہی خودی کو عمل کے لیے ہنگامہ آرا کرتی ہے، اور وہ دریائے خودی کی ایک بیچین موج ہے]

مقصد کا تعین کر لینے کے بعدگوکہ اس کے حصول میں بہت سے کٹھن مراحل حائل ہوتے ہیں، اس کو پالینے کی آرزو ہی و ہ محرک جذبہ ہے جو انسان کو عمل پیہم کے لیے ہر دم تیار رکھتا ہے۔ اقبال کے نزدیک نا امیدی خودی کی موت ہے اور یہی پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیمات بھی ہیں جنہوں نے نا امیدی کو کفر قرار دیا ہے۔ اقبال خود بھی اس آرزو سے بے قرار رہتے تھے ۔اپنے بارے میں ’پیام مشرق‘ میں لکھتے ہیں:

دل من بے قرارِ آرزوئے درون سینۂ من ہائے و ہوئے

[میرا دل آرزو سے بے قرار رہتا ہے اور اس سے میرے سینے میں ہائے و ہو کا شور بپا رہتا ہے]
سخن اے ہم نشین از من چہ خواہی                کہ من با خویش دارم گفتگوئے

[اے ہم نشیں مجھ سے باتوں کا کیا تقاضا کرتا ہے کہ میں تو اپنے آپ سے مصروف گفتگو رہتا ہوں]

تیسرا مرحلہ :جہاد :

آرزو کے بعد تیسرا مرحلہ مقصد کے حصول کے لیے عمل پیہم یا جہد مسلسل کا ہے۔ یہ وہ طویل مرحلہ ہے جس میں خودی کی صحیح معنوں میں تربیت ہوتی ہے ، اور یہی مرحلہ اسلا م کا تصور جہاد ہے۔ مقصد چاہے کوئی بھی ہو اس کے حصول میں مشکلات اور دشواریاں ضرور ہوتی ہیں اور ان کے خلاف سالک کو جہاد کرنا پڑتا ہے ۔ اس دوران ہو سکتا ہے کے ایسے پر خطر لمحات آجائیں جب انسان کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑ جائے لیکن اس کے باوجود اس سے گریز کی کوئی گنجائیش نہیں ۔ اقبال کے نزدیک اس مرحلے میں دشواریوں سے تنگ آکر خودداری پر سمجھوتہ کرنا اور عمل پیہم سے گریز کی روش اختیار کرنا خودی کی موت ہے، چنانچہ اس کے برعکس وہ سالک کو جان دے دینے کی تلقین کرتے ہیں۔’ اسرار خودی ‘میں فرماتے ہیں:

در عمل پوشیدہ مضمون حیات       لذتِ تخلیق قاَنون حیات
[دراصل زندگی کا راز عمل میں پوشیدہ ہے ،اور یہی قانون حیات کا حقیقی لطف ہے]
خیز و خلّاقِ جہانِ تازہ شو                         شعلہ در برکُن خلیل آوازہ شو
[اب اٹھ اور ہمت سے ایک نئی دنیا کا خالق ہو، سینے میں شعلہ عشق اٹھا اور خلیل اللہ کا نعرہ لگا]
با جہانِ نا مساعد ساختن                ہست در میداں سپر انداختن
[ایک مخالف اور نامساعد دنیا سے مغلوب ہو جانا ، گویا میدان جنگ میں ڈھال ہاتھ سے ر کھ دینا ہے]
مردِ خود دارے کہ باشد پختہ کار   با مزاج ِاُو بسازَد روزگار
[ایسا انسان جو خوددار بھی ہے اور پختہ کار بھی ، دنیا ضرور اس کی معاون اور مددگار ہوتی ہے]
گر نہ سازد با مزاجِ او جہاں                     می شود جنگ آزما با آسماں
[اور اگر دنیا اس کے مزاج و پسند کا ساتھ نہ دے ، تو وہ آسمان تقدیر سے جنگ آزما ہوتا ہے ]
برکند نبیادِ موجودات را                می دہد ترکیب نَو ذرّات را
[وہ موجودات کو اس کی جڑ سے اکھیڑ پھینکتا ہے ،اور نئے ذرات کو ترتیب دے کر نئی دنیا تعمیر کرتا ہے]
گردش ِایّام را برہم زند!                چرخ ِنیلی فام ر ابرہم زند!
[وہ گردش ایام کو درہم برہم کر دیتا ہے اورچرخ نیلی فام کا بھی شیرازہ بکھیر دیتا ہے ]
می کنداز قوّت خود آشکار                         روزگارِ نَو کہ باشد سازگار
[وہ اپنی قوت تسخیر سے ایک نئی دنیا بناتا ہے ، وہ دنیا جو اس کے حسب منشاو سازگار ہو]
در جہاں نتواں اگر مردانہ زیست                ہمچو مرداں جاں سپر دن زندگیست
[اگر دنیا میں جواں مردوں کی طرح زندہ نہیں رہا جا سکتا ، تو پھر بہادروں کی طرح جان قربان کرنا ہی زندگی ہے]

مندرجہ بالا اشعار میں علامہ اقبال کا نظریہ تقدیر بھی وضاحت کے ساتھ آگیا ہے ، جس کی اصلاح کیے بغیر  خودی کی تعمیر نہیں ہو سکتی ۔ جو شخص اپنی کم ہمتی اور ناسا ز گار حالات کو  تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر بیٹھ جائے تو وہ تعمیر خودی کے   اس سلوک پر نہیں چل سکتا۔ اس کے برعکس اس راہ میں کامیاب وہی ہو گا جو تقدیر سے بھی جنگ آزما لے۔ اس بنا پر شاید کوئی اقبال کو ’قدریہ‘ جان لے۔ لیکن اقبال قدریہ کی طرح یہ نظریہ نہیں رکھتے تھے کہ تقدیر ہمیں پابند کر ہی نہیں سکتی ، بلکہ ان کا اس ضمن میں نظریہ یہ ہے کہ ہم تقدیر کےپابند نہیں بلکہ اللہ کے احکامات  کے پابند  ہیں ۔ ہاں  تقدیر نے  ہر حال میں ہمیں پابند کرکے رہنا ہے۔ اس ضمن میں ان کا مندرجہ ذیل شعر بہت اہم  ہے:

تقدیر کے پابند نباتات  و جمادات                مؤمن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند

چنانچہ تقدیر کی پابندی کرنا جانوروں اور پودوں کا کام ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں ۔پر انسانوں کا معاملہ یہ نہیں ان کو اختیار دیا گیا ہے کہ  ’اِمَّاشَاکِر ۱ً وَّ اِمَّا کَفُورًا‘، چنانچہ تقدیر کا فیصلہ ہو یا اللہ کی نازل کردہ شریعت کا فیصلہ ، ہیں دونوں اللہ ہی کے فیصلے پر ہم  مکلف شریعت الٰہی کے ہیں ، تقدیر الٰہی  کےنہیں۔  ہم تقدیر کے فیصلے کو اسی وقت تسلیم کریں گے جب یہ شریعت کے حکم کے موافق ہو گا ، ورنہ اللہ کے حکم شریعت سے حکم قدر کے خلاف لڑنےمیں ہی ہماری اخروی نجات ہے۔  علامہ اقبال اپنی مشہور نظم پیر و مرید میں اپنے پیر مولانہ رومی سے جب جہاد کے بارےمیں سوال پوچھتے ہیں تو ان کا جواب اسی مسئلے کی وضاحت میں اس طرح آتا ہے:

                       تری میرے دل کی کشاد                   کھول مجھ پہ نکتہ حکم جہا د

      نقش حق را ہم بہ امر حق شکن              بر زُجاج دوست  سنگ دوست زن

(نقش حق (خدا)کو امر حق(خدا) سے توڑ دو،دوست کے آئینے کو دوست کے پتھر سے توڑ دو)

علامہ اس مرحلے میں ہمت اور عزم کا درس دیتے ہیں،  کیونکہ اس مرحلے کو پار کرنا ا ن صفات کے بغیر ممکن نہیں۔ ان  کے نزدیک موت جان و تن کا جدا ہونا نہیں بلکہ خودی  سے غافل ہوجانا اصل موت ہے۔

مثل حیواں خوردن ٓسودن چہ سود؟      گر بخود محکم نہءِ بودن چہ سود؟


حیوانوں کی مانند محض کھانے اور آرام کر لینے کا کیا فائدہ ؟ اور اگر تو اپنے آپ میں توانا نہیں تو زندگی کا کیا فائدہ؟


خویش را چوں از خودی محکم کنی            تو اگر خواہی جہاں برہم کنی
جب تو اپنے آپ کو خودی سے محکم اور توانا کر لے،پھر اگر تو چاہے تو تمام دنیا درہم برہم کر سکتا ہے

گر فنا خواہی زِخود آزاد شو       گر بقا خواہی بخود آباد شو
[اگر تو فنا(فنا فی اللہ ۔اشارہ ہے روائتی صوفیا ء کے مقصد کی طرف) چاہتا ہے تو اپنے آپ سے آزاد ہو جا ،لیکن اگر تو بقا (بقاء با اللہ  ۔ اشارہ ہے شیخ احمد سرہندی کی  تجدیدی مساعی کی طرف کہ انہوں نے روائتی صوفیا ء کے نظریے کی اصلاح کی اور ان میں جذبہ جہاد پیدا کر دیا )چاہتا ہے تو اپنے آپ کو خوب پہچان لے]


چیست مردن؟ ازخود ی غافل شدن     توچہ پنداری فراق جان و تن
[موت کیا چیز ہے ؟ خودی کی ممکنات سے غافل ہو جانا ، کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ موت فراق جان و تن کا نام ہے؟]

 

تربیت خودی کے ضمن میں جو مراحل اجمال کے ساتھ’ اسرار خودی‘ میں علامہ نے بیان کیے ہیں، اس کا پہلامرحلہ اطاعت بھی اسی مرحلہ جہاد کا ایک حصہ ہے۔ کیونکہ عمل پیہم و جہد مسلسل کسی نظم کے تحت ہوں تو ہی کارآمد  ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں علامہ نے بہت خوبصورت مثالیں دی ہیں:

سبزہ بر دین نمو روئیدہ است          پائمال از ترک آں گردیدہ است
[سبزہ بڑھنے پھولنے کے نظام کے تحت اگتا ہے ، اگر وہ اس نظام سے پہلو تہی کر ے تو وہ پاوں کے نیچے روندا جاتا ہے]
لالہ پیہم سوختن قانون او              بر جہد اندر رگ او خون او
[لالہ کا آئین و دستور مسلسل جلتے رہنا ہے(سرخ رنگ کی طرف اشارہ ہے)اس کی رگوں میں اس کا خون دوڑتا رہتا ہے]
قطرہ ہا دریا ست از آئین وصل       ذرہا صحراست از آئین وصل
[باہم مل جانے کے بنا پر قطرے دریاکی شکل اختیار کر جاتے ہیں ۔ اسی باہمی ملاپ کے دستور کے سبب ذرے صحرا بن جاتے ہیں]
باطن ہر شے زآئینِ قوی                تو چراغافل زایں ساماں روی
[ہر چیز کا باطن کسی نہ کسی ائین کی وجہ سے مضبوط اور مستحکم بنتا ہے ( تو پھر) تونے کس لیے اس پابندی اور فرما برداری کو پس پشت ڈال رکھا ہے؟ کیوں غفلت برت رہا ہے؟ ]

 

چوتھا مرحلہ : علم و عقل:

مقصد کے صحیح تعین کے بعد اس کو پا لینے کی آرزو یقیناًسالک کو اس کے لیے جستجو کرنے پر آمادہ کر لیتی ہے ،لیکن اس کٹھن سفر میں جو مشکلات و مصائب حائل ہوتے ہیں ان کوپار کرنے کے لیے اس سے بڑھ کر بھی کچھ درکار ہوتا ہے، اور وہ علامہ کے نزدیک یقین محکم ہے۔

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم                       جہادزندگانی میں ہیں مردوں کی یہ شمشیریں

اس یقین کے حصول کے ذرائع اقبال کے نزدیک دو ہیں، ایک علم اور دوسرا عشق۔ ان کو اقبال عقل اور جنوں سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔ علامہ کے نزدیک علم و عقل صرف ایک حد تک ہی یقین کی منزل تک پہنچا سکتے ہیں لیکن یہ اصل میں عشق و جنون  ہیں جو سالک کو اس منزل کے بلند درجوں تک پہنچا دیتے ہیں۔علم و عقل اور عشق و جنون کا تعمیر  خودی کے ساتھ کیا تعلق ہے اس کی وضاحت کے لیے علامہ کا مندرجہ ذیل شعربہت جامع ہے:

خودی ہو اگر عقل سے محکم تو غیرت جبرائیل           اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل

[ خودی اگر علم و عقل سے محکم  ہو جائے تو جبرائیل بھی رشک کرتےہیں لیکن مقصد کے حصول میں  حائل رکاوٹیں اس وقت تک  عبور نہیں کی جاسکتیں  جب تک خودی عشق سے محکم  ہو کر ’صور اسرافیل ‘ کی صورت اختیار نہ کر جائے]

اسرار خودی میں علم کی اہمیت اس طرح واضح کرتے ہیں:

علم از سامان حفظ زندگی است                  علم از اسباب تقویم خودی است

[علم سے زندگی کی حفاظت کا سامان میسر آتا ہے ،اور علم سے  ہی خودی کی تقویم کے اسباب مہیا ہوتے ہیں]

 اسی طرح ایک جگہ عقل کو اسی سلوک میں ایک چراغ راہ کی حیثیت دیتے ہیں:

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور               چراغ راہ ہے، منزل نہیں ہے

چنانچہ مقصد کو پالینے کی آرزو کے ساتھ ساتھ سالک کو علم ،عقل یا فکر کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ وہ اس سلوک کی حقانیت کے بارے میں ابتدائی مراحل میں انشراح صدر حاصل کر سکے۔ اگر کوئی کسی سلوک سے پوری طرح مطمئن ہی نہ ہو تواس سلوک کے مقصد کو اپنا مقصد بنانے اور اس کے حاصل کرنے کی آرزو اور تمنا رکھنے کے باوجود بھی اس راہ میں زیادہ آگے نہیں جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ علم و فکر کو اس جستجو میں چراغ راہ گردانتے ہیں۔


پانچواں مرحلہ : عشق و جنون:

جب سالک کو علم کے ذریعے مقصد کو پالینے کاکچھ یقین حاصل ہو جاتا ہے تو وہ رفتہ رفتہ اس راہ پر تندہی سے پیش رفت کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ کیفیت حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ دیوانہ وار اس کے حصول کے لیے گامزن ہو جاتا ہے۔ یہی دراصل مقام عشق (Passion)ہے ۔عشق سے خودی  صحیح معنوں میں استحکام پاتی ہے۔ اسرار خودی میں علامہ فرماتے ہیں:

از محبت می شود پاینده تر      زنده تر سوزنده تر تابنده تر

[یہ(خودی)محبت سے زیادہ دیر تک  رہنے والی،زیادہ زندہ، اور زیادہ جلانے والی اور زیادہ چمکنے والی بن جاتی ہے]

از محبت اشتعال جوهرش ارتقائے ممکنات مضمرش

[محبت ہی سے اس کے جوہر میں  نکھار پیدا ہوتا ہے  اور اس میں پوشیدہ امکانات یعنی قوتوں کی نشونما ہوتی ہے]

فطرت او آتش اندوزد ز عشق                    عالم افروزی بیاموزد ز عشق

[خودی کی فطرت عشق ہی سے حرارت حاصل کرتی ہے  اور عشق ہی سے دنیا کو روشن  اور منور کرنے کا طریقہ سیکھتی ہے]

 عشق  ایک بہت بڑی طاقت ہے جوبہت تیزی سے تعمیر خودی کے مراحل پار کرا دیتی ہے۔ اقبال کے نزدیک علم و عقل کے ذریعے حاصل کردہ یقین کے نتیجے میں سالک پر اپنا مقام واضح تو ہو جاتا ہے لیکن یہ عشق ہی ہے جو اسے اس مقام پر پہنچا سکتا ہے۔

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام          اس زمیں و آسماں و کو بیکراں سمجھا تھا میں

یہ مقصد کا عشق اس ہستی سے بھی عشق کا مؤجب بن جاتا ہے جس کی رضا اس مقصد کے حصول  میں ہو۔اوراگر مقصد وہی ہے جو رسول اکرم ﷺ کا مقصد تھا تو یہی مقصد کا عشق بعد میں عشق الہی بن جاتا ہے۔ اصل میں محبوب سے عشق کا تقاضا ہی یہ ہوتا ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے میں اپنا سب کچھ کھپا دیا جائے جس میں اس کی خوشی و رضا ہو، ورنہ تو عشق کی حیثیت ایک دعوے کے سوا کچھ نہیں رہتی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اقبال کا تصور عشق روایتی صوفیاء کے تصور عشق سے بہت مختلف ہے جس میں محبوب حقیقی سے الحاق ہی اصل مقصد ہوتا ہے ، جب کہ وہ امر جو اس کو سب سے زیادہ محبوب ہے اس کی طرف توجہ نہی رہتی۔اللہ  تعالیٰ تو فرماتے ہیں کہ انہیں ان لوگوں سے محبت ہے جو اس کی راہ میں باہم مربوط ہو کر اس کے اور اس کے دین کے دشمنوں سے جنگ کرتے ہیں، جبکہ روایتی صو فیاء خلوت گزینی ، اور ترک دنیا ء میں ہی اللہ کی رضا ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِہِ صَفّاً کَأَنَّہُم بُنیَانٌ مَّرْصُوص  ۔ [ سورہ صف:۴]

’بیشک اللہ کو تو محبت ہے ان سے جو اس کی راہ میں صفیں باندھ کر قتال کرتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔‘

اس کے بعد یہی مقصد کا عشق  اس ہستی سے عشق کا مؤجب بھی بن جاتا ہے جو  اس مقصد دکے لیے کوشاں ہو جس میں محبوب کی رضا ہے۔  مثلاً اگر مقصد وہی ہے جو رسول اکرم ﷺ کا مقصد  تھا  تو یہی مقصد کا عشق بعد میں عشقِ رسولﷺ بن  جاتا ہے۔ کیونکہ جب وہ اس راستے پر خود چل رہا ہوتا ہے اور وہ مشکلات اور مصائب جو رسولﷺ نے جھیلی تھیں اس کوبراہ راست سہتا ہے ، اس کاحضور اکرمﷺ کی شخصیت کے ساتھ ایک گہرا رشتہ استوار ہو جاتا ہے جس کا نام عشق رسولﷺ ہے۔ جس شخص نے اس راستے پر چل کر وہ سب مصائب اور مشکلات کا اندازہ ہی نہیں کیا جو رسول اکرمﷺ نے سہے ہیں اس پر حضور ﷺ کا مقام اور مرتبہ کیسے منکشف ہو سکتا ہے اور اس کے عشق رسول کے دعوے کس حد تک صحیح ہو سکتے ہیں؟ چنانچہ عشق رسولﷺ سالک کے اندر اتباع رسولﷺ کا جذبہ پیدا کرد یتا ہے اور پھر سالک کا تعلق روحانی طور پر رسول اکرمﷺ سے ستوار ہو جاتا ہے جو اقبال کے انسان مطلوب ہیں۔ اقبال اپنے بارے میں فرماتے ہیں:

 

وہ دانائے سبل ، ختم الرسل،مولائے کل ﷺ جس نے  غبار راہ کو بخشا فروغ وادیٗ سینا

اسی طرح رسول اکرم ﷺ کی ذات کو ہی دین حق کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں:

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست            اگرباو نرسیدی تمام بو لہبی است
[تو خود کو محمد ﷺ کے دربار میں پہنچا دے،کیونکہ دین حق وہی ہے۔اگر تو آپﷺ کا مسلک اختیار نہ کر سکا  تو سمجھ لے باقی سب کفر ہے]

عشق جیسا کہ بیان ہوا ایک بہت اہم منزل ہے جو سالک عشق سے سرشار ہو جاتا ہے اس کے نزدیک اس دنیا کی کوئی حیثیت نہیں رہتی ، بس اسے صرف محبوب کی رضا

محبوب ہو جاتی ہے اور وہ اس مقصد کی خاطر جس میں محبوب کی رضا ہو اپنا سب کچھ لگانے پر تیار ہو جاتا ہے ۔ یہ عاشق پھر فرعون و نمرود جیسے سفاک حکمرانوں سے بھی نہی ڈرتا ، حق گوئی اور بے باکی اس کاشعار بن جاتے ہیں ، یہاں تک کے موت بھی اس کے سامنے ہیچ ہو جاتی ہے۔ محبوب کی رضا کی خاطر خطروں سے کھیلنا اس کی عادت بن جاتی ہے۔ غرضیکہ عشق وہ مرحلہ ہے جب سالک اسے عبور کر لیتا ہے اسے فقر، دلیری، خوداری، بے باکی ، فراست جیسی صفات حاصل ہو جاتی ہیں ۔ اسرار خودی میں فرماتے ہیں:

عشق را از تیغ و خنجر باک نیست              اصل عشق از آب و باد و خاک نیست

[عشق کو تلوار و خنجر سے کوئی خوف نہیں ہے۔(کیونکہ )عشق کی بنیاد پانی، خاک ، ہوا اور آگ یعنی عناصر اربعہ سے نہیں ہے]

خودی کی آگاہی یا آشنائی  کے لیے عشق کی کیا اہمیت ہے اس کو علامہ  نے’ بال جبریل‘  کی مندرجہ ذیل  غزل  میں جامعیت کےساتھ بیان کر دیا ہے ۔ شارحین اقبال کےنزدیک یہ غزل’ اسرار خودی‘کے خلاصے کی حیثیت رکھتی ہے:

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی                                 کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
      عطار ہو رومی ہو رازی ہو غزالی ہو                کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگاہی
     نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ                   کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی                جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
       دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولیٰ                 ہو جس کی فقیری میں بوئے اسدؓ الٗہی
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی                              اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

علامہ کے نزدیک یہ عشق اسی طرح سالک کو دیوانہ وار عمل پر گامزن رکھتا ہے ، یہاں تک کہ خودی ایسا مقام حاصل کر لیتی ہے کہ وہ مر کر بھی نہیں مرتی اور اپنی حیات جاری رکھتی ہے، یعنی آنے والا زمانہ بھی اس کے فیض سے فیضیاب ہوتا رہتا ہے۔

مرد خدا کا عمل ، عشق سے صاحب فروغ      عشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرام

اس شعر میں  ایک بات توجہ طلب ہے کہ یہاں اقبال نے  مرد مومن کی بجائے مرد خدا کا ذکر کیا ہے ۔ اقبال کا انسان مطلوب تو مرد مومن ہے پر جس شخص نے بھی دنیا میں کوئی عظیم کارنامہ سرانجام دیا اقبال اس کو بھی سورۃ بنی اسرائیل  آیت نمبر ۵ (عِبَادً۬ا لَّنَآ) کی روشنی میں  مرد خدا کہتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ   عشق چاہے کسی  بھی بلند مقصد کے ساتھ ہو مرتا نہیں ہے       بلکہ اپنے اثرات دکھاتا رہتا ہے ۔ گزشتہ صدی میں کارل مارکس کی ہی مثال لے لیں  جس کا نظریہ دہریت  پر مبنی تھا لیکن اس کے باوجود جب اس نے عشق سے سرشار ہو کر   اپنی زندگی کھپائی اور قربانیاں دیں   تو چاہے اس کی زندگی میں اسے کوئی کامیابی نہیں مل سکی پر اس کی موت کے بعد تقریباً پون صدی تک اس  کا نظریہ دنیا میں تہلکہ مچاتا رہا ،جس کےا ثرات آج تک موجود ہیں ۔یہ اس کے اپنے مقصد کے ساتھ عشق ہی کا مظہر تھا کہ اس کی بیشتر زندگی جلا وطنی اور غربت میں گزری ، اور اس کی  أولاد میں سات میں سے چار بچے بھوک و افلاس کی نظر ہو گئے[5]۔غرضیکہ اقبال کے نزدیک کسی بلند مقصد کے لیے اگر عشق سے سرشار ہو کر قربانی دی جائے  تو وہ رائگاں نہیں جاتی۔اور قربانی اگر  نظریہ توحید  پر مبنی نظریے کے لیے دی جائےتو اخروی کامیابی تو یقینی ہے ہی ، دنیا میں  بھی یہ  یقیناً  رائگاں نہیں  جا ئے گی۔

 

چھٹہ مرحلہ : یقین:

انسان جتنا عشق کے بحر بیکراں کو عبور کرتا ہے اتنا ہی اسے اپنے مقصد کے پالینے کا یقین نصیب ہوجاتا ہے۔ اس یقین کے پیدا ہونے کی وجہ فطرت حیات انسانی ہے۔ جیسا کہ پہلے اشعار میں بیان ہوا مسلسل عمل پیرا رہنا زندگی کی حقیقیت ہے، جب سالک اپنے مقصد کی طرف جدوجہد پر دیوانہ وار گامزن ہو جاتا ہے اور اس راہ میں مشکلات اور مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے تو اس جہد مسلسل میں اسے اپنی زندگی کا احساس ہوتا ہے، اور اس کو ترک کر دینے کے تصور سے ہی نفرت ہو جاتی ہے کیونکہ اس صورت میں اسے اپنے اسی احساس زندگی کی موت نظر آرہی ہوتی ہے۔ اس لیے جیسے جیسے وہ اس جدوجہد میں آگے بڑھتا رہتا ہے ، اسے اس بات کا یقین ہونے لگتا ہے کہ یہی حق ہے اور اگر اس کا مقصد عقلا ًاور فطرتاً صحیح ہو تو یہی یقین محکم کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ اگر سالک اس مقام تک پہنچ جائے تو اس میں عزم مصمم، ثابت قدمی، استقامت ، جوانمردی اور ضبط نفس جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اقبال ایسا  ہی یقین پیدا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ عمل پیہم اور یقین کے باہم تعلق کو علامہ ’پیام مشرق‘ میں یوں واضح کرتے ہیں:

دمادم خویش را اندر کمیں باش       گریزاں ازگماں سوئے یقیں باش
[تو ہر وقت اپنی خودی کی تحقیق اور حفاظت میں رہ، اور شک و شبہ کو چھوڑ کر یقین کی طرف بھاگ]
عمل خواہی ؟ یقیں را پختہ ترکن    یکے جوئے و یکے بین و یکے باش
[لیکن جب عمل چاہے تو یقیں کو نہایت پختہ کر، ایک ہی نصب العین کی جستجو کر، اسی کو دیکھ اور اسی میں وقف ہو جا]

اسی طر ح علامہ کے کلام میں اس موضوع پربیشمار اشعارملتے ہیں:

خدائے لمیزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے                   یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
گماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا                   بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی
غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریرں نہ شمشیریں                جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
یقیں پیدا کر اے ناداں یقیں سے ہاتھ آتی ہے              وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھکتی ہے فغفوری
         یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم                    جہاد زندگانی میں ہیں مردوں کی یہ شمشیریں

 

یہی وہ مقام ہے جس میں علامہ کا پیش کردہ تربیت خودی کادوسرا مرحلہ یعنی ضبط نفس بھی پار ہو جاتاہے۔ ان کے نزدیک اس مرحلے میں سب سے بڑی رکاوٹیں خوف اور محبت ہیں۔ یعنی دنیا ،آخرت ، جان اور آسمانی آفتوں کا خوف اور مالو دولت، وطن، عزیزی و اقارب اور عورت کی محبت۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

 

طرح تعمیر تو از گل ریختند                      با محبت خوف را آ میختند


[تیرے وجود کی تعمیر مٹی سے ہوئی ہے ۔ یعنی آب و گل سے بنا ہے اس تعمیر میں محبت اور خوف کی باہم آمیزش کی گئی ہے]
خو ف دنیا خوف عقبیٰ خوف جا ں  خوف آلام زمین و آسماں
[دنیا کا خوف ہے، آخرت کا خوف ہے، جان کا خوف ہے، زمین اور آسمان سے نازل ہونے والی آفتوں کا خوف ہے]
حب مال ودولت و حب وطن          حب خویش و اقربا و حب زن
[مال و دولت کی محبت اور وطن کی محبت ، اپنے عزیزوں کی محبت اور عورت کی محبت ہے]

ان سب کمزوریں سے نکلنے کے لیے علامہ توحید الٰہی پر یقین کا درس دیتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

تا عصائے لا الہٰ داری بدست         ہر طلسم خوف را خواہی شکست
[جب تک تیرے ہاتھ میں ’لاالہٰ‘( کلمہ توحید) کا عصا ہے تو خوف اور ڈر کے ہر طلسم کو توڑ کے رکھ دے گا]
ہر کہ حق باشد چو جاں اندر تنش    خم نگرد دپیش باطل گردنش
[جس کسی کے دل میں حق جاں کی طرح موجود ہے اس گردن کبھی باطل کے سامنے نہیں جھک سکتی]
خوف را در سینہ او راہ نیست        خاطرش مرعوب غیر اللہ نیست
[اس کے سینے میں خوف کا گزر ہو ہی نہیں سکتا اس کا دل خدا کے سوا کسی شے سے نہیں ڈرتا ]
ہر کہ در اقلیم لا آباد شد                فارغ از بند زن و اولاد شد
[جو شخص ’لا‘ یعنی توحید کی مملکت میں آباد ہو گیا وہ بال بچوں کی زنجیر سے بالکل آزاد ہو گیا]
می کند ازما سویٰ قطع نظر                       می نہد ساطور برحلق پسر
[وہ غیر اللہ سے نظریں ہٹا لیتا ہے، وہ اپنے بیٹے کے حلق پرچھرا رکھ دینے میں بھی پس و پیش نہیں کرتا]
بایکی مثل ہجوم لشکر است                       جاںبچشم  او زباوا رزاں ترا است
[اگرچہ وہ ایک تنہا ہونے کے باوصف ایک بہت بڑے لشکر کی صورت ہے، اس کی نظروں میں اس کی جان ہوا سے بھی کہیں سستی ہے]

 

یہاں بھی ضبط نفس کے مرحلے کا حاصل علامہ کے نزدیک ایک نڈر اور بیباک شخص ہے جوخوف الٰہی کے سوا ہرقسم کے خوف سے آزاد اور محبت الٰہی کے سوا ہر محبت سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ تعمیر خودی کا یہ مرحلہ بھی روائتی صوفیاء کے مرحلہ ضبط نفس سے بہت مختلف ہے، جن کا مقصود اس مرحلہ سے نفی ذات ہوتا ہے۔ جب کسی کو اس دنیا سے سرو کار ہی نہیں، تو اس کو اس میں باطل کے ساتھ پنجہ آزمائی کی کیا ضرورت  ہے۔ اور جب وہ اس پنجہ آزمائی کے لیے تیار ہی نہیں، تو اس راہ میں گردن کٹانے کا مرحلہ ظاہر ہے نہیں آسکتا۔ لیکن علامہ کا انسان مطلوب اس مرحلے کے بعد تنہا بھی ہو تو باطل سے ٹکر لے لیتا ہے اور اس راہ میں جان دینے سے ذرا دریغ نہیں کرتا۔ عشق کے بحر بیکراں کوجو جتنا عبور کر لیتا ہے وہ اتنا ہی محکم یقین پالیتا ہے۔ اورپھر اسی یقین سے خودی سے آشنائی ہوتی ہے، یا دوسرے لفظوں میں وہ اتنا ہی اس مقام پر رسول اکرمﷺ کے قریب تر پہنچ جاتا ہے جو انسانی خودی کی معراج ہیں۔ علامہ کے نزدیک دراصل خودی کا یہ وہ مقام ہے جس کی زد میں زمیں ، آسمان ، کرسی اور عرش سب کچھ آجاتے ہیں اور یہی انسان کی حقیقت یعنی نیابت الٰہی ہے :


خودی کی جلوتوں میں مصطفائی               خودی کی خلوتوں میں کبریائی
     زمین و آسمان و کرسی و عرش                خودی کی زد میں ہے ساری خدائی

 

ساتواں مرحلہ :نیابت الٰہی:

یقین کا مرحلہ طے کرتے ہی سالک نیابت الٰہی پر فائز ہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ بیان ہوا جو جتنا عشق کے مراحل طے کر تا ہے وہ اتنا ہی محکم یقین حاصل کر لیتا ہے ۔اورجتنا یقین مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی مقام نیابت الہٰی کا شعورحاصل ہوتا ہے۔ نیابت الٰہی ایک بہت بلند مقام ہے ، یہی انسان کی اصل ہے ، اسی لیے وہ اس دنیا میں بھیجا گیا ہے اور یہی وجہ تھی کہ اس کو مسجود ملائکہ بنایا گیا ۔ اس مقام کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ جب ملٹری اکیڈمی میں کیڈٹس کو بھیجا جاتا ہے تو ہر ایک طویل اور مشقت آمیز تربیتی مراحل سے گزرتا ہے۔ جو جتنے اچھے انداز میں ان مراحل سے گزرتا ہے وہ اتنا ہی بلند مقام حاصل کر لیتا ہے۔ اور ہر مقام پر اس کے ماتحت کچھ سپاہی کر دیے جاتے ہیں جو اس کے حکم کی تعمیل میں ہر وقت مستعد رہتے ہیں۔ پھر ان میں سے ایک ایسا بھی ہوتا ہے جو ان مرا حل کواس انداز میں طے کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ساری فوج کا چیف بننے کا مستحق ٹھہرا لیتا ہے، جس کے حکم کی تعمیل میں ساری فوج آجاتی ہے۔ گو کہ ملٹری اکیڈمی میں بھیجے جانے والے کیڈٹس میں سے ہر ایک اس مقام کو پالینے کا حق رکھتا ہے، لیکن اس کو پا وہی سکتا ہے جو اس کے تقاضے پورے کرنے کے قابل ہو۔ یہی معاملہ نیابت الٰہی کا ہے۔ فرشتے اللہ کے کارندے ہیں جو ساری کائنات کے عناصر پر تاینات ہیں۔ چنانچہ کوئی پہاڑوں کا نظام سمبھالے ہوئے ہے تو کوئی دریاوں اور سمندروں کا، علی ھذہ قیاس کائنات کے تمام نظامات انہیں فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں جنہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلاتے ہیں۔ ان سب کااللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نائب یعنی انسان کو سجدہ کرنااس امر کی دلیل تھا کہ اس کا حکم ان سب پر چل سکتا ہے لیکن یہ اسی صورت میں ہو گا جب وہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرے گا۔ دنیا ایک اکیڈمی ہے جس میں انسانوں کو بھیجا جاتا ہے ۔ ا ن کی تربیت کا ایک نظام اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل ؑ کے ذریعے سے واضح کر دیا ہے۔ جو ان طے شدہ مراحل سے گزرتا ہے اور جتنا بہتر انداز میں گزرتا ہے وہ اتنا ہی اعلیٰ مقام پا لیتا ہے اور اتنے ہی زیادہ فرشتے اس کے حکم کی تعمیل میں لگا دیے جاتے ہیں۔ بنی نوع انسان میں سے انبیاء و رسل علیہم السلام ہی وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جو بلند ترین مقامات پر فائز ہوئے، اور ان کے ماتحت بڑے بڑے فرشتے تک کر دیے گئے ۔ اور وہ ہستی جو اس مقام کی معراج پر پہنچی حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس ہے کہ جن کو فرشتون کے سردار جبرائیل امین ؑ بھی رپورٹ کرتے تھے ۔ فرشتوں کی ماتحتی کا سب سے بڑا مظہر ان کی نصرت ہے جو اللہ کے اذن سے مشکل حالات میں  انبیاء و رسل علیہم السلام اور ان کے سچے متبعین کو ملتی رہی۔ اس بے پناہ طاقت کو وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کے نفاذ کے لیے استعمال کرتے ہیں،تا کہ اسے امن کا گہوارا اور جنت فی العرض بنا سکیں۔ علامہ اس حقیقت کو غزوہ بدر کے تناظر میں بیان کرتے ہیں جب مسلمانوں کوفرشتوں کی نصرت حاصل ہوئی تھی:


فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو            اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار

وہ پہلا موقع جب صحابہؓ کو اپنی خودی سے باقائدہ آشنائی حاصل ہوئی وہ غزوہ بدر کا موقع تھااور اسکے بعد تو یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا۔’ضرب کلیم ‘میں مؤمن کے اس مقام کو یوں بیان کرتے ہیں:

خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی                       یہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سلطانی

یہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا عیار!                        اسی مقام سے آدم ہے ظّلِ سبحانی

 اس غیر معمولی طاقت کو اس مقام پر فائز مردمؤمن کیسے استعمال کرتاہے اس کا ذکر بھی علامہ تربیت خودی کے مرحلہ نیابت الٰہی کی تفصیل میں یو ں بیان کرتے ہیں:

خیمہ چوں در وسعت عالم زند        ایں بساط کہنہ را برہم زند
[جب وہ کائنات کی وسعتوں میں خیمہ لگا لیتا ہے تو اس پرانی بساط کو الٹ کر رکھ دیتا ہے]
فطرتش معمور ومی خواہد نمود     عالمے دیگر بیارد در وجود
[اس کی فطرت برکتوں اور اچھایوں بھری ہوتی ہے اور اس کا اظہار وہ ایک نئی دنیا کے وجود میں لانے سے کرنا چاہتی ہے]
صد جہاں مثل جہان جزو کل          روید از کشت خیال اوچو گل
[اس کائنات جیسے سینکڑوں اس کے خیالات و افکار کی کھیتی سے پھول کی طرح اگتے رہتے ہیں]
پختہ سازد فطرت ہر خام را                       از حرم بیروں کند اصنام را
[وہ خام فطرت کو پختہ اور پائدار بنا دیتا ہے ، وہ حرم سے بتوں کو باہر نکال دیتا ہے]
نغمہ زا تار دل از مضراب او                   بہرحق بیداری ِٔاو خواب او
[اس کے مضراب سے دل کے ساز سے نغمے پھوٹنے لگتے ہیں۔ اس کا جاگنا اور اس کا سونا سب اللہ کے لیے ہوتا ہے]
شیب را آموز د آہنگ شباب            می دہدہر چیز رارنگ شباب
[وہ بڑھاپے کو جوانی کی لے سکھا دیتا ہے، وہ ہر چیز کو شباب کے رنگ میں رنگ دیتا ہے ]
نوع انساں را بشیر و ہم نذیر                       ہم سپاہی ہم سپہ گر ہم امیر
[وہ بنی نوع انسان کے لیے خوشخبری دینے والا بھی ہے اور اسے برائی سے ڈرانے والا بھی ، وہ سپاہی بھی ہوتا ہے وہ فوج کا سپہ سالار بھی ہے اور سردار بھی]

 

سلوک تعمیر خودی اور قرآن :

تعمیر خودی کے ان مراحل میں علامہ ذکر و فکر کا سرچشمہ قرآن کو ہی قرار دیتے ہیں اور جیسا کہ پہلے بیان ہوا یہی ان کے فکر و فلسفہ کا ماخذ بھی ہے۔ چنانچہ اپنے انسان مطلوب یعنی بندۂ مؤمن کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ بات کسی کو نہیں معلوم کے مؤمن                     قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآں

کردار میں جدت پیدا کرنے کے لیے بھی وہ قرآن میں تفکر کی دعوت دیتے ہیں۔

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں       اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار

اسی طرح قرآن کو اپنے اندر اتارنے کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ اس میں وہ تاثیر ہے جو انسان کو تبدیل کر کے رکھ دیتی ہے، اور جب وہ تبدیل ہو جاتا ہے تو سارا جہاں ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔

            چوں بجاں در رفت جاں دیگر شود               جاں چو دیگر شد جہاں دیگر شود

اسی طرح نوجوان نسل کو قرآن خواں کی بجائے صاحب قرآن بننے کی تلقین کرتے ہیں:

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے                 کہ ترے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو                  کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

تعمیر خودی کا یہ سلسلہ محض ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ   یہ فرد  سے اجتماعیت کی طرف رخ کرتا ہے  اور پھر اس اجتماعی خودی  کی تعمیرکا بھی سامان فراہم  کر دیتا ہے ۔ یہ  علامہ کا ایک اور غیر معمولی تصور ہے جسے انہوں نے’بے خودی‘ سے تعبیر کیا ہےاور جس کو تفصیل سے انہوں نے رموز بےخودی میں واضح کیا ہے  ۔ اس پر انشاء اللہ اگلی قسط میں تفصیلی بات ہو گی۔

 



[1] یہاں مجذوب فرنگی سے اقبال کی مراد حکیم نیٹشے ہے۔

  ڈاکٹر رفیع الدین، ’حکمت اقبال‘ادارہ تحقیقات اسلامی ،اسلام آباد،ص ۵۷،۵۸،’فلسفہ خودی کائینات کا آخری فلسفہ ہے‘۔[2]

[3]  یہاں صحیح اسلامی تصوف پر تنقید کرنا مقصود نہیں  بلکہ اس روایتی تصوف کے منفی اثرات کا ذکر کرنا مقصود ہے جس کے ڈانڈےاصلاًفکر یونان سے ملتے ہیں اور جس  کا مقصد   سالکین کو حقیقی دنیا کے مسائل  سے بے پروا کر کے محض ترک دنیا کا سبق دینا  ہے۔

 علامہ اقبال،’آل انڈیا مسلم لیگ کا پچیسواں اجلاس‘، دسمبر ۲۹ تا ۳۰، ۱۹۳۰، اعلیٰ آباد [4]

[5] Peter Singer, “Marx a very short introduction”, ISBN:0192854054

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP