Menu

A+ A A-

فلسفہ خودی اور اسرار خودی کا مقدمہ - شہزاد مسعود رومی

 

 

 

آج ۲۱ اپریل ہے ۔۔۔ مفکرِاسلام علامہ اقبال کا یومِ وصال۔ آج عالمِ اسلام کے اس عظیم بیدار مغز سیاسی مبصر کو ہم سے جدا ہوئے 77 سال کا عرصہ گذر چکا ہے۔ علامہ کا شعری کلام اور نثری کام آج کی نوجوان نسل خصوصاََ پاکستانی نوجوانوں کے لئے بلاشبہ مشعل راہ ہے۔ علامہ کے اس کام میں تصورِخودی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے مگر بد قسمتی سے یہی وہ نکتہ ہے جس کے معانی و مفہوم کے بارے میں آج کا نوجوان سب سے زیادہ شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ میڈیا کی تیز رفتار ترقی کے باعث مختلف اقسام کے ماہرینِ اقبالیات نے ان شکوک و شبہات کو دوچند کرنے میں اپنا اپنا کردار بخوبی ادا کیا ہے ۔ گو کہ اس سارے معاملے میں ملک عزیز کا حکمران طبقہ سب سے زیادہ غفلت کا مرتکب ہوا ہے مگر ذرائع ابلاغ کی انتہائی سرعت انگیز ترقی نے نوجوان اذہان میں علامہ کے اس تصور کے بارے میں مختلف اقسام کے نظریات کو فروغ دیا جن کا علامہ کے تصورِخودی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ یہ نتیجہ ہے ہمارے دانشوروں کے اس عمومی رویے کا جس کے تحت وہ علامہ کو اپنےخیالات و عقائد کےمطابق ایک مختلف شخصیت میں ڈھال کر بیان کرتے ہیں بجائے اس بات کے کہ علامہ کے اصل مدعا کی کھوج کی جائے۔

ان ماہرینِ اقبال کی جانب سے خودی کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے عموماََ صرف علامہ کی شاعری کو ہی بنیاد بنایا گیا۔ تحقیقی طور پر یہ ایک مشکل راستہ تھا کیونکہ شعری مبالغہ جو کہ ہر شاعری، بشمول کلامِ اقبال، کاایک لازمی جزو ہے، کے باعث اکثر اوقات شاعر کے اصل مفہوم تک رسائی ایک مشکل امر ہی ثابت ہوتا ہے اور یہ مشکل اس وقت مزید بڑی ہو جاتی ہے جب موضوعِ تحقیق تصورِخودی جیسا حساس اور لطیف موضوع ہو۔ البتہ اگر شاعری کی بجائے شاعر کا اسی موضوع سے متعلق اپنا ہی کوئی نثری کلام سامنے آ جائے تو اس موضوع کو سمجھنا اور صحیح طور پر سمجھنا قدرے آسان ہو جاتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے پاس تصورِ خودی سے متعلق علامہ کا اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ کوئی نثری نمونہ موجود ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ جی ہاں- بالکل ہے۔

علامہ نے اسرار خودی کے پہلے ایڈیشن کے آغاز میں ایک مقدمہ تحریر کیا تھا جسے بعد میں آنے والے ایڈیشنز میں سے حذف کر دیا گیا۔ یہ مقدمہ ہر اس انسان کے لئے پڑھنے کی چیز ہے جو علامہ کے تصورِخودی اور افراد و اقوام کے لئے اس کی اہمیت کو آسان زبان میں سمجھنا چاہتا ہے۔ اس مقدمے کا اندازِ تحریر اس امر کی بھی گواہی دیتا ہے کہ علامہ کو اردو نثر پر اسی طرح دسترست حاصل تھی جسکا اظہار ان کی انگریزی نثر، اردو و فارسی شاعری میں ہوتا ہے۔ چونکہ میں خود بھی بہت طویل عرصے تک تصورِ خودی کے مفہوم کی تلاش میں رہا ہوں اور یہ بات ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ میں وہ واحد فرد نہیں ہوں کہ جو معانی و مفہوم کی اس کھوج میں سرگرداں رہا ہو؛ لہذا میں اپنے جیسے دوسرے افراد اور طالبعلموں کے لئے جو علامہ کے اس تصور کے مفہوم کے متلاشی ہیں، میں یہآں علامہ کا وہ مقدمہ شیئر کر رہا ہوں جو اسرارِِخودی کی پہلی طباعت کا حصہ تھا۔ میری گزارش صرف یہ ہے کہ تمام سنجیدہ دوست اس مقدمے کو کم از کم تین سے چار مرتبہ ضرور پڑھیں۔

انشاءاللہ تعالی، آپکے علم میں ضرور اضافہ ہو گا اور اس گتھی کو سلجھانے میں کافی مدد ملے گی جو نوجوان اذہان میں اس موضوع کے متعلق پائی جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس امر کا بخوبی احساس ہو گا کہ یہ تصور کس قدر متحرک اور Practical ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کی خودی کی حفاظت فرمائے کہ بقول علامہ یہی قوت دراصل عمل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ آمین

شہزاد مسعود رومی۔