Menu

Content

Breadcrumb

A+ A A-

(نگاہ مصطفیٰ (صلے الله علیھ وسلم

 

alt

Tu Ghani Az Har Do A’alam Mann Faqeer
Roz-e-Mahshar Uzr Haey Mann Pazeer
War Hisabam Ra Tu Beeni Naguzeer
Az Nigah-e-Mustafa Pinha Bageer
(sallallahu alaihi wa’alihi sallam)
by Allama Iqbal

Ya Allah, You are the Lord of both Worlds & I am a Faqeer
On the Day of Judgement, Accept my Excuses & Pardon Me
But if You must Judge me and take account of my sins,
Please do this unseen by Hazrat Muhammad
(sallallahu alaihi wa’alihi sallam)

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا تصوّرِ حیات ‘عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘ ھے۔ پیارے آقا سے عشق ہی کو وہ حاصلِ کائینات جانتے تھے۔ علامہ صاحب کا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا والہانہ اور گہرا اور غیر معمولی تعلقِ عشق تھا جس کی مثال کمیاب ھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ نامی سنتے ھی علامہ کی آنکھوں سے اشکوں کی ایک جھڑی سی لگ جاتی۔

علامہ فرماتے تھے کہ اُن کے لیے یہ تصوّر ہی انتہائی راحت بخش ھے کہ سرکارِ دو عالم اُن کے ہادی اور رہنما ھیں۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں میں رسوا ہونا یا حضور کا اُمتی کہلوا کے گناہوں کے ڈھیر کے ساتھ آپ کے سامنے پیش ھونا عذابِ جہنم سے بھی ذیادہ المناک سمجھتے تھے۔  اسی لیے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کی

تو غنی از ھر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ھائے من پذیر
گر (ور) حسابم را تو بینی نا گُزیر
از نگاہِ مصطفیٰ پنہاں بگیر

اے اللہ میں تیرا منگتا ھوں، تو دو عالم کو عطا کرنے والا ھے۔ روزِ محشر میرا عذر قبول فرمانا اگر میرے نامہ اعمال کا حساب نا گزیر بھی ھے تو پھر اے میرے مولیٰ اسے میرے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنا۔

نوٹ: یہ رباعی چونکہ علامہ کی کسی کتاب میں درج نہیں ھے کیونکہ علامہ کے ایک عاشق رمضان عطائی کی گذارش پر علامہ نے یہ رباعی اُن کو عطا کر دی۔ بعد ازاں اس کا تیسرا مصرع کچھ تبدیلیوں کے ساتھ مختلف مقامات پہ ملتا ھے۔ مثلاَ اکثر لوگ ‘ور حسابم‘ کی بجائے ‘گر حسابم‘ لکھتے ھیں۔ اور بعض جگہوں پہ ‘گر تو بینی حسابم را نا گزیر‘ بھی لکھا ملتا ھے۔ اور بعض جگہوں پہ ‘گر تو می بینی حسابم نا گزیر‘۔  سب کے ساتھ مفہوم تقریباَ ایک ھی ھے۔  میرا یہ احساس ھے کہ اس مصرعے کو ایسے ھونا چاہیئے : “گر حسابم را تو بینی نا گزیر“ اس کی وجہ یہ ھے کہ ‘گر‘ کا مطلب ھے “اگر“ اور  ‘ور‘ کا مطلب ھے ‘‘اور اگر‘‘ ۔ لہذا اگر اوپر کسی مصرعے میں ‘اگر‘ استعمال ہوتا تو یہاں ‘ور‘ مناسب لگتا۔ مثلاَ ‘‘گر دلم آئینہ بے جوھر است، ور بحرفم غیر قرآں مضمر است‘‘۔

اس کے باوجود میں نے اوپر ‘ور‘ ہی لکھا ھے۔ کیونکہ روائت ھے کہ رمضان عطائی صاحب کی ڈائری میں یہ مصرع ‘ور‘ ہی سے شروع ھوتا ھے۔ مذید برآں اس سے مفہوم میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔

 

اللھم صلی علیٰ محمدا و علی الہ وسلم ہ

 

An Article by: Malik Faisal Aslam

Webiste: http://disna.us/nigahemustafa/

www.DervishOnline.com

 

 

IQBAL DEMYSTIFIED - ANDROID APP